کوئٹہ: کچلاک بائی پاس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ، معروف تاجر محمد ہاشم جاں بحق
کوئٹہ کے علاقے کچلاک بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف تاجر اور ہوٹل کے مالک محمد ہاشم خان جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد فرار ہوگئے، جب کہ قتل کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ ایئرپورٹ کی حدود میں کچلاک بائی پاس پر پیش آیا، جہاں معروف تاجر اور ہوٹل کے مالک محمد ہاشم خان اپنی ذاتی ویگو گاڑی میں کچلاک سے کوئٹہ شہر آ رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی محمد ہاشم خان کے سر جب کہ دو گولیاں ان کے بازوؤں پر لگیں، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد میت ورثا کے حوالے کر دی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ورثا نے کسی ذاتی دشمنی سے لاعلمی ظاہر کی ہے، تاہم قتل کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
واقعے کے بعد مقتول کے ورثا، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے افراد نے بلیلی کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ کو چمن، خیبر پختونخوا اور پنجاب سے ملانے والی قومی شاہراہ بلاک کر دی، جس سے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
اطلاع ملنے پر رکن بلوچستان اسمبلی ملک نعیم بازئی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا اور شاہراہ کھلوانے کے لیے مذاکرات کیے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔
وزیراعلیٰ نے کیس اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سپرد کرنے اور شفاف و مؤثر تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
بعدازاں کوئٹہ میں ایک اور واقعہ بھی پیش آیا، جہاں میاں غنڈی کے قریب قیدیوں کو لے جانے والی پولیس گاڑی کے نزدیک دھماکا ہوا۔
پولیس کے مطابق دھماکے سے گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔













