وینزویلا، جاپان اور اب پاکستان: دنیا بھر میں اچانک بڑھنے والے زلزلوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
پچھلے کچھ دنوں میں دنیا کے الگ الگ حصوں میں یکے بعد دیگرے آنے والے شدید زلزلوں نے لوگوں کو ڈرا دیا ہے اور ہر طرف یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ان زلزلوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟
سب سے پہلے وینزویلا کے سمندری ساحل پر 7.2 اور 7.5 شدت کے انتہائی خطرناک زلزلے آئے جس سے شدید تباہی مچی اور اب تک 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 50 ہزار سے زائد لاپتا ہیں۔
اس کے فوراً بعد جاپان کے سمندر میں 6.9 شدت کا زلزلہ آیا اور اسی دوران امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں بھی 5.6 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا جو وہاں 1940 کے بعد سب سے بڑا زلزلہ ہے۔
اسی دوران پاکستان کے صوبے بلوچستان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کا مرکز افغانستان تھا۔
ایک ہی وقت میں اتنے بڑے زلزلوں کے آنے پر دنیا بھر کے لوگ پریشان ہیں، لیکن ماہرینِ ارضیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک اتفاق ہے اور ان زلزلوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔
لندن کے امپیریل کالج کے پروفیسر پیٹر اسٹافورڈ نے اس بات کو آسان لفظوں میں سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی اپنی وجوہات کی وجہ سے آتے ہیں۔
پروفیسر پیٹر اسٹافورڈ کے مطابق، کیلیفورنیا میں ہر سال دو سے تین ایسے زلزلے آتے ہیں اور جاپان میں بھی سال میں ایک بار ایسا زلزلہ آنا عام بات ہے۔ وینزویلا میں البتہ ایسے بڑے زلزلے ذرا دیر سے، یعنی پچاس سے سو سال کے بعد آتے ہیں۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہ زلزلے کسی ایک وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے، تو ان ملکوں کے بیچ میں جتنے علاقے اور فالٹ لائنز آتی ہیں، وہاں زلزلے کیوں نہیں آئے؟ اس لیے یہ صرف ایک حسابی اتفاق ہے کہ یہ سب ایک ساتھ آگئے۔
سائنس دانوں نے اس بات کو بھی بالکل غلط قرار دیا ہے کہ دنیا میں بڑے زلزلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
امریکی ماہرین کے مطابق کسی سال زلزلے زیادہ آنا اور کسی سال کم آنا ایک عام سی بات ہے۔
امریکی ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں کمپیوٹر اور مشینوں پر اب زیادہ زلزلے ریکارڈ ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ زلزلے زیادہ آ رہے ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب دنیا میں زلزلہ ناپنے والی مشینیں بہت زیادہ اور جدید ہو چکی ہیں جو چھوٹے سے چھوٹے جھٹکے کو بھی پکڑ لیتی ہیں۔
امریکا کے محکمہ ارضیات ’یو ایس جی ایس‘ کے مطابق اب ہر سال دنیا بھر میں بیس ہزار کے قریب چھوٹے بڑے زلزلے ریکارڈ ہوتے ہیں، یعنی روزانہ کے حساب سے تقریباً 55 زلزلے آتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
اگر پچھلے سو سال کا ریکارڈ دیکھا جائے تو دنیا میں ہر سال اوسطاً 16 بڑے زلزلے آتے ہیں جن کی شدت 7 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ کسی سال یہ تعداد بڑھ جاتی ہے جیسے سن 2010 میں 23 بڑے زلزلے آئے تھے، اور کسی سال یہ بہت کم ہو جاتی ہے جیسے 1989 میں صرف 6 بڑے زلزلے آئے تھے۔
تاریخ میں سب سے بڑا زلزلہ 1960 میں ملک چِلی میں آیا تھا جس کی شدت 9.5 تھی اور اس میں 1600 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔
اسی طرح سن 2004 میں انڈونیشیا میں 9.1 شدت کا زلزلہ آیا جس کے بعد سمندر میں اٹھنے والی سونامی کی لہروں نے دو لاکھ 80 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جان لے لی تھی۔
ابھی حال ہی میں سن 2025 میں روس کے علاقے کامچتکا میں بھی 8.8 شدت کا ایک بڑا زلزلہ آیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے قدرتی نظام کا حصہ ہیں، اس لیے لوگوں کو افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے سائنسی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔
















