ایران نے امریکا سے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے 5 شرائط واضح کردیں

ایرانی چیف مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے دونوں فریقوں کو طے شدہ نکات پر پیش رفت کرنا ہوگی۔
شائع 01 جولائ 2026 07:05pm

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد پانچ بنیادی شقوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق ان نکات پر پیش رفت کے بغیر معاہدہ مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکتا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر پیش رفت ناگزیر ہے۔

باقر قالیباف کے مطابق پہلی شق کے تحت امریکا اور ایران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اگرچہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑی عسکری کارروائیاں رک چکی ہیں، تاہم لبنان میں کشیدگی برقرار ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ حتمی معاہدے کے لیے اسرائیل کو لبنان سے مکمل انخلا کرنا ہوگا، جب کہ اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر انخلا سے انکار کر رہا ہے۔

چوتھی شق کے مطابق امریکا ایران پر عائد بحری پابندیاں ختم کرے گا، جب کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے بحری ناکا بندی ختم کر دی ہے، تاہم اس کے جنگی جہاز اب بھی خطے میں موجود ہیں۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے اجازت نامہ لازمی قرار دے رکھا ہے، جس کے باعث بحری ٹریفک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔

پانچویں شق کے تحت ایران نے 60 روز تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی ٹرانزٹ فیس وصول نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اگرچہ ایران نے اب تک کسی قسم کی فیس عائد نہیں کی، تاہم رضاکارانہ ادائیگیوں کے امکان پر بات چیت جاری ہے۔ معاہدے کے مطابق 60 روز کی مدت کے دوران کسی نئی فیس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

معاہدے کی دسویں شق کے تحت امریکا نے ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد کے لیے 60 روزہ رعایت جاری کر دی ہے، جس سے ایران کو امریکی ڈالر میں فروخت کی اجازت مل گئی ہے۔

گیارہویں شق کے تحت امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی دینے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اس معاملے پر اب بھی ابہام برقرار ہے۔

محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 24 ارب ڈالر میں سے 12 ارب ڈالر ایران کو فراہم کیے جائیں گے، جب کہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پوری کیے بغیر منجمد فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ ان فنڈز کی منتقلی امریکا اور ایران کے درمیان حتمی اتفاق رائے سے مشروط ہے۔

دسری جانب قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے دوحہ میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ ’الجزیرہ‘ کے مطابق اس ملاقات میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت، لبنان کی صورتِ حال اور وہاں جنگ بندی کو مستحکم بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ادھر علاقائی امور کے تجزیہ کار راشد المحنادی کا کہنا ہے کہ دوحہ میں جاری رابطوں کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شقوں کو مزید واضح کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی غلط تشریح یا اختلاف کی گنجائش نہ رہے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، علاقائی سلامتی، جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعاون اور ایران کے منجمد اثاثوں جیسے معاملات بھی زیر غور ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کی انتظامیہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔