آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین: 100 ممالک کے وفود کی شرکت متوقع، شہباز شریف آج ایران جائیں گے

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق مختلف ممالک کے سربراہان، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام تقریبات میں شریک ہوں گے۔
شائع 03 جولائ 2026 12:08am

ایران نے اعلان کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں دنیا کے 100 ممالک کے اعلیٰ حکومتی اور سیاسی نمائندے شرکت کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس موقع پر کئی روز تک الوداعی تقریبات اور جنازے کے جلوس منعقد ہوں گے، جب کہ سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں سربراہانِ مملکت، پارلیمانی رہنما، وزرائے خارجہ اور مختلف ممالک کے خصوصی سرکاری نمائندے شرکت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ جمعہ 3 جولائی کی صبح 8 بجے تہران میں الوداعی تقریب کا آغاز ہوگا، جب کہ اسی روز غیر ملکی وفود اور اعلیٰ سیاسی شخصیات بھی تعزیتی تقریبات میں شریک ہوں گی۔ ان کے بقول یہ تقریب نہ صرف ایرانی عوام بل کہ خطے، مسلم دنیا اور دیگر اقوام کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات میں روس، چین، پاکستان، بھارت، ترکی، عراق، قطر، عمان، مصر، لبنان، آذربائیجان، افغانستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، سری لنکا، ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان، آرمینیا، جارجیا، کیوبا، سربیا، تیونس، کانگو، گھانا، نمیبیا، میانمار، تھائی لینڈ، گیمبیا اور نکاراگوا سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود کی شرکت متوقع ہے۔

ایران اپنے سابق رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات اور تدفین کے لیے غیر معمولی انتظامات کر رہا ہے۔ ’ارنا‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرام نیا نے بتایا کہ مختلف ممالک سے آنے والے اعلیٰ حکام، مذہبی اور سیاسی شخصیات کی آمد کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمینی، بحری اور فضائی افواج کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے، سرحدوں پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جب کہ فضائی دفاعی نظام ملک کی فضائی حدود کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہا ہے تاکہ تقریبات کے دوران سیکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آج ایران روانہ ہوں گے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی کابینہ کے دیگر ارکان بھی ہوں گے، جب کہ وزیراعظم بعد ازاں ترکیہ کا بھی دورہ کریں گے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ماہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ خطاب کے دوران تہران کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ ایرانی عوام سے اظہارِ یک جہتی بھی کریں گے۔

’ارنا‘ کے مطابق آخری رسومات کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہے گا۔ 4 اور 5 جولائی کو تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں الوداعی تقریبات منعقد ہوں گی، جب کہ 6 جولائی کو دارالحکومت تہران میں جنازے کا مرکزی جلوس نکالا جائے گا۔

اس کے بعد 7 جولائی کو قم اور 9 جولائی کو مشہد میں بھی جنازے کے جلوس منعقد ہوں گے، جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو روضۂ امام رضاؑ میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ایرانی حکام کے اندازے کے مطابق ان آخری رسومات میں ملک اور بیرونِ ملک سے ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے باعث سیکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کو غیر معمولی سطح پر بڑھا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے پہلے روز اپنے چند اہلِ خانہ سمیت شہید ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور مشیران بھی شہید ہوئے تھے جن میں میجر جنرل عبدالرحیم موسوی، ریئر ایڈمرل علی شمخانی اور میجر جنرل محمد پاکپور شامل تھے۔