دوحہ میں امریکا، ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق بالواسطہ مذاکراتی دور مکمل

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے رابطہ چینل قائم کیا جائے گا، مذاکرات بالواسطہ ہوئے۔
اپ ڈیٹ 02 جولائ 2026 12:19am

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات مکمل ہوگئے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق فریقین نے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا، جب کہ اہم معاملات پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عمل درآمد سے متعلق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والا مذاکراتی دور مکمل ہوگیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ مذاکرات میں شریک فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ اور ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے جمعرات تک ایک رابطہ چینل قائم کر دیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقاتیں صرف اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے تھیں، جن میں لبنان کی صورتِ حال، ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی اور دیگر اہم امور زیرِ بحث آئے۔

غریب آبادی نے بتایا کہ قطری حکام، بشمول مرکزی بینک کے عہدیداروں، کے ساتھ ملاقاتوں میں ایران کے منجمد اثاثوں میں سے ابتدائی 6 ارب ڈالر کے ایک حصے کے استعمال کے طریقہ کار پر بھی بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق اتفاق کیا گیا کہ ایران کی جانب سے فراہم کی جانے والی ضروریات کی فہرست کے مطابق مطلوبہ اشیا خرید کر ایران کو فراہم کی جائیں گی۔

کاظم غریب آبادی کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے ورکنگ گروپس اور مذاکراتی فریم ورک تشکیل دے دیے گئے ہیں، تاہم ان کے تحت باضابطہ مذاکرات کا آغاز ابھی نہیں ہوا۔

اسی دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے جاری اندرونی بحث کے دوران واضح کیا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو مذاکرات سے نہیں روکا۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر سپریم لیڈر نے مذاکرات نہ کرنے کا حکم دیا ہوتا تو ہم یقیناً اس پر عمل کرتے۔

واضح رہے کہ دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان یہ بالواسطہ تکنیکی مذاکرات قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہوئے، جن کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانا، عبوری معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق مذاکرات گزشتہ ماہ طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے کے تحت کیے گئے، جس کا مقصد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ فعال بنانا اور مستقل امن معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ مذاکرات میں ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات اور اپنے منجمد 6 ارب ڈالر کے اثاثوں تک رسائی کو ترجیح دی، جب کہ امریکا کی توجہ عالمی تجارتی اور توانائی بردار جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانے پر مرکوز رہی۔

ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کی، جب کہ وفد میں وزارت خارجہ، مرکزی بینک اور وزارت زراعت کے نمائندے شامل تھے۔

دوسری جانب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے مذاکرات میں براہِ راست شرکت نہیں کی، تاہم انہوں نے قطری وزیراعظم اور بعد ازاں امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقاتیں کیں، جن میں امریکا، ایران مذاکرات اور لبنان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات براہِ راست کے بجائے قطر اور پاکستان کی ثالثی میں بالواسطہ طور پر ہوئے، جہاں دونوں فریقوں نے ثالثوں کے ذریعے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا۔

اس سے قبل بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ایران کی جوہری صلاحیت کے خاتمے سے متعلق پیش رفت حوصلہ افزا ہے، تاہم انہوں نے مذاکرات کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا تھا۔

’رائٹرز‘ کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اگرچہ جزوی طور پر بحال ہو چکی ہے، تاہم صورت حال اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اسی دوران ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک غیر ملکی مال بردار جہاز ایرانی حکام کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے سے ہٹ کر کم گہرے پانی میں داخل ہونے کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنس گیا۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے امریکا، ایران جنگ سے قبل عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فی صد تجارت ہوتی تھی۔