لاہور میں اسکول کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق، اساتذہ گرفتار

پولیس نے 6 اساتذہ اور وائس پرنسپل کو حراست میں لے لیا، انتظامیہ اور ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج
شائع 02 جولائ 2026 05:06pm

لاہور میں سانحہ کاہنہ کے بعد ایک اور افسوس ناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک اسکول کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق جب کہ 4 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے اسکول کی 6 خواتین اساتذہ کو حراست میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

لاہور کے علاقے باغبان پورہ میں واقع ایک اسکول میں تعمیراتی کام کے دوران عمارت کی چھت اچانک گر گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت اسکول میں سمر کیمپ جاری تھا اور بچے بھی موجود تھے جب کہ اسی دوران عمارت کی توسیع کے سلسلے میں تعمیراتی کام بھی جاری تھا۔ پولیس نے واقعے کے بعد اسکول کی 6 خواتین اساتذہ اور وائس پرنسپل کو حراست میں لے لیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق بچے کی شناخت ابوبکر کے نام سے ہوئی ہے۔ جاں بحق بچے کی نعش اور زخمی ہونے والے چار افراد کو سروسز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں 35 سالہ ندیم، 38 سالہ شکیل، 32 سالہ فیض اور 42 سالہ ندیم شامل ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اس افسوس ناک واقعے کا مقدمہ ایجوکیشن اتھارٹی کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے جس میں اسکول انتظامیہ اور ٹھیکیدار کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے جب کہ غیر قانونی سمر کیمپس کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر بلال کاظمی اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر طاہرہ نذیر کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس افسوس ناک حادثے میں ایک بچے کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے 10 سے زائد بچوں کو بحفاظت ملبے سے نکالنے پر ریسکیو حکام کی تعریف کی اور ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کرنے سمیت تمام متاثرہ افراد کو بہترین اور فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کے بھی احکامات جاری کیے ہیں۔

اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے گنجان آباد علاقوں میں قائم اسکولوں کی عمارتوں کا فوری سیفٹی آڈٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور باغبانپورہ واقعے کے حوالے سے بھی کمشنر لاہور اور ڈی جی ریسکیو 1122 سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

واضح رہے کہ 30 جون کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں بھی اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جب گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم بچے ملبے تلے دب کر جان کی بازی ہار گئے تھے۔

پولیس کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا جب کہ گراؤنڈ فلور پر بچے موجود تھے۔ واقعے کے بعد گھر کے مالک سمیت 3 افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جن میں مالک مکان ریحان، اس کا بھائی محمد فیضان اور مستری عمیر شامل ہے۔

اس واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے شہر میں قائم تمام غیر قانونی ٹیوشن سینٹرز کو فوری بند کرنے اور گھروں کو کاروباری مقصد کے لیے استعمال کرنے والوں پر بھاری جرمانے لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔