میکسیکو میں انوکھی شادی: میئر نے خوشحالی کے لیے ’مگرمچھ‘ سے شادی کرلی

دولہا میاں اور مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطاً دلہن کا منہ رسی سے مضبوطی سے باندھ دیا گیا تھا۔
اپ ڈیٹ 03 جولائ 2026 01:07pm

میکسیکو کے ایک چھوٹے سے قصبے ’سان پیڈرو ہوامیلولا‘ میں دنیا کی سب سے انوکھی اور عجیب و غریب شادی انجام پائی جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔

دولہا کوئی اور نہیں بلکہ قصبے کے میئر ’ڈینیئل گوٹیریز‘ تھے، اور ان کی دلہن کوئی عام حسینہ نہیں، بلکہ ایک مادہ مگرمچھ (کیمن) تھی، جسے مقامی لوگ محبت اور عقیدت سے ’اینا سنٹیا راماریز اہومادا‘ پکارتے ہیں۔

یہ عجیب و غریب شادی دراصل صدیوں پرانی رسم کا حصہ ہے، جس کا مقصد علاقے میں خوشحالی اور بہترین فصلوں کے لیے دھرتی ماں کا شکرایہ ادا کرنا ہے۔

رنگ برنگی روشنیوں اور روایتی دھنوں سے سجی اس محفل میں دلہن بنی مادہ مگرمچھ کو باقاعدہ سفید عروسی لباس پہنایا گیا تھا اور اس کا سر پھولوں کے تاج سے سجایا گیا تھا۔ چونکہ دلہن ایک خطرناک جاندار ہے، اس لیے دولہا میاں اور مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطاً اس کا منہ رسی سے مضبوطی سے باندھ دیا گیا تھا۔

پورے قصبے کے لوگ اس انوکھی شادی کا جشن منانے کے لیے گلیوں میں نکل آئے، روایتی ملبوسات پہن کر رقص کیا گیا اور دلہن کو باری باری سب کے گھروں میں لے جایا گیا تاکہ ہر آنگن برکت سے بھر جائے۔

دنیا بھر میں جہاں لوگ فصلوں کی کٹائی اور اچھی بارش کے لیے طرح طرح کے عجیب و غریب جشن مناتے ہیں، وہیں میکسیکو کی اس رسم کی جڑیں ہسپانوی دور سے بھی پہلے، ریاست اوکساکا کے دو قدیم قبائل ’چونٹل‘ اور ’ہواوے‘ کی تاریخ سے ملتی ہیں۔

مقامی روایات کے مطابق، یہ شادی دراصل ان دونوں قبائل کے درمیان صدیوں پہلے ہونے والے ایک تاریخی امن معاہدے کی یادگار ہے۔ اس علامتی کھیل میں میئر خود ’چونٹل قبیلے کے بادشاہ‘ کا روپ دھارتے ہیں، جبکہ مادہ مگرمچھ ’ہواوے قبیلے کی شہزادی‘ بنتی ہے۔ ان دونوں کا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا دونوں گروہوں کے ابدی اتحاد اور امن کا اعلان ہوتا ہے۔

تاہم، اس رسم کا اصل جادو اس کے روحانی عقیدے میں چھپا ہے۔ مقامی ثقافت میں اس مادہ مگرمچھ کو محض ایک جانور نہیں بلکہ ’مدر ارتھ‘ کی نمائندگی کرنے والی ایک ”دیوی“ مانا جاتا ہے۔ جب قصبے کا سیاسی سربراہ یا لیڈر اس دیوی سے شادی کرتا ہے، تو یہ انسان اور قدرتی طاقتوں کے ملاپ کی علامت بن جاتا ہے۔ قصبے کے باسیوں کا پختہ یقین ہے کہ جب تک یہ انوکھی شادی ہر سال دھوم دھام سے ہوتی رہے گی، سمندر مچھلیوں سے اور دھرتی اناج سے بھری رہے گی اور ان کا قصبہ قدرتی آفات سے محفوظ رہے گا۔

جدید دنیا کے لیے یہ منظر شاید کسی عجیب و غریب تماشے جیسا معلوم ہو، لیکن سان پیڈرو ہوامیلولا کے لوگوں کے لیے یہ ان کی بقا، ثقافت اور فطرت کے ساتھ جینے کا ایک خوبصورت عہد ہے۔