فیفا ورلڈ کپ 2026: انگلینڈ کے خلاف میچ سے قبل ناروے کو بڑا دھچکا
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کا سامنا کرنے سے قبل ناروے کی ٹیم کو بیماری اور تھکن کا سامنا ہے، مسلسل فضائی سفر اور مصروف شیڈول کے باعث کئی کھلاڑی متاثر ہوئے جب کہ ٹیم کے کوچ اسٹال سولباکن نے بھی اسکواڈ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل سے قبل ناروے کی قومی ٹیم بیماری اور جسمانی تھکن کا شکار ہے، جس سے ٹیم کی تیاری متاثر ہوئی ہے۔
ناروے نے برازیل کو شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی تھی، جہاں اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ نے دو گول کر کے ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
نارویجن اخبار ڈیگ بلیڈٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران طویل فضائی سفر اور مختلف شہروں کے درمیان مسلسل نقل و حرکت نے کھلاڑیوں کی صحت کو متاثر کیا۔ ناروے کی ٹیم شمالی کیرولائنا کے شہر گرینزبورو میں قیام پذیر رہی، جہاں سے اسے بوسٹن، نیو جرسی اور ڈیلاس سمیت مختلف شہروں کا سفر کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق کرسٹل پیلس کے اسٹرائیکر جورگن اسٹرینڈ لارسن بیماری کے باعث ٹیم کا پہلا میچ نہیں کھیل سکے تھے جب کہ دفاعی کھلاڑی مارکس ہولمگرین پیڈرسن بھی بیماری کی وجہ سے برازیل کے خلاف پری کوارٹر فائنل میچ سے باہر رہے۔
ناروے کے ہیڈ کوچ اسٹال سولباکن نے بتایا کہ اسکواڈ میں بخار، کھانسی اور گلے کی خرابی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک صرف یورگن اسٹرینڈ لارسن کو بخار ہوا تاہم ٹیم میں مختلف کھلاڑیوں کو کھانسی اور گلے کی تکلیف بھی رہی۔
ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ مسلسل فضائی سفر، ایئر کنڈیشنڈ ماحول، ڈریسنگ رومز کی تبدیلی اور دیگر عوامل بھی کھلاڑیوں کی صحت پر اثرانداز ہوئے ہیں۔ ان کے بقول 50 سے زائد افراد پر مشتمل وفد میں اگر چند افراد بیمار ہو جائیں تو یہ غیر معمولی بات نہیں۔
مارکس ہولمگرین پیڈرسن کی عدم دستیابی پر گفتگو کرتے ہوئے اسٹال سولباکن نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ مسئلہ بیماری کے ساتھ ساتھ جسمانی اور ذہنی دباؤ کا بھی نتیجہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کھلاڑی ابتدا میں خود کو متبادل کھلاڑی سمجھ رہے تھے، لیکن اچانک مسلسل میچ کھیلنے، نئی ذمہ داریوں اور دباؤ کے باعث ان کے جسم پر اثرات مرتب ہوئے۔
ناروے پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پہنچا ہے، جہاں اس کا مقابلہ اس ہفتے میامی میں انگلینڈ سے ہوگا۔ ناروے نے گروپ مرحلے میں فرانس کے بعد دوسری پوزیشن حاصل کی تھی جب کہ ناک آؤٹ مرحلے میں آئیوری کوسٹ اور برازیل کو شکست دے کر آخری آٹھ ٹیموں میں جگہ بنائی۔
دوسری جانب انگلینڈ کو بھی ورلڈ کپ کے دوران طویل سفری شیڈول کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم نے میزبان میکسیکو کے خلاف پری کوارٹر فائنل میچ کے لیے میکسیکو سٹی کا سفر کیا، جہاں بلند مقام پر کھیلنے اور رات بھر آتش بازی کے باعث بھی مشکلات پیش آئیں۔
انگلینڈ کے خلاف میچ کے حوالے سے ناروے کے کوچ اسٹال سولباکن نے کہا کہ ان کی ٹیم حریف کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ ان کے مطابق انگلینڈ ایک مضبوط ٹیم ہے، تاہم امید ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان سخت اور سنسنی خیز مقابلہ ہوگا۔















