امریکی فضائی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار شہید: ایرانی میڈیا
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا کے فضائی حملوں میں ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے تین اہلکار شہید ہوگئے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تہران نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور مزید حملوں کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ بھی دی ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ایرانی خبر رساں ادارے میزان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے تین اہلکار شہید ہوگئے۔
خوزستان میں آئی آر جی سی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کو صوبے کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے مسلسل دوسرے روز ایران کے خلاف کارروائیاں کیں، جب کہ تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ تمام جہاز ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں اور تہران کی جانب سے مقرر کردہ راستہ استعمال کریں۔
ادھر، ’رائٹرز‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جمعرات کو تقریباً معطل ہو چکی ہے، جب کہ صبح کے اوقات میں صرف دو ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر سکے۔
رپورٹ میں شپنگ تجزیاتی ادارے کپلر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جمعرات کی علی الصبح صرف دو ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان میں برگ 1 نامی خام تیل بردار سپر ٹینکر شامل ہے، جس نے ایران کے جزیرہ خارگ سے تیل لوڈ کیا تھا اور جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔ دوسرا جہاز ویل سیل نامی کیمیکل ٹینکر ہے، جو مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز پاکستان کی ثالثی میں 17 جون کو طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھوتا اب مؤثر نہیں رہا۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی آر جی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مشہد جانے والے دو اہم پلوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایرانی بحری اور فضائی فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کویت میں عریفجان اور علی السالم جب کہ بحرین میں الجفیر اور شیخ عیسیٰ کے امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے مغربی ایشیا میں امریکا کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور الازرق میں واقع اس کے فضائی اڈے کو 10 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ آئی آر جی سی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی فوج نے دوبارہ جارحیت کا ارتکاب کیا تو خطے میں موجود دیگر امریکی اڈے بھی اس کی شدید میزائل کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہیں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا مقصد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے عالمی توجہ ہٹانا تھا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی گئی تو خطے میں موجود دیگر امریکی اڈے بھی ایرانی ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔
اگرچہ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں اور خوزستان میں ہونے والے نقصانات کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم حالیہ پیش رفت نے خطے میں ایک نئی اور وسیع فوجی محاذ آرائی کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا بڑھتا ہوا سلسلہ اس تنازع کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں ایک جانب فوجی کارروائیوں کی حمایت اور دوسری جانب مکمل جنگ سے گریز کا عندیہ دیا گیا، خطے کی آئندہ صورتِ حال کے حوالے سے غیر یقینی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
امریکی حکام نے تاحال خوزستان میں حملوں اور ایرانی جانی نقصان کے دعوؤں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جب کہ زمینی صورتِ حال سے متعلق معلومات محدود ہونے کے باعث ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق بھی ممکن نہیں ہو سکی۔














