اسلام آباد کے مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار

سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور، حکمِ امتناعی ختم، ملکیت کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔
شائع 13 جولائ 2026 11:20am
Monal Restaurant | Islamabad Court Verdict | Constitutional Court - Aaj News

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے معروف مونال ریسٹورنٹ کو گرانے سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔ عدالت نے حکمِ امتناعی بھی ختم کر دیا اور ہدایت کی ہے کہ اراضی کی ملکیت سے متعلق مقدمات کا فیصلہ ٹرائل کورٹس جلد از جلد میرٹ پر کریں۔

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کیس کی سماعت کے بعد سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے مونال ریسٹورنٹ کو گرانے سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں حکمِ امتناعی بھی ختم کر دیا اور قرار دیا کہ انتظامی نوعیت کے معاملات کا فیصلہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے کریں گے، جبکہ اراضی کی ملکیت کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹس کریں گی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹس کسی بھی عدالتی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کریں۔

دورانِ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں کئی اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کیس دائر کرنے اور نظرثانی درخواست پر بھی غیر ضروری برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا، ”ہم نے جذباتی فیصلہ نہیں کرنا، کیس کو پوری طرح پڑھ کر قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔“

وکیل احسن بھون نے عدالت کو بتایا کہ بینچ نے کیس کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے، ”عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں، ہم وہی فیصلہ دیں گے جو ریکارڈ اور سماعت کے مطابق بنتا ہے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانی نہیں لکھیں گے، فیصلہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ پہلے بہت سی ایسی باتیں بھی شامل کر دی گئی تھیں جو عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں تھیں۔“

مونال ریسٹورنٹ کیس کیا ہے؟

مونال ریسٹورنٹ اسلام آباد کے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں واقع ملک کے معروف ریسٹورنٹس میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے اس کی زمین کی ملکیت، لیز، تعمیرات اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق قانونی تنازع جاری تھا۔

سی ڈی اے اور دیگر سرکاری اداروں کا مؤقف تھا کہ ریسٹورنٹ قومی پارک کی حدود میں قائم ہے اور اس کی تعمیر و توسیع ماحولیاتی قوانین اور لیز کی شرائط کے مطابق نہیں، جبکہ مونال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ قانونی اجازت ناموں کے تحت کاروبار کر رہی ہے اور اس کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔

اسی تنازع کے دوران مختلف عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت رہے، جن میں ریسٹورنٹ کی عمارت کو مسمار کرنے اور اراضی کی ملکیت سے متعلق مختلف عدالتی احکامات بھی سامنے آئے۔ تازہ فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا ہے کہ انتظامی معاملات کا فیصلہ متعلقہ ادارے کریں گے، جبکہ زمین کی ملکیت کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق کرے گی۔