خیبر پختونخوا میں بارش اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی، بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق

این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
شائع 20 جولائ 2026 05:36pm

خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں ہونے والی بارش اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی، جس کے باعث مختلف حادثات میں 3 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق جب کہ متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جب کہ ایبٹ آباد سمیت مختلف اضلاع میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور گلیات میں بارش اور شدید دھند سے حد نگاہ صفر ہوگئی۔

پیر کو خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارش اورسیلابی ریلوں کے باعث 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 2 خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکو 1122 کے مطابق مردان رستم کالو ڈھیری میں کمرے کی چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق جب کہ ماں اور بیٹی شدید زخمی ہوگئیں۔

ضلع خیبر میں ہونے والی موسلا دھار بارش اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے، جہاں مختلف واقعات میں 6 افراد جاں بحق جب کہ کئی افراد زخمی ہوگئے جب کہ شدید بارش کے باعث لنڈی کوتل اور گردونواح میں متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں اور کچے مکانات اور 10 سے زائد گھروں کی چاردیواریاں بھی منہدم ہوگئیں.

ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت مختلف اضلاع میں بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی سے شاہراہ ریشم پر پانی جمع ہونے سے سڑک تالاب کا منظر پیش کرنے لگی، جس کے باعث ٹریفک بلاک ہو گئی۔

گلیات کے علاقوں میں بارش اور شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ صفر ہو گئی ہے، اس صورت حال پر گلیات ڈویلپمنٹ اتھارتی (جی ڈی اے) کی جانب سے سیاحوں کے لیے اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

جی ڈی اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”سیاح نتھیا گلی اور ڈونگا گلی کی طرف سفر کرنے سے گریز کریں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرناک علاقوں میں اپنی گاڑیاں ہرگز پارک نہ کریں“۔

قبل ازیں محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ خیبر پختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، بالائی اور وسطی پنجاب اور گلگت بلتستان میں وسیع پیمانے پر بارش کا امکان ہے جب کہ اس کے برعکس ملک کے جنوبی حصوں میں شدید گرمی اور حبس کی صورتحال برقرار رہے گی۔

اسلام آباد میں کہیں ہلکی اور کہیں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے جب کہ صوبہ بلوچستان کے زیادہ تر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ ساتھ خضدار، موسیٰ خیل، شیرانی، کوہلو، ژوب اور بارکھان کے علاقوں میں آندھی اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

لاہور شہر کے مختلف حصوں میں ہلکی بارش ریکارڈ

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی شہر کے مختلف حصوں میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس پر واسا نے تمام اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔

واسا کے مطابق گلشن راوی میں سب سے زیادہ 34.2 ملی میٹر اور سمن آباد میں 31.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ سگیاں میں 17.4، فرخ آباد میں 11.6، اقبال ٹاؤن میں 11، لکشمی چوک میں 6.8، پانی والا تالاب میں 1.4، چوک ناخدا میں 0.4، اور ہیڈ آفس گلبرگ و نشتر ٹاؤن میں 0.2 ملی میٹر بارش ہوئی تاہم جیل روڈ، ایئرپورٹ، اپر مال، مغلپورہ اور تاجپورہ کے علاقوں میں بارش ریکارڈ نہیں ہوئی۔ لاہور میں نکاسیِ آب کی صورتحال پر واسا انتظامیہ الرٹ ہے۔

ایم ڈی واسا غفران احمد نکاسی آب کے اس آپریشن کی مسلسل خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں جب کہ شہر میں بارش کے پانی کو فوری صاف کرنے اور شہریوں کی سہولت کے لیے واسا کی تمام فیلڈ ٹیمیں سڑکوں پر متحرک ہیں۔

پہاڑی علاقوں کے لیے فلیش فلڈ الرٹ جاری

دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 25 جولائی تک گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے، جس کے باعث ندیاں اور نالوں میں پانی کے بہاؤ میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

این ڈی ایم اے نے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں جب کہ اپر اور لوئر چترال اور ان کے ملحقہ علاقوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ شانگلہ کے مقام پر بھی دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کافی تیز ہوگیا ہے۔

پنجاب میں دریاؤں کی صورت حال سے متعلق رپورٹ

پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں دریاؤں کی موجودہ صورت حال سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے تاہم دریائے چناب کے خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورت حال برقرار ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق خانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ پچیس ہزار اور اخراج ایک لاکھ سترہ ہزار کیوسک جب کہ قادر آباد میں پانی کی آمد ایک لاکھ چھیالیس ہزار اور اخراج ایک لاکھ ستائیس ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے راوی، ستلج اور سندھ کے مختلف مقامات پر پانی کا بہاؤ فی الحال نارمل سطح پر ہے جب کہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی صورت حال معمول کے مطابق ہے۔

پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ نالوں، بسنتر، ڈیگ، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں سیلاب جب کہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ادارے کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے، غیر ضروری طور پر دریاؤں اور ندی نالوں کا رخ نہ کرنے اور بچوں کو پانی میں نہانے سے روکنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ شہری موسم و سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیرو تفریح سے گریز کریں، بچوں کا خاص خیال رکھیں انہیں دریاؤں ندی نالوں میں ہرگز نہ نہانے دیں۔