مودی حکومت نے طلبہ کے مطالبات کی منظوری کے لیے ایک روز کا وقت مانگ لیا

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا: کاکروچ جنتا پارٹی
شائع 24 جولائ 2026 06:11pm

بھارتی حکومت نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے مطالبات پر جواب دینے کے لیے کل دوپہر تک کا وقت مانگ لیا ہے جب کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی کا بیان مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ یہ پیش رفت حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات اس وقت ہوئے جب معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کسی ممکنہ پیش رفت کی امید پیدا ہوئی۔

امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف ہزاروں نوجوان نئی دہلی میں جمع ہوئے تھے اور انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاجی تحریک 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے حکومت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور اسی معاملے پر رواں ہفتے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران کارروائی میں بھی رکاوٹ ڈالی۔ پیر کو ابتدائی ملاقات کے بعد یہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان پہلا باضابطہ اور تفصیلی مذاکراتی دور تھا۔

حکومت کی نمائندگی وفاقی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے کی جب کہ مظاہرین کی نمائندگی خود کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کہنے والی تنظیم کے ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا نے کی۔

مذاکرات کے بعد سی جے پی کے رہنماؤں نے بتایا کہ انہوں نے حکومتی نمائندوں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے بغیر انہیں کوئی بھی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔

آشوتوش رانکا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”حکومت نے وزیر تعلیم کے استعفے کے معاملے پر جواب دینے کے لیے کل دوپہر تک کا وقت مانگا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت جلد از جلد دھرمیندر پردھان کو برطرف کرے گی یا وہ خود استعفیٰ دے دیں گے تاکہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔“

دوسری جانب وفاقی وزیر جے پی نڈا نے بتایا کہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے۔ ان کے مطابق مظاہرین نے 3 اہم مطالبات پیش کیے ہیں اور حکومت نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ ہفتہ دوپہر دوبارہ ملاقات کر کے ان مطالبات پر تفصیلی بات کی جائے گی۔

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے علاوہ مظاہرین کے دیگر مطالبات میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینا اور مئی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بعد مقامی میڈیا کے مطابق خودکشی کرنے والے ایک درجن سے زائد طلبہ کے اہل خانہ کو مالی معاوضہ ادا کرنا بھی شامل ہے۔