پرنگلز چپس کی شکل گھوڑے کی زین جیسی کیوں رکھی گئی؟ دلچسپ سائنسی وجہ جانیے

انجینئرز نے تقریباً دو سال کی تحقیق اور متعدد تجربات کے بعد پرنگلز کا منفرد ڈیزائن تیار کیا، اور یہ چپس 1968 میں مارکیٹ میں متعارف کرائی گئیں۔
اپ ڈیٹ 01 اگست 2026 02:45pm

آلو کے چپس کی کئی اقسام موجود ہیں، لیکن دنیا بھر میں مشہور پرنگلز چپس صرف اپنے منفرد سلنڈر نما ڈبے کی وجہ سے ہی الگ شناخت نہیں رکھتی بلکہ اس کی خاص گھوڑے کی زین جیسی خم دار شکل بھی اسے دوسری چپس سے مختلف بناتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ شکل محض ڈیزائن نہیں بلکہ ایک خاص سائنسی اصول کے تحت تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد چپس کو مضبوط، کرنچی اور ٹوٹنے سے محفوظ رکھنا ہے۔

عام آلو کے چپس جہاں آلو کو پتلے ٹکڑوں میں کاٹ کر بنائے جاتے ہیں، وہیں پرنگلز بنانے کا طریقہ مختلف ہے۔ اس کے لیے خشک کیے گئے آلو کے ذرات کو دیگر اجزا کے ساتھ ملا کر ایک آٹے جیسا مرکب تیار کیا جاتا ہے۔ اس مرکب کو باریک شیٹ کی شکل میں پھیلایا جاتا ہے، پھر مشینوں کے ذریعے ایک جیسی شکل کے ٹکڑے کاٹے جاتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں تلا جاتا ہے، ذائقہ دیا جاتا ہے اور خاص سلنڈر ڈبوں میں ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔

پرنگلز کی خاص خم دار شکل کو سائنسی زبان میں ”ہائپربولک پیرا بولوئڈ“ کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ایک ایسی تین جہتی خم دار شکل ہے جو گھوڑے کی زین سے ملتی جلتی ہے۔ اس ڈیزائن کی وجہ سے چپس پر پڑنے والا دباؤ ایک جگہ جمع نہیں ہوتا بلکہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عام چپس کے مقابلے میں آسانی سے نہیں ٹوٹتی۔

ماہرین کے مطابق اس شکل کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ چپس میں کمزور جگہ بننے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر دباؤ پڑے بھی تو یہ ایک سیدھی لائن میں ٹوٹنے کے بجائے مختلف انداز میں ٹوٹتی ہے، جس سے اس کی مضبوطی برقرار رہتی ہے اور کھانے کے وقت وہ مخصوص کرنچ محسوس ہوتا ہے جو پرنگلز کی پہچان بن چکا ہے۔

پرنگلز چپس کی منفرد زین جیسی شکل کے پیچھے ایک دلچسپ سائنسی کہانی بھی موجود ہے۔ 1960 کی دہائی میں صارفین نے شکایت کی تھی کہ عام چپس پیکٹ کے اندر آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں اور ان میں ہوا کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔

پروکٹر اینڈ گیمبل کے انجینئرز نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تقریباً دو سال تک تحقیق کی اور آئی بی ایم سپر کمپیوٹرز کی مدد سے چپس کے لیے ایسی بہترین شکل تلاش کی جو مضبوط بھی ہو اور ٹوٹنے کے امکانات بھی کم ہوں۔ کئی تجربات کے بعد تیار ہونے والے اس منفرد ڈیزائن کے ساتھ 1968 میں ”پرنگلز نیو فینگلڈ پوٹیٹو چپس“ کے نام سے یہ چپس مارکیٹ میں متعارف کرائی گئیں۔

اس ڈیزائن کا تعلق صرف مضبوطی سے نہیں بلکہ پیداوار کے عمل سے بھی ہے۔ چپس کی خم دار سطح اس بات میں مدد دیتی ہے کہ تیز رفتار مشینوں پر چلتے وقت وہ اپنی جگہ پر قائم رہیں اور آسانی سے ادھر ادھر نہ گریں۔ یہ اصول کچھ حد تک ان ڈیزائنز سے ملتا جلتا ہے جو ہوائی جہاز کے پروں اور ریسنگ گاڑیوں میں ہوا کے دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

پرنگلز بنانے میں معیار کو برقرار رکھنے پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ تیاری شروع ہونے سے پہلے آلو کے ذرات کو جانچا جاتا ہے تاکہ ان کا سائز اور معیار مقررہ معیار کے مطابق ہو۔ بعد میں تیار ہونے والی ہر زائقے دار چپ کے سائز اور رنگ کو بھی چیک کیا جاتا ہے۔

کمپنی کے مطابق پیداوار کے دوران بڑی تعداد میں معیار کے معائنے کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر ذائقہ یا معیار مطلوبہ معیار کے مطابق نہ ہو تو پیداوار کے عمل کو روک کر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔

پیکنگ کے بعد بھی چپس کے نمونوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ذائقہ جانچنے والے ماہرین مخصوص ماحول میں چپس کو پرکھتے ہیں تاکہ رنگ یا ظاہری شکل ان کے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو اور وہ صرف ذائقے، خوشبو اور ساخت کو جانچ سکیں۔

یوں پرنگلز کی زین جیسی منفرد شکل صرف ایک خوبصورت انداز نہیں بلکہ کئی برسوں کی سائنسی تحقیق اور انجینئرنگ کا نتیجہ ہے، جس نے ایک عام اسنیک کو دنیا بھر میں منفرد شناخت دے دی۔