اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ، دورہ پاکستان کی دعوت

دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان علاقائی اور عالمی بالخصوص مقبوضہ مشرقی یروشلم کی بگڑتی صورت حال بھی زیر بحث آئی۔
اپ ڈیٹ 03 اگست 2026 11:02pm

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دے دی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق پیر کو پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، جس میں بالخصوص مقبوضہ مشرقی یروشلم کی بگڑتی ہوئی صورت حال بھی زیر بحث آئی۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورت حال پر بھی گفتگو کی۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کو اپنی اولین سہولت کے مطابق پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے مذاکرات سے متعلق متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران پر ایک ”بڑے حملے“ کو روک دیا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کے بعد حملہ مؤخر کیا گیا اور اب ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازع حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

تاہم ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ اس وقت امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق ایک عارضی محفوظ بحری راہداری پر بات چیت کر رہا ہے جب کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق ٹرمپ کے دعوے درست نہیں ہیں۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ جب تک ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں اور دباؤ برقرار ہے، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر معمول کے مطابق کھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں صرف عمان کے ساتھ تکنیکی نوعیت کے رابطے جاری ہیں، امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ سفارتی راستہ اب بھی موجود ہے اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے جب کہ ایران مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی نئی بات چیت کا آغاز نہیں ہوا اور واشنگٹن کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔