'2026ء کی دو پیش گوئیاں سچ ہو گئیں، تباہ کن تصادم قریب ہے'، معروف نجومی کا دعویٰ

جب دنیا بھر میں ماہرین اور تبصرہ نگار پرتگال یا دیگر ٹیموں کو فاتح قرار دے رہے تھے، اس وقت انہوں نے اسپین کی عالمی چیمپئن بننے کی پیش گوئی کی تھی۔
شائع 04 اگست 2026 10:21am

برازیل سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ نجومی اور پیرا سائیکالوجسٹ ایتھوس سالومے، جنہیں بعض حلقوں میں ”لیونگ نوسٹراڈیمس“ کہا جاتا ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2026 سے متعلق ان کی دو اہم پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں، جبکہ اب انہوں نے ایک اور ممکنہ بڑے عالمی تنازع کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

ایتھوس سالومے اس سے قبل بھی اس وقت خبروں میں آئے تھے جب انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کووڈ-19 وبا اور برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات جیسے واقعات کی پیش گوئی کی تھی۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق اب انہوں نے اپنی 2026 کی پیش گوئیوں کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پہلی پیش گوئی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے متعلق تھی، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان یورینیم افزودگی پروگرام کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے حوالے سے۔ سالومے کے مطابق حالیہ پیش رفت ان کی اسی پیش گوئی کی عکاسی کرتی ہے۔

سالومے کا دعویٰ ہے کہ ان کی دوسری درست ثابت ہونے والی پیش گوئی 2026 فیفا ورلڈ کپ سے متعلق تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی اسپین کی عالمی چیمپئن بننے کی پیش گوئی کی تھی۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا بھر میں کئی ماہرین اور تبصرہ نگار پرتگال یا دیگر ٹیموں کو فاتح قرار دے رہے تھے، اس وقت انہوں نے نہ صرف فائنل کھیلنے والی ٹیموں کی نشاندہی کی بلکہ بار بار اسپین کو سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا تھا، اور ان کے مطابق نتائج نے ان کی پیش گوئی کی تصدیق کی۔

برازیلی نجومی نے اپنی ایک اور پیش گوئی میں کہا تھا کہ روس آرکٹک کے اہم علاقوں میں میزائل نظام منتقل کر رہا ہے، جس سے 2026 میں برف پگھلنے کے بعد نیٹو اور روس کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ان کے مطابق آرکٹک میں برف کے پگھلنے سے نئے بحری راستے اور توانائی کے ذخائر زیادہ اہمیت اختیار کریں گے، جس کی وجہ سے اس خطے میں عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی ادارے فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ جوہری خطرات کے ماہر کارل پارکن نے بھی ایک حالیہ مضمون میں خبردار کیا ہے کہ آرکٹک میں برف پگھلنے سے روس کو معاشی فوائد حاصل کرنے اور اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے مواقع مل رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صورتحال مکمل طور پر روس کے حق میں نہیں ہوگی، کیونکہ برف پگھلنے سے روس کے جوہری ہتھیار نسبتاً زیادہ غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مغربی اتحادیوں کو اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے وقت انتہائی محتاط رہنا ہوگا تاکہ روس کی شدید جوابی کارروائی کو بھی روکا جا سکے۔

سالومے نے افریقہ کے ساہیل کے علاقے کو بھی ممکنہ خطرناک خطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی افواج کے انخلا کے بعد نائجر میں شدت پسند گروہوں کے درمیان تصادم کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

ان کی دیگر پیش گوئیوں میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا تعطل برقرار رہنا، چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ لیکن مکمل حملے سے گریز، جبکہ برڈ فلو، ڈینگی اور ایم پاکس جیسی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اتھوس سالومے کے دعوے ان کی ذاتی پیش گوئیوں پر مبنی ہیں اور ان کے دعووں کی سائنسی یا آزادانہ تصدیق نہیں۔