کھانوں کا ذائقہ بڑھانے والا مسالحہ دنیا کی بدبودار ترین غذاؤں میں شامل
کھانوں میں عام استعمال ہونے والا مشہور مسالحہ ہینگ سال 2026 میں دنیا کی بدبو دار ترین غذاؤں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
ہینگ کا استعمال جنوبی ایشیا کے لاکھوں گھروں میں دالوں، سالن، سبزیوں، اچار اور مختلف مسالحہ جات میں ذائقہ بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ کچی حالت میں اس کی بو بہت تیز اور چبھنے والی ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی اسے گرم تیل یا گھی میں پکایا جاتا ہے تو یہی مسالحہ کھانے کو منفرد اور لذیذ ذائقہ فراہم کرتا ہے۔
کھانوں سے متعلق عالمی ادارے ٹیسٹ اٹلس نے سال 2026 میں دنیا کی بدبو دار ترین غذاؤں اور غذائی اجزا کی فہرست جاری کی ہے، جس میں ہینگ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ٹیسٹ اٹلس نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی اپنی پوسٹ میں ہینگ کو ”تیز بو والا کشمش جیسا مسالحہ“ قرار دیا، تاہم اس کے لیے کوئی ریٹنگ جاری نہیں کی۔
ادارے نے دنیا بھر کی مختلف غذاؤں کو ان کی بو کی شدت کے لحاظ سے چار درجوں، یعنی انتہائی شدید، بہت زیادہ، درمیانی سے زیادہ اور معتدل طور پر تیز بو والی غذاؤں میں تقسیم کیا ہے۔
اس فہرست میں سب سے اوپر سویڈن کی خمیر شدہ مچھلی ”سرسٹرومنگ“ اور آئس لینڈ کی ”ہاکارل“ شامل ہیں، جبکہ گرین لینڈ کی منفرد غذا ”کیویاک“ کو بھی فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے، جس میں پرندوں کو سیل مچھلی کی کھال میں بند کرکے خمیر کیا جاتا ہے۔
فہرست کے دیگر حصوں میں تیز بو والے پنیر جیسے ویو بولون اور لمبرگر، ڈوریان پھل، ہینگ، چین کا سینچری ایگ اور جاپان کی خمیر شدہ سویا بین سے تیار کردہ غذا ”ناٹو“ بھی شامل ہیں۔
ٹیسٹ اٹلس نے اپنی پوسٹ میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا، ”ان غذاؤں کو لوگوں کو حیران کرنے یا انٹرنیٹ پر توجہ حاصل کرنے کے لیے ایجاد نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ اس لیے وجود میں آئیں کیونکہ انسانوں کے لیے اپنے شکار یا اگائی گئی خوراک کو محفوظ رکھنا ضروری تھا تاکہ وہ بھوک سے بچ سکیں۔ ریفریجریٹرز سے پہلے لوگ خوراک کو خمیر کرتے، نمک لگاتے یا زمین میں دبا کر محفوظ رکھتے تھے۔ اگرچہ ان غذاؤں کی بو بہت تیز ہوتی ہے، لیکن ان کے پیچھے صدیوں پرانی روایات اور بقا کی کہانی موجود ہے۔“
ادارے کے مطابق فرانس میں پنیر کو بیکٹیریا کی مدد سے محفوظ کیا جاتا تھا، جبکہ آئس لینڈ کے ماہی گیر شارک مچھلی کو طویل عرصے تک خمیرہونے دیتے تھے، جس سے اس میں امونیا جیسی انتہائی تیز بو پیدا ہو جاتی تھی۔ اس کے مطابق ان غذاؤں کی منفرد بو دراصل انسان کی بقا کی جدوجہد اور مختلف خطوں کی صدیوں پرانی روایات کی عکاس ہے۔
ہینگ دراصل فیروولا نامی پودے کی جڑ سے حاصل ہونے والی خشک گوند ہے۔ یہ خاص طور پر ایسے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں مذہبی یا دیگر وجوہات کی بنا پر پیاز اور لہسن شامل نہیں کیے جاتے۔
اگرچہ ہینگ کی کچی بو بہت تیز محسوس ہوتی ہے، لیکن پکنے کے بعد یہی مسالحہ اپنی منفرد خوش ذائقگی کی وجہ سے صدیوں سے جنوبی ایشیائی باورچی خانوں کا اہم حصہ چلا آ رہا ہے۔
















