پاکستان کی چین سے 1.3 ارب ڈالرز کا قرضہ جلد فراہم کرنے کی درخواست

پاکستان اور چین کے حکام کے درمیان بات چیت کا عمل جاری ہے تاکہ ری فنانسنگ کے تمام مرحلوں کو جلد از جلد حتمی شکل دی جا سکے: ذرائع
شائع 04 اگست 2026 02:16pm

پاکستان نے 1.3 ارب ڈالر کے تجارتی قرضے کی ری فنانسنگ، یعنی دوبارہ فراہمی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے چین سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق یہ فنڈز تمام ضروری شرائط و ضوابط طے پانے کے بعد رواں ماہ کے آخر تک پاکستان کو موصول ہونے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان اور چین کے حکام کے درمیان بات چیت کا عمل جاری ہے تاکہ ری فنانسنگ کے تمام مرحلوں کو جلد از جلد حتمی شکل دی جا سکے۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ”چین کی جانب سے موصول ہونے والی یہ رقم ملکی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بروقت سہارا فراہم کرے گی، کیونکہ حال ہی میں بیرونی قرضوں کی بڑی ادائیگیوں کے باعث ذخائر پر دباؤ آیا تھا“۔

یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے جولائی کے مہینے میں 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کیے ہیں، جن میں چین کا یہی 1.3 ارب ڈالر کا تجارتی قرضہ بھی شامل تھا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کو توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان جاری مالی سال کے دوران انٹر بینک فارن ایکسچینج مارکیٹ سے 7 ارب ڈالر سے زائد رقم حاصل کرے گا۔

حکام کے مطابق اس رقم کا مقصد بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا اور ساتھ ہی ساتھ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 جولائی 2026 تک پاکستان کے کل مائع غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22.442 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔ ان کل ذخائر میں سے مرکزی بینک کے پاس 17.030 ارب ڈالر موجود تھے جبکہ تجارتی بینکوں کے پاس 5.412 ارب ڈالر کے ذخائر تھے۔

24 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر میں 229 ملین ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

ذراعئ کے مطابق چین کی طرف سے متوقع 1.3 ارب ڈالر کی ری فنانسنگ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ کمی کا ازالہ کرنے میں مدد ملے گی۔