برسات میں آنکھوں کا فلو کیوں پھیلتا ہے؟ علامات اور بچاؤ کے آسان طریقے
برسات کے موسم میں کئی بیماریاں بھی تیزی سے پھیلنے لگتی ہیں۔ اس موسم میں نزلہ، زکام اور بخار کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی ایک خاص بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے، جسے عام زبان میں آئی فلو یا پنک آئی اور طبی زبان میں کنجیکٹیوائٹس کہتے ہیں۔
برسات میں ہوا میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے جراثیم اور وائرس زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جس کے باعث آنکھوں کے فلو کے کیسز میں اچانک اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گندے ہاتھوں سے بار بار آنکھوں کو چھونا، بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانا اور متاثرہ شخص کے قریبی رابطے میں رہنا بھی اس انفیکشن کو ایک سے دوسرے شخص تک منتقل کر سکتا ہے۔
ماہرین امراض چشم کے مطابق اگر اس بیماری کی علامات کو نظر انداز کیا جائے تو بعض صورتوں میں مسئلہ سنگین بھی ہو سکتا ہے، اس لیے بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
یہ بیماری آنکھ کے اندرونی سفید حصے اور پلکوں کے نیچے موجود باریک اور شفاف جھلی میں سوزش یا انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب یہ انفیکشن ہوتا ہے تو آنکھیں لال یا گلابی ہو جاتی ہیں اور ان میں جلن، خارش اور مسلسل پانی بہنے کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔
آلودہ ہاتھوں سے آنکھوں کو چھونا، گندگی، زیادہ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانا اور کسی متاثرہ شخص کے قریب جانا اس بیماری کے پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں۔
اس بیماری کی سب سے نمایاں علامت آنکھوں کا سرخ یا گلابی ہو جانا ہے۔ سوزش کی وجہ سے آنکھ کا سفید حصہ سرخ دکھائی دینے لگتا ہے۔
اس کے علاوہ آنکھوں سے مسلسل پانی بہنا، آنکھ میں خارش ہونا اور ایسا محسوس ہونا جیسے آنکھ میں ریت یا مٹی کا ذرہ چلا گیا ہو۔ کچھ لوگوں کی آنکھوں سے گاڑھا یا زرد رنگ کا پانی بھی نکلتا ہے جس کی وجہ سے صبح سو کر اٹھنے پر پلکیں آپس میں چپک جاتی ہیں اور پلکوں میں سوجن بھی آ سکتی ہے۔ یہ کیفیت مسلسل بے آرامی پیدا کرتی ہے اور روزمرہ کے کام متاثر ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح تیز روشنی میں آنکھیں چندھیا جانا یا دھندلا نظر آنا بھی اس کی علامات میں شامل ہے۔ اگر دھندلا پن زیادہ ہو جائے یا آنکھ میں شدید درد شروع ہو جائے تو فوری طور پر ماہر چشم سے معائنہ کرانا چاہیے۔ اس دوران موبائل فون، ٹی وی اور دیگر اسکرینوں کا استعمال بھی کم رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
اس بیماری سے بچنے اور اسے دوسروں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ ہیلتھ ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ لوگ کنجیکٹیوائٹس ہونے کے بعد بھی کچھ لاپروائی کرتے ہیں، جس سے یہ مسئلہ کئی دنوں تک بنا رہتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انفیکشن کی صورت میں اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور گندے ہاتھوں سے آنکھوں کو بالکل نہ چھوئیں۔ کسی دوسرے شخص کا تولیا یا رومال استعمال کرنے سے گریز کریں اور اگر اپ کنٹیکٹ لینز پہنتے ہیں تو تکلیف دور ہونے تک ان کا استعمال روک دیں۔
اگر آنکھوں میں درد، جلن یا دھندلاپن زیادہ محسوس ہو تو خود سے علاج کرنے کے بجائے فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ جب تک تکلیف برقرار رہے ٹی وی اور موبائل کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے تاکہ آنکھوں پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔
ماہرین کے مطابق آنکھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا، متاثرہ افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے بچنا اور درد، جلن، خارش یا سرخی ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اس بیماری سے بچاؤ کے مؤثر طریقوں میں شامل ہے۔
نوٹ: یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں۔ اگر کسی شخص کو آنکھوں میں شدید تکلیف، نظر دھندلی ہونے یا علامات میں مسلسل اضافہ محسوس ہو تو خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر مستند ڈاکٹر یا ماہر چشم سے رجوع کرنا چاہیے۔
















