مودی کی ویڈیو حذف ہونے کا تنازع، میٹا اور بھارتی حکومت آمنے سامنے

معاملہ میٹا حکام کی طلبی اور زکربرگ سے معافی کے مطالبے تک جا پہنچا۔
شائع 05 اگست 2026 06:56pm

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ویڈیو عارضی طور پر حذف ہونے کا معاملہ اب بھارتی حکومت اور میٹا کے درمیان کھلے تنازع میں بدل گیا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے مارک زکربرگ سے تین روز میں غیرمشروط معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے قانونی تحفظ واپس لینے کی وارننگ دی ہے، جب کہ میٹا کے اعلیٰ حکام وضاحت دینے نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔

بدھ کو میٹا کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر جوئل کپلان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سیکریٹری ایس کرشنن سے تقریباً پینتالیس منٹ ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران میٹا حکام نے وزیراعظم نریندر مودی کی ویڈیو عارضی طور پر حذف ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے اسے ایک تکنیکی اور انتظامی غلطی قرار دیا۔ بعد ازاں وفد کی مرکزی وزیر برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی اشونی ویشنو سے بھی ملاقات طے پائی۔

تاہم جب صحافیوں نے میٹا حکام سے سوال کیا کہ وزیراعظم کی ویڈیو حذف ہونے کا ذمہ دار کون تھا تو کمپنی کے نمائندوں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

ادھر بھارتی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مارک زکربرگ سے غیرمشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ وزیراعظم کی وہ ویڈیو، جس میں وہ طلبہ اور نوجوان نسل سے امتحانی تنازعات اور پرچہ لیک کے معاملے پر گفتگو کر رہے تھے، تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے تک فیس بک سے غائب رہی، جو ایک سنگین معاملہ ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نشیکانت دوبے نے کہا کہ وزیراعظم کی ویڈیو حذف ہونا محض ایک تکنیکی غلطی نہیں بلکہ ایسا اقدام ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ میٹا ایک غیرجانبدار ثالث کے بجائے ایک ناشر کا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مارک زکربرگ تین روز کے اندر غیرمشروط معافی نہیں مانگتے تو کمپنی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ اناسی کی ذیلی شق تین کے تحت حاصل سیف ہاربر قانونی تحفظ واپس لینے کی سفارش کی جائے گی۔ اس حوالے سے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کو بھی باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے صرف میٹا ہی نہیں بل کہ دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی خبردار کیا۔ کمیٹی نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد اور خواتین کی تضحیک پر مبنی مواد فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا اور واضح کیا کہ اگر پلیٹ فارمز اس حوالے سے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اسی دوران کمیٹی نے گوگل کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور حیدرآباد میں جعلی موبائل ایپس کے ذریعے سرمایہ کاری کے نام پر ہونے والے فراڈ کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے کہا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔

بعد ازاں بھارتی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ مارک زکربرگ نے بھارتی حکومت سے معذرت کرتے ہوئے وزیراعظم کی ویڈیو حذف ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے میٹا پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد اور دیگر انتظامی خامیوں پر بھی معافی مانگی، تاہم پارلیمانی کمیٹی نے واضح کیا کہ وہ وزیراعظم کی ویڈیو حذف ہونے کے معاملے پر باضابطہ اور غیرمشروط معافی چاہتی ہے۔

تنازع کیسے شروع ہوا؟

موجودہ تنازع کی جڑیں جولائی میں شروع ہونے والی اس ملک گیر طلبہ تحریک میں ملتی ہیں، جو ابتدا میں امتحانات میں بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات کے خلاف شروع ہوئی تھی، مگر چند ہی روز میں یہ تعلیمی نظام، روزگار اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ایک وسیع عوامی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔

احتجاج کا مرکز نئی دہلی کا جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اطراف کا علاقہ رہا، جہاں مختلف ریاستوں سے آنے والے ہزاروں طلبہ نے دھرنا دیا۔ آن لائن متحرک طلبہ تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی اس تحریک کی نمایاں علامت بن کر سامنے آئی جب کہ ملک بھر کی جامعات کے طلبہ بھی اس میں شامل ہوتے گئے۔

پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو متعدد مقامات پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے روک دیا۔ کئی مقامات پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، سیکڑوں طلبہ زخمی ہوئے جبکہ متعدد کو حراست میں لیا گیا۔ احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی نمایاں طور پر نشر ہوئیں۔

حکومت پر دباؤ بڑھنے کے بعد کانگریس رہنما راہول گاندھی، پرینکا گاندھی سمیت مختلف سیاسی، سماجی اور ثقافتی شخصیات نے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی۔ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو وفاقی وزیر تعلیم کا استعفا لینا پڑا جبکہ بعد ازاں حکومت اور طلبہ نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

مذاکرات کے بعد حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پرچہ لیک کے خلاف سخت قوانین اور متعدد دیگر مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جس پر طلبہ نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم انہوں نے مطالبہ برقرار رکھا کہ احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں اور گرفتار افراد کو مکمل قانونی ریلیف دیا جائے۔

اسی احتجاج کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے نوجوانوں اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے پرچہ لیک کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا یقین دلایا تھا۔ یہی ویڈیو بعد میں میٹا کی ملکیت والے فیس بک اور انسٹاگرام سے چند گھنٹوں کے لیے حذف ہوئی، جس کے بعد معاملہ براہِ راست بھارتی حکومت اور میٹا کے درمیان تصادم کی بنیاد بن گیا۔

بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ منتخب وزیراعظم کا سرکاری ویڈیو پیغام حذف ہونا محض تکنیکی خرابی نہیں بلکہ انتہائی حساس معاملہ ہے، جبکہ میٹا اسے انتظامی غلطی قرار دے رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع اب صرف ایک ویڈیو کے حذف ہونے تک محدود نہیں رہا بل کہ حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اختیارات، آزادیٔ اظہار، ڈیجیٹل خودمختاری، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی قانونی ذمہ داری اور ریاستی نگرانی سے متعلق ایک بڑے سیاسی و قانونی امتحان کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات بھارت کی آئندہ ڈیجیٹل پالیسی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔