'اسپیس ایکس' کا 4 ہزار کلو وزنی بے قابو راکٹ چاند سے ٹکرا گیا
ایلون مسک کی خلائی کمپنی ’اسپیس ایکس‘ کا ایک بے قابو راکٹ چاند سے ٹکرا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چاند کی سطح پر ایک نیا گڑھا بننے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تصادم سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں، تاہم اس واقعے نے خلائی ملبے اور مستقبل کے خلائی مشنز پر ممکنہ خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ راکٹ 15 جنوری 2025 کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔ راکٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دوسرے مرحلہ میں چاند سے ٹکرانے والا حصہ بے قابو ہوگیا تھا۔
یہ راکٹ ’اسپیس ایکس‘ کے خلائی مشن ’فالکن 9‘ کے دوسرے مرحلے کا حصہ تھا، جسے جنوری 2025 میں ایک ’لونر لینڈر‘ کو چاند کی جانب بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
‘لونر لینڈر‘ ایک ایسا خاص خلائی جہاز ہوتا ہے جسے خاص طور پر زمین سے چاند پر جانے اور وہاں کی سطح پر بحفاظت اترنے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔
عام طور پر دوسرے مرحلے میں ایسی صورت حال میں مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کا یہ حصہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل جاتا ہے یا سمندر میں گر جاتا ہے۔ تاہم رواں سال کے آغاز میں ماہرین فلکیات نے نشاندہی کی کہ راکٹ کے اوپری حصے میں ایندھن ختم ہو چکا ہے، اس لیے اس کا رخ تبدیل کرنا ممکن نہیں رہا اور اب یہ چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ راکٹ کے بے قابو حصے کی چاند سے ٹکرانے کی متوقع رفتار تقریباً 8 ہزار 690 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ اس تصادم کے نتیجے میں چاند پر تقریباً 65 سے 90 فٹ قطر کا گڑھا بننے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
ناسا کے ترجمان جیمی رسل کا کہنا ہے کہ چاند پر روزانہ کئی شہابِ ثاقب اس سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے ٹکراتے ہیں لہٰذا اس تصادم سے زمین یا چاند کے مدار کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
سائنس دانوں نے یہ تصادم بدھ کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق 11 بج کر 35 منٹ پر ہونے کی پیش گوئی کی تھی جب امریکا میں رات کے 2 بج کر 35 منٹ ہورہے تھے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اس تصادم کو براہِ راست نہیں دیکھا جا سکا، تاہم ماہرین دوربینوں کے ذریعے حاصل ہونے والی تصاویر سے اس کے نشانات کی تصدیق کرسکیں گے۔
اطلاعات کے مطابق اسپیس ایکس کا بے قابو راکٹ چاند پر واقع مقام ’آئن اسٹائن کریٹر‘ کے قریب گرا، جو چاند کے اس حصے میں واقع ہے جہاں اُس وقت سورج کی روشنی موجود تھی اور جو زمین سے دکھائی دیتا ہے۔
یہ تصادم ایسے وقت میں ہوا جب دنیا کے کئی حصوں میں دن کا وقت تھا، جس کی وجہ سے اس سے پیدا ہونے والی معمولی سی روشنی کو دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ چمک اتنی مدھم تھی کہ طاقتور دوربین سے بھی اسے واضح طور پر دیکھنا انتہائی مشکل تھا۔
دوسری جانب، دنیا کے اُن علاقوں میں جہاں اس وقت رات تھی، ماہرینِ فلکیات کے لیے بھی اس لمحے کو دیکھنے کے امکانات بہت کم تھے، کیوں کہ تصادم سے پیدا ہونے والی روشنی ایک سیکنڈ کے بھی مختصر حصے تک برقرار رہی۔
البتہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ تصادم کے نتیجے میں اٹھنے والا گرد و غبار کا بادل بعض دوربینوں میں نظر آیا ہو۔ یہ گرد و غبار تقریباً 100 کلومیٹر تک بلند ہوئی اور کئی منٹ تک فضا میں موجود رہی۔
رپورٹ کے مطابق چاند کے مدار میں گردش کرنے والے خلائی جہاز بھی اس وقت ایسی پوزیشن میں نہیں تھے کہ وہ تصادم کو براہِ راست ریکارڈ کر سکتے۔ تاہم یہ مشنز اب تصادم کے بعد چاند کی سطح کی تصاویر حاصل کریں گے اور انہیں تصادم سے پہلے کی تصاویر سے ملا کر نئے بننے والے گڑھے یا نشانات کی نشاندہی کریں گے۔
تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین سے تقریباً 3 لاکھ 85 ہزار کلومیٹر دور چاند کی سطح سے ٹکرانے والے تقریباً 14 میٹر طویل راکٹ کے حصے کے شواہد کو واضح تصاویر میں تبدیل کرنا فوری اور آسان عمل نہیں۔ اس مقصد کے لیے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور تصاویر کی پروسیسنگ میں چند گھنٹوں سے لے کر کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔
















