سولر اور چپس کے شعبوں میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ تیار
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی مقابلے کے تناظر میں سولر اور سیمی کنڈکٹر صنعت سے متعلق نئی تجارتی پالیسیاں متعارف کرا دی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق پولی سلیکون اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات پر نئی درآمدی شرائط اور 15 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ یہ اقدامات 4 دسمبر سے نافذ ہوں گے۔
پولی سلیکون انتہائی خالص سلیکون کی ایک قسم ہے جو سیمی کنڈکٹر چپس اور سولر پینلز کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ دنیا میں اس کی زیادہ تر پیداوار چین میں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے امریکا طویل عرصے سے اس شعبے میں درآمدات پر انحصار کرتا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان نئے اقدامات کا مقصد امریکا میں پولی سلیکون، سیمی کنڈکٹرز اور سولر مصنوعات کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت، توانائی اور قومی سلامتی سے متعلق اہم صنعتوں میں ملک کی سپلائی چین مضبوط بنائی جا سکے۔ امریکی حکومت کے مطابق اس سے مقامی صنعت کو عالمی مسابقت میں بہتر موقع ملے گا۔
امریکی سولر صنعت کئی برسوں سے چینی کمپنیوں پر الزام لگاتی رہی ہے کہ وہ حکومتی سبسڈی کی مدد سے سستے داموں سولر مصنوعات عالمی منڈی میں فروخت کرتی ہیں، جبکہ بعض کمپنیوں نے امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے اپنی پیداوار دوسرے ممالک منتقل کر دی ہے۔ چین کی جانب سے ان الزامات پر اس اعلان میں کوئی ردعمل شامل نہیں تھا۔
اس وقت امریکا میں پولی سلیکون تیار کرنے والی صرف دو بڑی فیکٹریاں موجود ہیں۔ ان میں مشی گن میں واقع ہیملوک سیمی کنڈکٹر اور ٹینیسی میں واکر کیمی کی فیکٹری شامل ہیں۔ ہیملوک سیمی کنڈکٹر نے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکا میں سرمایہ کاری اور مقامی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب واکر کیمی نے کہا کہ وہ ان نئے اقدامات کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سیمی کنڈکٹر صنعت کو پولی سلیکون کی مسلسل فراہمی کے لیے مضبوط سولر صنعت کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ پولی سلیکون کی مجموعی طلب کا بڑا حصہ سولر سیکٹر سے آتا ہے۔ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا بھر میں پولی سلیکون کی مجموعی طلب میں چپ سازی کا حصہ تقریباً 2.4 فیصد ہے۔
2022 میں امریکی کانگریس کی جانب سے ٹیکس مراعات متعارف کرانے کے بعد امریکا میں سولر صنعت میں سرمایہ کاری بڑھی، تاہم زیادہ تر ترقی سولر پینلز کی اسمبلنگ تک محدود رہی۔ اس کے باعث امریکی کمپنیاں اب بھی سولر ویفرز اور سیلز جیسی اہم مصنوعات درآمد کرنے پر انحصار کرتی ہیں، جن کی مقامی تیاری کے لیے زیادہ وقت اور سرمایہ درکار ہوتا ہے۔
امریکا میں سولر شعبے سے وابستہ کئی کمپنیوں، جن میں ٹی ون انرجی، فرسٹ سولر اور کیو سیلز شامل ہیں، نے حکومت کے فیصلے کو مقامی صنعت کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔ ٹی ون انرجی کے چیف ایگزیکٹو ڈین بارسیلو نے کہا کہ یہ اقدام امریکا میں جدید مینوفیکچرنگ اور توانائی کی مقامی سپلائی چین کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ کمپنی ٹیکساس میں اپنے سولر پینل پلانٹ کے علاوہ سولر سیلز کی نئی فیکٹری پر 510 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پولی سلیکون، اس کے انگوٹس اور ویفرز، سولر سیلز اور سولر پینلز کے لیے کم از کم درآمدی قیمتیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ محکمہ تجارت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایسی کمپنیوں کے لیے مراعاتی پروگرام تیار کرے جو امریکا میں پولی سلیکون یا اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی فیکٹریاں قائم کریں۔
تجارتی قوانین کے بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چونکہ یہ اقدامات دسمبر سے نافذ ہوں گے، اس لیے اس عرصے میں درآمدات میں عارضی اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ درآمد کنندگان نئی پابندیوں سے پہلے زیادہ مقدار میں سامان منگوانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب سولر پینلز خریدنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مؤخر نفاذ سے انہیں اپنے سپلائی معاہدوں کو نئی قیمتوں کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کا وقت مل جائے گا۔
















