تائیوان میں چینی بیویاں شک کے گھیرے میں

تائیوان میں چینی دلہنیں: محبت، سیاست اور وفاداری کی آزمائش میں ہلکان۔
شائع 12 اگست 2026 11:28am

تائیوان میں چین میں پیدا ہونے والی ان خواتین کے بارے میں بحث شدت اختیار کر رہی ہے جو تائیوانی شہریوں سے شادی کے بعد وہاں آباد ہوئیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ان خواتین کی تائیوان سے وفاداری، شہریت اور قومی سلامتی سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ انہیں دوسرے غیر ملکی شریکِ حیات کے مقابلے میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق چین میں پیدا ہونے والی لی چن شیؤ اس بحث کا نمایاں چہرہ بن گئی ہیں۔ وہ فروری میں تائیوان کی قانون ساز اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ اس طرح وہ شادی کے ذریعے تائیوان منتقل ہونے والی اور چین میں پیدا ہونے والی پہلی قانون ساز بنیں۔

تاہم عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ان کی شہریت اور وفاداری پر سوال اٹھنے لگے۔ تائیوان کی وزارت داخلہ نے مؤقف اختیار کیا کہ لی نے چینی شہریت ترک کرنے سے متعلق مطلوبہ دستاویزات جمع نہیں کرائیں۔ حکام کے مطابق وہ یہ ثبوت بھی بروقت فراہم نہیں کر سکیں کہ گزشتہ 10 سال سے ان کے پاس صرف ایک ہی شہریت رہی ہے۔

لی کا کہنا تھا کہ وہ 1999 سے تائیوان کی شہری ہیں اور اسی وقت چین میں اپنی گھریلو رجسٹریشن ختم کر چکی تھیں۔ ان کے مطابق وہ قانون کی مقررہ شرائط پوری کرتی ہیں۔

اپریل میں معاملہ حل نہ ہونے پر ان کی سیاسی جماعت نے انہیں نکال دیا۔ اس کے بعد حکومت نے چین میں پیدا ہونے والے قانون سازوں کے لیے شرائط مزید سخت کر دیں۔ حکومت نے اس فیصلے کو سیاسی معاملہ قرار دینے سے انکار کیا اور کہا کہ قانون سب کے لیے ہے۔

تاہم بعض ماہرین حکومت کے مؤقف سے متفق نہیں۔ نیشنل چینگچی یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر بروس لیاؤ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں حکومت بعض قوانین کی تشریح ایسے انداز میں کر رہی ہے جو چینی نژاد شریکِ حیات کے خلاف جا رہی ہے۔ دوسری جانب اکیڈمیا سینیکا کے محقق ین ٹو سو کے مطابق حکومت کو قومی سلامتی اور معاشرتی تحفظ کے معاملے میں احتیاط کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

تائیوان میں ایسے تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار افراد موجود ہیں جنہیں عام طور پر ’’مین لینڈ اسپاؤز‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک متنوع گروہ ہے۔ ان میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو کئی دہائیاں قبل چین سے تائیوان آنے والے سابق فوجیوں سے شادی کر کے یہاں آباد ہوئیں۔ دوسری طرف نئی نسل میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ اور خوشحال ہیں اور سرحدی رابطوں میں آسانی کے بعد تائیوان آئے۔

تائیوان اور چین کے درمیان موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے 1949 کی تاریخ اہم ہے۔ چینی خانہ جنگی کے بعد قوم پرست جماعت تائیوان منتقل ہو گئی تھی۔ کئی دہائیوں تک دونوں جانب براہ راست رابطے تقریباً بند رہے۔ 1987 میں تائیوان نے اپنے شہریوں کو چین میں موجود رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت دی۔ اس کے بعد دونوں معاشروں کے درمیان تعلقات میں بتدریج اضافہ ہوا۔

تاہم 2016 کے بعد دونوں حکومتوں کے تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔ چین تائیوان کے قریب باقاعدگی سے فوجی طیارے اور بحری جہاز بھیجتا ہے۔ بیجنگ تائیوان کو عالمی سطح پر سفارتی طور پر الگ تھلگ رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں تائیوان میں قومی سلامتی اور وفاداری کے سوالات زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔

اسی ماحول میں چینی نژاد بیویاں بھی زیادہ توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ حال ہی میں نیو تائی پے کی ایک عدالت نے ایک تنظیم کی سربراہ سو چون یِنگ کو چین کے لیے جاسوسی اور تائیوان کی سیاست میں مداخلت کے الزام میں سات سال قید کی سزا سنائی۔ وہ چینی نژاد شریکِ حیات کے لیے کام کرنے والی تنظیم سے وابستہ تھیں۔ اس مقدمے نے بھی اس بحث کو مزید تقویت دی کہ چین سے آنے والے افراد کو قومی سلامتی کے حوالے سے کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس برادری کے تمام افراد چین کے حامی ہیں۔ 72 سالہ می ژنگ رونگ کی کہانی اس کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے چین کے صوبے ہوبے میں ایک تائیوانی شخص سے شادی کی تھی۔ ان کے شوہر چین میں طویل عرصے تک رہنے کے بعد تائیوان واپس آنا چاہتے تھے، اس لیے دونوں 2002 میں تائیوان منتقل ہو گئے۔

شوہر کے انتقال کے بعد می نے تائیوان میں دوبارہ شادی کی۔ ان کے دوسرے شوہر بھی طویل عرصے تک بیمار رہے اور می نے ان کی دیکھ بھال کی۔ اب وہ اپنے مرحوم شوہر کی پنشن حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کی شادی مقررہ 10 سال مکمل ہونے سے صرف 13 دن پہلے شوہر کا انتقال ہو گیا۔

می کو اس وقت ماہانہ تقریباً 10 ہزار نیو تائیوان ڈالر ملتے ہیں، جس میں سے تقریباً ایک تہائی رقم کرائے میں چلی جاتی ہے۔ اس کے باوجود وہ کہتی ہیں کہ وہ تائیوان میں رہنا پسند کرتی ہیں اور واپس چین جانے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔

گزشتہ برسوں میں تائیوان نے چینی نژاد شریکِ حیات کو معاشرے میں شامل کرنے کے لیے کچھ قوانین نرم کیے تھے۔ انہیں شہریت حاصل کرنے اور کام کرنے کے مواقع نسبتاً آسان بنائے گئے۔ تاہم اب حکومت کچھ معاملات میں پالیسی سخت کر رہی ہے۔

گزشتہ موسم بہار میں تائیوان نے تین ایسی خواتین کو ملک بدر کیا جنہوں نے سوشل میڈیا پر چین کے ساتھ طاقت کے ذریعے اتحاد کی حمایت کی تھی۔ حکومت نے کہا کہ ان خواتین کی سرگرمیاں قومی سلامتی اور سماجی استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بن رہی تھیں۔

اس کے علاوہ تقریباً 12 ہزار ایسے چینی نژاد شریکِ حیات کو بھی نوٹس بھیجے گئے جو پہلے ہی تائیوانی شہری بن چکے ہیں۔ ان سے چین میں اپنی گھریلو رجسٹریشن ختم کرنے کا ثبوت فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔ مطلوبہ ثبوت نہ دینے کی صورت میں ان کی تائیوانی شہریت متاثر ہو سکتی ہے۔

قانونی طور پر بھی چینی نژاد خواتین اور دوسری غیر ملکی شریکِ حیات کے درمیان فرق موجود ہے۔ چین میں پیدا ہونے والی خاتون یا شریکِ حیات تائیوانی شہریت کے لیے چھ سال بعد درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ دوسرے ممالک کے شریکِ حیات کے لیے یہ مدت چار سال ہے۔ اسی طرح چینی نژاد شہریوں کو بعض سرکاری ملازمتوں کے لیے شہریت حاصل کرنے کے بعد 10 سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔

تائیوان میں آباد چینی نژاد مصنفہ اور سماجی کارکن شانگ گوان لوان کہتی ہیں کہ انہیں اکثر یہ خدشہ محسوس ہوتا ہے کہ لوگ ان کی وفاداری پر شک کرتے ہیں۔ ان سے یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ کہیں وہ چینی حکومت کے لیے کام تو نہیں کر رہیں یا جاسوسی تو نہیں کر رہیں۔

وہ مانتی ہیں کہ چین تائیوان میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن ان کے خیال میں حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد جاسوسی کے لیے زیادہ اہم ہدف ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق دفاعی اداروں، ٹیکنالوجی، کاروبار یا تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کے پاس زیادہ حساس معلومات ہو سکتی ہیں۔

تائیوان میں چینی نژاد خواتین کا معاملہ اسی لیے پیچیدہ ہے۔ ایک طرف حکومت کو چین سے ممکنہ سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور وہ قومی سلامتی کو ترجیح دینے کا مؤقف رکھتی ہے۔ دوسری طرف اس برادری کے بعض افراد کا کہنا ہے کہ انہیں صرف چین میں پیدا ہونے کی وجہ سے شک کی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔

تائیوان اور چین کے درمیان کشیدگی مستقبل میں اس مسئلے کو مزید حساس بنا سکتی ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسے لوگوں کے حقوق بھی محفوظ رکھے جائیں جو شادی، خاندان اور بہتر زندگی کی تلاش میں تائیوان منتقل ہوئے ہیں۔