Live
Election 2024

الیکشن کمیشن کی پولنگ سے متعلق ریکارڈ میں ’ترمیم‘ سے مزید شکوک و شبہات پیدا ہوگئے

3 جولائی کو لاہور کے 14 صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے فارم 45 غائب تھے، انگریزی اخبار کا دعویٰ
شائع 08 جولائ 2024 10:46am

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حال ہی میں اپنی آفیشل گوگل ڈرائیو پر محفوظ کردہ فارم 45 کو اپ ڈیٹ کرکے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کم از کم 41 قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے نتائج میں ’ترمیم‘ کی ہے جس کے بعد کئی سوالات جنم لے چکے ہیں۔

انگریزی اخبار کے دعویٰ کے مطابق اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ دستاویزات میں کیا ترمیم کی گئی ہے لیکن اس اقدام نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھادیے ہیں۔

خاص طور پر ایسے وقت میں جب انتخابات سے متعلق کئی تنازعات پہلے ہی فیصلے کے لیے انتخابی ٹربیونلز کے سامنے موجود ہیں۔

واضح رہے کہ فارم 45 ایک اہم ریکارڈ ہوتا ہے کیونکہ اس میں پولنگ اسٹیشن اور بیلٹ کی تعداد کے بارے میں اہم معلومات ہوتی ہیں، اور اس پر ہر پولنگ اسٹیشن کے پریزائیڈنگ افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔

انتخابی اعداد و شمار میں تبدیلی بظاہر ایک این جی او ’پاکپتن کولیشن 38‘ کی ایک رپورٹ کے بعد کی گئی ہے۔ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ای سی پی کی ویب سائٹ پر ایک درجن سے زائد حلقوں کے فارم دستیاب نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ 3 جولائی کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کو الیکشن کمیشن نے ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا تاہم، انگریزی اخبار ڈان کی جانب سے سرکاری طور پر اپ لوڈ کیے گئے ڈیٹا کی آزادانہ چھان بین سے یہ بات سامنے آئی کہ ای سی پی کا دعویٰ غلط تھا۔

ای سی پی کی گوگل ڈرائیو پر دستیاب ڈیٹا کے مطابق 3 جولائی کو لاہور کے 14 صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے فارم 45 غائب تھے۔ ان کی جگہ فارم 46 اپ لوڈ کیے گئے تھے تاکہ اس خلا کو پُر کیا جا سکے۔

3 جولائی کو ای سی پی گوگل ڈرائیو کی جانچ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لاہور کے حلقہ این اے 125 کے لیے تقریباً 50 فارم 45 غائب تھے۔

لیکن یہ آئند روز ہی تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ 4 اور 5 جولائی کو گوگل ڈرائیو پر نظر آنے والی ترمیم کی تاریخ کے مطابق ای سی پی نے NA-125 کے ساتھ ساتھ لاہور کے 14 دیگر صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے لیے بقیہ فارمز شامل کیے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حلقہ پی پی 159 کے علاوہ ان نشستوں میں پی پی 164 (لاہور)، وزیر اعظم شہباز شریف کی خالی کردہ نشست اور پی پی 150 بھی شامل ہے جس سے استحکم پاکستان پارٹی کے علیم خان نے کامیابی حاصل کی تھی۔

لاہور کے ان حلقوں کے علاوہ، ای سی پی نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ (کے پی) کے دیگر 26 قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے فولڈرز میں بھی تبدیلی کی، جہاں فارم 45 پہلے ہی اپ لوڈ کیے جا چکے تھے۔

ادھر ای سی پی کے ایک اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اگر کچھ فولڈرز میں فارم 45 کے بجائے فارم 46 اپ لوڈ کیے گئے ہیں تو یہ ایک دیانتداری پر مشتمل غلطی تھی اور اس کے پیچھے کوئی منفی ارادہ نہیں تھا۔

انہوں نے اصرار کیا کہ اس مرحلے پر فارم 45 کو تبدیل کرنا ممکن نہیں تھا، کیونکہ ان دستاویزات کی کاپیاں امیدواروں کے پاس پہلے سے موجود تھیں اور کچھ الیکشن ٹربیونلز کے سامنے بھی آچکی تھیں۔

فارم 47 کی حکومت عوام کی نہیں مسلط کردہ ہے، حافظ نعیم الرحمان

ججز فارم 45 کے مطابق فیصلے کریں تاکہ عوام کے ووٹوں والی حکومت آئے، امیر جماعت اسلامی
شائع 07 جولائ 2024 08:17pm
فوٹو۔۔۔فائل
فوٹو۔۔۔فائل

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ فارم 47 کی حکومت عوام کی نہیں مسلط کردہ ہے، ججز فارم 45 کے مطابق فیصلے کریں تاکہ عوام کے ووٹوں والی حکومت آئے۔

جماعت اسلامی ملتان سینٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حق دو عوام تحریک کے حوالے سے 12 جولائی کو دھرنا دے رہے ہیں، لوڈ شیڈنگ اور بلوں سے لوگ اپنا سب کچھ بیچ رہے ہیں مگر حکومت آئی ایم ایف کے نام پر روز بروز بجلی مہنگی کررہی ہے، 25 سو ارب آئی پی پیز کو مفت میں دیے جارہے ہیں۔

آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ سائیکل سے نکلنے کیلئے ٹیکسوں میں اضافہ لازمی ہے، وزیر خزانہ

انھوں نے کہا کہ فوجی آپریشن کی کسی صورت حمایت نہیں کرسکتے اس سے نفرتیں بڑھتی ہیں، ہمارا دھرنا عوام کو ریلیف دلوانے کیلئے ہے، مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب کے گھر پر پولیس کا چھاپہ، ’پنجاب اور وفاق میری گرفتاری کیلئے بے تاب ہے‘

حافظ نعیم نے کہا کہ جب عوام گھروں سے نکلے تو ائیرپورٹ پر کوئی نہیں پہنچ سکے گا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ لندن امریکا دبئی بھاگ جائیں گے پھر یہ ممکن نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے جاگیردار اور وڈیرے ٹیکس نہیں دیتے، اشرافیہ ملک کو لوٹ کر کھا گئے ہیں۔

این اے 231: دوبارہ گنتی روکنے سے متعلق جاری حکم امتناع میں توسیع

سندھ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو آئندہ سماعت تک دوبارہ گنتی سے روک دیا تھا
شائع 03 جولائ 2024 10:56am

سندھ ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 231 ملیر کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی روکنے سے متعلق جاری حکم امتناع میں توسیع کر دی۔

سندھ ہائیکورٹ میں این اے231 ملیر کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 7 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے دوبارہ گنتی روکنے سے متعلق جاری حکم امتناع میں توسیع کر دی۔

یاد رہے کہ عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کو آئندہ سماعت تک دوبارہ گنتی سے روک دیا تھا۔

پشاور ہائیکورٹ نے پی کے 99 کے 8 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی روک دی

پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار خالد محمود ایڈووکیٹ نے پیپلز پارٹی کے حکیم بلوچ کی کامیابی کو چیلنج کر رکھا ہے۔

الیکشن ٹربیونل نے خالد محمود کی درخواست پر این اے 231 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے عبد الحکیم بلوچ نے الیکشن ٹربیونل کے دوبارہ گنتی کے احکامات کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔

عبدالحکیم بلوچ نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے ہمارا مؤقف سنے بغیر چار پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا ہے۔

عمران خان پر مقدمات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، امریکا

زیر التواء کانگریسی قانون سازی پر بات نہیں کرسکتے، ویدانت پٹیل
شائع 02 جولائ 2024 08:26am

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا ہے کہ زیر التواء کانگریسی قانون سازی پر بات نہیں کرسکتے، پاکستان میں انتخابات کی شفافیت کا معاملہ ہماری توجہ کا مرکز ہے، عمران خان پر مقدمات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

واشنگٹن میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات کی شفافیت کا معاملہ ہماری توجہ کا مرکز ہے، انتخابی دھاندلی کا معاملہ پاکستانی شراکت داروں سے اٹھاتے رہے ہیں۔

الیکشن کے دوران عمران خان کے جیل میں رہنے پر تبصرے سے امریکہ کا انکار

نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا احترام کرے، امریکی حکام نے مسلسل پاکستان میں عوامی حقوق کے احترام پر زور دیا ہے، اس میں اظہار رائے کی آزادی، پرامن اجتماع اور مذہبی آزادی بھی شامل ہے۔

ویدانت پٹیل نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پر مقدمات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، ہم زیر التوا کانگریس کی قانون سازی پر بات نہیں کریں گے، ہمارے جمہوری نظام میں کانگریس، حکومت کی ایک الگ شاخ ہے۔

عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، امریکی محکمہ خارجہ

پاک بھارت تعلقات سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے معاملات خود طے کرنے ہیں، امریکا دنیا میں پڑوسی ممالک میں بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

پی بی 21 حب : بلوچستان ہائیکورٹ کا 39 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخاب کا حکم

الیکشن کمیشن 3 ہفتے میں شیڈول جاری کرکے انتخابات کروائے، عدالت
شائع 29 جون 2024 05:24pm
فوٹو۔۔۔فائل
فوٹو۔۔۔فائل

بلوچستان ہائی کورٹ نے ووٹوں کی گنتی کے کیس میں حلقہ پی بی 21حب کے 39 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخاب کا حکم دے دیا۔

جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس اقبال کاسی نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تین ہفتے میں شیڈول جاری کرکے انتخابات کروانے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ بی اے پی کے رہنما سردار صالح بھوتانی نے الیکشن کمیشن کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

امریکی کانگریس قرارداد پر ایران کا پاکستان سےاظہاریک جہتی

پاکستان کے الیکشن پر امریکی کانگریس کی قرار داد قابل مذمت ہے، ایرانی سفیر
شائع 29 جون 2024 04:38pm
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری، فوٹو۔۔اے پی پی
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری، فوٹو۔۔اے پی پی

امریکی کانگریس قرارداد پر ایران نے پاکستان سے اظہار یک جہتی کیا ہے۔ ایرانی سفیر رضا امیری موغادم نے پاکستان کے انتخابات سے متعلق امریکی کانگریس کی قرارداد کی مذمت کی ہے۔

ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس قرارداد سے ملک بھر میں سوالیہ نشان بنتا ہے، اقوام متحدہ کے آزاد رکن میں انتخاب پر قرارداد آزاد رکن کے ملکی معاملات میں مداخلت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکی قرار داد جمہوریت کی حمایت کی آڑ میں ایک طرح سے بھتہ خوری ہے۔

پاکستان میں انتخابات میں تحقیقات کے امریکی مطالبے کیخلاف قرار داد منظور، اپوزیشن کے سائفر کے نعرے

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صیہونی حکومت کو ہر قسم کے مہلک ہتھیار فراہم کر کے غزہ کے عوام کی نسل کشی کی حمایت کی جاتی ہے، جدیدجاہلیت کےعجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی ملک جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کے ذریعے روکے۔

امریکی کانگریس میں پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کی قرارداد منظور

واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے دو روز قبل بھاری اکثریت سے پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے حق میں قرار داد منظور کی تھی۔ پاکستان کے فروری 2024 کے انتخابات میں مبینہ مداخلت یا بے ضابطگیوں کے دعوؤں کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کی قرارداد پر امریکی ایوان میں 7 کے مقابلے میں 368 امیدواروں نے ووٹ دیا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان کی قرار داد کے جواب میں جمعہ کو قومی اسمبلی نے انتخابات میں مداخلت کی تحقیقات سے متعلق امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف قرارداد منظور کی۔ ایوان نے واضح کیا کہ بطور آزاد اور خود مختار ملک پاکستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔

قومی اسمبلی نے الیکشن ترمیمی بل 2024 منظور کرلیا

اپوزیشن کی طرف سے بل کی مخالفت کی گئی
اپ ڈیٹ 28 جون 2024 07:27pm
فوٹو ۔۔۔ فائل
فوٹو ۔۔۔ فائل

قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ اپوزیشن کی طرف سے بل کی مخالفت کی گئی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل ایوان میں پیش کیا، بل الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کے حوالے سے ہے۔

بل کے تحت الیکشن ٹریبونلز میں ریٹائرڈ ججز کو تعینات کیا جاسکے گا۔ الیکشن ٹریبونلز کے قیام کا اختیار آئین کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ الیکشن ٹریبونلز ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ ججز پر بھی مشتمل ہوسکتے ہیں، وفاقی حکومت نے الیکشن ایکٹ 2017 میں یہ ترمیم تجویز کی۔

سنی اتحاد کونسل نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں نعرے لگائے۔

الیکشن کمیشن کے نئے ٹریبونل کو کام سے روک دیا گیا

واضح رہے کہ 20 جون کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن ٹربیونلز کے قیام کا فیصلہ معطل کرنے کی الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد کرتے ہوئے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ 3 رکنی کمیٹی کو بھجوا یا تھا، دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی آرڈیننس پرسوالات اٹھا ئے تھے اور ریمارکس دیے کہ اگر آرڈیننس سے کام چلانا ہے تو پارلیمان بند کردیں، آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے۔

انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے امریکی مطالبے پر پاکستان کا جواب دینے کا فیصلہ

امریکی قرارداد کا سخت نوٹس لیا ہے، قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جائے گی، اسحاق ڈار کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال
شائع 27 جون 2024 12:50pm

پاکستان میں عام انتخابات مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے حوالے سے امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر ردعمل دیتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی قرارداد کے مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان کردیا اور کہا کہ پاکستان امریکی کانگریس کی قرارداد کو مسترد کرتا ہے، قرارداد کا مسودہ تیار ہے، سب سے شیئر کریں گے، اپوزیشن قرارداد کی حمایت کرے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف بھی قومی اسمبلی ایوان میں موجود ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ کی منظوری کا عمل جاری ہے، اپوزیشن نے خارجہ ڈویژن کے 2 مطالبات زر پر کٹوتی کی 27 تحاریک پیش کردیں، خارجہ امور ڈویژن کے مطالبات زر پر کٹوتی کی تحاریک پر اراکین نے بحث کی۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی پر ایوان کا خصوصی اجلاس بلانے کی تجویز مناسب ہے، بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے۔

امریکی کانگریس میں پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کی قرارداد منظور

اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر دفتر خارجہ نے اپنا مؤثر رد عمل دیا جبکہ امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر وزیر خارجہ نے دفترخارجہ کا رد عمل ایوان میں پڑھ کر سنایا۔

وزیرخارجہ نے اعلان کیا کہ ہم امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے جواب میں قرارداد لائیں گے، امریکی قرارداد کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس حوالے سے قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کے لیے مسودہ تیار کرلیا، قرارداد کا مسودہ اپوزیشن کے ساتھ بھی شیئرکریں گے، ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔

نائب وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں سمیت تمام جماعتوں سے امریکی قرارداد کے خلاف مشترکہ موقف اپنانے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اسرائیل کی کھل کر مذمت کی، ہم نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف جنگ فوری بند ہونی چاہیئے، یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت نے فلسطین کے مسئلے پر آواز نہیں اٹھائی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت نے سوشل میڈیا سے اسلامو فوبیا پرمبنی مواد ہٹانے کے لیے اقدامات اٹھائے، پر امن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، افغانستان ہمارے ترجیحی ایجنڈے پر رہے گا، موجودہ حکومت نے معاشی سفارت کاری کا آغاز کیا ہے۔

عامر ڈوگر

سنی اتحاد کونسل کے رکن اسمبلی عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے ایوان میں ایک دن مقرر کیا جائے، آج ہماری خارجہ پالیسی کمپرومائزڈ ہے، ہمیں آزاد اور خود مختار پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، مظلوم فلسطینی بھائیوں کو آج ہم نے اکیلا چھوڑ دیا ہے، ہم ہیں کہاں، کبھی ہم امریکا کے پیچھے چلتے ہیں کبھی چین کے پیچھے۔

امریکی ایوان میں منظور ہوئی قرارداد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، شیری رحمان

عامر ڈوگر نے کہا کہ ہمسائیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہونے چاہئیں، ہمیں ایران اور ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں، پاکستان میں ہمیشہ دراندازی اور شورش افغانستان سے آئی، افغانستان کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی واضح ہونی چاہیئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے غزہ کے نہتے مسلمانوں پر ظلم و پردنیا میں کسی فورم پر آواز نہیں اٹھائی، فلسطینیوں پر 24 گھنٹے بمباری ہو رہی ہے مگر افسوس حکمران خاموش ہیں، اس سے بڑی شرمناک خارجہ پالیسی نہیں ہو سکتی۔

علی محمد خان

سنی اتحاد کونسل کے علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کے لیے سب سے اہم مسلئہ فلسطین ہے، سیو غزہ کمپین کچھ مہینوں سے چل رہی ہے، وزیرخارجہ تشریف لے جائیں گے تو سیو غزہ کیمپین کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ قائدِ اعظم نے فلسطینیوں کے وکیل کے طور پر پالیسی کا فریم ورک دیا، قائد اعظم کی پالیسی کے مطابق اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے، فلسطین میں شہادتوں کی اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے، اسرائیل اسپتالوں میں بچوں اور خواتین کو مار رہا ہے۔

علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے اس مسلئے پر توانا آواز بلند کی، وزیرِ خارجہ اور وزیراعظم مسئلہ فلسطین پر ویسی ہی توانا آواز بلند کریں، بانی پی ٹی آئی نے افغانستان میں امن کے لئے دو او آئی سی کانفرنسز منعقد کیں، بانی پی ٹی آئی نے فلسطین اور امت مسلمہ کے مسائل پر اسلامک بلاک کی بات کی۔

قومی اسمبلی کے ایوان میں کچھ دیر کے لیے بجلی چلی گئی

دوران اجلاس قومی اسمبلی کے ایوان میں کچھ دیر کے لیے بجلی چلی گئی اور پھر واپس آگئی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ ہم سولر پہ ہیں بجلی جانی نہیں چاہیئے۔

خارجہ امور ڈویژن کے 51 ارب 86 کروڑ روپے سے زائد کے 2 مطالبات زرمنظور کرلیے گئے جبکہ خارجہ امور ڈویژن کے مطالبات پر اپوزیشن کی کٹوتی کی 27 تحاریک مسترد کردی گئیں۔

عمران خان کا سپریم کورٹ سے رجوع، الیکشن دھاندلی کی آئینی درخواست پر جلد سماعت کی استدعا

دھاندلی الزامات پر جوڈیشل کمیشن کی درخواست کو 25 جون کو سماعت کیلئے فکس کیا جائے، استدعا
اپ ڈیٹ 21 جون 2024 10:46pm
فوٹو۔۔۔۔۔ فائل
فوٹو۔۔۔۔۔ فائل

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا اور الیکشن دھاندلی کی آئینی درخواست پر جلد سماعت کی استدعا کردی۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل حامد خان نے جلد سماعت کی متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی۔

پی ٹی آئی کا عام انتخابات میں دھاندلی کیخلاف اتوار کو احتجاج کا اعلان

سپریم کورٹ نے انتخابات اور ضمنی انتخابات کیلئے امیدواروں کو بیان حلفی دینے سے روک دیا

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 8 فروری انتخابات میں دھاندلی کی انکوائری کی درخواست زیر التواء ہے، دھاندلی کے خلاف درخواست میں عوامی مفاد و بنیادی حقوق کا سوال اٹھایا گیا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نیب کیس میں دھاندلی کے خلاف درخواست پر سماعت کی استدعا کی تھی۔

اڈیالہ جیل : عمران خان سے علی امین گنڈا پور کی سوا گھنٹہ طویل ملاقات

درخواست میں استدعا کی گئی کہ دھاندلی الزامات پر جوڈیشل کمیشن کی درخواست کو 25 جون کو سماعت کے لیے فکس کیا جائے۔

ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد کتنی ہوگئی؟ ڈیٹا جاری

ملک میں ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 4 لاکھ 44 ہزار 891 ہوگئی ہے
اپ ڈیٹ 14 جون 2024 05:53pm

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ملک میں ووٹرز کا تازہ ترین ڈیٹا جاری کردیا، جس کے مطابق ملک میں ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 4 لاکھ 44 ہزار 891 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر کے ووٹرز کے تازہ ترین اعداد و شمارجاری کردیے گئے۔

الیکشن کمیشن ڈیٹا کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد 13 کروڑ 4 لاکھ 44 ہزار 891 ہوگئی، ملک میں مرد ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 1 لاکھ 87 ہزار 683 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 2 لاکھ 57 ہزار 208 ہے۔

اسلام آباد

الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 12 ہزار 744 ہو گئی، اسلام آباد میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 لالھ 83 ہزار 963 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 28 ہزار 781 ہو گئی۔

عام انتخابات میں خواجہ سراؤں نے خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

بلوچستان

بلوچستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 54 لاکھ 50 ہزار 572 ہو گئی، بلوچستان میں مرد ووٹرز کی تعداد 30 لاکھ 56 ہزار 775 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 23 لاکھ 93 ہزار 797 ہے۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 22 لاکھ 45 ہزار 264 ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 21 لالھ 8 ہزار 332 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 1 لاکھ 36 ہزار 932 ہے۔

پنجاب

پنجاب میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 42 لاکھ 55 ہزار 74 ہے، پنجاب میں مرد ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 96 لالھ 29 ہزار 841 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 46 لاکھ 25 ہزار 233 ہے۔

سندھ

اسی طرح سندھ میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 73 لاکھ 81 ہزار 237 ہے، سندھ میں مرد ووٹرز کی تعداد1 کروڑ 48 لاکھ 8 ہزار 772 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 25 لاکھ 72 ہزار 465 ہے۔

الیکشن دھاندلی الزامات : لاہور ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل 8 الیکشن ٹربیونلز قائم

الیکشن ٹربیونلز قائم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
شائع 12 جون 2024 06:35pm
فوٹو۔۔۔فائل
فوٹو۔۔۔فائل

عام انتخابات 2024 میں دھاندلی الزامات کی تحقیقات کے لیےلاہور ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل 8 الیکشن ٹربیونلز قائم کردیے گئے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب میں انتخابی عذرداریوں کی سماعت کے لئے 8 الیکشن ٹریبونلز قائم کیے۔

الیکشن ٹریبونل کی تبدیلی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے ٹریبیونل کو کام کرنے سے روک دیا

سلمان اکرم راجہ نے ریٹائرڈ ججز کو الیکشن ٹریبونل تعینات کرنے والا آرڈیننس چیلنج کردیا

نوٹیفکیشن کے مطابق، لاہور ہائی کورٹ کی لاہور میں موجود پرنسپل سیٹ پر جسٹس شاہد کریم ، جسٹس چوہدری اقبال ، جسٹس انوار حسین اور جسٹس سلطان تنویر احمد الیکشن سے متعلق کیسز کی سماعت کریں گے۔

لاہورہائی کورٹ کے بہالپور بینچ میں جسٹس عاصم حفیظ ، ملتان بینچ میں جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس راحیل کامران شیخ جبکہ راولپنڈی بینچ میں جسٹس مرزا وقاص رؤف الیکشن سے متعلق کیسز کی سماعت کریں گے۔

سپریم کورٹ میں جج نامزد ہونے پر جسٹس شاہد بلال حسن نے جوڈیشل کام چھوڑ دیا

جسٹس شاہد بلال حسن کی عدالت میں زیر سماعت کیسز غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی
اپ ڈیٹ 10 جون 2024 01:53pm

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جج نامزد ہونے پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے جوڈیشل ورک چھوڑ دیا۔

رجسٹرار کے مطابق جسٹس شاہد بلال حسن کی عدالت میں زیر سماعت کیسز غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیے گئے۔

جسٹس شاہد بلال حسن کا سپریم کورٹ میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد تمام کیسز دوسری عدالتوں میں منتقل کیے جائیں گے۔

سپریم کورٹ میں نئے ججوں کے تقرر کے لیے 3 ناموں کی سفارش کردی گئی

واضح رہے کہ چند روز قبل جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال کو سپریم کورٹ کا ججز مقرر کرنے کی سفارش کی منظوری دی تھی۔

الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کی تاریخ دینے کے اختیار کیخلاف درخواست پر سماعت نہ ہوسکی

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں بینچ کی عدم دستیابی کے باعث الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کی تاریخ دینے کے اختیار کے خلاف درخواست پر بھی سماعت نہ ہوسکی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کی تاریخ دینے کے اختیار کے خلاف درخواست پر سماعت کرنی تھی تاہم بینچ کی عدم دستیابی کے باعث سماعت غیر معینہ مدت تک سماعت ملتوی کردی گئی۔

اس کیس میں عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو معاونت کے لیے طلب کر رکھا تھا۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ آئین کے تحت الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صدر پاکستان یا صوبائی گورنر کے پاس ہے، الیکشن کمیشن کے سیکشن 57 میں ترمیم کر کہ انتخابات کی تاریخ کا اختیار الیکشن کمیشن کو دے دیا گیا جو کہ آئین سے متصادم ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 کو کالعدم قرار دے۔

پی پی 32 گجرات: پرویزالہٰی کی دھاندلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

کیا آپ چاہتے ہیں الیکشن کالعدم قرار دے دیں؟ اس طرح کریں تو پورے ملک کا الیکشن فارغ ہوجائے گا، چیف الیکشن کمشنر
اپ ڈیٹ 04 جون 2024 12:42pm

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 32 گجرات میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی کی دھاندلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

الیکشن کمیشن میں پی پی 32 گجرات کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کی پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے سماعت کی۔

پرویز الہٰی کے وکیل عامر سعید الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ریٹرننگ افسر کی رپورٹ کی کاپی موصول ہوگئی ہے، ضمنی انتخابات میں پرویز الہٰی کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے روکا گیا، الیکشن کمیشن نے ایکشن لے کر پرویز الہٰی کے کاغذات نامزدگی جمع کرنے کی ہدایات کیں۔

پرویز الہٰی کے وکیل نے بتایا کہ پی پی 32 ضمنی الیکشن میں پورے حلقے میں بدترین دھاندلی کی گئی، ضلعی انتظامیہ نے ووٹرز کو حراساں، ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا، الیکشن کے دن ہمارے 70 سے ذائد پولنگ ایجنٹس کو غائب کردیا گیا، پولیس نے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو گرفتار کر کے غائب کیا۔

پی پی 32 گجرات پر مبینہ دھاندلی سے متعلق درخواست پر ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب

ممبر الیکشن کمیشن اکرام اللہ خان نے کہا کہ اتھارٹی لیٹر ہوگا تو آپ کے پولنگ ایجنٹس کو تسلیم کریں گے، ہوا میں باتیں مت کریں نہ تحریری شواہد پیش کریں۔

وکیل عامر سعید نے کہا کہ پولنگ ایجنٹس کو غائب کر کے جعلی ووٹ کاسٹ کیے گئے، 5 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹر ٹرن آؤٹ 91 فیصد سے زائد رہا، مرے ہوئے اور بیرون ملک مقیم ووٹرز کے بھی ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن عدالت نہیں کمیشن ہے۔

ممبر اکرام اللہ خان نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ دوسرے فریق کو دیے؟ جس پر پرویز الہٰی کے وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں، دوسرے فریق کو ریکارڈ دینے کا پابند نہیں۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ اگر آپ دوسرے فریق کو ریکارڈ نہیں دے رہے تو ہم آپ کا ریکارڈ منظور ہی نہیں کریں گے، الیکشن کمیشن آئین کے تحت قائم کیا گیا، اس کمیشن کے تمام اختیارات ہیں، پہلی مرتبہ کسی وکیل نے کہا کہ دستاویزات کی کاپی فراہم کرنے کا پابند نہیں۔

ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ شواہد پیش کریں کیسے مرے ہوئے لوگوں کے ووٹ ڈالے گئے، جس پر وکیل عامر سعید نے بتایا کہ تحقیقات کی جائیں کہ کیسے مرے ہوئے اور بیرون ملک مقیم لوگوں کے ووٹ کاسٹ ہوئے، ماسک پہنے لوگوں نے پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کر کے ٹھپے لگائے، کئی پولنگ سٹیشنز پر خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح 10 فیصد سے کم ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں اس بنیاد پر الیکشن کالعدم قرار دے دیں؟ اس طرح کریں تو پورے ملک کا الیکشن فارغ ہوجائے گا، آپ تحقیقات چاہتے ہیں یا حلقے کا الیکشن کالعدم قرار دینا؟۔

پی پی 32 ضمنی انتخاب: پرویز الٰہی کی اہلیہ نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی

جس پر پرویز الہٰی کے وکیل نے کہا کہ تحقیقات میں میرے الزامات ثابت ہوں تو الیکشن کمیشن پورے حلقے کا نتیجہ کالعدم قرار دے۔

وکیل موسی الہٰی کے وکیل نے کہا کہ پرویز الہٰی کے پولنگ ایجنٹس دوسرے شہروں سے بلائے گئے، صرف الزامات لگائے گئے کہ مرے ہوئے اور بیرون ملک مقیم لوگوں نے ووٹ ڈالے، جن حلقوں میں مرے لوگوں کے ووٹ ڈالنے کا الزام ہے وہاں پرویز الٰہی جیتے ہیں، الزامات کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن معاملہ ٹریبونل کو بھجوا دے۔

بعدازاں الیکشن کمیشن نے پی پی 32 گجرات میں پرویز الہٰی کی دھاندلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

واضح رہے کہ 21 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کے موسی الہیٰ نے 71 ہزار 357 ووٹ حاصل کر کے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری کو شکست دی تھی، جنہوں نے 37 ہزار 106 ووٹ حاصل کیے تھے۔

ایران میں صدراتی امیدوار زہرا علیہان کون ہیں؟

ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد ایران میں صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار سامنے آ گئے
اپ ڈیٹ 02 جون 2024 11:55pm
تصویر بذریعہ: ایکس
تصویر بذریعہ: ایکس

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد اب نئے صدر کے لیے مختلف نام سامنے آ رہے ہیں۔

تاہم اب ایران کے صدارتی انتخاب میں خاتون بھی امیدوار کے طور پر سامنے آ رہی ہیں، زہرا علیہان سب کی توجہ خوب سمیٹ رہی ہیں۔

پہلی خاتون امیدوار کے طور پر زہرا علیہان نے عالمی میڈیا کی بھی توجہ حاصل کر لی ہے، 57 سالہ زہرا علیہان سابقہ پارلیمنٹیرئین ہیں جبکہ وہ ایک ڈاکٹر ہیں۔

زہرا علیہان کی جانب سے صدر منتخب ہونے کے بعد کرپشن ختم کرنے کا اعادہ ظاہر کیا ہے۔

ماضی میں زہرا علیہان حجاب لازمی قرار دینے کے قانون کی حمایت کرتی رہی ہیں، جبکہ مظاہرین کے لیے موت کی سزا کی بھی حمایت کرتی دکھائی دی ہیں۔

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل

کیا ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر حادثے میں اسرائیل ملوث تھا؟ اتل ابیب کی وضاحت

تاہم زہرا علیہان کی قسمت ایران کے متنازع قانونی آرٹیکل پر منحصر کرتی ہے، ایران کی گارجئین کاؤنسل کی جانب سے آرٹیکل 115 کے تحت خواتین امیدواروں کو مسترد کر دیتے ہیں، یہ قانون محض مردوں کو ہی بطور امیدوار قبول کرتا ہے۔

تاہم ناقدین اس بات پر وضاحت دیتے ہوئے کہتے ہیں آرٹیکل میں ’مین‘ لفظ کو پرسن سے تشبیہہ دیا گیا ہے، جو کہ محض مرد کی صنف کی ترجمانی نہیں کرتا ہے۔

واضح رہے تہران کے مئیر علی رجا زقانی، قانون دان مسعود پیزیشکیان، سابق فوجی کمانڈر وحید ہاغانیان بھی صدارتی امیدوار کی فہرست میں شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے رضا مند

اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار کیوں ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ
شائع 01 جون 2024 08:38pm

الیکشن کمیشن نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے رضا مندی ظاہر کردی ۔ عدالت میں رپورٹ جمع کرائی کہ بلدیاتی الیکشن کروانے کے لیے تیار ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری کابینہ سے رپورٹ طلب کر لی۔

الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے رضا مند ظاہر کر دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری کابینہ سے الیکشن میں تاخیر کرنے پر سوال کر ڈالا کہا کہ اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار کیوں ہیں؟ شہریوں کو اپنے نمائندوں کے انتخاب سے دور رکھ کر میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کو ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چلانا خلاف قانون ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانے پر سیکرٹری کابینہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ تحریری حکمنامے میں کہا وفاقی حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیلئے چھپن چھپائی کھیل رہی ہے۔ مختلف حکومتی وزارتوں، اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا بہانہ نہیں ہو سکتا۔ یہ آئین اور سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے ۔

الیکشن کمیشن کے ڈی جی لا نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق رپورٹ جمع کروائی جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے تیار ہیں، اس حوالے سے وزارت داخلہ کی رپورٹ بھی جمع کرائی گئی، وزارت داخلہ کے مطابق کابینہ میں معاملات زیر التوا ہونے کے باعث ایم سی آئی کی مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا۔

عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا ہے کہ قانون کے مطابق ایم سی آئی کے ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی صرف 6 ماہ کے لیے کی جا سکتی ہے، ہر چھ ماہ بعد توسیع قانون کے برخلاف ہے۔ کیس کی مزید سماعت 8 جولائی کو ہوگی۔

عدالت نے کہا حکومت وفاقی دارالحکومت میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے نفاذ میں تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے، سیکرٹری داخلہ ایم سی آئی کے ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی سے متعلق نوٹیفکیشن کا قانونی جواز فراہم کریں ورنہ حکم امتناع جاری کیا جائے گا۔

کیا سزا ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارت کا الیکشن لڑ پائیں گے، حیرت انگیز جواب

صدارتی امیدوار سے متعلق امریکی قانون نے واضح کر دیا
شائع 31 مئ 2024 12:54pm
تصویر بذریعہ: امریکی میڈیا
تصویر بذریعہ: امریکی میڈیا

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعرات کے روز سزا سنائی گئی ہے، تاہم اس سزا کا اعلان 11 جون کو کیا جائے گا۔

لیکن اس سے قبل امریکی سوشل میڈیا سمیت ان کے چاہنے والوں میں یہ تجسس بھی پایا جا رہا ہے کہ ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کیا رواں سال صدارتی الیکشن لڑ پائیں گے؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سزا ملنے کے بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن سکتے ہیں، امریکی آئین صدارتی امیدواروں کی اہلیت کے حوالے سے کم تقاضے کرتا ہے۔

امریکی صدارتی امیدوار کی عمر کم از کم 35 سال درکار ہوتی ہے، جبکہ یہ بھی ضروری ہے کہ امیدوار امریکی شہری ہو، کم از کم 14 سال امریکہ میں ہی مقیم رہا ہو۔

تاہم حیرت انگیز طور پر امریکی صدر کے امیدوار جو کہ مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہوں، ان کے انتخاب میں حصہ لینے کے حوالے سے کوئی اصول موجود نہیں ہے۔

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سزا ختم کرانے کے لیے مزاحمت کرسکتے ہیں، تاہم امریکی عوام سزا ملنے پر ایک الگ رائے رکھتی ہے۔

نکی ہیلی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی صحت کا سوال اٹھادیا

رواں سال بلومبرگ اور مارننگ کنسلٹ کی جانب سے کیے جانے والے سروے میں اہم سوئنگ ریاستوں کے ووٹوز میں 53 فیصد کی جانب سے سزا پانے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی یعنی ریپلکن کو ووٹ دینے سے انکار کیا ہے۔

دوسری جانب سزا ملنے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے صورتحال خطرناک نہیں ہے، غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر کے جیل جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔

ٹرمپ کے خلاف الزامات ’کلاس ای‘ جرائم کے زمرے میں آتے ہیں، جو کہ ریاست نیو یارک کے سے سب سے کم درجے کے جرائم میں شامل ہیں۔ جن کی سزا زیادہ سے زیادہ 4 سال ہے۔

واضح رہے کیس کو سننے والے جج جسٹس مرچن سزا کم سے کم دینے کی چند وجوہات ہیں، جیسے کہ ملزم کی عمر، سابق امریکہ صدر کے ماضی میں کوئی کرمنل ریکارڈ نہ ہونا، جبکہ دیگر الزامات غیر متشدد قسم کے جرائم شامل ہیں۔

این اے 48 میں مبینہ دھاندلی: راجہ خرم نواز، ریٹرننگ افسر پر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد

یہ اہم معاملہ ہے سول پٹیشن نہیں، جو پارٹی التوا لے گی اس کیخلاف کارروائی ہوگی اور رکنیت معطل ہوگی، الیکشن ٹربیونل
شائع 30 مئ 2024 05:15pm

الیکشن ٹربیونل اسلام آباد نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 سے جیتنے والے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ خرم نواز اور ریٹرننگ افسر (آر او) پر 15، 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

اسلام الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اسلام آباد کے حلقے این اے 46 اور 48 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت الیکشن کمیشن نے فارم 45، 46 اور 47 کی مصدقہ نقول ٹربیونل میں جمع کروائیں۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ ہم نے اس بات پر فوکس کرنا ہے کہ الیکشن شفاف ہوا ہے یا نہیں، ریٹرننگ افسر آخری بار عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوا، مجھے اس بات کا جواب چاہیئے، آر اوز کا علیحدہ کردار ہے اور پریزائیڈنگ افسران کا علیحدہ، آج بھی ریٹرننگ افسر نہیں آئے، 15 ہزار جرمانہ عائد کرتے ہیں۔

اسلام آباد کے 3 حلقوں میں مبینہ دھاندلی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا آخری موقع دیتے ہیں، کورٹ کے آرڈر پر عمل درآمد نہ ہوا تو جیتنے والے امیدوار کی رکنیت معطل ہوگی، عدالت کے حکم پر عمل درآمد لازمی ہے، ورنہ اس کے نتائج ہوں گے، جو عدالت آئے ہیں وہ جواب دیں، جو نہیں آئے ان کے خلاف آرڈر ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جیتے ہوئے امیدوار راجا خرم نواز نے بھی تاحال تصدیق شدہ فارم نہیں جمع کروائے، ریٹرننگ افسر ذاتی حیثیت میں پیش نہیں ہوئے، اس لیے ان پر 15 ہزار جرمانہ عائد ہوگا۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے یہ تو ہم نرم آرڈر کر رہے ہیں، ابھی جیل نہیں بھیج رہے۔

دوران سماعت الیکشن ٹریبونل نے ایک ایک فارم 45 کا موازنہ کیا، مصطفی نواز کھوکھر اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار رکی بخاری کے فارم 45 میچ کر گئے۔

اس موقع پر این اے 48 سے جیتنے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجا خرم نواز کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہمیں تصدیق شدہ فارمز نہیں ملے، الیکشن ٹریبونل نے ریمارکس دیے یہ کیسے ممکن ہے؟ الیکشن کمیشن جیتنے والے کو تو ساری چیزیں مصدقہ مہیا کرتا ہے، فارم 45 سمیت تمام فارمز تصدیق شدہ جمع کروائے جائیں، ساتھ میں تمام لوگ بیان حلفی جمع کروائیں، ہم ہر امیدوار کو آخری موقع دیإں گے، سب کو الگ الگ موقع دیں گے۔ پھر بھی جو نہیں آئے گا یکطرفہ کارروائی ہوگی۔

اسلام آباد کے 3 حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط

بعد ازاں الیکشن ٹریبونل نے اسلام آباد کے دو حلقوں این اے 46 اور 48 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواستوں کو الگ الگ کردیا، ٹربیونل نے این اے 48 سے جیتنے والے امیدوار راجا خرم نواز اور ریٹرننگ افسر پر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔

عدالت نے این اے 48 سے متعلق الیکشن اپیل کی سماعت 6 جون تک ملتوی کردی۔

اس کے علاوہ این اے 46 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پی ٹی آئی رہنما عامر مغل کی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن ٹربیونل نے پی ٹی آئی امیدوار عامر مغل کی مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست پر سے الیکشن کمیشن کے اعتراضات دور کر دیے۔

این اے 46، 47 اور 48 میں مبینہ دھاندلی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواستیں نمٹا دیں

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ جیتنے والے انجم عقیل خان کی طرف سے کون ہے؟ معاون وکیل نے بتایا کہ انجم عقیل کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے دیکھیں یہ کوئی طریقہ نہیں، یہ اہم معاملہ ہے، دو بار آرڈر کر چکے ہیں، آج میں آخری موقع دیتا ہوں، یہ سول پٹیشن نہیں ہے، جو پارٹی التوا لے گی اس کے خلاف کارروائی ہوگی اور رکنیت معطل ہوگی، دونوں سائیڈ کو وارننگ دیتا ہوں، جواب بھی مکمل دینا ہوتا ہے، آپ نے ساری چیزیں لگانی ہوتی ہے، بس آپ لوگ اسے سول دعویٰ سمجھ بیٹھے ہیں۔

اپی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل کے پاس اتنا وقت نہیں کہ بس آپ کی ہی پٹیشن سنتے رہے، ہمارے پاس اور بھی بہت کیسز ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش نہ ہونے والے امیدواروں سے فارم 45، 46 اور 47 کی مصدقہ نقول طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر جن کا جواب جمع نہیں ہوا وہ جواب جمع کروائیں، اپیل میں جن کو پارٹی نہیں بنایا گیا وہ درخواست میں ترمیم کرلیں، جو فریق پیش نہ ہوا تو یکطرفہ کارروائی ہوگی۔

عدالت نے این اے 46 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف عامر مغل کی اپیل پر 11 جون تک سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 20 مئی کو الیکشن ٹریبونل نے اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواستوں پر الیکشن کمیشن کو فارم 45، 46اور 47کی مصدقہ نقول جمع کروانے اور اپیلیں الگ الگ دن سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب میں اضافی الیکشن ٹربیونل ججز تعینات کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے اضافی الیکشن ٹربیونل تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ سنادیا
شائع 29 مئ 2024 05:20pm

لاہور ہائیکورٹ نے اضافی الیکشن ٹربیونل تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس کے نوٹی فکیشن کے مطابق پنجاب میں اضافی ٹریبونلز کے ججز تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ٹربیونلز ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سلمان اکرم اور عمر ہاشم کی درخواستوں کو منظور کرلیا، درخواستوں میں اضافی ٹربیونلز بنانے کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست گزاروں کے مطابق الیکشن کمیشن نے سندھ اور خیبرپختونخوا میں 5،5 ، بلوچستان میں 3 الیکشن ٹربیونل تشکیل دیے ہیں تاہم پنجاب کے لیے صرف 2 الیکشن ٹربیونل تشکیل دیے گئے ہیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اضافی الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کے لیے خط لکھا لیکن ٹربیونلز نہیں بنائے گئے، عدالت سے استدعا ہے کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی عذرداری کے لیے اضافی ٹریبونلز بنانے کا حکم دیا جائے۔

جسٹس شاہد نے سلمان اکرم راجہ کی پٹیشن کو سماعت کیلئے مقرر کرنے سے روک دیا

عدالت نے الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس ملک شہزاد کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں کو الیکشن ٹربیونل مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جب تک چیف جسٹس بھجوائے گئے ناموں کی فہرست واپس نہیں لیتے الیکشن کمیشن کوئی اور ٹربیونل تشکیل نہیں دے سکتا۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار سلمان اکرم راجہ اور عمر ہاشم کی اضافی الیکشن ٹریبونل بنانے کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

این اے 97 فیصل آباد میں دوبارہ گنتی کا فیصلہ کالعدم قرار، تحریری حکم جاری

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے این اے 97 فیصل آباد میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا تحریری حکم جاری کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی سعد اللہ کی درخواست پر 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے دوبارہ ووٹوں کی گنتی کا حکم کالعدم قرار دے دیا، عدالتی حکم میں کہا گیا کہ نتائج مرتب ہونے کے بعد الیکشن کمیشن دوبارہ گنتی کا حکم جاری نہیں کر سکتا، این اے 97 کے نتائج مرتب ہونے کے بعد دوبارہ گنتی کا حکم دیا گیا، انتخابی نتائج مرتب ہونے کے بعد انتخابی قوانین کے تحت دوبارہ گنتی کا حکم نہیں دیا جا سکتا لہذا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

انتخابی عذرداری: سلمان اکرم راجہ اور شعیب شاہین کی درخواستیں مسترد

الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کے امیدوار علی گوہر خان کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا، جسے سنی اتحاد کونسل کے امیدوار نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

پی پی 32 گجرات پر مبینہ دھاندلی سے متعلق درخواست پر ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب

الیکشن کمیشن نے کامیاب امیدوار موسیٰ الہیٰ کو نوٹس جاری کردیا
شائع 23 مئ 2024 01:44pm

الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 32 گجرات پر مبینہ دھاندلی سے متعلق سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کی درخواست پر ریٹرننگ افسر سے 3 روز میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کامیاب امیدوار موسیٰ الہیٰ کو نوٹس جاری کردیا۔

الیکشن کمیشن میں پی پی 32 ضمنی الیکشن میں دھاندلی سے متعلق پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

وکیل پرویز الہیٰ عامر سعید راں نے مؤقف اپنایا کہ پی پی 32 گجرات ضمنی الیکشن کے پورے حلقے میں دھاندلی ہوئی، 18 پولنگ اسٹیشنز پر 10 فیصد سے کم خواتین نے ووٹ کاسٹ کیے، کچھ پولنگ اسٹیشنز پر 91 فیصد سے ذائد ووٹ ڈالے گئے، 832 ایسے ووٹ ڈالے گئے جو لوگ بیرون ملک ہیں یا انتقال کرچکے ہیں۔

ممبر اکرام اللہ خان نے استفسار کیا کہ کس طرح ثابت کریں گے کہ ووٹرز بیرون ملک ہیں؟

جس پر وکیل عامر سعید راں نے کہا کہ جو لوگ انتقال کرچکے ہیں ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ درخواست میں لگائے ہیں جبکہ پولیس کی نگرانی میں بند کمروں میں ووٹ ڈالے گئے۔

الیکشن کمیشن نے پی پی 32 گجرات کے ریٹرننگ افسر سے 3 روز میں رپورٹ طلب کرلی اور پی پی 32 گجرات پر کامیاب امیدوار موسیٰ الہیٰ کو نوٹس جاری کردیا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی۔

برطانوی وزیر اعظم کا قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان

رشی سوناک کی پارٹی کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے
شائع 22 مئ 2024 10:09pm

برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک نے چار جولائی کو قبل از وقت قومی انتخابات کا اعلان کردیا، جس میں ان کی حکمران جماعت ”کنزرویٹو پارٹی“ کو 14 سال اقتدار میں رہنے کے بعد حزب اختلاف کی ”لیبر پارٹی“ سے بڑے پیمانے پر شکست کا امکان ہے۔

خبر رساں ایجنسی ”روئٹرز“ کے مطابق نئے انتخابات کے وقت کے بارے میں مہینوں کی قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے 44 سالہ رشی سوناک نے اپنی 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ رہائش گاہ کے باہر اعلان کیا کہ وہ انتخابات کو کچھ لوگوں کی توقع سے پہلے منعقد کرانے کا اعلان کر رہے ہیں۔

یہ پرخطر حکمت عملی ہے کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی پارٹی فتح سے کافی پیچھے ہے۔

رشی سوناک نہ صرف انتخابات میں لیبر پارٹی سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں بلکہ اپنی پارٹی کے کچھ لوگوں سے الگ تھلگ اور مشیروں کی ایک چھوٹی ٹیم پر انحصار کرتے ہوئے مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں جو اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔

حج کے دوران شدید گرمی کا امکان، سعودی حکومت انتظامات میں مصروف

تاہم لگتا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ کچھ معاشی فوائد کے ساتھ، جیسے کہ افراط زر میں کمی اور معیشت تقریباً تین سالوں میں سب سے زیادہ تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ خطرہ مول لیں اور ووٹروں کے سامنے ایک نئی مدت کے لیے اپنا ایجنڈا باضابطہ طور پر پیش کریں۔

سابق انویسٹمنٹ بینکر اور وزیر خزانہ نے دو سال سے بھی کم عرصہ قبل وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔

سیکڑوں بھارتی طلبہ کو کینیڈا سے نکل جانے کا حکم

اس کے بعد سے انہوں نے اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے کہ وہ کس چیز کے لیے اقتدار میں آئے ہیں، اس لیے وہ مایوسی کا شکار ہوتے آئے ہیں کہ جس چیز کو وہ اپنی کامیابیوں کے طور پر دیکھتے ہیں اسے عوام اور اپوزیشن کی طرف سے پذیرائی نہیں ملی ہے۔

دونوں پارٹیوں نے الیکشن کے لیے مہم شروع کر دی ہے، اور ایک دوسرے پر اقتصادی اور دفاعی حملوں کی تیاری پہلے سے مکمل ہے۔

رشی سوناک اور ان کی حکومت لیبر پارٹی پر الزام عائد کرتی ہے کہ اگر وہ حکومت میں آئی تو ٹیکس میں اضافہ کرے گی اور یہ کہتی ہے کہ پارٹی تیزی سے خطرناک ہوتی دنیا میں برطانیہ کا مضبوطی سے دفاع نہیں کر سکے گی کیونکہ اس کے پاس منصوبہ بندی کا فقدان ہے، اپوزیشن نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اسلام آباد کے 3 حلقوں میں مبینہ دھاندلی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تحریری حکم جاری کیا
شائع 20 مئ 2024 09:35pm

اسلام آباد کے 3 حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔

الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تحریری حکم جاری کیا۔

الیکشن ٹربیونل کے مطابق 28 مئی کو علی بخاری، 29 مئی کو شعیب شاہین اور 30 مئی کو عامر مغل کی درخواست پر سماعت ہوگی۔

انجم عقیل خان، طارق فضل چوہدری اور راجہ خرم نواز کو جواب جمع کرانے کے لیے دوبارہ نوٹس جاری کردیے گئے۔

اسلام آباد کے 3 حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط

الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ 2 مئی کے نوٹسز کب بھیجے اور کب دوسرے فریق کو موصول ہوئے، رجسٹرار آفس رپورٹ دے، 2 مئی کے حکم کے مطابق ایک ہفتے میں اوریجنل فارم 45 ، 46 ، 47 بیان حلفی کے ساتھ جمع کرائیں۔

الیکشن ٹربیونل نے مزید کہا کہ فریقین کے تحریری بیانات اور پیراوائز کمنٹس ایک ہفتے میں جمع کرائیں، اخبارات پر اشتہار جاری کرائیں، پٹشنرز کے خرچے پر یہ اشتہارجاری ہوں گے جواب نہ آنے پر یکطرفہ کارروائی ہوگی۔

اسلام آباد کی تینوں نشستوں پر کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری

الیکشن ٹربیونل کے مطابق الیکشن کمیشن پریذائیڈنگ افسران سے دیے جانے والے الیکشن مینجمنٹ سسٹم رزلٹس بھی جمع کرائیں، ریٹرنگ افسران اگر آئندہ سماعت پر نہ آئے تو وارنٹ گرفتاری جاری ہوں گے۔

این اے 148 ملتان میں ضمنی انتخاب: پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی نے میدان مار لیا

سنی اتحاد کونسل کے تیمور الطاف دوسرے نمبر پر رہے
اپ ڈیٹ 20 مئ 2024 06:30am
فوٹو۔۔۔فائل
فوٹو۔۔۔فائل

ملتان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 148 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی گنتی رات گئے تک جاری رہی۔ پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی نے میدان مارلیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سید علی قاسم گیلانی 85850 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے تیمور الطاف ملک 53449 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

گیلانی ہاؤس میں جشن منایا گیا، آتش بازی ہوئی اور جیالوں نے نعرے بازی کی

حلقہ این اے 148 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل اتوار کو صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔

این اے 148 ملتان کے ضمنی الیکشن میں مجموعی طور پر 7 امیدواروں نے انتخاب میں حصہ لیا تاہم سب سے سخت مقابلہ حسب توقع حکمران اتحاد کے حمایت یافتہ پیپلز پارٹی کے امیدوار علی قاسم گیلانی اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار تیمور الطاف میں ہوا۔

حلقے میں 4 لاکھ 44 ہزار 231 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، ان میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار 624 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 10 ہزار 607 ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی الیکشن کے لیے حلقے میں 275 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، خواتین اور مرد ووٹرز کے لیے 72، 72 پولنگ اسٹیشن مختص کیے گئے جبکہ 131 پولنگ اسٹیشن مشترکہ تھے۔

275 پولنگ اسٹیشن میں 933 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں، ان میں مرد ووٹرز کے لیے 485 جبکہ خواتین کے لیے 448 پولنگ بوتھ بنائے گئے۔

ضمنی الیکشن کے لیے 2248 پولنگ اسٹاف کی خدمات حاصل کی گئیں ان میں 275 پریذائیڈنگ افسران، 933 اسسٹنٹ پریزائیڈنگ اور 933 ہی پولنگ افسران شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ان پولنگ سٹیشنز میں سے 69 کو حساس قرار دیا جبکہ 3 ہزار800 پولیس افسر اور اہلکاروں نے سیکیورٹی فرائض انجام دیے جبکہ حساس پولنگ اسٹیشن پر پاک فوج اور رینجرز کے جوان بھی تعینات رہے۔

صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کے مطابق پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا گیا، ووٹرز بلا خوف خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے پولنگ اسٹیشن کا رُخ کریں۔

ماضی میں اس حلقے سے یوسف رضا گیلانی، سکندر حیات بوسن اور احمد حسین ڈیہڑ منتخب ہوچکے ہیں۔

8 فروری کے عام انتخابات میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تیمورالطاف ملک کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی، یوسف رضا گیلانی کے چیئرمین سینیٹر بننے کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔

ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما سنی اتحاد کونسل بیرسٹر تیمور ملک نے کہا ہے کہ ہمارے سامنے رزلٹ اور فارم 45 آئیں گے، پچھلی بار بھی 104 کا فرق رکھا گیا، دوبارہ گنتی نہیں کرائی گئی۔

بیرسٹر تیمور ملک کا کہنا تھا کہ میرے جیسا وکیل اور شہری چاہتا ہے پرامن احتجاج ہے، صبح اچھی ہوئی ہے، ووٹر ٹرن آؤٹ اس وقت توقع سے زیادہ ہے، لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے نکلے ہیں، حق کی فتح ہوگی۔

سپریم کورٹ نے انتخابات اور ضمنی انتخابات کیلئے امیدواروں کو بیان حلفی دینے سے روک دیا

جج جسٹس منیب اختر نے عمر فاروق کاغذات نامزدگی کیس میں تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا
شائع 15 مئ 2024 11:04pm

سپریم کورٹ آف پاکستان نے انتخابات 2024 اور ضمنی انتخابات کے لیے امیدواروں کو بیان حلفی دینے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر نے عمر فاروق کاغذات نامزدگی کیس میں تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔

یاد رہے کہ عمر فاروق این اے 99 فیصل آباد اور پی پی 107 سے آزاد امیدوار تھے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ دوہری شہریت اور اثاثوں سے متعلق حلف نامہ کا عدالتی فیصلہ انتخابات 2018 کے لیے تھا۔

ریٹرننگ افسر کا انتخابی عمل کو متاثر کرنا انتہائی نامناسب ہے، سپریم کورٹ

عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں کہا کہ حبیب اکرم کیس میں دیا گیا بیان حلفی کا فیصلہ انتخابات 2024 پر لاگو نہیں ہوتا، انتخابات 2024 اور ضمنی انتخابات میں بیان حلفی نہ دینے کی بنیاد پر امیدوار کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی، اگر مفرور اشتہاری انتخابات کے لیے اہل ہوسکتا ہے تو صرف مفرور کیسے نہیں ہوسکتا؟

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ہائیکورٹ نے اس بات کا جائزہ نہیں لیا کہ عمر فاروق فوجداری مقدمے میں ضمانت لے چکا تھا، ریٹرننگ افسر نے تصدیق شدہ بیان حلفی نہ ہونے اور مفرور ہونے پر کاغذات مسترد کیے تھے، الیکشن ٹربیونل نے کاغذات بحال کیے، ہائیکورٹ نے دوبارہ مسترد کر دیے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کو بڑا جھٹکا، رانا ارشد کی جیت کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں عمر فاروق کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کو بڑا جھٹکا، رانا ارشد کی جیت کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

لاوہر ہائیکورٹ نے محمد عاطف کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اپیل منظور کرلی
شائع 15 مئ 2024 07:57pm

پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بڑا جھٹکا لگ گیا، لاہور ہائیکورٹ نے پی پی-133 ننکانہ صاحب سے منتخب مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی رانا ارشد کی انتخابات میں جیت کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے آزاد امیدوار محمد عاطف کی جانب سے پی پی- 133 ننکانہ صاحب سے مسلم لیگ (ن) کے رانا ارشد کی کامیابی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا تاہم جسٹس شاہد کریم نے محمد عاطف کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اپیل منظور کرلی جبکہ عدالت نے رانا ارشد کی جیت کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا اور مؤقف اپنایا گیا تھا کہ فارم 45 کے مطابق 3 ہزار 500 سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

پی پی 133 ننکانہ سے ن لیگ کے امیدوار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن نے قانون کے برعکس دوبارہ گنتی کا حکم دیا اور دوبارہ گنتی میں رانا ارشد کو 2 ہزار 500 سے زائد ووٹوں سے کامیاب قرار دیا گیا جبکہ درخواست گزار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا تھا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن نے رانا ارشد کی کامیابی کا نوٹیفکیشن خلاف قانون جاری کیا ہے لہٰذا رانا ارشد کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

محمد عاطف نے استدعا کی تھی کہ عدالت درخواست گزار کی بطور رکن پنجاب اسمبلی نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے۔

پنجاب میں حکومتی اتحاد کو ملنے والی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں معطل

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نشستیں معطل کیں
اپ ڈیٹ 10 مئ 2024 06:41pm

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے حکومتی اتحاد کو ملنے والی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص ںنشستیں معطل کردیں جبکہ مخصوص نشستوں کی تعداد 27 ہے۔

پنجاب اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو بڑا جھٹکا لگ گیا، پنجاب میں حکومتی اتحاد کو ملنے والی مخصوص ںنشستیں معطل کردی گئیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نشستیں معطل کیں۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کی صدارت اسپیکر ملک احمد خان کر رہے ہیں۔

مخصوص نشستوں کے کیس میں سنی اتحاد کونسل کو بڑا ریلیف: الیکشن کمیشن، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن رکن رانا آفتاب کا مخصوص نشستوں پر پوائنٹ آف آرڈر درست قرار دیا۔

اپوزیشن رکن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سنی اتحاد کونسل کو ملنے والی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں مسلم لیگ نون اور دیگر جماعتوں کو ملنے کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا تھا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ایوان میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا اور ملک احمد خان نے ارکان کی معطلی کے حکم پر آج سے عملدرآمد کرنے کا حکم دے دیا۔

سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے ڈیسک بجا کر اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کا خیر مقدم کیا۔

پنجاب اسمبلی کی نئی پارٹی پوزیشن

اسپیکر کی رولنگ کے بعد پنجاب اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے معطل ہونے والے ارکان کی کم از کم تعداد 27 ہے، جس کے بعد خواتین کی 24 نشستیں اور اقلیتوں کی 3 نشستیں خالی ہوگئیں جس کے بعد ایوان میں حکومتی اتحاد کے پاس اراکین کی تعداد 200 رہ گئی جبکہ ایوان میں سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی تعداد 106 ہے جبکہ پیپلزپارٹی 15 نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں ق لیگ کے پاس 11، استحکام پاکستان پارٹی کی 7، مسلم لیگ ضیا، مجلس وحدت المسلمین اور تحریک لبیک کے پاس ایک، ایک نشست ہے۔

اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر معطل ہونے والے اراکین میں طارق مسیح گل، وسیم انجم اور بسرو جی شامل ہیں۔

معطل ہونے والی خواتین ارکان میں مقصوداں بی بی، روبینہ نذیر، سلمہ زاہد، کنول نعمان، زیبا غفور، سعیدہ ثمرین تاج، شہر بانو، آمنہ پروین اور سیدہ سمیرا احمد شامل ہیں۔

علاوہ ازیں عظمیٰ بٹ ،افشاں حسین، شگفتہ فیصل، نسرین ریاض، ساجدہ نوید ،فرزانہ عباس، ماریہ طلال، تاشین فواد، عابدہ بشیر، سعدیہ مظفر، فائزہ مومنہ، عامرہ خان، سمعیہ عطا، راحت افزا اور رخسانہ شفیق بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی تھی اور مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔

سپریم کورٹ فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا کہ ہم کیس کو سماعت کے لیے منظور کر رہے ہیں، ہم الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو معطل کر رہے ہیں، تاہم فیصلوں کی معطلی اضافی سیٹیں دینے کی حد تک ہو گی۔

یاد رہے کہ 4 مارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم کی مخصوص نشست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کےسیکشن 104 کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کو مسترد کیا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہیں گی، یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔

الیکشن کمیشن نے تمام خالی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جو یو آئی ف) کو دینے کی درخواست منظور کی تھی۔

بعد ازاں 14 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔