جنوبی افریقی طالبہ کو غلطی سے 12کروڑ روپے مل گئے
Metro.co.uk بشکریہجنوبی افریقا میں ایک طالبہ کو حادثاتی طورپر دیئے جانے والے ساڑھے آٹھ لاکھ پاؤنڈز (تقریباًپونے 12کروڑ روپے) خرچ کرنے پر جیل جانا پڑ سکتا ہے۔
سِبونگل مینی جو جنوبی افریقا کی والٹر سِسولو یونیورسٹی کی طالبہ ہیں، کو ان کی نارمل اسٹوڈنٹ فائننس پےمنٹ سے 10ہزار گنا زیادہ رقم دے دی گئی تھی۔
ستائیس سالہ طالبہ پر ڈھائی ماہ میں آٹھ لاکھ 18ہزار رینڈ(67لاکھ روپے)عیاشیوں پر خرچ کرنے کا الزام ہے۔
مینی، جن کا کہنا ہے کہ انہوں اس غلطی کے متعلق رپورٹ کی تھی مگر کسی نے کچھ نہیں کیا،پراگر یہ بڑے پیمانےپر کی جانے والی چوری ثابت ہوجاتی ہے تو انہیں گرفتاری اور جیل کا سامنا کرنے کیلئے تیاررہنےکا کہا گیا ہے۔
اپنے کیے کی وضاحت کرنے کیلئے کی جانے والی پریس کانفرنس میں ان کے ساتھی طالبعلموں نے ان پر خوب فقرے کسے اور کہا کہ پیسے واپس کرو۔
مینی کو ہرماہ کھانے اور کتابوں کی مد میں 1400رینڈز ملتے ہیں۔
لیکن اسٹوڈنٹ فائننس کمپنی انٹیلیمالی نے حادثاتی طور پر ان کی پے منٹ میں چار اضافی صفر لگادیئےاور ایک کروڑ 40لاکھ رینڈ(ساڑھے آٹھ لاکھ پاؤنڈز)دے دیئے۔
انہوں نے مبینہ طور پر کیش ڈیزائنر کے آؤٹ فٹس، مہنگی تقاریب کے ٹکٹس اور ایک بالکل نیا آئی فون 7 پر خرچ کیا۔
مینی کاکہنا ہے کہ انہوں نے پےمنٹ کی رپورٹ کی تھی لیکن جب اس پرکوئی کارروائی نہیں ہوئی تو انہیں لگا کہ وہ اِسے خرچ کرنے میں آزاد ہیں۔
لیکن انٹیلیمالی سی ای او نے کہا کہ طالبہ نے غلطی کی کوئی رپورٹ نہیں کی بلکہ فنڈز استعمال کرنے کو ترجیح دی۔
Metro.co.uk بشکریہ
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔