اتنی بڑی ہستی کو خانہ کعبہ کے صحن میں کیا کرتے دیکھا گیا؟
خانہ کعبہ میں حاجیوں اور عمرہ زائرین کی خدمت کرنا کوئی عام بات تو ہے نہیں کیونکہ حرم شریف میں حاضری ہی بے شک نصیب والوں کو نصیب ہوتی ہے۔
آج ہم آپ کو اس ہستی سے ملانے جارہے ہیں جسے امام کعبہ اور امام حج جیسا بڑا رتبہ حاصل ہے لیکن پھر بھی شیخ عبدالحمان السدیس اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے رات گئے حرم شریف کے انتظامات کا جائزہ بھی لیتے رہتے ہیں اور خود بھی عملی طور پر اس میں شریک ہوتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شیخ عبدالرحمان بن السدیس حرمین شریفین کے تمام تر اداروں اور انتظامات کے نگرانِ اعلیٰ بھی ہیں۔ جیسا کہ ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں کہ وہ تمام انتظامات کا جائزہ بھی لیتے ہیں اور خود عملی طور پر بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ لیکن ہم آپ کو بتائیں وہ ان کاموں کی انجام دہی کے لئے ایسے ہی تشریف نہیں لے آتے بلکہ سادہ سا لباس پہن کر اور اپنے منہ کو اچھی ڈھانپ کر ہی تشریف لاتے ہیں تاکہ کوئی انہیں پہچان نہ سکے۔
آپ کو مزید بتائیں کہ حرمین شریفین کے خدام کا کہنا ہے کہ شیخ عبدالحمان بن السدیس افطاری ہمارے ساتھ بیٹھ کر ہی کرتے ہیں اور بیت اللہ کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہتے ہیں اور اکثر عملے کے ساتھ ہی کام کرانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
شیخ عبدالرحمان بن السدیس کا تعلق مشہور قبیلے عنزۃ سے ہے جبکہ ان کا آبائی شہر القصیم ہے وہ 10 فروری 1960 کو ریاض میں پیدا ہوئے، 12 سال کی عمر میں قرآن قریم حفظ کیا اور ابتدائی تعلیم ریاض سے ہی حاصل کی۔ جس کے بعد 1983 میں گریجویشن اور پھر ریاض کی یونیورسٹی سے ہی شریعہ کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے1987 میں ماسٹرز کیا اور پھر ڈکٹریٹ کی ڈگری 1995 میں مکہ مکرمہ سے حاصل کی۔ شیخ صاحب کی آواز بھی بے حد اثر رکھتی ہے۔ وہ خوبصورت تلاوت کلام پاک کی تلاوت کے ساتھ زرودار خطبے کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ابھی تک کم سے کم 2 افراد کے بارے میں یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ انہوں نے محض ان کی تلاوت والی کیسٹس سن کر ہی قرآنِ پاک حفظ کرلیا ہے۔
یاد رہے شیخ عبدالرحمان بن السدیس نے 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں ان کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا گیا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔