سانپ گزر گیااب اس کی لکیر پر لاٹھی مار رہے ہیں،چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020 11:16am
فائل فوٹو

اسلام آباد:چیف جسٹس گلزار احمد نے غیرقانونی ری فنڈ کیس میں ایف بی آر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کوئی سچی بات نہیں کررہا ، عدالت کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں ، سانپ گزر گیااب اس کی لکیر پر لاٹھی مار رہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے غیرقانونی ری فنڈ کیس کی سماعت کی۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی عدالت میں پیش ہوئے،ایف بی آرنےری فنڈسےمتعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ رپورٹ میں ایڈیشنل کمشنر کا ذکر ہی نہیں ، قواعد کے مطابق اصل مجازافسر کون ہے؟۔

 وکیل ایف بی آر نے کہاکہ مجاز افسر ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے ، ایک ملین سے زیادہ کی رقم ایڈیشنل کمشنر منظور کرتا ہے، ایڈیشنل کمشنرنے ری فنڈ کی منظوری نہیں دی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرمجازتھے تو ایڈیشنل کمشنر درمیان میں کہاں سے آگئے؟ مطلب منظوری ڈپٹی کمشنر نے دی۔

 چیف جسٹس نے کا کہنا تھا کہ 874.7 ملین روپے سرکارکے چلے گئے ، رقم کیسے واپس لیں گے؟ جس پر شبرزیدی نے کہا کہ ایف بی آر اپنے طور پر ریکوری کررہا ہے۔

 جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بغیرریکارڈ انکوائری کیسے کی ؟ کیا کر رہے ہیں ، اپیل مسترد کردی تو کیا ہو گا ۔چیف جسٹس نے شبرزیدی کو نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو پتہ ہے پرانی انکوائری رپورٹ دوبارہ پیش کردی جائے گی ، اگر ایف بی آر کا افسر گڑبڑ کرتا ہے تو کیا آپ اسے پکڑ نہیں سکتے ، ایف بی آر ایک ہی جرم میں ایک افسر کو کلیئر اور ایک کو سزا کیسے دے سکتا ہے؟ ۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کوئی سچی بات نہیں کررہا ، عدالت کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں ، سانپ گزر گیااب اس کی لکیر پر لاٹھی مار رہے ہیں۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر سیلزٹیکس عبد الحمید انجم کے خلاف 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔