سانحہ یوحنا آباد کیس: 40 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیاگیا
لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سانحہ یوحنا آباد میں دو افراد کو زندہ جلانے کے مقدمے میں گرفتار 40 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمہ میں بھی 47 افراد بری کر دیے گئے۔
مارچ 2015 میں یوحنا آباد میں دو چرچوں میں خودکش حملے کے بعد مشتعل ہجوم نے دو افراد کو زندہ جلا کر قتل کر دیا تھا۔
واقعے کے خلاف تھانہ نشتر کالونی میں سرکار اور لواحقین کی مدعیت میں درج قتل کے دو مقدمات میں 42 افراد کو نامزد اور گرفتار کیا گیا تھا۔جن میں سے دو افراد جیل میں ہی بیماری کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے آج کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام 40 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔قتل کے مقدمے میں مقتولین محمد نعیم اور بابر نعمان کے شرعی وارثوں نے دفعہ 345 کے تحت عدالت میں صلح کی درخواست بھی جمع کرائی تھی۔
عدالت نے اسی واقعے سے متعلقہ توڑ پھوڑ کی ایف آئی آر میں نامزد 47 ملزمان کو بھی شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔