کیا کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی مسئلہ فلسطین کی طرح ہوگی؟

شائع 05 فروری 2020 02:17pm

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں سعودی عرب پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے بین الاقوامی جارحیت ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ مظلوم قوموں کے تحفظ میں ناکام ہو رہا ہے جس میں کشمیر سر فہرست ہے۔

یکجہتی کشمیرسمینارسےخطاب میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ  مقبوضہ کشمیر کو حاصل کرنے کی بات کرتے تھےآج صرف کشمیریوں کے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ ہمارے حکمران بین الاقوامی طاقتوں کے ایجنٹ بنے ہو ئے ہیں۔

انہوں نے کہا  ملک میں جمہوریت نہیں جبریت ہے۔ وزیراعظم جب امریکا سے واپس آئے  تو کہتے تھے کشمیر پر ٹرمپ نے ثالثی کرنے کی حامی بھری ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا  مسئلہ فلسطین پر جس طرح ٹرمپ نے کردار ادا کیا بیت المقدس اسرائیل کے حوالے کیا، کیا کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی مسئلہ فلسطین کی طرح ہوگی سارا کشمیر اُن کے حوالے کردیں گے؟

سربراہ جے یو آئی کا مزید کہنا تھا کہ  کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل ہو جبری کے فیصلے قابل قبول نہیں ہیں۔ جس طرح فاٹا کو جبری شامل کیا تھا اُسی طرح  انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کو شامل کیا ہے۔

انہوں نے کہا  جن حالات سے گذررہے ہیں وہ جمہوریت نہیں ہے۔ اس صورتحال آمر نظر نہیں آتا جبکہ مارشل لا دور میں تو آمر نظر آتا ہے۔