'کے پی ٹی کی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بن سکتی،ہمارا حکم واضح ہے'
فائل فوٹوکراچی :چیف جسٹس گلزاراحمد نے ایک کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بن سکتی،ہمارا حکم واضح ہے ۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کے پی ٹی کی زمین پر کمرشل سرگرمیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے کے پی ٹی کے وکیل سے کہا کہ آپ زمین کے مالک نہیں ہیں ،آپ کو کے پی ٹی کی سرگرمیوں کے لیے زمین دی گئی تھی، آپ کے پاس لیز نہیں تو آپ آگے کیسے لیز کریں گے جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پورٹس سے ملحقہ زمین بھی پورٹ کو دی جاتی ہے۔
جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کمرشل سرگرمیوں کے لیے 25،25سال کے لائسنس دے دیئے ،اب 99،99سال کی لیز کررہے ہیں، آپ کو صرف پورٹ کے استعمال کے لیے زمین دی گئی آپ خود کو کے پی ٹی لینڈ الاٹ کررہے ہیں ، یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، کیا میں چیف جسٹس کی حیثیت سے سپریم کورٹ کی زمین اپنے نام پر یا اپنے ججز کو الاٹ کردوں ؟ ہمیں کورٹ چلانے کے لیے جگہ ملی ہے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہے۔
وکیل کے پی ٹی کا کہنا تھا جن لوگوں کی لیز کینسل کی گئی انہیں سنا نہیں گیا، آپ کے حکم سے ساری لیز متاثر ہوئی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا آپ لوگوں نے 99،99سال کی لیز پر زمینیں دی ہوئی ہیں ، اس طرح ہر ادارہ سرکاری زمین اپنے لوگوں کو بانٹ دے گا ، ٹرسٹ پراپرٹی کسی صورت کسی کو نہیں دی جاسکتی۔
جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر اور وزیر اعظم پاکستان کو اپنے نام پر کرلے گا؟ آپ باہر کی مثالیں دے رہے ہیں وہ لوگ اپنے گھر وہاں نہیں بناتے ۔
چیف جسٹس نے کہا ہم حکم جاری کرچکے ہیں اسے حتمی سمجھیں ، آپ کا مسئلہ صرف ہاؤسنگ سوسائٹی کا ہے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا پورٹ کی زمین کو پورٹ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ، پورٹ کی زمین پر ہائوسنگ سوسائٹی بھی نہیں بنائی جاسکتی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کے پی ٹی تو مینگروز بھی نہیں لگا سکی ، اگر گند اور ملبہ اٹھا لیں تو خود ہی مینگروز اُگ جائےگی، آپ درخواست واپس لیں یا عدالت کو حکم جاری کرنے دیں۔
جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین کے پی ٹی سے کہا کہ اگر ہم نے حکم جاری کیا تو آپ رسک لے رہے ہیں۔
چیئرمین کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ امریکی قونصل خانے کو بھی زمین دی گئی ہے ہم کیسے کینسل کردیں ؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بن سکتی ہمارا حکم واضح ہے اپنی تشریح مت کریں ۔
سپریم کورٹ نے کے پی ٹی کو عدالتی حکم پر عمل درآمد کرکے 2ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہاکس بے پر جتنے مکان سمندر کے ساتھ بنے ہوے ہیں وہ قبضہ ہے ۔
سپریم کورٹ نے کالا پلُ سے متصل دونوں جانب اوپن اسپیس کو 3ماہ میں پارک بنانے کا حکم دیتے ہوئے تمام مقدمات کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کردی۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔