Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 327,063 847
DEATHS 6,727 12

کورونا وائرس کی وباء کے باعث خوف اورگھبراہٹ جبکہ عوام میں جسمانی میل جول نہ رکھنے کا رجحان بھی غیرصحت مندانہ طورپربڑھاہوا دیکھاجارہاہے۔وباء کی وجہ سے لوگوں کا رہن سہن تبدیل ہوا ہے جس کے نتیجے میں ذہنی مسائل بڑھ رہے ہیں اور مختلف نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔اب ذہنی امراض کی شرح میں پاکستان سمیت دنیا بھرمیں اضافہ ہوتاجارہاہےذہنی امراض کی شرح خاص طورپرجنگ زدہ ممالک اور معیشت کی تباہی کاشکارممالک جن میں شام،عراق،یمن،افغانستان اورکسی حد تک پاکستان شامل ہیں،میں بڑھ رہی ہے۔عوام اور حکومتوں کو ذہنی صحت میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتوں کو ذہنی صحت کےلئے مزید وسائل فراہم کرنے چاہیں۔جبکہ عوام کو اپنی ذہنی صحت کےلئے زیادہ وقت دینا چاہیئے تاکہ وہ اوران کے اہل خانہ ذہنی مسائل سے محفوظ رہ سکیں۔

ان خیالات کا اظہارورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2020 کے موقع پرماہرین نےجناح اسپتال میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس کا انعقاد پاکستان سائکیٹرک ایسوسی ایشن اور جناح اسپتال کراچی کے ڈپارٹمنٹ آف سائکیٹری نےاسپتال کے نجم الدین آڈیٹوریم کیا۔

بین الاقوامی کانفرنس سے ورلڈ سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹرافضل جاوید، پاکستان کے نامورماہرامراض نفسیات پروفیسرہارون احمد، برٹش پاکستانی سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر قیصر عباس، برطانوی ماہرامراض دماغ اور فارنسک سائکیٹری کی ماہرڈاکٹر لنڈسے تھامسن،سابق پاکستان کرکٹریونس خان، پاکستان سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسراقبال آفریدی،پروفیسرعنیزہ نیازسمیت دیگرماہرین نے خطاب کیا۔

اس موقع پرپاکستان سائکیٹرک سوسائٹی کے صدر پروفیسراقبال آفریدی نے پروفیسر ہارون احمد کے نام سے ریسرچ ایوارڈ جاری کرنے کا بھی اعلان کیا جس کے تحت ہر سال ایک ایک نفسیات کے محقق کو بہترین مقالے پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔

کانفرنس سےبطورمہمان خصوصی خطاب کرتےہوئے پروفیسر ہارون احمدکاکہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے نئی طرز کی ذہنی بیماریاں اور کیفیات منظرعام پرآرہی ہیں جس میں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر جیسی علامات یا تشدد سہنے کے بعد کی علامات سمیت ایک نئی طرز کاڈپریشن شامل ہے۔اس طرح کےڈپریشن میں مبتلا لوگوں کا کام کرنے کا دل نہیں چاہتا اوران میں تنہائی پسندی کی علامات اور کیفیات پائی جا رہی ہیں۔کورونا وائرس کی وبا کے دوران نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے جو کہ ایک تشویش ناک رجحان ہے۔

انکاکہناتھا کہ ذہنی بیماریاں چھپانےسےکوئی بھی شخص مضبوط نہیں ہو جاتا۔ڈپریشن 70فیصد تک دماغ میں موجود کیمیائی اجزا کے عدم توازن سے پیدا ہوتا ہے جس کا علاج دواؤں کے ذریعے کامیابی سے کیا جاتا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی امراض کو حکومتی توجہ ملنی چاہیئے اور اس شعبے کو مزید وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ورلڈ سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے نئے منتخب صدر پروفیسر افضل جاوید کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کی 25 سے 30 فیصد آبادی ذہنی مسائل کا شکار ہے اور کرونا کی وبا کے بعد ان مسائل میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ جنگ زدہ ممالک اورمعیشت کی تباہی سے دوچار ممالک میں یہ شرح کئی گنا زیادہ ہے، پاکستان جیسے ممالک کو ذہنی امراض کے علاج اور خاتمے کے لئے مزید وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر معاشی پریشانیوں اور دیگر مسائل کی وجہ سے ذہنی امراض کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے صدر اور ڈین جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر پروفیسر اقبال آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ نہ صرف حکومت بلکہ لوگوں کو ذہنی صحت میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ذہنی امراض سے محفوظ رہ سکیں۔

انکاکہناتھاکہ ذہنی امراض میں سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہے کہ عوام روزانہ ورزش کریں، اپنے آپ کو موٹاپے سے بچائیں،صحت مندانہ طرز زندگی اختیارکریں،موبائل اورکمپیوٹراسکرین کو کم سے کم ٹائم دیں جبکہ سماجی رویوں میں اعتدال پیدا کرکے اپنے ذہنی صحت کو ٹھیک رکھیں۔

معروف پاکستانی کرکٹراورسابق کپتان یونس خان نےاس موقع پربتایا کہ ذہنی صحت کھلاڑیوں سمیت ہر انسان کے لئے جسمانی صحت کی طرح ہی ضروری ہےکیونکہ ایک ذہنی طورپر کمزور شخص فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ زندگی میں کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔