Aaj TV News

BR100 4,231 Decreased By ▼ -22 (-0.51%)
BR30 21,389 Decreased By ▼ -14 (-0.07%)
KSE100 40,807 Decreased By ▼ -224 (-0.55%)
KSE30 17,160 Decreased By ▼ -135 (-0.78%)

بہت سے لوگ نہانے سے قبل ، اس کے دوران اور اس کے بعد عمومی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں اور انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اچھی صحت اور مناسب صفائی کے لیے کن درست امور کو پورا کرنا لازم ہے۔ انگریزی ویب سائٹ "webmd" نے ایک رپورٹ میں ان غلطیوں کی نشان دہی کی ہے تا کہ لوگوں میں ان سے بچنے کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جا سکے :

٭ بہت زیادہ نہانا

روزانہ نہانا غالبا ایک عادت ہو سکتی ہے مگر اس بات کی رعایت رکھنا چاہیے کہ بکثرت نہانے کے نتیجے میں جلد پر موجود صحت بخش روغن اور جراثیم کم ہو جاتے ہیں۔ لہذا کثرت سے نہانے کے سبب جلد خشک اور کھردری ہو سکتی ہے۔ اس طرح مضر جراثیم کے جلد میں داخل ہونے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔

٭ صابن کا غلط استعمال

بعض نوعیت کے صابن بہت سے جراثیم کو ہلاک کر دیتے ہیں جن میں مفید جراثیم بھی شامل ہیں۔ لہذا ماہرین یہ ہدایت دیتے ہیں کہ ہلکی پھلکی نوعیت کے ایسے صابن کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے جس میں روغن موجود ہو۔ اگر کسی شخص کو ایگزیما یا حساس جلد کا مسئلہ درپیش ہے تو ایسی صورت میں ماہرین خوشبو سے خالی صابن استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ جسم کے تمام حصوں کو صابن سے صاف کرنے کی ضرورت نہیں۔ لہذا صابن کے استعمال کو بغلوں، جانگھوں، دونوں پاؤں، دونوں ہاتھوں اور چہرے تک محدود رکھنا چاہیے۔

٭ تولیے کو دھونا گیلے تولیے جراثیم، وائرس اور پھپھوند کے لیے زرخیز آماج گاہ کے مترادف ہوتے ہیں۔ ماہرین ہفتے میں کم از کم دو بار تولیوں کو بدلنے یا دھونے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ہر مرتبہ استعمال کے بعد تولیے کو اچھی طرح خشک ہونے کے لیے چھوڑ دینا چاہیے، اس کے بعد دوبارہ استعمال میں لایا جانا چاہیے۔

٭ کھولتا ہوا پانی

گرم پانی سے نہانا اچھا احساس دیتا ہے بالخصوص موسم سرما میں، مگر اس طرح جلد کے قدرتی روغن ختم ہو سکتے ہیں اور انسانی جلد خشکی سے دو چار ہو سکتی ہے اور یہ معاملہ ایگزیما تک پہنچ سکتا ہے۔ جلد کی حفاظت کے لیے ماہرین 5 سے 10 منٹ تک نیم گرم پانی کے استعمال کی ہدایت کرتے ہیں۔

٭ بالوں کو کثرت سے دھونا

اگر انسان کے بال قدرتی طور روغن نہ ہوں تو پھر بالوں کو روزانہ دھونے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ کے بال قدرتی طور پر خشک ہیں تو ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں کئی گنا کم دھویا جانا چاہیے تا کہ بالوں کو شدید طور پر خشک ہونے سے بچایا جا سکے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی روزانہ ورزش کے سبب پسینوں میں بھیگ جاتا ہے تب بھی بالوں کے دھونے کے لیے ایک منظم نظام الاوقات پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کو شیمپو کا زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ اس عمر میں بالوں کا قدرتی روغن کم ہو جا تا ہے۔

٭ غسل خانے میں ہینڈ ریلنگ لگانا

دنیا بھر میں لاکھوں افراد نہانے کے دوران یا ٹب میں داخل ہونے یا اس سے نکلنے کے وقت پھسل کر گر جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہاتھوں سے پکڑنے کے لیے ریلنگ یا پھر اسٹین لیس اسٹیل کی راڈ لگانا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

٭ شاور کی صفائی

شاور کے اندر اور اس کے چھوٹے گیلے سوراخوں میں جراثیم نشو نما پاتے ہیں۔ نہانے کے دوران جب پانی شاور کے سوراخوں سے باہر آتا ہے تو نہانے والے شخص کے ہوا اپنے اندر لینے کی صورت میں جراثیم پھیپھڑوں پر حملہ کرتے ہیں۔ اس چیز سے بچنے کے لیے شاور کو لے کر ابلے ہوئے پانی سے صاف کرنا چاہیے تا کہ اس میں موجود جراثیم مر جائیں۔ نہانے سے قبل شاور سے گرم پانی گزارنا بھی مفید ہو سکتا ہے۔ نہانے کے بعد شاور نکال کر اس کو الٹا کر کے رکھ دینا چاہیے تا کہ اس میں باقی جراثیم زدہ پانی کا آخری قطرہ بھی باہر آ جائے۔

٭ جلد کو تر رکھنا

جلد کو تر اور مرطوب رکھنے کے لیے کریموں یا دیگر مواد کے استعمال کا بہترین وقت نہانے کے فوری بعد ہے۔ ماہرین ہدایت دیتے ہیں کہ نہانے کے بعد جسم کے خشک ہونے کے چند منٹ کے اندر موئسچرائزنگ کریم لگا لینا چاہیے۔

٭ معمولی زخموں کو ڈھانپ دینا

اگر کسی شخص کو معمولی زخم لگا ہوا ہے تو بہتر ہے کہ اس کی پٹی کو ہٹا کر روزانہ زخم کو صابن اور نیم گرم پانی سے صاف کیا جائے۔ نہانے کے بعد زخم کی جگہ خشک ہونے پر اس پر نئی پٹی لگائی جائے۔ البتہ گہرے اور بڑے زخمیوں کی صورت میں اس کی دیکھ بھال کے واسطے معالج طبیب کی ہدایات پر عمل کیا جانا چاہیے۔

٭ غسل خانے کا ایگزاسٹ فین نہ چلانا

نہانے کے دوران غسل خانے میں بہت زیادہ رطوبت جنم لے سکتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہوا میں موجود رطوبت گھر میں پھپوند اور جراثیم کے پھیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا ہر مرتبہ غسل خانے کا ایگزاسٹ فین چلانا بہت ضروری ہے تا کہ رطوبت جمع ہونے سے روکا جا سکے۔

٭ غسل خانے کے پردے کی صفائی نہ کرنا

غسل خانے کے پردے ایسی پوشیدہ پناہ گاہیں ہو سکتی ہیں جہاں مختلف نوعیت کے جراثیم جمع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انسان متعدی بیماریوں اور دیگر امراض کا شکار ہو سکتا ہے۔ لہذا ماہرین یہ ہدایت کرتے ہیں کہ صحت کی سلامتی کے واسطے غسل خانے کے پردے کو باقاعدگی سے صاف اور تبدیل کیا جانا چاہیے۔