Aaj TV News

BR100 4,846 Increased By ▲ 46 (0.97%)
BR30 24,817 Increased By ▲ 124 (0.5%)
KSE100 45,175 Increased By ▲ 231 (0.51%)
KSE30 18,470 Increased By ▲ 87 (0.47%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 854,240 4109
DEATHS 18,797 120
Sindh 290,756 Cases
Punjab 316,334 Cases
Balochistan 23,186 Cases
Islamabad 77,684 Cases
KP 123,150 Cases

ایک امریکی تحقیقی مطالعے کے مطابق سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں آثار قدیمہ کی اہم دریافت سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ عظیم الجثہ پتھری ڈھانچے دنیا کے قدیم ترین تاریخی ورثہ شمار ہوتے ہیں۔ یہ بات سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبدالله نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں بتائی۔ سعودی شہزادے کے مطابق مذکورہ آثار کی عمر 7000 برس سے زیادہ ہے۔

امریکی مطالعے میں محققین کے حوالے سے یہ دل چسپ انکشاف بھی کیا گیا کہ سعودی عرب میں چٹان سے بنے ہزاروں قدیم ڈھانچے درحقیقت مصر میں واقع اہرام اور برطانیہ میں واقع پتھری دائروں سے زیادہ پرانے ہیں۔

مذکورہ تحقیقی مطالعہ جمعرات کے روز Antiquity جریدے میں شائع ہوا تھا۔ اسے امریکی ذرائع ابلاغ نے نشر کیا۔

دیو ہیکل لینڈ سکیپ

تحقیقی مطالعے کی مؤلفہ اور پرتھ میں ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کی سائنس دان میلیسا کینیڈی کے مطابق تحقیق میں 1000 سے زیادہ پتھری ڈھانچوں کا مطالعہ کیا گیا۔ میلیسا نے بتایا کہ سعودی عرب میں یہ آثار 2 لاکھ مربع کلومیٹر یا 77000 مربع میل سے زیادہ کے رقبے پر پھیلے ہوئے ملے۔ یہ تمام پتھری ڈھانچے شکل میں ایک دوسرے سے بہت زیادہ ملتے ہیں۔

اعلیٰ درجے کی مواصلات

تحقیقی مطالعے کے مرکزی مؤلف ہیو تھامس نے واضح کیا کہ بعض قدیم ڈھانچوں کی لمبائی 1500 فٹ سے زیادہ ہے تاہم یہ نسبتا تنگ ہیں۔ یہ ڈھانچے چٹانوں کی بنیادوں کے علاوہ پہاڑی اور علاقوں اور نسبتا نشیبی علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ عظیم الجثہ ڈھانچے کسی سواری کو ایک جانب سے دوسری جانب لے جانے کے لیے بنائے گئے۔

کینیڈی اور تھامس کے مطابق انہوں نے جن ڈھانچوں کا سروے کیا ان میں ایک ایسا ڈھانچہ بھی تھا جس کو 12 ہزار ٹن سیاہ مرمر پتھروں کو منتقل کر کے تیار کیا گیا۔ اس مشقت طلب کام میں یقینا دسیوں مہینے لگ گئے ہوں گے۔

یہ بات جانی نہیں جا سکی ہے کہ پرانے لوگوں نے یہ پتھری ڈھانچے کیوں تیار کیے تھے۔ البتہ کینیڈی کے قیاس کے مطابق ان میں سے بعض کو صرف ایک بار استعمال کیا گیا۔

واضح رہے کہ آثار قدیمہ کے ان تحقیقی مطالعوں کی فنڈنگ العُلا روئل کمیشن کی جانب سے کی جاتی ہے۔ یہ کمیشن سعودی عرب کی حکومت نے قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد مملکت کے شمال مغرب میں واقع العُلا کے علاقے میں تاریخی ورثے کا تحفظ ہے۔ العُلا میں کئی قدیم تاریخی تعمیرات پائی جاتی ہیں۔