Aaj TV News

BR100 4,401 Decreased By ▼ -270 (-5.78%)
BR30 17,494 Decreased By ▼ -1340 (-7.12%)
KSE100 43,234 Decreased By ▼ -2135 (-4.71%)
KSE30 16,698 Decreased By ▼ -878 (-4.99%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

سال 2014 میں نواز شریف کی حکومت کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کی جانب سے دئے گئے دھرنے میں کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جو ملکی تاریخ کا نمایاں حصہ بن گئے ہیں۔ ان میں سے ایک پارلیمنٹ اور پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن نیٹ ورک (پی ٹی وی) پر حملہ بھی شامل ہے۔

٭ اس دن ہوا کیا تھا۔۔۔؟

یکم ستمبر 2014 کو سینکڑوں پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کیمپوں کے مبینہ مظاہرین نے مبینہ طور پر پی ٹی وی کے دفتر اور پارلیمنٹ ہاؤس پر دھاوا بول دیا۔

جیسے ہی مشتعل مظاہرین سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے نیوز ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے، انہوں نے پروگرامنگ کنٹرول روم سنبھال لیا اور ٹرانسمیشن عارضی طور پر بند کر دی گئی۔ بعد میں فوج کی جانب سے عمارت خالی کرنے کے بعد اسے بحال کیا گیا۔

مظاہرین پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہو کر تصویریں کھنچواتے رہے جبکہ دھرنا دینے والی جماعتوں کے قائدین اپنے خطابات میں میڈیا کے کردار کو سراہنے کے ساتھ ساتھ کارکنوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کرتے رہے۔

مظاہرین نے دفتر کو کوڑے دان میں تبدیل کردیا اور انہیں وزیر اعظم نواز شریف کی تصویر پر تھوکتے ہوئے دیکھا گیا۔

ٹویٹس کی ایک سیریز میں، ریڈیو پاکستان نے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں جاری صورتحال کو بیان کیا۔

اس وقت چینل کے ہیڈکوارٹر سے باہر آنے والے مظاہرین پر فوج یا کسی اداری کی جانب سے کسی تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔

تاہم، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے بعد میں کہا کہ پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر کے احاطے پر دھاوا بولنے والوں کا ان کی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔

اس حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک آڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں پاکستان کے موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ٹیلی فون پر اس واقعے کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔ اس آڈیو کے بارے میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی۔

بعد ازاں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں عمران خان، طاہرالقادری اور تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کئے گئے۔

تاہم، 26 اکتوبر 2020 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کو سنہ 2014 میں سرکاری ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اور پارلیمان پر حملے کے مقدمے میں بری کر دیا ۔

اس کیس میں نامزد دیگر ملزمان بشمول شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور شفقت محمود، جہانگیر ترین، علیم خان اسد عمر پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اس مقدمے میں پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جا چکا تھا جبکہ صدر عارف کی حد تک اس کس میں داخل دفتر کر دیا گیا ہے کیونکہ انھیں صدارتی استثنا حاصل ہے اور صدارت سے ہٹنے کے بعد ان کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے اراکین پی ٹی وی حملے میں تحریک انصاف کے کردار کو بطور مثال پیش کرتے ہیں، ٹی ایل پی کارکنان کے بیانیہ ہے کہ جب تحریک انصاف سول نافرمانی کرے، سرکاری ٹی وی پر حملہ کرے پارلیمنٹ پر حملہ کرے تو ٹھیک، لیکن ٹی ایل پی کے صرف ایک دھرنے پر تشدد کہاں کا انصاف ہے۔