Aaj TV News

BR100 4,668 Increased By ▲ 50 (1.09%)
BR30 20,892 Increased By ▲ 107 (0.52%)
KSE100 44,822 Increased By ▲ 488 (1.1%)
KSE30 17,521 Increased By ▲ 178 (1.03%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,264,384 720
DEATHS 28,269 17
Sindh 465,486 Cases
Punjab 437,793 Cases
Balochistan 33,120 Cases
Islamabad 106,445 Cases
KP 176,774 Cases

بلوچستان عوام پارٹی کے مرکزی آرگنائزر میر جان محمد جمالی نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کیلئے پالیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا جانا چاہئے،جام کمال سے کہوں گا کہ پارٹی بچتی ہے تو قربانیں دیں،عہدہ چھوڑدیں۔

مرکزی آرگنائزربی اےپی جان جمالی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتمادآئی ہے، معاملے پرپارلیمانی پارٹی کااجلاس بلایاجائے۔

جان جمالی کا کہنا تھا کہ جام کمال کوپارلیمانی پارٹی اجلاس میں طلب کیاجائے،اور پارٹی کے اراکین کے گلے شکوے دورکئےجائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ناراض اراکین اورجام کمال کے پاس برابرارکان ہیں، کسی ایک کو قربانی دینا ہوگا، جام کمال کی قربانی سےپارٹی بچتی ہےتووہ قربانی دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جام کمال خان سےکہوں گاکہ وہ عہدہ چھودیں، کافی عرصےسےجاری رسہ کشی ختم ہونے چاہئے، پارٹی کےانتخابات نومبرکےدوسرےہفتےمیں ہوں گے۔

جان جمالی کے مطابق جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔

وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک میں انکی اپنی جماعت بھی شامل

بلوچستان میں وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک میں انکی اپنی جماعت بھی شامل ہوگئی۔

بلوچستان میں سیاسی ہلچل عروج پر پہنچ گئی ہے۔ وزیر اعلی جام کمال خان کے خلاف اپوزیشن کے بعد انکی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اور حکومت میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نے بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔

وزیر اعلی جام کمال کے خلاف دو محاذ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جن میں ایک بلوچستان کی اپوزیشن میں شامل جماعتیں جمعیت علماء اسلام ف ۔بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی اور آزاد اپوزیشن رکن سابق وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی پر مشتمل 23 ارکان ہے۔

دوسری جانب مخلوط حکومت 42 ارکان پر مشتمل ہے جن میں سے بلوچستان عوامی پارٹی جسے عرف عام میں باپ پارٹی کہا جاتا ہے کی تعداد 24 ہے، ان میں سے ہی ناراض گروپ نے وزیر اعلی بلوچستان کی کھل کج مخالف کردی۔

سیاسی جوڑ توڑ کئی دنوں سے جاری ہے اور آج ناراض گروپ نے بھی وزیر اعلی کے خلاف اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی یے جس پر چودہ ارکان کے دستخط ہیں ۔

اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر گورنر کے اعتراض لگا کر واپس کردی گئی تھی، ناراض گروپ کی جانب سے نئی تحریک آنے کے بعد جام کمال خان کے اقتدار کی کرسی جاتی نظر آتی ہے، اپوزیشن اب ناراض گروپ کا گھیرا تنگ ہے۔

وزیر اعلی کے ساتھ باپ پارٹی کے چند وزیر ۔اے این ہی کے تین ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دو اور جموری وطن پارٹی کا ایک رکن حمایت میں ہے ۔