نور مقدم قتل کیس، گرفتار ملزم جمیل احمد کی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ نےنورمقدم قتل کیس میں گرفتارملزم جمیل احمد...
شائع 23 اکتوبر 2021 09:58pm

اسلام آباد ہائیکورٹ نےنورمقدم قتل کیس میں گرفتارملزم جمیل احمد کی ضمانت منظورکرلی ہے،عدالت نے باورچی جمیل کوپچاس ہزار کے مچلکوں کے عوض رہا کرنےکاحکم دیا ہے۔

جسٹس عامرفاروق نےمرکزی ملزم ظاہرجعفرکے باورچی جمیل احمد کی درخواست ضمانت پرمحفوظ شدہ فیصلہ سنادیا ہے۔

عدالت نے باورچی جمیل کی ضمانت پچاس ہزارکے مچلکوں کےعوض باورچی جمیل کورہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نےدرخواست ضمانت پردلائل سننے کے بعد 21 اکتوبرکو فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے ضمانت منظورکرنےکامختصر فیصلہ سنایا ہے،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری ہوگا،گرفتارملزم جمیل احمد اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہے۔

ظاہر جعفر کی والدہ عصمت جعفر کی ضمانت منظور

اس سے قبل اٹھارہ اکتوبر کو عدالتِ عظمیٰ پاکستان نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت جعفر کی ضمانت دس لاکھ کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی، جبکہ والد ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت خارج کردی گئی۔

سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین ملزمان ذاکر جعفر اورعصمت جعفر کی ضمانتوں کی درخواست پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں درخواست گزار مرکزی ملزمان نہیں، ان پر قتل چھپانے اور پولیس کو اطلاع نہ دینے کا الزام ہے، قتل چھپانے کے حوالے سے ملزم کا بیان اور کالز ریکارڈ ہی شواہد ہیں، ملزم اپنے والدین سے پونے 7 بجے سے 9 بجے تک رابطے میں رہا، والد کے بات ہونے کے شواہد نہیں ہیں۔

جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیئے کہ ضمانت کے مقدمہ میں اپنے رائے دے کر ہم پراسیکوشن کے مقدمہ کو تو ختم نہیں کر سکتے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ممکن ہے کالز میں والد قتل کا کہہ رہا ہو، یہ بھی ممکن ہے روک رہا ہو۔

وکیل خواجہ حارث نے مؤقف دیا کہ یہ بھی ممکن ہے بیٹا باپ کو سچ بتا ہی نہ رہا ہو۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ملزم کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے میڈیکل کروایا گیا؟

وکیل مدعی شاہ خاور نے مؤقف دیا کہ ملزم کا صرف منشیات کا ٹیسٹ کروایا گیا ہے، ذہنی کیفیت جانچنے کے لیے کوئی معائنہ نہیں ہوا۔

اتبدائی طور پر عدالت نے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت جعفر کی ضمانت منطور کرلی ہے ۔ اور ٹرائل کورٹ کو آٹھ ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔