Aaj News

سی پیک کا وہ منصوبہ جو گوادر کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن بن رہا ہے

حال ہی میں گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والا منصوبہ پاک چین ویکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ہے، جو گوادر میں نوجوانوں میں روشن مستقبل کی امید پیدا کر رہا ہے۔
شائع 28 جولائ 2022 02:40pm

تحریر: نور محسن، گوادر

سی پیک عمومی طور پر ایک تجارتی راہداری تصور کیا جاتا ہے، لیکن جوں جوں اس میں شامل منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں اس کی افادیت سے عام آدمی اور خصوصاً نوجوان روشناس ہورہے ہیں۔

حال ہی میں گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والا منصوبہ پاک چین وکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ہے، جو گوادر میں نوجوانوں میں روشن مستقبل کی امید پیدا کر رہا ہے۔

نہ صرف طلباء بلکہ 50 کے قریب طالبات بھی اس منصوبے کے پہلے پاس آؤٹ ہونے والے ہنر مندوں میں شامل ہوں گی۔

ایسی ہی ایک طالبہ جماعتی حبیب اللہ ہیں جو کہ پاک چائنہ وکیشنل انسٹیوٹ میں اس وقت آفس مینجمنٹ کا ششماہی کورس مکمل کرنے جارہی ہیں۔

جماعتی حبیب اللہ گوادر شہر کے علاقے نیا آباد میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ مشترکہ رہائش رکھتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ان کے خاندان میں بڑے بھائی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی لیکن محدود وسائل کے باعث وہ آگے نہ پڑھ سکے۔

جماعتی حبیب اللہ اپنے خاندان کی واحد لڑکی ہیں جو تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘میں صبح کے اوقات گرلز ڈگری کالج گوادر میں فرسٹ ایئر میں پڑھ رہی ہوں اور شام کو پاک چائنہ وکشینل انسٹیٹوٹ میں آفس منیجمنٹ کی ششماہی کورس کررہی ہوں۔’

’میں چاہتی تھی کہ پڑھ کر ڈاکٹر بنوں اور غریب لوگوں کی خدمت اور علاج کرسکوں۔ لیکن غُربت اور گوادر میں میڈیکل کالج نہیں تھا اور والدین کے پاس دوسرے شہروں میں جانے کیلئے اخراجات اٹھانے کی گنجائش نہ تھی۔ رواں سال کے آغاز میں وکیشنل انسٹیٹوٹ میں ٹیسٹ اور انٹرویو میں پاس ہوئی اور داخلے کا موقع ملا ، جب میں کمپیوٹر سانئس میں اِن ہوگئی تو دیکھا کہ یہ الگ دُنیا ہے اور یہاں سرکاری نوکری یا پرائیوٹ اداروں میں مجھے بہترین مواقع مُیسر آئیں گے، اس لئے میں دل لگا پڑھ رہی ہوں ۔ وہ کہتی ہیں کہ ’پاک چائنہ وکیشنل انسٹیوٹ گوادر کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن اور کسی نعمت سے کم نہیں۔

‘مجھے اپنے مستقبل کی بہت فکر رہتی تھی۔ میرے پاس کوئی ایسا ہنر نہیں تھا جس سے میں اپنے لیے کوئی روزگار کا بندوبست کر سکتی تھی۔ لیکن اب میں پر امید ہوں کہ جلد مجھے باعزت روزگار مل جائے گا۔’

جماعتی حبیب اللہ کے والد عمر بڑھنے کے باعث بینائی سے محروم اور ٹانگوں سے معذور ہو چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے اور ہر والد کو اپنی بیٹی کو آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

حبیب اللہ کہتے ہیں کہ ‘ان کی بیٹی ٹیلنٹ سے بھرپور ہے اور میں خوش ہوں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لیے محنت کر رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میری بیٹی ایک دن میرا اور میرے علاقے کا نام روشن کرے گی۔’

جماعتی حبیب اللہ کے دیگر بھائی محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

ان کے والد کہتے ہیں کہ ‘کم وسائل ہونے کے باعث میں اپنے بیٹوں کو تو زیادہ تعلیم نہیں دلوا سکا، لیکن میری بیٹی کے پاس موقع ہے کہ اس لیے میں اسے اب پاک چائنہ وکیشنل سنٹر میں کورس مکمل کر کے تعلیم کے علاوہ ہنر بھی سیکھنے میں مدد کر رہا ہوں۔ پاک چائنہ وکیشنل انسٹیٹوٹ گوادر کے نوجوانوں کے لیے تحفہ ہے۔’

یہ صرف کسی ایک طالبہ کی کہانی نہیں بلکہ شہر کے سینکڑوں نوجوانوں کے لیے یہ ادارہ گوادر جیسے علاقے میں ایک امید کی کرن ہے۔

گوادر میں 6 ایکڑ اراضی پر پاک چائنہ وکیشنل انسٹیوٹ کا منصوبہ گزشتہ برس مکمل ہوا تھا، جس پر 2 عشاریہ 3 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر سہیل اصغر کے مطابق اس منصوبے میں 92 فیصد اخراجات چین کی جانب سے دی گئی گرانٹ جبکہ 8 فیصد حکومت پاکستان نے برداشت کیا۔

اس انسٹیٹوٹ میں مختلف شعبوں میں ششماہی کورس کروایا جارہا ہے تاکہ گوادر کے نوجوانوں کو یہاں پر ہونے والی ترقیاتی منصوبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کیا جاسکے۔ یہ گوادر کے نوجوانوں کے لیے ایک تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی نوجوانوں کے لیے یہاں کورسز بغیر کسی فیس کے کروائے جارہے ہیں۔

سہیل اصغر بتاتے ہیں کہ ‘اس وقت اس ادارے میں 130 طلباء مختلف کورسز کر رہے ہیں جن میں کمپیوٹر آفس مینجمنٹ ، کارگو ہینڈلنگ، چائنیز لینگویج اور دیگر کورسز شامل ہیں۔’

پاک چائنہ انسٹیوٹ میں نہ صرف طلباء بلکہ طالبات کی بھی بڑی تعداد زیر تعلیم ہیں۔ ادارے میں 130 طلبہ میں سے 45 طالبات شامل ہیں اور ان میں 98 فیصد تعداد گوادر کے مقامی طلباء کی ہے۔

پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ سے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے مواقع کیا ہیں؟

سہیل اصغر پر امید ہیں کہ ’مستقبل میں ششماہی کورسز کو توسیع دیتے ہوئے انہیں دو اور تین سالہ ڈپلومہ کورسز کا درجہ دیا جائے گا، جس سے یہاں کہ مقامی نوجوان کو گوادر فری زون اور گوادر پورٹ میں ملازمت کے قابل ہو سکیں گے۔ جبکہ ڈپلومہ کے دوران چین میں بھی کام کرنے کا موقع میسر آئے گا جہاں طلباء چھ ماہ کی انٹرنشپ بھی کریں گے۔

طالبہ جماعتی حبیب اللہ کا خیال ہے کہ آج کے انسان کو فارمل ایجوکیشن سے زیادہ فنی تعلیم کی طرف جانا چائیے کیوں کہ علمِ فن ہزاروں اور لاکھوں دولت مندوں سے امیر تر بنا دیتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اِس ششماہی وکیشنل کورس میں، میں اس قابل بن جاؤں گی کہ کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ کمپنی یا ادارے میں بحیثیتِ آفس منیجمنٹ انچارج یا منیجر کام کر سکوں ۔

جماعتی حبیب اللہ نے یہ بھی کہا کہ گوادر اور گِرد و نواح کے طلباء و طالبات پاک چائنہ وکیشنل انسٹیٹوٹ سے فنی تعلیم حاصل کرکے بھر پور فائدہ اُٹھائیں۔

وہ کہتی ہیں کہ مجھے اپنے مستقبل کی بہت فکر رہتی تھی۔ میرے پاس کوئی ایسا ہنر نہیں تھا جس سے میں اپنے لیے کوئی روزگار کا بندوبست کر سکتی تھی۔ لیکن اب میں پر امید ہوں کہ جلد مجھے باعزت روزگار مل جائے گا۔

اکاؤنٹنٹس کا ششماہی کورس کرنے والے اسماعیل علی کے مطابق ’پاک چائنہ انسٹیٹوٹ میں جو تربیت دی جارہی ہے اس سے ہم کسی بھی نجی یا سرکاری ادارے میں خدمات سر انجام دے سکتے ہیں۔ یہاں ملک کے دیگر بڑے اداروں کے معیار کے مطابق ہماری تربیت کی جارہی ہے اور ہمیں ان مواقع سے خود بھی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاک چائنہ انسٹیوٹ میں زیر تعلیم ظہیر مراد کہتے ہیں کہ ‘ہمیں ان کورسز سے اپنے مستقبل کے لیے ایک بہترین موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘اس سے پہلے ہم مواقع کی تلاش میں رہتے تھے، اپنے مستقبل کی فکر ہوتی تھی لیکن اب میری ساری توجہ اس کورس پر ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لیے ایک بہترین موقع ہے۔’

CPEC

Gwadar

Pak China vocational Training Institute

Comments are closed on this story.