Aaj News

آئی ایس پی آر کے بیان پر اسد عمر کا ادارے سے سوال

پاک فوج نے کنٹینرفائرنگ سے متعلق پی ٹی آئی قیادت کے الزامات پربیان جاری کیا تھا
شائع 05 نومبر 2022 11:32am

اسدعمر نے کنٹینرفائرنگ سے متعلق پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے الزامات کے ردعمل میں آئی ایس پی آرکے بیان پراپنا موقف دیا ہے۔

گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ادارے کے خلاف عمران خان کے بے بنیاد اورغیر ذمہ دارانہ الزامات ناقابل قبول ہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین کے بالخصوص ایک اعلیٰ فوجی افسر کے خلاف بے بنیاد الزامات ناقابل قبول ہیں۔

آئی ایس پی آرکا کہنا تھا کہ مطابق الزامات سے فوجیوں کی عزت کو داغ دار کیا جا رہا ہے، کسی کو ادارے، افسران کی بے عزتی کی اجازت نہیں دی جائے گی، ادارہ پورے شدومد سے اپنے افسروں اور سپاہیوں کی حفاظت کرے گا۔

مزید پڑھیے:عمران خان کے الزامات بے بنیاد اور ناقابلِ قبول ہیں، حکومت ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرے: آئی ایس پی آر

ردعمل میں اسدعمر نے وزیردفاع خواجہ آصف کی ماضی میں قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریرکا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، “ اگرآئی ایس پی آرجانناچاہتا ہے کہ شہداء اور ادارے کی بے عزتی کیسی ہوتی ہے تو انہیں صرف موجودہ وزیردفاع کی قومی اسمبلی میں کی جانے والی وہ مشہور تقریرسننی ہے جس میں ان کا دعویٰ ہے کہ ادارے نے قوم کا گوشت ہڈیوں سے اکھاڑ پھینکا ہے“۔

پی ٹی آئی رہنما نے لکھا، ”آئی ایس پی آرسے سوال: اگر ادارے کا کوئی رکن غلط کام نہیں کرتا تو کورٹ مارشل کیوں کیا جاتا ہے؟ ماضی میں جنرل افسران کا بھی کورٹ مارشل ہو چکا ہے۔ اگر وہ ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جن پرکورٹ مارشل ہو سکتا ہے تو ان پر انفرادی طور پرتنقید کیوں نہیں کی جا سکتی؟“۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ، ”انفرادی تنقید کو ادارے پرتنقید کے برابر لانے کی کوشش کو مسترد کیا جاتا ہے۔ ادارہ قوم کی حفاظت کے لیے اپنے ارکان کی قربانیوں کی بنیاد پر محبت اور احترام کا مستحق ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر فرد اس محبت اور احترام کا مستحق ہو“۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں حکومت سے درخواست بھی کی تھی کہ ادارے کے خلاف ہتک عزت اور جھوٹے الزامات کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔

ISPR

imran khan

Asad Umer

PTI long march 2022

Haqeeqi azadi march

Azadi March Nov5 2022

Comments are closed on this story.

مقبول ترین