Aaj News

پیر, مارچ 04, 2024  
22 Shaban 1445  

الیکشن سے متعلق آرمی چیف سےکوئی بات چیت نہیں ہوئی، وزیراعظم

کسی کو انارکی نہیں پھیلانے دیں گے، مغرب کی غلامی کا الزام لگا کر انہی سے مدد مانگی جا رہی ہے، پریس کانفرنس
اپ ڈیٹ 12 فروری 2024 06:33pm
فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکرین گریب
فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکرین گریب

نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے چلینجز کے باوجود جمہوری تسلسل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ملک کے کہنے پر مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہیں کریں گے, دہشتگردی کےخطرات کے باوجود پرامن انتخابات کا انعقاد ہوا ہے، کسی کو انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فروری کو پاکستان کو عوام نے ووٹ کاسٹ کیا، انتخابات کے کامیاب انعقاد میں سیکیورٹی اداروں نے اہم کردار اداکیا۔

انیہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، خطرات کے باوجود پرامن انتخابات کا انعقاد ہوا، اس دوران بین الاقوامی مبصرین موجود رہے۔

مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج سے متعلق سوال پر نگراں وزیراعظم نے کہا کہ پرامن احتجاج سیاسی کارکنوں کا حق ہے، انارکی پھیلانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے۔

انوار الحق کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ 2018 میں الیکشن کے نتائج 66 گھنٹوں میں مرتب ہوئے تھے، ہمارے یہاں الیکشن کے نتائج 36 گھنٹوں میں مکمل ہوئے، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ماضی میں بھی ہوئے یہ آئینی حق ہے، ہوسکتا ہے کہیں نتائج میں بے قاعدگی ہو، متعلقہ فورم موجود ہے، رپورٹس تھی غیر ریاستی عناصر موبائل سم کے ذریعے دھماکے کریں گے۔

نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کا ماسٹر مائنڈ اور انتہائی مطلوب دہشتگرد 9 فروری کو مارا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ الیکٹرانک مشین کے ذریعے انتخابات کیلئے فیصلہ آئندہ پارلیمان کرے گی، نئی منتخب پارلیمنٹ انتخابی عمل کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سےمتعلق آرمی چیف سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، ہمارے اوپر الیکشن کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں تھا۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کے بعد چند گھنٹے میں ہی غیرحتمی نتائج آنا شروع ہوجاتے ہیں، غیرحتمی نتائج کیسے آرہے ہوتے ہیں ان کی کیا سورس ہوتی ہے؟

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یورپین مبصرین یا کسی کو اندرونی معاملات میں مداخلت کی ضرورت نہیں، ہم قوانین کےمطابق چلیں گے، کسی ملک کے کہنے پر مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہیں کریں گے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے ایاز گل کے سوال کے امریکی اراکین کانگریس کی جانب سے تحقیقات کے مطالبے کے سوال پر جواب میں نگراں وزیراعظم نے کہا کہ امریکی اراکین کانگریس امریکی حکومت کی نمائندگی نہیں کرتے، ہمارے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کے علاوہ ان کے لیے امریکہ میں توجہ دینے کو اور کام بہت ہیں۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکی اراکین کانگریس کے الفاظ کو مقدس نہیں سمجھتے، ان کی اہمیت ہو سکتی ہے یا نہیں ہوسکتی لیکن یہ صرف رائے ہے، یہ امریکی حکومت کی رائے نہیں، الیکشن میں ہر امیدوار کو لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا تھی، اگر نہ ہوتی تو پی ٹی آئی کا سب سے بڑا گروپ کیسے ہوتا۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی شرط ہے کہ وہ الیکشن کو شفاف صرف اسی وقت تسلیم کریں گے جب تمام 266 اراکین ان کے ہوں گے تو میں اس میں مدد نہیں کر سکتا۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بلوچستان اور سندھ سے امیدوار کھڑے کرنے میں دلچسپی ہی نہیں لی اور پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ان کے نمائندے منتخب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں عمران خان کے وفادار امیدوار منتخب ہوئے ہیں، اس سے زیادہ لیول پلیئنگ فیلڈ کیا ہوسکتی ہے۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرف مغرب کی غلامی کا الزام لگتا ہے تو دوسری جانب انہی سے مدد مانگی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے بات چیت اب بھی جاری ہے، اگلی حکومت کو آئی ایم ایف سے نئے پروگرام پر بات کرنی ہوگی، معاشی استحکام اگلی حکومت کے چیلنجز میں شامل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن میں نئے ووٹرز کا شمار خوش آئند ہے، نئے ووٹرز کا انتخابی عمل میں شامل ہونا سیاسی استحکام کے لیے اہم ہے۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو جو کام دیا گیا تھا اس پرعمل ہوچکا اس لیے دفاع کرنا درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو خفیہ ہاتھ کی بات کررہے ہیں تو سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں سیکورٹی تعینات تھی، اگر دھاندلی ہونا تھی تو خیبرپختونخوا میں کیوں دھاندلی نہیں ہوئی۔

اسلام آباد

anwar ul haq kakar

Caretaker Prime Minister Anwar ul Haq Kakar

Caretaker Prime Minister Anwaar ul Haq Kakar

PM KAKAR

PM ANWAR UL HAQ KAKAR

Election 2024

انتخابات 2024

GENERAL ELECTION 2024

election 2024 results

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div