ٹی 20 ورلڈ کپ: بائیکاٹ کی صورت میں بنگلادیش کو کتنا بڑا نقصان ہوگا؟

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فروری اور مارچ میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے۔
اپ ڈیٹ 23 جنوری 2026 12:49pm

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت نہ کرنے پر بنگلا دیش کو تقریباً 325 کروڑ ٹکا کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ رقم ڈالرز میں تقریباً 27 ملین بنتی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی بی کے لیے یہ رقم سالانہ ریونیو، براڈکاسٹ رائٹس اور اسپانسر شپ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہے، جو تقریباً 60 فیصد یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش نے بھارت نہ جانے کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا تھا، اس فیصلے کے بعد نہ صرف ورلڈ کپ میں آمدنی متاثر ہوگی بلکہ بھارت کے ساتھ مستقبل میں شیڈول دوطرفہ سیریز بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

اگر یہ سیریز منسوخ ہوتی ہے تو ٹی وی براڈکاسٹ اور اسپانسرشپ سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی بھی ضائع ہو جائے گی، جو بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے مالی سال کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بی سی بی کے حکام نے کھلاڑیوں کو یقین دلایا ہے کہ ورلڈ کپ میں میچ فیس میں کمی نہیں کی جائے گی، تاہم کھلاڑیوں کے لیے اصل حوصلہ پیسہ نہیں بلکہ کھیل کے جذبے اور مقابلے کی اہمیت ہے۔

ذرائع کے مطابق بنگلادیش حکومت کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل کے واضح موقف کے بعد ٹیم کے بھارت جانے کے امکانات کم نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ ملاقات میں کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کو باور کرایا کہ سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

۔

دوسری جانب سابق کپتان بلبل احمد نے میڈیا سے گفتگو میں امید ظاہر کی کہ صورت حال بہتر بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی، تاہم ان کی گفتگو میں غیر یقینی کے آثاربہت نمایاں تھے۔

واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فروری اور مارچ میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے۔ اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی، جبکہ بنگلادیش کا بائیکاٹ ٹورنامنٹ کے عالمی منظرنامے پر ایک غیرمعمولی رخ اختیار کرسکتا ہے۔