پاکستان کا اقوام متحدہ میں کالعدم دہشتگرد تنظیم بی ایل اے پر پابندی کا مطالبہ
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر پابندی عائد کرنے کا باضابطہ مطالبہ کردیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے اور اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد خطے میں بعض دہشت گرد تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنتہ الہندوستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسی تنظیموں کو نئی زندگی ملی اور انہوں نے اپنی کارروائیاں تیز کیں۔
عاصم افتخار نے بتایا کہ بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملے کیے جن میں 48 بے گناہ شہری جان سے گئے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کرے۔
انہوں نے اجلاس میں اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ بعض دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، جو علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عاصم افتخار نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔
دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ کوئی بھی دہشت گرد یا اس کا سہولت کار قانون سے بالاتر نہیں اور تمام عناصر سے بلا امتیاز قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا کر بلوچستان میں امن و امان کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی اور تشدد کو کسی بھی جواز کے تحت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے شہریوں، سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان سب کی مشترکہ جدوجہد سے ہی ملک میں امن و استحکام ممکن ہے۔











