Live
Iran Israel War

ایران جنگ پر اختلافات کے باوجود صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں: جرمن چانسلر

ایران جنگ کے آغاز سے ہی انہیں اس اقدام پر شکوک و شبہات تھے کہ ایران جنگ کے ساتھ کیا ہوگا: فریڈرک مرز
اپ ڈیٹ 29 اپريل 2026 06:43pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے نے ان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اچھا قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ایران جنگ کے آغاز سے ہی انہیں اس اقدام پر شکوک و شبہات تھے کہ ایران جنگ کے ساتھ کیا ہوگا، اسی لیے انہوں نے اپنے تحفظات واضح کیے۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ ذاتی طور پر ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات اب بھی بہتر ہیں تاہم بعض معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ یہ اختلافات امریکا اور اس کے یورپی نیٹو اتحادیوں کے درمیان ایران سمیت دیگر امور، خصوصاً یوکرین تنازع، پر مختلف مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش جیسے مسائل نے جرمنی اور یورپ کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی فراہمی اور معیشت پر براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برلن اور واشنگٹن کے درمیان اس معاملے پر رابطے جاری ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں جرمن چانسلر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ فریڈرک مرز ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کو ”درست“ سمجھتے ہیں جب کہ وہ اس معاملے کو سمجھنے سے قاصر ہیں تاہم جرمن چانسلر اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب فریڈرک مرز نے پیر کو امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی قیادت نے امن مذاکرات کے لیے امریکی حکام کو پاکستان بلا کر نتائج کے بغیر واپس بھیج کر امریکا کو ”سبکدوش“ کیا۔

جرمن چانسلر نے مزید کہا تھا کہ انہیں واضح نہیں کہ امریکا اس تنازع سے نکلنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر نے نیٹو اتحادیوں پر بھی تنقید کی ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اپنی بحریہ نہیں بھیجی، جو مارچ کے آغاز سے تقریباً بند ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی اور توانائی کی فراہمی میں غیر معمولی خلل پیدا ہوا ہے۔

اگرچہ ایران اور امریکا ۔ اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے تاہم تنازع تاحال تعطل کا شکار ہے اور دونوں فریق لڑائی کے باضابطہ خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یو اے ای کے پاس تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ کیا ہے؟

یو اے ای کی اوپیک سے علیحدگی خلیجی سیاست میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے
شائع 29 اپريل 2026 04:21pm

متحدہ عرب امارات کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ’اوپیک‘ سے علیحدگی کے اعلان کو اس اتحاد کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے تناظر میں یو اے ای متبادل راستوں پر توجہ دے رہا ہے تاکہ تاکہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے تیل براہ راست بحرِ ہند تک پہنچایا جا سکے۔ اس فیصلے کو مستقبل میں تیل کی پیداوار اور ترسیل کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ یکم مئی سے باضابطہ طور پر ’اوپیک‘ اور ’اوپیک پلس‘ اتحاد دونوں سے الگ ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یو اے ای اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ ملکی معیشت کو فائدہ پہنچا سکے۔

اوپیک تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ہے جو 1960 میں قائم ہوئی تھی اور یو اے ای نے 1967 میں اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ایران، عراق، کویت، سعودی عرب اور وینزویلا اس کے بانی ممبران تھے۔

اس کا مقصد ممبر ممالک کی پیٹرولیم پالیسیوں کو یکجا کرنا تھا تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے اور مغربی کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جا سکے۔

سنہ 2016ء میں اوپیک پلس کے نام سے ایک اور اتحاد قائم کیا گیا تھا جو عالمی سطح پر تیل کی پیداوار اور مارکیٹ میں رسد کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس میں اوپیک ممالک کے علاوہ روس، میکسیکو، قازقستان اور عمان جیسے مزید تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔

یو اے ای اوپیک کا چوتھا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک رہا ہے۔ سعودی عرب کے بعد یو اے ای کے پاس تیل پیدا کرنے کی دوسری سب سے بڑی اضافی صلاحیت موجود ہے، جو مارکیٹ میں کسی بھی بحران کی صورت میں قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے اہم قرار دی جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی تجارت کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی رسد کا تقریباً 20 سے 30 فیصد تیل دنیا بھر میں سپلائی ہوتا ہے۔ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کی بندش کو اب تقریباً دو ماہ بیت چکے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات کے لیے متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں۔

یو اے ای سمیت عراق، کویت، قطر اور بحرین جیسے ممالک کی برآمدات اسی بحری راستے پر منحصر ہیں، جس کی بندش ان کے لیے ایک بڑا معاشی خطرہ ہے۔

اس بحران نے نہ صرف عالمی توانائی کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے بلکہ یہ حقیقت بھی عیاں کر دی ہے کہ جب عالمی معیشت کے اہم راستے بند ہوتے ہیں تو دنیا کتنی بے بس ہو جاتی ہے۔ اس تناظر میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ جو برسوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، ایک وسیع تر علاقائی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے۔

اٹلانٹک کونسل کی سینئر ایڈوائزر میسون کفافی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایران کے اقدامات سے پریشان خلیجی ممالک اب آبنائے ہرمز کا متبادل تلاش کرنے مجبور ہو گئے ہیں۔

اماراتی حکام پہلے ہی ابوظہبی کے تیل کے ذخائر کو آبنائے ہرمز کے بجائے فجیرہ کی بندرگاہ تک پہنچانے کے لیے نئی پائپ لائنوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی بھی بحری ناکہ بندی سے متاثر ہوئے بغیر اپنا تیل دنیا کو بیچ سکیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس کچھ ایسی پائپ لائنیں موجود ہیں جو آبنائے ہرمز کا متبادل بن سکتی ہیں، جس میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ اور متحدہ عرب امارات کی ’حبشان فجیرہ پائپ لائن‘ شامل ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ پائپ لائنز فی الحال آبنائے ہرمز سے گزرنے والے یومیہ 20 ملین بیرل تیل جتنی سپلائی کرنے کی گنجائش نہیں رکھتی ہیں۔

سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ اس کی پائپ لائن 7 ملین بیرل یومیہ منتقل کر رہی ہے، لیکن یہ بھی مجموعی ضرورت سے کہیں کم ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے لیے ’حبشان فجیرہ پائپ لائن‘ اس وقت لائف لائن بن چکی ہے۔ یہ پائپ لائن یومیہ 1.5 سے 1.8 ملین بیرل تیل براہِ راست بحرِ ہند کے ساحل تک پہنچا سکتی ہے۔

اگرچہ یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں ہے، لیکن یہ ابوظہبی کے لیے ایک اسٹریٹیجک انشورنس کی طرح ہے، جو اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی مارکیٹ کو تیل فراہم کرتا رہے۔

یہ راستہ ریگستانی ٹیلوں سے شروع ہو کر سنگلاخ پہاڑوں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں اب تمام خلیجی ممالک اسی طرح کے نئے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

اگرچہ یو اے ای کا یہ فیصلہ بظاہر اچانک لگتا ہے، لیکن خلیجی سیاست کے ماہرین کے مطابق یو اے ای کافی عرصے سے اس کے لیے پر تول رہا تھا۔ یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پالیسیوں پر اختلاف گزشتہ پانچ برسوں سے واضح تھا۔

سعودی عرب اپنی ’ویژن 2030‘ جیسی بڑی اصلاحات اور بھاری بجٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تیل کی قیمتوں کو بلند دیکھنا چاہتا ہے، جس کے لیے وہ پیداوار میں کمی کا حامی ہے۔

اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات کی معیشت زیادہ مستحکم اور متنوع ہے، اور اس نے اپنی پیداواری صلاحیت کو 3.4 ملین بیرل سے بڑھا کر 2027 تک 5 ملین بیرل روزانہ تک پہنچانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ تاہم، اوپیک کا تیل پیداواری کوٹہ امارات کو اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے سے روک رہا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای اب سعودی عرب کے زیرِ اثر اداروں، جیسے کہ عرب لیگ یا خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) میں رہنے کے بجائے اپنی قومی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔

فی الحال، آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوئی اور ناکہ بندی کھلی، اماراتی تیل کی ریل پیل عالمی منڈی میں قیمتوں کو 50 ڈالر تک گرا سکتی ہے۔

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی کامیابی کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے، جو ماضی میں اوپیک کو عالمی تیل قیمتوں پر اثر انداز ہونے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یو اے ای کا یہ فیصلہ خلیج کے پرانے سیاسی ڈھانچے کے خاتمے اور ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو نئی تجاویز بھیجی ہیں: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے عوام سے تیل کی بچت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تیل کی کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے جو ایک مثبت علامت ہے۔
شائع 29 اپريل 2026 03:33pm

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے پاکستانی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کے باعث ملک کا تیل کا درآمدی بل ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ اس علاقائی تنازع کی وجہ سے پاکستان کا تیل کا ہفتہ وار بل تقریباً 167 فیصد اضافے کے ساتھ 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر اب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور یہ ایک انتہائی مشکل صورتحال ہے جس کا ہمیں ہمت اور یکسوئی سے سامنا کرنا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اس جنگ کے مکمل خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے بے پناہ کاوشیں کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوششوں کے نتیجے میں ہی جنگ بندی میں توسیع ممکن ہوئی جو اب بھی برقرار ہے۔

وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے امن کے لیے ایران کو نئی تجاویز ارسال کی ہیں جس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ مشاورت کے بعد ان تجاویز کا جواب دیں گے۔

وزیراعظم نے دعا کی کہ یہ جنگ جلد ختم ہو کیونکہ اس اچانک چھڑنے والی جنگ نے گزشتہ دو سالوں کی ان معاشی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے جو معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کی گئی تھیں۔

تیل کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس جمعہ کو عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق نئی مقامی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت کی وجہ سے دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں تیل کے حصول کے لیے لمبی قطاریں یا افراتفری پیدا نہیں ہوئی اور حالات قابو میں رہے۔

وزیراعظم نے عوام سے تیل کی بچت کی اپیل بھی کی اور بتایا کہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں ملک میں تیل کی کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے جو ایک مثبت علامت ہے۔

عالمی منڈی کی صورتحال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برینٹ کروڈ کی قیمت 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے جس کی بڑی وجہ امریکی ناکہ بندی میں توسیع کی خبریں ہیں۔

نجکاری کے حوالے سے وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل سے قومی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

اس کے علاوہ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زراعت کے ساتھ ساتھ عوامی ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم شعبوں میں بھی عوام کو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے مشاورت شروع کریں تاکہ عام آدمی کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

'ایران جلد ہوش کے ناخن لے'، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 'اے آئی جنریٹڈ' تصویر شیئر کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیانات کے بعد اب دھمکی آمیز تصاویر شیئر کرنا شروع کردی ہیں۔
شائع 29 اپريل 2026 02:58pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیانات کے بعد اب تصاویر کے ذریعے ایران کو دھمکانا شروع کردیا ہے۔ یہ دھمکی پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اہم تجارتی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ بدستور بند ہے اور امریکا اور ایران مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ایران کو دھمکی دی ہے کہ وہ جلدی کرے اور سمجھ داری دکھائے۔

اس پوسٹ کے ساتھ ’اے آئی‘ سے تیار کردہ ایک تصویر بھی شامل ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں بندوق ہے، پس منظر میں دھماکے اور تباہی کی عکس بندی کی گئی ہے اور تصویر پر انگریزی میں عبارت درج ہے کہ ’اب شرافت دکھانے کا وقت نہیں بچا‘۔

صدر ٹرمپ نے پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ ’ایران اپنے معاملات درست نہیں کر پا رہا۔ وہ نہیں جانتا کہ غیر جوہری معاہدے پر کیسے دستخط کیے جاتے ہیں۔ بہتر ہے وہ جلد ہوش کے ناخن لیں۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان غیر معینہ مدت تک جنگ بندی کے بعد فی الحال سفارتی کوششیں التوا کا شکار ہیں۔

امریکی مذاکراتی وفد نے گزشتہ ہفتے بات چیت کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا دورہ کرنا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے عین وقت پر یہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’تمام کارڈز ہمارے پاس ہیں، اگر ایران بات کرنا چاہتا ہے تو وہ ہمارے پاس آئے یا ہمیں کال کرے‘۔ اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

پیر کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے دعویٰ کیا کہ تہران نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے تحت اگر امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے اور جنگ کا مکمل خاتمہ ہو تو ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تجویز میں تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو فی الحال مؤخر کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔ تاہم چند دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ تہران کی اس تجویز سے خوش نہیں ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وائٹ ہاؤس اس کے جواب میں اپنی شرائط پر مبنی کوئی جوابی پیشکش سامنے لائے گا۔

وزیر دفاع اور آرمی چیف ایران جنگ پر ٹرمپ کو درست معلومات فراہم نہیں کر رہے: جے ڈی وینس کو خدشہ

کیا ٹرمپ انتظامیہ میں دراڑیں پڑنی شروع ہوگئی ہیں؟
شائع 29 اپريل 2026 10:33am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری آٹھ ہفتوں پر محیط جنگ کے دوران اب خود وائٹ ہاؤس کے اندر سے ہی متضاد آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کی صورتحال کے بارے میں مکمل طور پر درست معلومات فراہم نہیں کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جہاں پینٹاگون کے حکام صدر ٹرمپ کو یہ بتا رہے ہیں کہ امریکی فوج نے ایرانی فضائیہ، بحریہ اور دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، وہیں جے ڈی وینس ان دعوؤں کی حقیقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

‘دی اٹلانٹک‘ کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے بند کمرہ اجلاسوں میں بار بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کی جانے والی جنگ کی خوش کن تصویر واقعی سچ ہے؟

نائب صدر کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ پینٹاگون شاید امریکی میزائلوں کے ذخیرے میں ہونے والی بڑی کمی کو چھپا رہا ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکا کا اسلحہ اسی طرح ختم ہوتا رہا تو مستقبل میں چین، شمالی کوریا یا روس جیسے بڑے حریفوں کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ کی صورت میں امریکا کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔

جے ڈی وینس نے عوامی سطح پر تو وزیر دفاع کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پیٹ ہیگستھ بہترین کام کر رہے ہیں، لیکن نجی محفلوں میں وہ بہت گہرے اسٹریٹیجک سوالات پوچھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیگستھ کا ٹی وی پر کام کرنے کا تجربہ انہیں یہ جاننے میں مدد دیتا ہے کہ صدر ٹرمپ کیا سننا چاہتے ہیں، اور وہ اکثر صبح آٹھ بجے بریفنگ دیتے ہیں جب صدر فاکس نیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

ایک سابق امریکی اہلکار نے بتایا کہ پیٹ اپنی ٹی وی مہارت کی وجہ سے خوب جانتے ہیں کہ صدر سے کس طرح بات کرنی ہے اور وہ کیا سوچتے ہیں۔

جنگ کے نقصانات کے بارے میں بھی پینٹاگون اور انٹیلی جنس رپورٹس میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

جہاں ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ایرانی فضائی حدود پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، وہیں خفیہ معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ تہران اب بھی اپنی دو تہائی فضائیہ اور میزائل داغنے کی بڑی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اس کے علاوہ ایران کی وہ چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں بھی سلامت ہیں جو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور عالمی تجارت کو روکنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکا اپنے اہم ترین اسلحے کا آدھا حصہ پہلے ہی استعمال کر چکا ہے۔

جے ڈی وینس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شروع ہی سے ایران کے خلاف اس فوجی کارروائی کے مخالف تھے اور انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ جنگ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور علاقائی افراتفری کا باعث بنے گی۔

ان کا موقف رہا ہے کہ امریکہ کو اپنے وسائل گھر پر خرچ کرنے چاہئیں۔

رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان کا سیاسی مستقبل اور 2028 کے صدارتی انتخاب میں ان کی کامیابی کے امکانات اس ایران جنگ کے نتیجے سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں خود شرکت کی تھی تاکہ کسی طرح اس تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

متحدہ عرب امارات کا 'اوپیک' چھوڑنے کا فیصلہ، تیل کی عالمی پیداوار اور قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی 65 سالہ قدیم تنظیم ’اوپیک‘ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای)...
اپ ڈیٹ 29 اپريل 2026 11:19am

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی 65 سالہ قدیم تنظیم ’اوپیک‘ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اس اتحاد سے علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

اوپیک دنیا بھر کے خام تیل کی کُل پیداوار کے تقریباً 40 فیصد حصے کو کنٹرول کرتی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں پر گہرا اثر رکھتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وہ رواں جمعہ کو اس تنظیم سے الگ ہو جائے گا۔

یو اے ای کے مطابق، اس اقدام کا مقصد خام تیل کی اپنی پیداوار میں بتدریج اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی معیشت کی ضروریات اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق تیل فروخت کر سکے۔

اگرچہ اس فیصلے کا فوری اثر تیل کی قیمتوں پر نظر نہیں آ رہا کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک کا تیل برآمد نہیں ہو پا رہا۔ لیکن ماہرین اسے طویل مدت کے لیے ایک اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

رائسٹڈ انرجی کے جیو پولیٹیکل تجزیہ کار جارج لیون نے امریکی نیوز ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی علیحدگی سے اوپیک ایک کمزور ڈھانچے والی تنظیم رہ جائے گی کیونکہ امارات ان چند ممالک میں شامل تھا جو ضرورت پڑنے پر فوری طور پر پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

جارج لیون کے بقول اب اوپیک کے لیے عالمی سپلائی کو متوازن کرنا اور قیمتوں کو مستحکم رکھنا مشکل ہو جائے گا، جس سے تیل کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔

اوپیک کا قیام ستمبر 1960 میں بغداد میں عمل میں آیا تھا، اس تنظیم کا مقصد تیل کی قیمتوں کو اس سطح پر رکھنا تھا کہ ممبر ممالک کے بجٹ متوازن رہیں اور انہیں اپنے قدرتی وسائل کا بھرپور فائدہ ملے، لیکن قیمتیں اتنی بھی زیادہ نہ ہوں کہ دنیا بھر میں معاشی کساد بازاری پیدا ہو جائے۔

تاہم، متحدہ عرب امارات کافی عرصے سے پیداواری پابندیوں کی وجہ سے خود کو پھنسا ہوا محسوس کر رہا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا کے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کے باعث تیل کی کھپت میں کمی آ سکتی ہے، اس لیے امارات چاہتا ہے کہ وہ ابھی زیادہ پیداوار کر کے زیادہ منافع کما لے، کیونکہ مستقبل میں زمین کے نیچے موجود تیل کی قدر آج کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے۔

پیپرسٹون فارن ایکسچینج کے ریسرچ اسٹریٹجسٹ مائیکل براؤن کا کہنا ہے کہ فی الحال سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز کا بند ہونا ہے، جس سے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی سپلائی کم ہوگئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق اگر جنگ کے بعد متحدہ عرب امارات اپنی پیداوار بڑھانے کے ہدف میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے تیل کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے والی سطح پر آنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، جب تک یہ سمندری راستہ بند ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی علیحدگی سے اب یہ تنظیم 12 ارکان پر مشتمل رہ جائے گی جو دنیا کے 80 فیصد ثابت شدہ تیل کے ذخائر کے مالک ہیں۔

مذاکرات میں تعطل اور دھمکیاں: امریکا میں پٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ، ٹرمپ انتظامیہ پریشان

ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی پروگرام پر ڈیڈ لاک برقرار
شائع 29 اپريل 2026 08:18am

مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں ایک بار پھر شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہیں جہاں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔ اس دوران امریکا میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس پر ٹرمپ انتظامیہ پریشان ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی وہ تازہ ترین پیشکش مسترد کر دی ہے جس میں تہران نے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کو کچھ عرصے کے لیے موخر کرنے اور اس کے بدلے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر کھولنے کی تجویز دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں واضح اشارہ دیا کہ وہ ایران کے اس نئے منصوبے کو قبول کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے کیونکہ ایرانی قیادت اس وقت اپنے مستقبل کے حوالے سے بھی شدید دباؤ میں ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس حوالے سے بتایا کہ ایران کی نئی تجاویز پر غور ضرور کیا گیا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی شرائط اور ڈیڈ لائنز سے ایرانی حکام کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کو اندرونی محاذ پر پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کا بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھونس، دھمکیوں یا طاقت کے زور پر بین الاقوامی بحری راستوں کو بند کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

اسی طرح وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے والی صنعت تیزی سے تباہ ہو رہی ہے اور وہاں جلد ہی ایندھن کی شدید قلت پیدا ہونے والی ہے۔

ایران کی جانب سے بھی ان دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا گیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی من مانی پالیسیاں مسلط کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات ترک کرنے ہوں گے۔

امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ سمندری ناکہ بندی اور تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے کے بعد ایران اب ٹرینوں کے ذریعے چین کو خام تیل بھیجنے کی متبادل کوششیں کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر ایران تیل کی برآمد کا یہ متبادل راستہ کامیابی سے نہ اپنا سکا تو اسے اپنے تیل کے کنویں مکمل طور پر بند کرنے پڑیں گے جو ایرانی معیشت کے لیے ایک بڑا بحران ثابت ہو سکتا ہے۔

فی الحال دونوں فریقین اپنی اپنی ضد پر قائم ہیں اور خطے میں امن کے بجائے جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کو پچھتانا پڑے گا: ایرانی فوج

جنگ کو ختم تصور نہیں کیا جا رہا، نئے اہداف کا تعین کیا جاچکا ہے: ترجمان ایران فوج بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا
شائع 28 اپريل 2026 10:19pm

ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کو جنگ شروع کرنے پر پچھتانا پڑے گا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق ترجمان ایرانی فوج بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہم نے جنگ کو ختم نہیں سمجھا، جس دن جنگ رکی اور میدان میں ایک طرح کی جنگ بندی یا خاموشی قائم ہوئی، اسی دن سے ہم نے امریکا اور دشمنوں پر عدم اعتماد کے باعث جنگی سطح کی تیاری کو جاری رکھا اور نئے اہداف کا تعین کرلیا گیا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ جنگ سے پہلے انٹیلیجنس جائزوں کی بنیاد پر تمام یونٹس مکمل تیاری میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اصفہان میں دشمن کی دراندازی کے دوران زمینی افواج نے فوری کارروائی کی، امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا اور اس تیز ردعمل کے باعث دشمن کی کارروائی ناکامی سے دوچار ہوئی۔

جنرل اکرمینیا کے مطابق جنگ کے دوران قومی فضائی دفاعی مرکز کے تحت فوج کے فضائی دفاع اور پاسدارانِ انقلاب کے ایرو اسپیس دفاعی یونٹ نے 170 سے زائد دشمن طیاروں اور 16 لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنا کر مار گرایا، جن جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے کئی جدید ڈرونز تھے۔

ترجمان کے مطابق جنگ کے آغاز میں ایرانی فضائیہ نے عراق، کویت اور قطر میں دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی فضائیہ کے ایک ایف-5 طیارے نے مختلف دفاعی تہوں کو عبور کرتے ہوئے ایک امریکی اڈے کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ  ایرانی بحریہ نے خطے اور اسرائیل میں اہداف پر نیول کروز میزائل اور ڈرون داغے اور بحریہ نے امریکی جنگی جہازوں، بشمول طیارہ بردار جہاز  ابراہام لنکن کو ایرانی ساحل کے قریب آنے کی اجازت نہیں دی۔

حجاج کی سیکیورٹی کے معاملے پر سعودی عرب سے مکمل ہم آہنگی ہے: ایران

ایران حجاج کرام کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام سے رابطے میں ہے: ترجمان ایرانی حکومت
شائع 28 اپريل 2026 07:32pm

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ ایران نے حجاج کرام کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام کے ساتھ تمام ضروری اقدامات اور کوآرڈینیشن مکمل کر لی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور امریکی پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا کے مطابق منگل کے روز ہفتہ وار پریس برینفنگ کے دوران ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ملکی اور علاقائی امور سمیت رواں سال فریضۂ حج سے متعلق تیاریوں پر گفتگو کی۔

سعودی عرب میں ایرانی حجاج کی سیکیورٹی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام نے طے شدہ طریقہ کار کے تحت عازمین کو روانہ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں حکومت ایرانی شہریوں کے لیے باوقار حج کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

امریکی ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترجمان ایرانی حکومت کو امریکا کی جانب سے ایسے اقدامات کی توقع تھی اور اس سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی تمام ضروری حفاظتی اقدامات کر لیے گئے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی بنیادی حکمت عملی ملک کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کا زیادہ سے زیادہ استعمال اور اچھا ہمسایہ بنے رہنے کی پالیسی کو فروغ دینا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے جانے والے بعض دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ایرانی عوام کو دشمن کی بیان بازی اور غیر مصدقہ خبروں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔ ان دعوؤں کا واحد مقصد عوام میں تقسیم پیدا کرنا اور رائے عامہ کا رخ موڑنا ہے۔

انہوں نے قومی اتحاد اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ’مسلط کردہ جنگ‘ کا مقصد ہی ملک کے داخلی ماحول کو خراب کرنا ہے۔ تاہم قیادت، دفاعی افواج اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان موجود ہم آہنگی دشمن کے مقاصد کو ناکام بنا رہی ہے۔

بحرین میں ایران سے مبینہ روابط کے الزام میں پانچ افراد کو عمر قید

سرکاری استغاثہ کے مطابق سزا پانے والوں میں دو افغان شہری اور تین بحرینی شہری شامل ہیں۔
شائع 28 اپريل 2026 04:57pm

بحرین کی عدالت نے ایران کے ساتھ مبینہ طور پر رابطوں اور سازش کے الزام میں پانچ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے، جب کہ متعدد دیگر افراد کو بھی سزائیں دی گئی ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق بحرین میں ایک اہم عدالتی فیصلے کے تحت پانچ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جن پر الزام تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر ’دہشت گرد اور غیر قانونی سرگرمیوں‘ کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سرکاری استغاثہ کے مطابق سزا پانے والوں میں دو افغان شہری اور تین بحرینی شہری شامل ہیں، جنہیں ریاست کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا۔

بحرین کے پبلک پراسیکیوٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی شہری یا فرد کا دشمن غیر ملکی عناصر کے ساتھ رابطہ رکھنا قومی سلامتی کے لیے شدید خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے جرائم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس مقدمے میں صرف پانچ افراد ہی نہیں بل کہ مجموعی طور پر 30 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ عدالت نے دیگر 25 ملزمان کو بھی مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائیں، جن میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید شامل ہے۔ ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ایران سے منسلک مبینہ سرگرمیوں کی حمایت کی یا ان میں کسی نہ کسی شکل میں سہولت کاری فراہم کی۔

یہ کیس ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور دیگر ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بحرین طویل عرصے سے ایران پر اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جب کہ ایران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

انسانی حقوق کی معروف کارکن مریم الخواجہ نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ بحرین میں افراد کو ایران کے ساتھ جاری علاقائی تنازع کے تناظر میں اس نوعیت کے الزامات کے تحت سزا دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس مقدمے کے قانونی اور سیاسی پہلوؤں پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔

عرب نیوز کے مطابق اس سے قبل بحرین کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ خلیجی مملکت نے 69 شہریوں کی شہریت ختم کر دی ہے۔ پیر کے روز کیے گئے اس اعلان میں بتایا گیا ہے کہ ان 69 شہریوں کو شہریت کے حق سے محروم کرنے کا فیصلہ حالیہ کشیدگی کے ماحول میں ایران کی حمایت کرنے کے سنگین جرم کے باعث کیا گیا ہے۔

بحرین کے شاہ نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ ایران کی حمایت کرنے والے اور اس کے لیے جاسوسی کرنے والے عناصر سے سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کی شہریت بی ختم کی جا سکتی ہے۔ اب پیر کے روز وزارت داخلہ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ لوگ ایران کے بحرین کے خلاف حملوں کی حمایت کرنے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ عناصر ایران کے ساتھ ملی بھگت میں بھی شریک تھے۔

بحرینی وزارت داخلہ کے مطابق اپنے شہریوں کو حق شہریت سے محروم کرنے کا یہ اقدام آرٹیکل 10/3 کے تحت کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ قانون شہریوں کی شہریت ختم کرنے کے اختیار سے متعلق ہے۔

اس قانون میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی ایسا کام کیا جو بحرینی مملکت کے مفادات کے خلاف ہو یا کسی ایسے حرکت کا مرتکب ہوا جو وفاداری سے متعلق فرض کے خلاف ہو۔ تو اس صورت میں وزارت داخلہ بحرینی کابینہ سے ایسے فرد کی شہریت ختم کرنے کی درخواست کرے گی۔

بحرینی نیوز ایجنسی کے مطابق تمام متعلقہ حکام اس فیصلے پر عمل کے لیے بحرینی قانون کے تحت ضروری اقدامات کریں گے۔ جب کہ حکام بحرینی شہریت کی عزت و وقار کے پس منظر میں ایسے امور کا جائزہ لیتے رہیں گے۔

ایران جنگ پر مشترکہ ردِعمل: عرب سربراہانِ مملکت کی جدہ میں اہم بیٹھک

سعودی عرب کی میزبانی میں خلیج تعاون کونسل کا غیر معمولی اجلاس جدہ میں ہورہا ہے
اپ ڈیٹ 28 اپريل 2026 05:19pm

امریکا اور ایران کے درمیان 40 روزہ جنگ کے بعد سعودی عرب کے شہر جدہ میں خلیج تعاون کونسل کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری پر غور کیا جارہا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی صدارت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کر رہے ہیں۔

اجلاس کے ایجنڈے میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتِ حال اور ان سے متعلق مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال شامل ہے۔ سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک خلیجی ملک کے اہم عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد حالیہ جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک مشترکہ ردعمل تیار کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے دوران خلیج تعاون کونسل میں شامل تمام چھ خلیجی ریاستوں میں توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، جب کہ امریکا سے منسلک فرمز، دیگر سویلین انفراسٹرکچر اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مشرقِ وسطیٰ میں 28 فروری کو جنگ چھڑنے کے بعد یہ خلیجی ریاستوں کے سربراہان براہِ راست کا پہلا براہِ راست اجلاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق 8 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے خلیجی ملکوں پر حملے رک گئے ہیں تاہم تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے اب تک بے نتیجہ رہنے کی وجہ سے خلیجی ممالک جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کا شکار ہیں۔

سعودی ریاستی میڈیا کے مطابق اس اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کے امیر، کویت کے ولی عہد، بحرین کے بادشاہ اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ جدہ پہنچ چکے ہیں۔ تاہم خلیج تعاون کونسل کے چھٹے رکن ملک عمان کی نمائندگی کے حوالے سے فی الحال صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل کا ہیڈکوارٹر بھی میزبانی کرنے والے ملک سعودی عرب میں ہی واقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس غیر معمولی اجلاس سے قبل متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران جنگ کے حوالے سے خلیج تعاون کونسل کے مبینہ ناقص ردعمل پر غیر معمولی تنقید سامنے آئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے سینئر عہدیدار انور قرقاش نے پیر کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ لاجسٹک لحاظ سے خلیجی ممالک نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا، لیکن میرا ماننا ہے کہ سیاسی اور عسکری طور پر ان کا مؤقف انتہائی کمزور تھا‘۔

انور قرقاش نے مزید کہا کہ مجھے عرب لیگ سے تو ایسے کمزور مؤقف کی توقع تھی اور میں اس پر حیران نہیں ہوں لیکن مجھے ’جی سی سی‘ سے ہرگز اس کی توقع نہیں تھی اور یہ میرے لیے حیران کن ہے۔

کیا ٹرمپ یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد ایران کے خلاف جنگ جاری رکھ سکیں گے؟

وار پاورز ایکٹ کے مطابق اگر کانگریس ساٹھ دن کے اندر جنگ جاری رکھنے کی مشترکہ قرارداد منظور نہیں کرتی، تو صدر کو اپنی افواج واپس بلانی پڑتی ہیں۔
شائع 28 اپريل 2026 02:24pm

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے قانونی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف سرحد پار دشمن سے بلکہ اپنے ہی ملک کے آئین اور پارلیمنٹ سے بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ 1973 کے ’وار پاورز ایکٹ‘ کے تحت صدر ٹرمپ کے پاس یکم مئی تک کی مہلت ہے کہ وہ کانگریس سے اس جنگ کو جاری رکھنے کی باقاعدہ منظوری حاصل کریں، بصورتِ دیگر انہیں ساٹھ دن کی مدت مکمل ہونے پر فوجی کارروائیاں محدود کرنی ہوں گی۔

بائیس اپریل جب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تو انہوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی واضح تاریخ نہیں دی، بلکہ صرف اتنا کہا کہ تہران کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی اور وہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی نئی تجویز کا انتظار کریں گے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کو ایران سے زیادہ واشنگٹن میں موجود ڈیڈ لائن کی فکر ہونی چاہیے۔

وار پاورز ایکٹ کے مطابق اگر کانگریس ساٹھ دن کے اندر جنگ جاری رکھنے کی مشترکہ قرارداد منظور نہیں کرتی، تو صدر کو اپنی افواج واپس بلانی پڑتی ہیں۔

اس قرارداد کی منظوری کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے جو اب تک حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

کولوراڈو لا اسکول کی پروفیسر مریم جمشیدی نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر تحریری طور پر یہ کہہ کر تیس دن کی مزید مہلت لے سکتے ہیں کہ ’ناگزیر فوجی ضرورت‘ کی وجہ سے فورسز کا وہاں رہنا ضروری ہے، لیکن نوے دن گزرنے کے بعد اگر کانگریس نے باقاعدہ اعلانِ جنگ نہ کیا ہو تو صدر کو ہر صورت آپریشن ختم کرنا پڑتا ہے۔

تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ماضی میں صدور نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دے کر نظر انداز بھی کیا ہے اور کانگریس کے پاس صدر کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرنے کا کوئی واضح قانونی راستہ موجود نہیں۔

سیاسی طور پر صدر ٹرمپ کے لیے کانگریس سے منظوری لینا ایک کٹھن مرحلہ نظر آتا ہے۔

پندرہ اپریل کو سینیٹ میں صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش اگرچہ 52-47 سے ناکام ہو گئی تھی، لیکن ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس نے حال ہی میں لکھا ہے کہ میں صدر کے دفاعی اقدامات کی حمایت کرتا ہوں لیکن ساٹھ دن سے زائد جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے، کیونکہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حیران کن ہے سینیٹ کی ریپبلکن قیادت اس جنگ کی نگرانی نہیں کر رہی جس پر ہر ہفتے اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔

اگرچہ آٹھ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن سمندر میں لڑائی اب بھی جاری ہے۔

تاہم، سوال اب بھی وہیں ہے کہ کیا ٹرمپ یکم مئی کے بعد بھی جنگ جاری رکھیں گے؟

بوڈوین کالج کے پروفیسر سالار مہندسی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پوری پہچان ’جیت‘ پر مبنی ہے، اگر وہ پیچھے ہٹتے ہیں تو یہ ان کی شکست تصور ہوگی۔ وہ ایک جواری کی طرح ہیں اور ممکن ہے کہ وہ کسی بڑی کامیابی کی امید میں اس جنگ کو مزید طول دیں۔

الجزیرہ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کانگریس کو نظر انداز کرنے کے لیے 2001 اور 2002 کے ان قوانین کا سہارا لے سکتے ہیں جو نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے بنائے گئے تھے۔

ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے لیے بھی اسی پرانے قانون کا سہارا لیا تھا۔

ماضی کے امریکی صدور بھی ایسے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔

بل کلنٹن نے 1999 میں یوگوسلاویہ کے خلاف 79 دن تک جنگ جاری رکھی جبکہ اوباما انتظامیہ نے 2011 میں لیبیا پر حملے کے دوران یہ دلیل دی تھی کہ چونکہ وہاں آمنے سامنے براہِ راست فائرنگ نہیں ہو رہی، اس لیے اسے ’وار پاورز ایکٹ‘ کے تحت باقاعدہ جنگ نہیں مانا جا سکتا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ یکم مئی کی ڈیڈ لائن سے کیسے نمٹتے ہیں اور کیا وہ امریکی عوام کی مخالفت کے باوجود اس مہنگی جنگ کو جاری رکھنے کا کوئی نیا قانونی راستہ نکال پائیں گے۔

امریکی بحری ناکہ بندی: ایران نے چین کو تیل بھیجنے کا نیا راستہ ڈھونڈ لیا

تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے: امریکی جریدے کا دعویٰ
شائع 28 اپريل 2026 12:35pm

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کے باعث تہران نے اپنی معیشت کو بچانے کے لیے ایک نیا اور غیر روایتی راستہ تلاش کر لیا ہے۔

امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری راستوں پر امریکی پہرے کے باعث ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنا تیل ذخیرہ کرنے یا برآمد کرنے میں ناکام رہا تو اسے اپنے تیل کے کنویں مکمل طور پر بند کرنے پڑیں گے، جو اس کی معیشت کے لیے ایک جان لیوا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز کی سخت بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایرانی معیشت کو اس ’شٹ ان‘ پوائنٹ تک پہنچانا ہے جہاں اس کے پاس تیل رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے اور اسے پیداوار بند کرنی پڑے۔

صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کی صنعت کے پاس صرف تین دن باقی ہیں، جس کے بعد یہ نظام بیٹھ جائے گا اور اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوگا۔

تاہم، توانائی کے ماہرین صدر ٹرمپ کے اس مختصر وقت سے اتفاق نہیں کرتے۔

یوریشیا گروپ کے بانی ایان بریمر کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر ناقابلِ برداشت معاشی دباؤ ڈال کر اسے اپنی شرائط پر امن معاہدے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس ابھی تقریباً ایک ماہ کی گنجائش باقی ہے۔

جبکہ وولف ریسرچ کے تجزیہ کار ٹوبن مارکس کا خیال ہے کہ ایران مزید دو ماہ تک یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ ٹوبن مارکس نے صدر ٹرمپ کے تین دن والے دعوے کو ’سراسر لغو‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر کا منصوبہ دراصل ایران کو انتظار کی سولی پر لٹکانا ہے تاکہ زمینی جنگ سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ تیل کے کنوؤں کو بند کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انجینئرز کے مطابق ایک بار پیداوار رک جائے تو کنوؤں کو دوبارہ شروع کرنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہوتا ہے، اور اس سے تیل کے ذخائر کو مستقل جغرافیائی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ایران کا تقریباً 90 فیصد تیل ’خارگ آئی لینڈ‘ سے برآمد ہوتا ہے جہاں 20 سے 30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ گنجائش چند ہفتوں میں بھر سکتی ہے۔

پینگیا پالیسی کے تجزیہ کار ٹیری ہینز نے ایران کی حالیہ امن تجویز کو ’غیر سنجیدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایٹمی پروگرام پر بات چیت کو موخر کرنا چاہتا ہے جو امریکا کو کسی صورت قبول نہیں۔

اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہیں اور پوری دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا ٹرینوں کے ذریعے تیل کی منتقلی کا یہ انوکھا منصوبہ ایران کو معاشی تباہی سے بچا پائے گا یا نہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ ڈیل پر عرب ممالک کو اپنے تحفظ کا خدشہ

عرب ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ان کے تحفظ کی مکمل ضمانت یقینی بنائی جائے۔
اپ ڈیٹ 28 اپريل 2026 11:30am

ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ایک ایسے موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں سفارتی حلقوں میں بڑی ہلچل دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز واشنگٹن کو موصول ہو گئی ہیں۔ ان تجاویز میں ایران نے جوہری معاملے پر بات چیت کو بعد کے مرحلے تک موخر کرتے ہوئے فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور امن قائم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ توقع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی ٹیم کے ساتھ ان تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

اس ممکنہ ڈیل کی خبروں نے عرب ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ان کے تحفظ کی مکمل ضمانت یقینی بنائی جائے۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے عمان میں کویتی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ خطے میں امن کے لیے عرب ممالک کے مفادات کا تحفظ ناگزیر ہے۔

دوسری جانب قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

قطری وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین ثالثی کی کوششوں کا مثبت جواب دیں تاکہ اس بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے بھی اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے رابطہ کیا جہاں میزائل حملوں کے عالمی امن پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی بحری گزرگاہوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ دھونس، دھمکیوں یا طاقت کے زور پر بحری راستے بند کرنا قبول نہیں اور ایران کو یہ فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز سے کون سا جہاز گزرے گا اور کون سا نہیں۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی کی اجازت یا ادائیگی کے بعد جہازوں کا گزرنا راستہ کھلنا نہیں کہلاتا۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور اس عمل میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا ہے۔

ماسکو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ اگرچہ امریکی موقف کے باعث گزشتہ دور کے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو سکے، لیکن بات چیت آگے بڑھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں روس کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی خاص اہمیت کی حامل ہے۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی ایرانی مذاکرات کاروں کی مہارت کی تعریف کی ہے، تاہم انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ایران کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے اور صدر ٹرمپ اس حوالے سے اپنی نیشنل سیکیورٹی ٹیم سے مشاورت کریں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی ریڈ لائن پہلے ہی بتا چکے ہیں اور امریکا صرف ایسا معاہدہ کرے گا جو امریکی مفادات کے مطابق ہو اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مستقل طور پر روک سکے۔

عالمی میڈیا کے مطابق اگر یہ تجاویز تسلیم کر لی گئیں تو نہ صرف آبنائے ہرمز کھل جائے گی بلکہ امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم ہو سکتی ہے، جس کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

ایران کے ساتھ جاری حساس سفارتی معاملات کو میڈیا پر نہیں لایا جائے گا: وائٹ ہاؤس

ایران کی تجویز پر غور ہورہا ہے، صدر ٹرمپ نیشنل سیکیورٹی ٹیم سے بات کریں گے: کیرولین لیوٹ
شائع 27 اپريل 2026 11:45pm

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا دوسرا دور تعطل کا شکار ہے اور بدستور غیریقینی صورت حال برقرار ہے جس کے دوران وائٹ ہاؤس سے جاری بیان نے پیشرفت کی جانب اشارہ دیا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی اسسٹنٹ پریس سیکریٹری اولیویا ویلز نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری حساس سفارتی معاملات کو میڈیا پر نہیں لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کسی بھی معاہدے میں اپنی شرائط کو مقدم رکھے گا اور ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جس سے امریکی عوام کے مفادات متاثر ہوں۔

امریکی صدارتی دفتر کی اسسٹنٹ پریس سیکریٹری کے بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکا اور اسرائیل نے بارہا ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کا عمل مکمل طور پر ترک کردے۔ ایران اس عمل کے ذریعے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری طرف ایران اپنے پرانے مؤقف پر قائم ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں میں جوہری مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا۔

ایران کی تجویز پر غور ہورہا ہے، کیرولین لیوٹ

بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ سے میڈیا بریفنگ کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ کیا ایران کی تجویز پر غورکیا جارہا ہے، جس پر انہوں نے کہا کہ ایران کی تجویز پر غور ہورہا ہے، صدر ٹرمپ نیشنل سیکیورٹی ٹیم سے بات کریں گے، ہوسکتا ہے کہ ملاقات اس وقت ہورہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ نہیں ہورہی ہو لیکن ٹرمپ اپنی ریڈ لائن بتا چکے ہیں۔

ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ سیکریٹ سروس ایجنٹ کی بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے جان بچی، اس وقت صدر ٹرمپ کا برتاؤ شاندار تھا جو مجھے کبھی نہیں بھول سکتا، اختلاف ہوتا ہے لیکن یہ اختلاف گولی سے حل نہیں ہونا چاہیے۔

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ 11 سال سے صدر ٹرمپ کے خلاف نفرت انگیزی نے اس حال تک پہنچایا، شوٹر اور سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے مؤقف میں کیا فرق ہے، اے بی سی کے صحافی نے خاتون اول کے حوالے سے نازیبا بیان دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکریٹ سروس نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر صدر ٹرمپ اور دیگر کی حفاظت کی، ان ہیروز کی بھی فیملیز اور بچے ہوتے ہیں، بہت ہوگیا، اب ڈیموکریٹس وہی کریں جو ٹرمپ کہتے ہیں، ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے فنڈز جاری کیے جائیں، ڈیموکریٹ ٹرمپ کا ہٹلر سے موازنہ کرتے ہیں۔

روس نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی

روس پائیدار اور یقینی امن کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل کی حمایت کرتا ہے: ترجمان کریملن دمتری پیسکوف
شائع 27 اپريل 2026 10:05pm

روس نے امریکا اور  ایران کے درمیان ثالثی  کرانے کی پیشکش کردی ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ تمام فریق اس پر آمادہ ہوں۔

دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس پائیدار اور یقینی امن کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل کی حمایت کرتا ہے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر فریقین رضامند ہوں تو روس اس تنازع میں ثالثی کر سکتا ہے تاکہ دیرپا حل نکالا جا سکے۔

کریملن کے ترجمان نے خبردار کیا کہ جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کی صورت میں نہ صرف ایران بلکہ آبنائے ہرمز سے ملحق ممالک اور عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

ایران اور خطے کے مفاد میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں: صدر پیوٹن کی عباس عراقچی سے ملاقات

ایران نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کے روس جیسے مضبوط دوست اور اتحادی موجود ہیں: عباس عراقچی
اپ ڈیٹ 27 اپريل 2026 08:47pm
Vladimir Putin Meets Abbas Araqchi

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرز برگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کے روس جیسے مضبوط دوست اور اتحادی موجود ہیں جب کہ روسی صدر نے کہا کہ روس ایران اور خطے کے مفاد میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے نووستی کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات میں خطے کی صورتِ حال اور امریکا ایران جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران پیوٹن نے کہا کہ روس ہر وہ اقدام کرے گا جو ایران اور خطے کے عوام کے مفاد میں ہو اور جلد از جلد امن کے حصول میں مدد دے۔ ان کے مطابق ماسکو کی پالیسی سب کے لیے واضح ہے اور وہ سیاسی حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

روسی میڈیا کے مطابق روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ انہیں ایران کے سپریم لیڈر کا پیغام بھی موصول ہوا تھا جس پر صدرپیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور عباس عراقچی سے ان کا نیک خواہشات پر مبنی پیغام سپریم لیڈر تک پہنچانے کی درخواست کی۔

روسی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے عوام اپنی خودمختاری کے لیے بہادری سے لڑرہے ہیں اور روس دعا گو ہے کہ ایرانی قوم کا یہ مشکل وقت ختم ہو، پیوٹن نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جلد امن ہوگا۔

ملاقات کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کے روس جیسے مضبوط دوست اور اتحادی موجود ہیں۔ انہوں نے روسی فیڈریشن کی جانب سے ایران کے لیے مسلسل اور غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون خطے میں ایران کی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران امریکا کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے گا۔ انہوں نے روس اور ایران کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے مزید تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔

دونوں رہنماوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود رابطے اور سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جب کہ ایران نے موجودہ صورتِ حال کو اپنی قومی مزاحمت کا حصہ قرار دیا ہے۔

قبل ازیں، سینٹ پیٹرزبرگ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایران دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کے مقابلے میں کھڑا ہے اور مخالف فریق اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اب مذاکرات کی درخواست کی جا رہی ہے، جس پر ایران غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور روس اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، دونوں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اور باہمی تعاون مسلسل جاری ہے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک مستحکم، مضبوط اور طاقتور نظام ہے۔

امریکا کے پاس ایران جنگ سے نکلنے کی کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں: جرمن چانسلر

امریکا ایران جنگ میں افغانستان اورعراق جیسے مسائل سے دوچار ہو سکتا ہے: فریڈرک مرز
شائع 27 اپريل 2026 06:21pm

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کمزور دکھائی دے رہا ہے اور اسے افغانستان اور عراق جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جب کہ اس جنگ کے معاشی اثرات یورپ پر بھی پڑ رہے ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کو سبکی کا سامنا ہے اور واشنگٹن کے پاس اس تنازع سے نکلنے کا واضح راستہ موجود نہیں۔

جرمن شہر مارسبرگ میں طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے فریڈرک مرز نے کہا کہ اس قسم کی جنگوں میں داخل ہونا آسان مگر نکلنا مشکل ہوتا ہے اور امریکا ماضی میں افغانستان اور عراق میں اسی طرح کے طویل اور مہنگے تنازعات کا سامنا کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت نہایت مہارت سے مذاکرات کر رہی ہے اور توقع سے زیادہ مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ مرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکا کو مشکل صورت حال میں ڈال دیا ہے۔

جرمن چانسلر نے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس تنازع کے اثرات جرمنی کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ سے توانائی کی قیمتوں اور معاشی پیداوار پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔

فریڈرک مرز نے مزید کہا کہ جرمنی آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کے تحفظ کے لیے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز بھیجنے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ اقدام جنگ بندی سے مشروط ہوگا۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ جون واڈیفول نے خبردار کیا کہ جوہری خطرات اب بھی عالمی سیکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایسے خطرات موجود ہیں، مؤثر دفاعی حکمت عملی ضروری رہے گی۔

یورپ میں اس جنگ کے اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے، جس کے باعث جرمنی اور فرانس نے جوہری دفاع کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ خطے میں عدم استحکام کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

امریکا کے جدید ڈیفنس سسٹم 'پیٹریاٹ' کو ایران کے 60 سال پرانے 'ایف 5' جیٹ نے تباہ کیا: رپورٹ

ایران نے یہ طیارے 70ء کی دہائی میں امریکا سے خریدے تھے، جس میں سے کئی اب بھی فعال ہیں۔
شائع 27 اپريل 2026 06:06pm

امریکی میڈیا کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایران نے کویت میں موجود اہم امریکی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک پرانے ایرانی ’ایف 5‘ جنگی طیارے کا استعمال کیا۔ اس طیارے نے نہ صرف امریکا کے جدید ترین ’پیٹریاٹ‘ میزائل ڈیفنس سسٹم کو چکمہ دیا بلکہ کویت میں واقع امریکی فوجی اڈے ’کیمپ بیوہرنگ‘ پر بمباری بھی کی۔ ان انکشافات نے امریکی فضائی دفاع اور اسٹریٹجک برتری کے دعوؤں کو چیلنج کر دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایرانی فضائیہ کے ایک پرانے ’ایف 5‘ جنگی طیارے کی جانب سے کویت میں کیمپ بیوہرنگ کی مثالی سیکیورٹی اور جدید ترین ریڈار سسٹم کو دھوکہ دے کر کامیاب بمباری ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی ’ایف 5‘ نے نچلی پرواز کرتے ہوئے بم گرائے اور ریڈار کی خامیوں کا فائدہ اٹھایا۔ اس حملے نے ثابت کیا کہ پرانے فورتھ جنریشن طیارے بھی جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔

ایران کے پاس موجود ’ایف 5‘ طیارہ امریکی ساختہ ہلکا لڑاکا طیارہ ہے، جسے امریکا کی کمپنی ’نارتھروپ‘ نے 1950 کی دہائی کے آخر میں ڈیزائن کیا تھا۔

اس کا جدید ورژن ’ایف-5 ای ٹائیگر‘ سنہ 1972 میں متعارف کروایا گیا تھا۔ شاہِ ایران نے 60ء اور 70ء کی دہائی میں امریکا سے تقریباً 140 سے 160 طیاروں کا سودا کیا تھا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ایران کے پاس اب بھی 35 سے 50 کے قریب فعال ’ایف 5‘ طیارے موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اس طیارے کی بنیاد پر اپنے مقامی طیارے بھی بنائے ہیں، جن میں ’صاعقہ‘ اور ’کوثر‘ شامل ہیں۔

این بی سی کے مطابق یہ رپورٹ امریکی حکام، کانگریس کے ذرائع اور خفیہ بریفنگز سے واقف افراد سے حاصل کی گئی ہیں تاہم اگر اس کی باضابطہ تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی فضائیہ کو تباہ کرنے کے دعوؤں کی نفی اور امریکا کے مضبوط ترین دفاعی نظام میں غیر معمولی شگاف تصور ہوگا۔

عسکری ماہرین کے مطابق پیٹریاٹ سسٹم بنیادی طور پر میزائلوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور کسی طیارے کا نچلی پرواز کے ذریعے اسے عبور کر لینا ریڈار کے ’بلائنڈ اسپاٹس‘ اور دفاعی تہہ بندی کی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس واقعے کی اہمیت صرف نقصان تک محدود نہیں بلکہ یہ دفاعی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھاتا ہے، کیوں کہ جدید دفاعی نظام کم بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف یا بیک وقت متعدد حملوں کے سامنے کمزور پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کویت سمیت مختلف خلیجی ممالک میں جن امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، ان میں گودام، طیارہ ہینگرز، کمانڈ سینٹرز، ریڈار سسٹمز، رن ویز اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن مراکز شامل ہیں۔

اگرچہ پینٹاگون کی جانب سے مکمل نقصان کا باضابطہ تخمینہ جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی سیٹلائٹ تصاویر کی جامع تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں، تاہم مختلف میڈیا رپورٹس میں خلیج میں امریکی تنصیبات، طیاروں اور آپریشنل ڈھانچے کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ اربوں ڈالر تک لگایا گیا ہے۔

جس میں کویت میں واقع کیمپ بیوہرنگ اور کیمپ عریفجان خاص طور پر شامل ہیں، جو خطے میں امریکی فوجی لاجسٹکس اور آپریشنز کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر حملوں کے اثرات صرف مقامی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اس سے فوجی نقل و حرکت، رسد کی ترسیل اور آپریشنل رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطبق یکم مارچ کو کویت کی شیبہ بندرگاہ کے قریب ہونے والا ڈرون حملہ اس تنازعے کے دوران امریکی افواج کو پہنچنے والا سب سے بڑا جانی نقصان ہے، جس میں امریکی فوج کے چھ اہلکار ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق، امریکا کے فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی، تباہ شدہ طیاروں اور ریڈار سسٹم کی تبدیلی پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ 2 سے 5 ارب ڈالر کے درمیان لگایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تنازع نے امریکی عسکری منصوبہ سازوں کے ان طویل مدتی مفروضوں کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ جدید جنگوں میں صرف جدید فضائی دفاعی نظام ہی اہم تنصیبات اور فوجی اڈوں کو مکمل تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔

’نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے‘: حزب اللہ نے اسرائیل سے براہ راست مذاکرات مسترد کردیے

حزب اللہ لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے اپنی مزاحمت جاری رکھے گی اور کسی دباؤ میں نہیں آئے گی: نعیم قاسم
اپ ڈیٹ 27 اپريل 2026 05:59pm

لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے ایک بار پھر اسرائیل ساتھ براہِ راست مذاکرات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کسی بھی صورت میں ہتھیار نہیں ڈالے گی، دشمن کی دھمکیوں کے باوجود نہ وہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے اور نہ ہی شکست تسلیم کریں گے۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق پیر کو حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کو گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان کوغیرمستحکم کردے گی لہٰذا اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔

نعیم قاسم نے کہا کہ براہِ راست مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور لبنان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا راستہ ترک کرکے بالواسطہ مذاکرات کی پالیسی اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جلد بازی میں غیر ضروری رعایت دی ہے جسے حزب اللہ مسترد کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی مزاحمتی قوت نہ صرف برقرار ہے بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے حزب اللہ کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں ناکام رہے ہیں۔

سربراہ حزب اللہ نے براہِ راست مذاکرات کے لیے پانچ اہم نکات بھی پیش کیے، جن میں اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ، مقبوضہ علاقوں سے انخلا، قیدیوں کی رہائی، بے گھر افراد کی واپسی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ لبنانی حکومت کو داخلی سطح پر مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ قومی مفاد کو مقدم رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے اپنی مزاحمت جاری رکھے گی اور کسی دباؤ میں نہیں آئے گی۔

نعیم قاسم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہم اپنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھیں گے، چاہے دشمن کتنی ہی دھمکیاں دے، ہم نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے اور نہ ہی شکست تسلیم کریں گے اور یہ کہ اسرائیل لبنان میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔

لبنانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں 2 ہزار 500 سے زائد افراد ہلاک اور 16 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب 17 اپریل کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کی متعدد خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ واشنگٹن میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات کے بعد جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ادھر حزب اللہ کی جانب سے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

لبنان سے حملوں کا خوف: نیتن یاہو نے اہم ترین مذہبی اجتماع منسوخ کر دیا

لَگ باؤمر نامی مذہبی تقریب شمالی اسرائیل میں واقع کوہِ میرون پر ہر سال جوش و خروش سے منائی جاتی ہے۔
اپ ڈیٹ 27 اپريل 2026 03:55pm

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے لبنان سے حملوں کے خوف سے اس سال ’لَگ باؤمر‘ نامی مرکزی مذہبی تقریب کو منسوخ کرتے ہوئے اسے محدود اور علامتی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ یہودیوں کا ایک مذہبی اور خوشی کا تہوار ہے جو شمالی اسرائیل میں واقع کوہِ میرون پر ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہدایت کی ہے کہ اس سال ’لَگ باؤمر‘ کے موقع پر منعقد ہونے والی مرکزی تقریب کو عوامی اجتماع کے بجائے محدود اور علامتی انداز میں منعقد کیا جائے گا۔

یہ تقریب دراصل دوسری صدی کے معروف یہودی ربی ’شمعون بار یوخائی‘ کی برسی کے سلسلے میں منعقد ہوتی ہے۔

شمعون یوخائی کو یہودی تصوف کی مشہور کتاب ’زوہر‘ کا مصنف مانا جاتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہوں نے اپنی وفات کے دن کو ماتم کے بجائے خوشی کے طور پر منانے کی وصیت کی تھی۔

شمالی اسرائیل میں واقع پہاڑی ’کوہِ میرون‘ پر یہ تقریب 4 مئی کی شام اور 5 مئی کو منائی جاتی ہے۔ اس تقریب میں ہر سال ہزاروں الٹرا آرتھوڈوکس شریک ہوتے تھے، یہاں روایتی الاؤ جلا کر اجتماعی عبادات کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

اس سال اسرائیلی حکومت کے فیصلے کو ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 4 اور 5 مئی کو اب مرکزی اجتماع کے بجائے ایک محدود سی تقریب منعقد ہوگی جس میں مخصوص افراد ہی شریک ہوسکیں گے۔

حکومتی بیان کے مطابق یہ فیصلہ لبنان کے ساتھ نازک جنگ بندی، ماؤنٹ میرون کی سرحد کے قریب موجودگی اور حملوں کی صورت میں بڑی تعداد میں افراد کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں درپیش مشکلات کے باعث کیا گیا۔

نیتن یاہو حکومت کی جانب سے اسرائیلی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس موقع پر سڑکوں کو بند کرکے اور زائرین کو ازخود اس مقام تک پہنچنے سے روکیں۔

اس کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کو بھی تقریب کے انتظامات، تعمیراتی کام اور دیگر لاجسٹکس تیاریاں فوری طور پر روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کی امریکا کو نئی پیشکش

صدر ٹرمپ آج اپنے اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ ایران کی اس نئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔
شائع 27 اپريل 2026 08:26am

ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے، تاہم اس فارمولے کے تحت جوہری مذاکرات کو فی الحال مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس تجویز کا مقصد سفارتی تعطل کو ختم کرنا ہے کیونکہ ایرانی قیادت اس وقت اس حوالے سے منقسم ہے کہ جوہری پروگرام پر امریکا کو کیا رعایتیں دی جائیں۔

ایرانی تجویز کے مطابق اگر اس وقت جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو ایک تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، لیکن دوسری جانب مبصرین کا خیال ہے کہ ناکہ بندی ختم کرنے سے صدر ٹرمپ کا وہ دباؤ کم ہو جائے گا جو وہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کروانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ صدر ٹرمپ پیر کے روز اپنے اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ ایران کی اس نئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔

امریکی حکام کے مطابق اس میٹنگ میں مذاکرات میں جاری جمود اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر بات ہوگی۔

اتوار کے روز ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اس بحری ناکہ بندی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس نے ایران کی تیل کی برآمدات کو روک رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ کے پاس تیل کی بھاری مقدار سسٹم میں موجود ہو اور اسے جہازوں میں نہ ڈالا جا سکے تو وہ لائن اندر سے پھٹ سکتی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ایسا ہونے سے پہلے صرف تین دن کا وقت ہوتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا بحران اس وقت مزید گہرا ہوا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آئی۔

وائٹ ہاؤس نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد میں عراقچی سے ملیں گے، لیکن ایران کی جانب سے کوئی واضح جواب نہ ملنے پر صدر ٹرمپ نے یہ دورہ منسوخ کر دیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں انہیں 18 گھنٹے طویل فلائٹ پر بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہم فون پر بھی بات کر سکتے ہیں اور ایرانی اگر چاہیں تو ہمیں کال کر سکتے ہیں، ہم صرف وہاں بیٹھنے کے لیے سفر نہیں کریں گے۔

پردے کے پیچھے ہونے والی پیش رفت کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان، مصر، ترکی اور قطر کے ثالثوں کو واضح کیا ہے کہ ایرانی قیادت میں امریکی مطالبات پر اتفاقِ رائے نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکا کو دی گئی نئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی ناکہ بندی کو حل کیا جائے اور جنگ بندی میں طویل المدتی توسیع یا جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا جائے۔ جوہری مذاکرات اس کے بعد شروع ہوں گے جب ناکہ بندی ختم ہو جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکا پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا، صدر واضح کر چکے ہیں کہ تمام پتے امریکا کے ہاتھ میں ہیں اور وہ صرف وہی معاہدہ کریں گے جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار نہ بنانے دے۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر پاکستانی حکام نے فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا: ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورت حال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی: امریکی صدر کا فاکس نیوز کو انٹرویو
شائع 26 اپريل 2026 11:40pm

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا۔

اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹر ویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وفد کو اس لیے نہیں بھیجا کہ 18 گھنٹے کی فلائٹ ہے، ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورت حال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی، اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے کیوں کہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جن فریقین سے امریکا کا سامنا ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جب کہ کچھ نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔ چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں ہیں لیکن بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے۔

نیٹو کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق صورت حال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا اور جب جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تو یہ ایک غیر مناسب اقدام تھا۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کا ذکر چھیڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے 8 مختلف جنگی تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ صورتحال جوہری تصادم کی طرف جا سکتی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران 11 جہاز تباہ ہوئے، وزیراعظم پاکستان نے میرے حوالے سے کہا کہ میں نے کردار ادا کرکے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور ان کے لیے قابل احترام ہیں۔

عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد جوہری مذاکرات سے متعلق نہیں: ایرانی میڈیا

ایران نے امریکا کو جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز پر اپنی ریڈ لائنز واضح کر دیں
شائع 26 اپريل 2026 10:30pm

ایرانی میڈیا نے واضح کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد جوہری مذاکرات سے متعلق نہیں بلکہ اس کا مقصد خطے کی صورت حال اور سفارتی مشاورت ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کو جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز پر اپنی ریڈ لائنز واضح کر دیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دوبارہ دورہ پاکستان کا ایران کے ایٹمی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان، عمان اور روس کے اپنے جاری علاقائی دورے کے دوران وہ اسلام آباد کے پہلے دورے کے محض ایک دن بعد دوبارہ مختصر دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی کی پاکستان آمد کا مقصد ہمسایہ ملک کے ساتھ مشاورت جاری رکھنا ہے جب کہ وہ پاکستانی حکام کو خطے کی صورت حال اور ایران کے مؤقف سے آگاہ کر رہے ہیں۔

دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ کے ایجنڈے کا اہم نکتہ پاکستانی فریق کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عباس عراقچی کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل میں آبنائے ہرمز پر نئے قانونی نظام کا نفاذ،جنگ کے دوران نقصانات کا معاوضہ وصول کرنا، اس بات کو یقینی بنانا کہ جنگ بھڑکانے والے عناصر ایران کے خلاف مزید فوجی جارحیت نہیں کریں گے اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ پہلے ہی 25 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کر چکے ہیں جب کہ اس کے بعد وہ عمان کے دارالحکومت مسقط گئے جہاں انہوں نے عمان کے سلطان سے ملاقات کی۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا کہ عباس عراقچی دوبارہ اسلام آباد واپس آئے ہیں جہاں وہ مختصر قیام کے بعد روس کے دارالحکومت ماسکو روانہ ہوں گے۔

یاد رہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد ایران اور دیگر فریقین کے درمیان مختلف سفارتی رابطے جاری ہیں، جن میں پاکستان کو ثالثی کا کردار بھی حاصل ہے۔

ایران نے امریکا پر اپنی ریڈلائنز واضح کر دیں

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کو جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز پر اپنی ریڈ لائنز واضح کردی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورے میں ثالث پاکستان کے ذریعے امریکا کو تحریری پیغامات پہنچائے گئے ہیں، جن میں تہران کی ’ریڈ لائنز‘ کو واضح کیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ پیغامات ایران کے جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز سے متعلق پالیسی سمیت اہم نکات پر مشتمل ہیں، جنہیں ایران اپنی بنیادی پوزیشن قرار دیتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھیجے گئے پیغامات میں ایران کی ان حدود و قیود کو واضح کیا گیا ہے جن پر وہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ باخبر ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اپنی سفارتی ذمہ داریوں اور وزارت خارجہ کے طے کردہ دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے یہ پیغام رسانی کر رہے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ پیغامات براہ راست مذاکرات کا حصہ نہیں بلکہ خطے کی صورتحال کو واضح کرنے کے لیے ایران کی جانب سے ایک اقدام قرار دیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران نے ان پیغامات کے ذریعے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے امریکا کو اپنی شرائط سے آگاہ کیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد سے مسقط روانہ ہوگئے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مسقط سے ماسکو روانہ ہونا تھا تاہم عباس عراقچی اب دوبارہ اسلام آباد آئے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، سیکیورٹی صورت حال پر گفتگو

عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
اپ ڈیٹ 26 اپريل 2026 11:00pm

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی فیلڈ نے آج اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات کی ہے، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورت حال پر گفتگو کی گئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دارالحکومت مسقط سے دوبارہ پاکستان پہنچے، جہاں انہوں نے ایک بار پھر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال، ایران امریکا کشیدگی اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، دفاعی تعاون اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔

ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ناگزیر ہیں۔ پاکستانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورے اور پاکستان کی متحرک سفارتکاری کو عالمی سطح پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جب کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد سے روانہ

اس سے قبل امریکا سے مذاکرات کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ایک بار پھر اسلام آباد ہوئی اور وہ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرکے واپس روانہ ہوگئے۔

ایرانی وزیر خارجہ مسقط سے اسلام آباد پہنچے جب کہ مذاکرات کے لیے تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچا۔ اس موقع پر عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران بھی جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر کاوشیں کررہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات ہوئی جس میں مذاکرات اور امریکی موقف پر بات چیت ہوئی۔ عباس عراقچی مسقط سے روس جانے کے بجائے واپس اسلام آباد آئے اور اب واپس روانہ ہوگئے۔

پاکستان کے دورے کے بعد عباس عراقچی روس کے دارالحکومت ماسکو کے لیے روانہ ہوئے ہیں تاہم ماسکو کے دورے پر وہ صدر پیوٹن سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ

علاوہ ازیں قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پاکستان آنے سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزاد فیصل بن فرحان السعود کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

گفتگو کے دوران عباس عراقچی نے خطے کی موجودہ صورت حال کے مختلف پہلوؤں سے اپنے سعودی ہم منصب کو آگاہ کیا جب کہ خاص طور پر جنگ بندی سے متعلق پیش رفت پر روشنی ڈالی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب کو ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری صورت حال اور سفارتی روابط کو جاری رکھنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا، تاہم گفتگو کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

قبل ازیں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مسقط میں سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورت حال اور باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس دورے سے قبل ایرانی وزیرخارجہ جمعے کی رات اسلام آباد پہنچے تھے، ایرانی وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کی تھیں، جن میں خطے کی سیکیورٹی اور بدلتی ہوئی صورت حال پر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا، جس میں تقریباً پچاس منٹ تک دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔