Live
Iran Israel War

اسرائیلی وزرا کا نیتن یاہو سے امریکی طیارے ہٹانے کا مطالبہ

24 لاکھ تک فضائی ٹکٹ متاثر ہونے کا خدشہ، مذہبی مسافروں کی سفری منصوبہ بندی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے
اپ ڈیٹ 15 جون 2026 11:21am

اسرائیل کی وزیرِ ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ بین گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے ری فیولنگ طیاروں کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ اگر بین گوریون ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے ری فیولنگ طیارے آئندہ دو روز میں منتقل نہ کیے گئے تو بڑی تعداد میں فضائی پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد مسافروں کے فضائی ٹکٹ منسوخ ہونے کا خدشہ موجود ہے، جن میں آنے والے مہینوں میں سفر کرنے والے ہزاروں مذہبی زائرین بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حریدی مذہبی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر براتسلاو حسیدیم برادری کے افراد اپنے مذہبی تہوار روش ہاشاناہ کے موقع پر یوکرین کے شہر اومان جانے کی تیاری کر رہے ہیں، اور ممکنہ سفری رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی نے گزشتہ ماہ حکومت کو ایک انتباہی رپورٹ بھی ارسال کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی فوجی طیاروں کی موجودگی برقرار رہی تو 24 لاکھ سے زائد فضائی ٹکٹ متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس کے باوجود وزیرِ ٹرانسپورٹ نے اتوار کے روز وزیرِاعظم سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا کہ امریکی طیاروں کو ایئرپورٹ سے منتقل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری رہ سکیں۔

دفاعی اور سیاسی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی حکومت کے لیے انتظامی اور سیاسی چیلنج کی صورت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ ایک جانب امریکا کے ساتھ سکیورٹی تعاون برقرار رکھنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب اندرونِ ملک سفری اور مذہبی حلقوں کے تحفظات بھی بڑھ رہے ہیں۔

تاحال اسرائیلی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایران امریکا معاہدہ: تہران کو اربوں ڈالرز کے منجمد فنڈز واپس ملیں گے یا نہیں؟

امن معاہدے کی شرائط پر دونوں ممالک کے بیانات میں بڑا فرق
شائع 15 جون 2026 09:32am

پیر کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو لے کر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی طرف سے متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں، جس کی وجہ سے اس معاہدے کی اصل حقیقت الجھ گئی ہے۔ سب سے بڑا جھگڑا ایران کے اُن اربوں ڈالر پر ہو رہا ہے جو امریکا نے منجمد کر رکھے ہیں۔

یہ تضاد اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فخر سے یہ اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس کے فوراً بعد ہی دونوں ملکوں کے حکام نے اس معاہدے کے کاغذات میں لکھی ہوئی باتوں کی الگ الگ تشریح کرنا شروع کر دی۔

ایران کا کہنا ہے کہ اسے منجمد فنڈز قسطوں میں ملیں گے جبکہ امریکی حکام اس بات کو بالکل جھوٹ قرار دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ معاہدے کی دستاویز میں ایران کے جوہری پروگرام، سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے تیل پر لگی امریکی پابندیوں کو ہٹانے جیسے تمام اہم معاملات شامل کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی طرف سے اس یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد اگلے ساٹھ دنوں میں اصل اور حتمی معاہدے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

رائٹرز کے مطابق مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ معاہدے کے مطابق امریکا ایران کے روکے ہوئے 25 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرے گا، اور ان پیسوں میں نقد رقم کی منتقلی، علاقائی ممالک کا آپسی تعاون اور بینکوں کے ذریعے قرضے کی سہولیات شامل ہوں گی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ نے بھی اس معاملے پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جیسے ہی 14 نکات پر مشتمل اس یادداشتی خط پر دستخط ہوں گے، ایران کے روکے ہوئے تمام اثاثے اور فنڈز بحال کر دیے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس دستاویز میں سب سے پہلی بات امریکا کی طرف سے سمندری ناکہ بندی کو ختم کرنا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو بات چیت کے دوسرے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔

مہر نیوز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حتمی مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی امریکا ایران کو 12 ارب ڈالر کی رقم جاری کر دے گا اور امریکا اور اس کے ساتھی ممالک کو ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا منصوبہ بھی دینا ہوگا۔

دوسری طرف امریکا کی جانب سے ان تمام ایرانی دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے نے وائٹ ہاؤس اور امریکی حکام کے حوالے سے ایرانی میڈیا کی اِن خبروں کو بالکل غلط قرار دیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے روکے ہوئے پیسے جاری کر رہا ہے۔

رپورٹ میں وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے لکھا گیا کہ ایران کے فنڈز جاری کرنے کے حوالے سے خبریں بالکل درست نہیں ہیں، یہ معاہدہ اصل میں ’کام کرو اور فائدہ پاؤ‘ کی بنیاد پر طے ہوا ہے اور جب تک ایرانی حکومت اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کرتی، تب تک ان کا ایک روپیہ بھی بحال نہیں کیا جائے گا۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ساٹھ دنوں کی بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایران کسی بھی صورت ان روکے ہوئے پیسوں کو بغیر کسی شرط کے ہاتھ نہیں لگا سکتا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور دونوں ممالک ان اختلافات کو کیسے حل کرتے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، فریقین کا تمام محاذوں پر حملوں کے خاتمے کا اعلان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے پر اتفاق، پاکستان اور قطر کی کوششیں رنگ لے آئیں
اپ ڈیٹ 15 جون 2026 01:30pm

امریکا اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں نے لبنان سمیت ہر جگہ پر جاری لڑائی اور فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس بڑی کامیابی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

وزیراعظم نے اس امن عمل میں مدد کرنے پر سعودی عرب، ترکیہ اور خاص طور پر قطر کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم برادر ملک قطر کی عظیم قیادت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جن کی حمایت نے اس معاہدے تک پہنچنے میں بےحد اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس ہفتے ثالثی کرنے والے ملک مزید ملاقاتیں کروائیں گے تاکہ آگے کے تکنیکی مذاکرات اور دستخط کی تقریب کو اچھے طریقے سے پورا کیا جا سکے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سب کو مبارکباد دی اور اپنے سوشل میڈیا پر سب کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور جمعہ کو اس عظیم ڈیل پر دستخط کے بعد سمندر کا اہم راستہ یعنی آبنائے ہرمز کھول دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس عظیم ڈیل سے پورے خطے میں امن ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے پہلے کے تمام امریکی صدور ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو گئے تھے، لیکن خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار کوئی ایسا صدر ملا ہے جس نے ان کی اصل امن کے حصول میں سچی مدد کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جمعہ کو سمندر سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے ڈیل پر دستخط ہوں گے جس کے بعد تیل لانے اور لے جانے والے جہاز دونوں طرف سے آسانی سے گزر سکیں گے۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس معاہدے میں یہ خاص شرط شامل ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور آبنائے ہرمز کو فوراً کھولا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہمیں ایران سے ایٹمی مواد نکالنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، یہ کام بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے اور اس معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی نقد رقم یا پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

ادھر ایران نے بھی اس امن معاہدے کے طے پانے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد، ایران کی جانب سے معاہدے کے کاغذات میں تجویز کی گئی کچھ تبدیلیاں قبول کر لی گئی ہیں، جس کے بعد امریکا کے ساتھ مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور عسکری کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے کا عمل آج سے ہی شروع کر دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی اور اس کے بعد ہی اس کا متن عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ امریکا اپنے وعدوں کی کتنی پاسداری کرتا ہے اور جب ہمیں اس بات کا پورا یقین ہو جائے گا تو پھر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا مذاکراتی عمل شروع ہوگا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان 60 دنوں کے مذاکرات میں جوہری معاملات، ایران کے روکے گئے پیسوں کی بحالی، ناکہ بندی کے خاتمے، جنگ کی مکمل بندش، ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر امریکا نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ایران اس کا سخت ردِعمل دے گا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے امریکا کو اس معاہدے پر مجبور کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی اپیل پر اسرائیل پر ہونے والا ممکنہ جوابی حملہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے اپنی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے حکم سے امریکا اور اسرائیل کو شکستِ فاش ہوئی ہے اور ایرانی قوم کی مرضی دشمن پر مسلط کر دی گئی ہے، ہم اپنی مسلح افواج اور مزاحمت کاروں کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

اس تاریخی امن معاہدے کا دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کا، نیز ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور ہمیں امید ہے کہ تمام فریق آئندہ کے مذاکرات میں بھی مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قطر ہمیشہ امن کی کوششوں اور دنیا میں سلامتی کو فروغ دینے والے اقدامات کا حامی رہے گا۔

قطر کے ساتھ ساتھ دنیا کے بڑے ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی اس معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں امن معاہدے پر امریکا، پاکستان، قطر اور دیگر فریقین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اب آبنائے ہرمز میں بغیر کسی رکاوٹ کے کشتیوں اور جہازوں کی آمدورفت بحال ہونی چاہیے۔

پاکستان میں بھی اس کامیابی پر بہت خوشی منائی جا رہی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس ڈیل پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ فیلڈ مارشل نے ایک بار پھر کر دکھایا ہے، اور انہوں نے یہ کام نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ اس بار پوری دنیا کے امن کے لیے کر کے دکھایا ہے۔

'لبنان پر اسرائیلی حملے سے معاہدے میں تاخیر ہوئی': ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم

امریکا ایک ناجائز ملک کو لگام ڈالنے میں ناکام ہے، ایرانی رہنما ابراہیم عزیزی
اپ ڈیٹ 15 جون 2026 08:33am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ اتوار (آج) کو ہی طے پانے کی امید ہے۔ ٹرمپ نے بیروت حملے پر صیہونی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران نے بیروت حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی حملے کی وجہ سے امن معاہدے پر دستخط کے عمل میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہوئی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ معاہدہ ابھی ہونا تھا لیکن اب یہ کچھ گھنٹوں بعد ہوگا‘۔ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ اس معاہدے کو بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں جو بیروت حملے کے بعد لگ بھگ ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔

امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ جب ان کے مشیروں نے انہیں بیروت میں اسرائیلی کارروائی کی اطلاع دی تو وہ شدید حیران ہوئے اور نیتن یاہو پر شدید برہم ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کے لیے انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس جاہل میں فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز معاہدہ ہونے کا یہ دعویٰ امریکی صدر کی جانب سے ضرور سامنے آیا ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیروت حملے کا جواب دینے کا اعلان اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سخت جواب آ رہا ہے‘۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو یہ حملہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے اسرائیل اور حزب اللہ، دونوں سے ایک دوسرے پر حملے فوری طور پر روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔

صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا کہ ہم مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص لبنان میں قیامِ امن کے لیے اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جسے اس وقت متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ اگرچہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن اس نے جس حملے کے ردعمل میں کارروائی کی وہ انتہائی معمولی اور بے معنی تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں چوں کہ کوئی زخمی یا ہلاکت نہیں ہوئی، لہٰذا اس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔

دوسری جانب قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ بیروت کے علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں حزب اللہ کے رہنما علی الحج بھی شامل ہیں جب کہ 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پانے کے قریب ہے جو لبنان سمیت پورے خطے میں امن لائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام فریقین کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ان تازہ اسرائیلی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

باقر قالیباف نے کہا کہ بیروت پر صیہونیوں کی دراندازی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکا یا تو اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں یا پھر ان پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ پارسائی کے لبادے میں منافقت کے حوالے سے مشہور انگریزی اصطلاح ’گُڈ کوپ بیڈ کوپ‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تماشہ اب پرانا ہو چکا ہے۔

باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران اگر کوئی فریق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی نہ صلاحیت رکھتا ہو اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو پھر اس راستے پر آگے بڑھنے یا بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ اور سپریم لیڈر کے فوجی مشیر ابراہیم رضاعی نے بھی اسرائیلی حملے ر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے اسرائیل کو لگام ڈالنا ضروری ہے۔ اگر اسے قابو نہ کیا گیا تو معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا تھا امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کو دستخط متوقع ہیں اور معاہدے کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھول دی جائے گی۔ تمام اس حوالے سے پسِ پردہ کوئی پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں اس حوالے سے دونوں جانب سے تاحال کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آسکا ہے۔

امریکا-ایران امن معاہدے پر صورت حال واضح نہ ہوسکی، قطری وفد تہران میں موجود

صدر ٹرمپ نے اتوار کو امن معاہدے پر دستخط اور آبنائے ہرمز کھلنے کا اعلان کیا تھا
شائع 14 جون 2026 09:23pm

امریکا اور ایران کے درمیان اتوار کے روز یعنی آج معاہدہ ہوگیا یا نہیں، اس حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اتوار کو معاہدہ ہوجائے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے بھی معاہدے پر اتوار کو الیکٹرانک دستخط ہونے کی نوید سنائی تھی، قطری وفد کی تہران پہنچنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں تاہم پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ابھی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

آج نیوز کے سینئر اینکرپرسن شوکت پراچہ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔

شوکت پراچہ کے مطابق ذرائع نے معاہدے کے طے پانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی ٹائم فریم دینے سے بھی گریز کیا۔

اسحاق ڈار کی دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے پر کوئی پیش رفت ضرور ہوئی ہے تاہم آج ہی اس مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہوں گے، اس بات کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ اتوار کو معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مناسب وقت پر ہم خود جا کر ایران سے وہ تمام جوہری مواد لے آئیں گے جو اس وقت گرینائٹ کے پہاڑوں کے نیچے دفن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے اچھے مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ کام جلد اور آسانی سے پورا ہو جائے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے پاس اس کا متبادل راستہ بھی موجود ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ سابق صدر اوباما کے دور میں ہونے والے معاہدے سے بالکل مختلف ہوگا اور نیوکلیر ہتھیاروں کے خلاف ایک پکی دیوار ثابت ہوگا کیونکہ اوباما کے معاہدے کے برعکس اس بار کسی بھی قسم کی رقم یا پیسے کا لین دین نہیں ہوگا۔

دوسری طرف ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو رد کر دیا ہے اور ایرانی فورس پاسدارانِ انقلاب نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ان کا غیر معمولی اصرار قرار دیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹیلی گرام‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ چونکہ چودہ جون کو صدر ٹرمپ کی سالگرہ ہے، اس لیے وہ اس تاریخ پر معاہدے کا شور مچا کر اپنی ذاتی تشہیر کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو معاہدے پر کوئی دستخط نہیں ہو رہے ہیں اور دستخط کرنے کی یہ جو تاریخیں دی جا رہی ہیں، یہ ہماری مذاکراتی ٹیم کے لیے ایک امتحان یا آزمائش کی طرح ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ایران پہلے ہی یہ بتا چکا ہے کہ ابھی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

تاہم، ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یہ امید بھی دلائی کہ دونوں فریقین اس وقت معاہدے کے بہت زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن دستخط کرنے کے لیے فی الحال ہمارا کہیں جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جنیوا یا کسی اور ملک کے سفر کا کوئی پروگرام طے نہیں ہوا ہے، اس لیے اسلام آباد میمورنڈم پر دستخط کے لیے ابھی سب کو انتظار کرنا ہوگا۔

دوسری جانب اتوار کے روز کے لیے امریکی صدر کا جو سرکاری شیڈول یا دفتری مصروفیات کی لسٹ جاری کی گئی ہے، اس میں ایسی کسی بھی الیکٹرانک دستخط کی تقریب کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شیڈول میں آخری وقت پر بھی تقریب کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

اس دوران پاکستان کی طرف سے بھی اس معاہدے کے حوالے سے بڑی کوششیں دیکھنے میں آئی ہیں اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ بالکل تیار ہے۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے فون پر تفصیلی بات چیت کی ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے یعنی الیکٹرانک دستخط ہونے جا رہے ہیں۔

اس گفتگو میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں ہمیشہ کے لیے امن قائم ہو جائے گا، اور ساتھ ہی انہوں نے اس امن کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان کی دن رات کی محنت اور کوششوں کی دل کھول کر تعریف بھی کی۔

اس کے علاوہ یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ اس معاہدے کے سلسلے میں پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان کوششوں کی تصدیق کی ہے اور سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر اس امن معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کا پورا امکان ہے اور پاکستان اس امن معاہدے کو پورا کرانے کے لیے بہت سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ الیکٹرانک دستخط کی تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں اور جیسے ہی حتمی منظوری ملے گی، فوراً ہی امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے جس کے بعد اگلے ہفتے دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی سطح کے معاملات پر بات چیت ہوگی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کی اس مثبت سفارتی کوشش کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس پورے امن عمل میں علاقے کے دیگر ممالک کی حمایت بہت اہم ثابت ہوئی ہے کیونکہ یہ مجوزہ معاہدہ خطے میں امن، خوشحالی اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا اور مستقبل میں پائیدار امن کی ایک مضبوط بنیاد بنے گا۔

امریکا ایران امن معاہدے سے قبل اسرائیل کے لبنان پر حملے

بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔
اپ ڈیٹ 15 جون 2026 08:34am

اسرائیلی فوج کے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں فضائی حملے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 15 ہوگئے ہیں، جس پر ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا یا تو وعدہ نبھانے میں پختہ نہیں یا پھر اس کی اہلیت ہی نہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر دستخط متوقع ہیں جب کہ خطے میں سیکیورٹی صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اتوار کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔

لبنانی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق بیروت کے جنوبی مضافات کے علاقے غبیری میں اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 3 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے جب کہ ملبہ ہٹانے کا کام بھی مسلسل کیا جا رہا ہے تاکہ دیگر ممکنہ متاثرہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں 15 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں، دکانوں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے باعث علاقے میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد عمارتوں کے اگلے حصے متاثر ہوئے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی حصے پر 4 گائیڈڈ میزائل داغے۔ حملے کے ممکنہ اہداف کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

بیروت پر بمباری: اسرائیل کو ایران کے جوابی حملے کا خطرہ

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کو لبنان کے دارالحکومت بیروت پر فضائی بمباری کے بعد ایران کے ممکنہ جوابی حملے کا خطرہ ہے، جس کے پیش نظر اسرائیلی علاقوں میں خطرے کا الرٹ بڑھا دیا گیا ہے اور سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق آئی ڈی ایف نے جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ بیروت میں حزب اللہ پر کیے گئے حالیہ فضائی حملے کے بعد آنے والے گھنٹوں میں اسرائیل پر ایران کی جانب سے جوابی میزائل حملے ہو سکتے ہیں جس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اسرائیل کے بیروت پر حملے کے بعد چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر تمام متعلقہ کمانڈرز کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور موجودہ اندازوں کے مطابق ایران اسرائیل پر میزائل داغے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی افواج مختلف دفاعی اور جارحانہ منظرناموں کے لیے اپنی تیاری اور چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں، اسرائیل کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی گولہ باری یا حملے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اسرائیل کا حزب اللہ کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اس سے قبل اسرائیلی خبر رساں ادارے یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے اہداف پر حملے کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اسرائیلی علاقے کی جانب حزب اللہ کی فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ”اسرائیل اپنی سرزمین پر کی جانے والی فائرنگ برداشت نہیں کرے گا۔“

اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں ضاحیہ میں واقع حزب اللہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جسے تنظیم کی جانب سے اسرائیلی شہریوں اور جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایرانی رہنماؤں کا بیروت میں اسرائیلی حملوں پر رد عمل

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی حملے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں باقر قالیباف نے لکھا کہ صیہونیوں کی ضاحیہ میں دراندازی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکا یا تو اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں یا پھر ان پر عملدرآمد کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو گرین سگنل دے کر کسی قسم کی رعایت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول خطے کی صورت حال نے واضح کر دیا ہے کہ ”اچھے اور برے سپاہی“ کا روایتی کھیل اب پرانا ہو چکا ہے۔

ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ اگر کوئی فریق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی نہ صلاحیت رکھتا ہو اور نہ ہی اس کا ارادہ ہو تو پھر اس راستے پر آگے بڑھنے یا بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم ایرانی اسپیکر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ موجودہ صورت حال میں اعتماد سازی اور مذاکرات کے عمل کے لیے عملی اقدامات اور وعدوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کا راستہ ”صہیونی حکومت کو قابو میں لانے“ سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ اگر ”اس پاگل کتے“ کو قابو میں نہ لایا گیا تو معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی یہ دوبارہ حملہ آور ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اتوار کی صبح حزب اللہ کی جانب سے کئی ڈرون اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جس کے بعد شمالی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔

اس پیش رفت کے بعد اسرائیلی حکومت کے متعدد وزرا نے حزب اللہ اور ضاحیہ کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔ وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹرچ نے حکومت پر زور دیا کہ ضاحیہ پالیسی پر ”مضبوطی اور فیصلہ کن انداز“ میں عمل کیا جائے۔

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں حزب اللہ کے خلاف مزید سخت ردعمل کی حمایت کی۔

دوسری جانب گزشتہ ہفتے ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کی کارروائیاں لبنان میں اسرائیلی اقدامات کے جواب میں کی گئی تھیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حملے جاری رکھے تو اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کو دستخط متوقع ہیں اور معاہدے کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھول دی جائے گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ہفتے کے روز کہا تھا کہ امریکا اور ایران ایک امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں اور معاہدے کا حتمی متن تیار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں الیکٹرانک دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔

ایران کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں کوئی سیکیورٹی اتحاد کامیاب نہیں ہوسکتا: عباس عراقچی

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے نئے سیکیورٹی ڈھانچے میں تمام ممالک کی شرکت ضروری ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
شائع 14 جون 2026 06:41pm

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کو نظر انداز کر کے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے کوئی بھی نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پائیدار امن، علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے خطے کے تمام ممالک کا باہمی تعاون انتہائی ضروری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز تہران میں مقامی عہدیداروں اور سماجی کارکنوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تمام علاقائی ممالک کی شرکت کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کو خارج کر کے یا اسے تنہا کر کے علاقائی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایرانی عوام نے سخت دباؤ اور خطرات کے باوجود مزاحمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مخالفین کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کی یہ مزاحمت خطے اور عالمی سطح پر اہم اثرات مرتب کر رہی ہے، مخالف بیانیوں کو کمزور کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ حالیہ تنازع کے بعد ایران مزید مضبوط اور متحد ہو کر ابھرا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 28 فروری سے کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے گئے تو ایرانی اعلیٰ حکام اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے روزانہ کی بنیاد پر میزائل اور ڈرون کارروائیاں شروع کیں اور اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنا لیا۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اس جنگ نے مخالفین کے اس بیانیے کو بھی چیلنج کیا جس میں ایران کو کمزور، تنہا اور پابندیوں کے دباؤ کے سامنے غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا رہا تھا۔ ان کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے اور ایران جنگ کے بعد زیادہ مضبوط اور زیادہ مربوط ہو کر ابھرا ہے۔

اتوار کو ایران کے ساتھ معاہدہ، آبنائے ہرمز کھل جائے گی: صدر ٹرمپ کا اعلان

معاہدے کے تحت ایران کو کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی:امریکی صدر
اپ ڈیٹ 13 جون 2026 10:53pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہونے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاہدے کے طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہوں گے۔

انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار تک پہنچنے کا ایک آسان راستہ تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہمارا ایران کے ساتھ معاہدہ اس کے برعکس ہے اور یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک دیوار کی حیثیت رکھتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں ہے اور وہ اب ان ہتھیاروں کی خریداری، تیاری یا کسی اور ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کر سکے گا۔

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ کے ماضی کی امریکی حکومتوں کے مقابلے میں ایران کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بیان میں اوباما انتظامیہ کے اُس فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی جس کے تحت معاہدے کے وقت ایران کو اربوں ڈالر کے فنڈز واپس کیے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے امریکی اور یورپی بینکوں میں منجمد ہیں۔ امریکا اس سے قبل واضح کرچکا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے، جوہری مواد کو ضائع کرنے سمیت دیگر معاملات میں سنجیدگی دکھانے کی شرط پر ہی ایران کے مطالبات مانے جاسکتے ہیں ۔

امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت آنے پر اسے محفوظ طریقے سے تلف کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حالات معمول پر آنے کے بعد امریکا ایران کے پہاڑوں میں دفن جوہری مواد تک رسائی حاصل کرے گا اور اسے بی ٹو بمبار طیاروں اور ماہر پائلٹس کی مدد سے باہر نکال کر ایران یا امریکا میں مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا‘۔

بیان کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ وہ ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ عمل تیزی کے ساتھ شروع ہوگا۔ تاہم انہوں نے ایران کو دبے لفظوں میں ایٹمی حملے کی دھمکی ہوئے کہا کہ ’اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا کے پاس آخری متبادل موجود ہے، جسے وہ دوبارہ استعمال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے‘۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے لے کر ممکنہ امن معاہدے تک، پاکستان نے مرکزی ثالث کے طور پر بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس پورے عمل میں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر متحرک نظر آئے، جنہوں نے خود بھی ایران کے دورے کیے اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو بھی پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا۔

ٹرمپ کے اس بیان سے قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

شہباز شریف کے اس بیان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر شیئر کیا تھا جب کہ عرب میڈیا نے عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد کی اتوار کو پاکستان آمد کا بھی دعویٰ کیا ہے جو ممکنہ طور پر اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوگا۔

ایران: شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی 9 جولائی کو تدفین، چھ روزہ الوداعی تقریبات کا اعلان

علی خامنہ ای کو مشہد میں امام رضا کے روضے میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا: ایرانی سرکاری میڈیا
اپ ڈیٹ 13 جون 2026 06:35pm

ایران نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور آخری رسومات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تھے، جس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور پاکستان کی ثالثی میں امن کی کوششیں جاری ہیں۔

ایرانی حکومت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک مختلف مراحل میں منعقد کی جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی تقریبات کا آغاز دارالحکومت تہران سے کیا جائے گا، جہاں انکی میت کو آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

اس کے بعد 6 جولائی کو تہران میں باضابطہ جنازے کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ تہران کے ڈپٹی میئر کے مطابق صرف دارالحکومت میں تقریباً 2 کروڑ افراد کی آمد کے پیشِ نظر لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

جب کہ 7 جولائی کو میت ایران کے مقدس شہر قُم منتقل کی جائے گی جہاں تعزیتی اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق 9 جولائی کو مشہد میں جنازے کی مرکزی تقریب کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع مقدس ترین مقام ’حرمِ امام رضا‘ میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے شہر مشہد میں مقامی مذہبی رہنما جواد خامنہ ای کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ ان کی پرورش نسبتاً سادہ اور محدود وسائل میں ہوئی۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔

مشہد کے ایک مدرسے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے عراق کے شہر نجف گئے، جہاں وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے شاگرد رہے۔

علی خامنہ ای 1960 اور 1970 کی دہائی میں شاہِ ایران کے خلاف انقلابی تحریک میں بھی بھرپور سرگرم رہے۔ شاہ کی خفیہ پولیس نے انہیں چھ بار گرفتار کیا اور انہیں طویل عرصے تک قید اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 1981 میں تہران کی ایک مسجد میں تقریر کے دوران ایک ریکارڈنگ مائیکروفون میں چھپائے گئے بم کے ذریعے ان پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا۔ اس حملے میں وہ بال بال بچے لیکن ان کا سیدھا ہاتھ مستقل طور پر ناکارہ ہو گیا تھا۔

شاہِ ایران کا تختہ الٹنے کے بعد وہ ایران کے تیسرے صدر منتخب ہوئے اور ایران-عراق جنگ کے مشکل ترین دور میں ملک کے صدر رہے۔ 1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد انہیں ایران کا دوسرا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔

علی خامنہ ای تقریباً 37 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ ملک کے سیاسی، مذہبی اور سیکیورٹی معاملات میں انہیں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

اہم حکومتی معاملات پر ویٹو کے اختیار سمیت وہ ملک کے آئینی ڈھانچے کے تحت اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں مؤثر کردار ادا کرتے تھے اور ریاست کے سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف بھی رہے، جس کے باعث انہیں ایران کی سب سے طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

وہ عام طور پر ایران سے باہر کم سفر کرتے تھے اور تہران کے مرکزی حصے میں ایک محفوظ کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی ذاتی زندگی عوامی منظر سے دور رہی۔

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے نام سے ایران پر مشترکہ حملوں کا آغاز کیا تو اس دوران تہران میں واقع علی خامنہ ای کے رہائشی کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

ان حملوں میں علی خامنہ کے علاوہ ان کے اہلِ خانہ سمیت ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور حکومتی عہدیدار بھی جاں بحق ہوئے تھے، تاہم جنگی حالات اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ان کی تدفین کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک آڈیو پیغام میں انکشاف کیا تھا کہ جس وقت کمپاؤںڈ پر حملہ ہوا، اس وقت ان کے والد قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف تھے۔

ایرانی میڈیا نے ایک تصویر بھی جاری کی تھی جسے سابق سپریم لیڈر کی شہادت سے چند لمحے قبل کی تصویر قرار دیا گیا تھا۔

ان کی شہادت کے بعد ایران کی سپریم کونسل نے ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا تھا۔

ایران نے علی خامنہ ای کی تدفین کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کے آخری مراحل میں ہونے کی خبریں ہیں اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ جلد ہی دونوں ملک باضابطہ طور پر اس معاہدے کے نکات پر اتفاق کرلیں گے۔

ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے پیش رفت آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آجائے گی۔

ایرانی میڈیا امریکا کے ساتھ ممکنہ 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات سامنے لے آیا

ایران کے اعلیٰ حکام نئے مسودے پر غور کر رہے ہیں اور اسکی حتمی منظوری باقی ہے: ایرانی میڈیا
شائع 12 جون 2026 04:37pm

ایرانی میڈیا نے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مسودہ شائع کیا ہے، جسے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی بیک چینل سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔ جس کا مقصد رواں سال 28 فروری سے جاری ایران-امریکا جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے جمعے کو سامنے لائے گئے مسودے میں ممکنہ مفاہمتی معاہدے کی نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

ان نکات میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کی تعمیرِ نو جیسے اہم معاملات پر شرائط اور عمل درآمد کا طریقہ کار اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔

مہر نیوز کے مطابق یہ مسودہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کی جانب سے سامنے آیا ہے، جو ایران کے اعلیٰ حکام میں زیرِ غور ہے اور اس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

مسودے کے مطابق ممکنہ معاہدے کی پہلی شق میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری شق کے مطابق امریکا ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور ایران کی خودمختاری کا احترام کرنے کا پابند ہوگا۔

مسودے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ایران کے خلاف بحری محاصرہ 30 روز کے اندر مکمل طور پر ختم کیا جائے گا جب کہ چوتھی شق کے مطابق امریکا ایران کے اطراف کے علاقوں سے اپنے فوجی دستے واپس بلائے گا۔

پانچویں شق آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو 30 دن کے اندر ایرانی انتظامات کے تحت دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

اقتصادی معاملات سے متعلق شقوں میں ایران کے لیے نمایاں ریلیف کی تجویز دی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلقہ اشیا کی فروخت پر عائد پابندیاں معطل کی جائیں گی اور ایران کو اپنے مالی وسائل تک مکمل رسائی دی جائے گی۔

ساتویں شق کے تحت امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے پیش کرنے ہوں گے۔

مسودے میں 60 روزہ مذاکراتی عمل کی تجویز بھی شامل ہے، جس کا مقصد جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق حتمی معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔ اس شق کے مطابق امریکا کی تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے تحت عائد پابندیوں کے خاتمے پر بھی بات ہوگی۔

ممکنہ مفاہمتی یادداشت کی نویں شق میں ایران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کی دوبارہ توثیق شامل ہے۔

مسودے کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور ایران پر کوئی نئی پابندی بھی عائد نہیں کرے گا۔

ایک اور شق میں کہا گیا ہے کہ 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے، جن میں سے نصف رقم مذاکرات کے آغاز سے قبل ایران کے حوالے کر دی جائے گی۔

معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی نگرانی کا نظام قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جب کہ ایک شق حتمی معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے توثیق سے متعلق ہے۔

مسودے کی آخری شق کے مطابق حتمی مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک منجمد ایرانی اثاثوں کی نصف رقم جاری نہ کر دی جائے، تیل سے متعلق پابندیاں معطل نہ ہو جائیں اور بحری محاصرہ ختم نہ کر دیا جائے۔

اسی شق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حتمی معاہدہ صرف افزودہ جوہری مواد، یورینیم افزودگی، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کی تعمیرِ نو تک محدود ہوگا۔ ایران کے میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروہوں کی حمایت سے متعلق معاملات کو مذاکرات کے ایجنڈے سے مکمل طور پر خارج رکھا جائے گا۔

اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ مسودہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے اور اسے ایران کے متعلقہ اداروں میں مزید جائزے اور منظوری کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔

ایران سے معاہدہ قریب، تقریب یورپ میں ہونے کا امکان: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

ایران نے کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کی تردید کردی
شائع 12 جون 2026 08:50am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور اس پر رواں ہفتے کے اختتام تک دستخط ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، دستخط کی یہ تاریخی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان ہے جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امن کے اس عمل میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ امن معاہدے میں پاکستان بہترین کردار ادا کر رہا ہے اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عظیم شخصیت ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے ایرانی سپریم لیڈر معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں اور وہ اس پر راضی ہیں، جس کے بعد ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا پائے گا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی جس پر پورا مشرقِ وسطیٰ خوش ہے۔

دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے ان دعوؤں پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک امریکا کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

ترجمان نے دستخط کی تاریخ اور مقام سے متعلق خبروں کو محض قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مذاکراتی متن کا بڑا حصہ تو تیار ہے لیکن امریکا بار بار اپنی پوزیشن بدلتا رہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر اور پاکستان ثالثی کے عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ایران مذاکرات میں اپنی ریڈ لائنز یعنی بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اس کے ساتھ ہی ’فارس‘ نیوز ایجنسی نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے اتفاقِ رائے سے متعلق صدر ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی امریکا کے ساتھ کوئی حتمی مسودہ طے نہیں پایا ہے۔

اس سفارتی گہما گہمی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ہے، جس میں امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر گفتگو کی گئی۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، نیتن یاہو نے ایران معاہدے سے متعلق صدر ٹرمپ کے مؤقف پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی دفترِ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم اس معاہدے میں براہِ راست فریق نہیں ہیں لیکن پھر بھی صدر ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ اس مؤقف کے اہم نکات میں ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کا خاتمہ، میزائلوں کی پیداوار کو محدود کرنا اور خطے میں مختلف پراکسیز کے لیے ایران کی مالی و عسکری حمایت کو مکمل طور پر ختم کرنا شامل ہے۔

صدر ٹرمپ کا ایران پر طے شدہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان

ایرانی اعلیٰ قیادت سے بات چیت کے بعد فیصلہ کیا گیا، معاہدہ مکمل ہونے تک پابندیاں جاری رہیں گی: امریکی صدر
اپ ڈیٹ 12 جون 2026 08:51am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران پر طے شدہ حملے اور بمباری کے منصوبے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور پیش رفت کے بعد کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا۔

صدرٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جب تک مجوزہ معاہدہ مکمل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک بحری ناکا بندی بدستور برقرار رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے بعد فریقین نے بعض نکات پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد فوری عسکری کارروائی کو روک دیا گیا ہے۔

قبل ازیں، امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکا ایران پر بھرپور عسکری کارروائی کرے گا، جس کا آغاز آج رات متوقع ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام سمیت زیادہ تر دفاعی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں اور اب امریکا بہت سخت کارروائی کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ مستقبل قریب میں امریکا ایران کے اہم تیل کے مرکز ’خارگ آئی لینڈ‘ سمیت دیگر تیل اور گیس تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرے گا۔ انہوں نے اسے وینزویلا کی صورتِ حال سے تشبیہ دی اور کہا کہ وہاں بھی اسی طرز کا ماڈل کامیابی سے چل رہا ہے۔

اپنے بیان میں امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ ایران کے تیل اور گیس مارکیٹس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے، جو امریکا کے اسٹریٹجک مفاد میں ہوگا۔

امریکی صدرکے ایران پر حملہ کرنے کے دھمکیوں کے بیان کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے اور تہران مناسب وقت پر سخت اور دردناک جواب دے گا۔

اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ غلط حکمتِ عملی اور جذباتی فیصلے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی منڈیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ایک طویل بحران کو جنم دے سکتے ہیں، جس کے اثرات برسوں تک برقرار رہیں گے۔

صدر ٹرمپ نے امریکی ٹی وی سے ٹیلی فون پر بھی گفتگو کی جس میں انھوں نے کہا کہ جمعرات کی رات ایران پر انتہائی طاقت ور حملہ کرنے جا رہے ہیں، تاہم ہم ابھی ایران سے بات کر رہے ہیں، ایران کے بارے مایوس نہیں ہوں، ہوسکتا ہے ایران کے ساتھ عظیم معاہدہ طے پائے، ایران کے ساتھ اسی وقت معاہدہ طے کرنا چاہتا ہوں، ایران کے خارگ جزیرے پرقبضے کو بہتر سمجھتا ہوں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران معاہدے کے لیے ہم سے بات چیت کر رہا ہے، ایران بہت مغرور ہے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے تمام ریڈارز، فضائی دفاعی نظام کو تباہ کردیا ہے، یقین سے کہتا ہوں ایران کے پاس 20 فی صد ہتھیار باقی رہ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے اندر بدھ اور جمعرات کے روز مسلسل فضائی حملے کیے۔ جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون داغے۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ہیں جن میں ایران کے فوجی نظام، مواصلاتی نیٹ ورک اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے رات بھر دو سے تین لہروں میں ایران کے تقریباً ایک درجن شہروں اور صوبوں کو نشانہ بنایا۔پہلے حملے میں کیش، سیریک، میناب اور بندر عباس شامل تھے، جب کہ دوسرے مرحلے میں اصفہان اور تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں دھماکے سنے گئے۔

امریکی حملوں کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر حملے کیے ہیں، جو انتہائی خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کی حالیہ کارروائیاں نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں بل کہ ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کو بھی پامال کرتی ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان حملوں نے 8 اپریل کی جنگ بندی کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا ہے، جب کہ خطے میں مزید کشیدگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بعض علاقائی ممالک کی سرزمین اور سہولیات امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے وہ ممالک بھی بالواسطہ طور پر اس کشیدگی کا حصہ بن رہے ہیں۔ تہران نے خطے کے ممالک کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین اور وسائل کو کسی بھی بیرونی فوجی استعمال سے روکنے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کریں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے بدھ کے روز جنوبی ایران میں فوجی، نگرانی اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حق دفاع کے تحت حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی ہے۔

امریکا کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں کچھ ممالک پر حملے کیے جن میں بحرین، کویت اور اردن میں پورے خطے میں پھیلے امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی تیل کی ترسیل کا الزام: امریکا کا بحیرۂ عمان میں ایک اور جہاز پر فضائی حملہ

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کی خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی۔
اپ ڈیٹ 11 جون 2026 06:18pm

امریکی فوج نے خلیجِ عمان میں ایک اور تجارتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز ایران سے تیل منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس نے امریکی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 10 جون کی شب خلیج عمان میں گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے آئل ٹینکر ایم ٹی جالویر کو ناکارہ بنا دیا گیا، امریکی دعوے کے مطابق ایران کے خلاف عائد بحری ناکا بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی تیل منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی طیارے نے جہاز کے عملے کو متعدد بار انتباہ کیا، تاہم ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بعد جہاز کے انجن روم کو دو ہیل فائر میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کی نقل و حرکت معطل ہوگئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ جالویر اس ہفتے ناکارہ بنایا جانے والا تیسرا تجارتی جہاز ہے۔

اس سے قبل پیر اور منگل کو امریکی افواج نے ایم ٹی میری ویکس اور ایم ٹی سیٹیبیلو نامی جہازوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق میری ویکس ایرانی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا جب کہ سیٹیبیلو ایرانی تیل کی نقل و حمل میں مصروف تھا۔

سینٹ کام کے اعداد و شمار کے مطابق 13 اپریل سے جاری بحری ناکا بندی کے دوران اب تک 9 ایسے جہازوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے جنہوں نے امریکی احکامات پر عمل نہیں کیا، جب کہ 135 جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔ اس کے علاوہ انسانی امداد لے جانے والے 42 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ناکا بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ کی جا رہی ہے اور اس کا اطلاق ایران کی تمام بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں، بشمول خلیجِ عمان اور خلیج فارس کے ساحلی مراکز پر ہوتا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں امریکا ایران پرشدید کاری ضرب لگائے گا، ان کا دعویٰ تھا کہ امریکا ایرانی تیل اورگیس کی مارکیٹوں کامکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے گا۔

واضح رہے کہ امریکی حکام کا دعویٰ تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا، تاہم امریکی اخبارامریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا، فنی خرابی کا شکار ہوا یا کسی اور وجہ سے حادثے کا شکار ہوا۔

امریکی صدر نے بھی منگل کے روز کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا اور اسی وجہ سے ممکنہ جوابی کارروائی زیر غور ہو سکتی ہے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام نے امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایرانی مفادات کو نشانہ بنانے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق جمعرات کی صبح کویت، بحرین اور اردن میں مختلف فوجی اہداف پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے کیے گئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس، کویت کے علی السالم اور احمد الجابر ایئربیسز، جب کہ اردن کے الازرق ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا۔

تہران نے ان حملوں کو امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں ایران کے فوجی اور مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ ایرانی فوجی قیادت نے آبنائے ہرمز کے قریب بحری سرگرمیوں کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔

50 روز سے صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانیوں کی رہائی؛ 'معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے': دفترِ خارجہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش اور صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں تیز
اپ ڈیٹ 11 جون 2026 12:43pm

دفترِ خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی نے ملک کی خارجہ پالیسی، خطے کی صورتحال اور بیرونِ ملک محصور پاکستانیوں کے حوالے سے اہم تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صومالی قزاقوں کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نائب وزیراعظم نے اس سلسلے میں صومالیہ کے وزیر خارجہ سے باقاعدہ رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صومالی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اغوا کیے گئے شہریوں کی بحفاظت رہائی کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی شہری گزشتہ تقریباً پچاس روز سے قزاقوں کی قید میں موجود ہیں اور حکومتِ پاکستان اس وقت اس بحری جہاز کے مالک کے ساتھ بھی مسلسل اور قریبی رابطے میں ہے تاکہ اس مسئلے کو جلد حل کیا جا سکے۔ تاہم صورتحال انتہائی پیچیدہ ہونے کے باعث اب تک پیش رفت محدود رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یرغمالیوں کی صورتحال نہایت حساس اور پیچیدہ ہے کیونکہ یہ علاقہ نیم خودمختار اور قبائلی ڈھانچے پر مشتمل ہے، جہاں مختلف فریقین کے درمیان معاملات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت پاکستان اس مشکل صورتحال کے باوجود اپنے شہریوں کی حفاظت اور جلد رہائی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق یرغمال پاکستانی شہری ایک کارگو جہاز پر موجود ہیں، جن کے ساتھ دیگر ممالک کے عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل صومالی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے نہ صرف پاکستانی شہریوں بلکہ دیگر یرغمال افراد کی صورتحال بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر پاکستان نے اس معاملے پر اپنی شدید تشویش سے آگاہ کیا اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

طاہر اندرابی کے مطابق اسلام آباد میں صومالی سفیر کو بھی طلب کر کے اس معاملے پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ وزارت خارجہ میں اس حوالے سے بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں تاکہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترجمان طاہر اندرابی نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستان کا موقف بھی واضح کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش ہے اور ہم تمام متعلقہ فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے کے تمام مسائل کا پرامن اور سفارتی حل چاہتا ہے۔ اس تناظر میں ملکی قیادت متحرک ہے اور وزیر داخلہ نے اپنے حالیہ دورہ تہران کے دوران اہم ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم نے ترک وزیر خارجہ کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطہ کر کے خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تمام فریقین کو جنگ بندی کی پاسداری کرنی چاہیے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی حمایت کرنی چاہیے۔

کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے بھارت کے حالیہ دعووں اور بیانات کو یکسر مسترد کر دیا۔

طاہر اندرابی نے واضح الفاظ میں کہا کہ کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات کی قانون کی نظر میں نہ تو کوئی وقعت ہے اور نہ ہی ان کا کوئی جواز بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع خطہ ہے اور بھارت ایسے بیانات دے کر دراصل مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

ترجمان نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیریوں کے ساتھ حقِ خودارادیت کا جو وعدہ کیا گیا تھا، اسے پورا ہونا چاہیے اور کشمیر کا تنازع سلامتی کونسل کی انھی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی حل ہونا چاہیے۔

بحرین، کویت اور اردن پر ایرانی حملے، کتنا نقصان ہوا؟

پہلے حملے میں کیش، سیریک، میناب اور بندر عباس شامل تھے، جبکہ دوسرے مرحلے میں اصفہان اور تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں دھماکے سنے گئے۔
اپ ڈیٹ 11 جون 2026 02:39pm
بحرین میں ایرانی ڈرون حملوں کے بعد کے مناظر (تصویر: رائٹرز)
بحرین میں ایرانی ڈرون حملوں کے بعد کے مناظر (تصویر: رائٹرز)
بحرین میں ایرانی ڈرون حملوں کے بعد کے مناظر (تصویر: رائٹرز)
بحرین میں ایرانی ڈرون حملوں کے بعد کے مناظر (تصویر: رائٹرز)

ایران کی جانب سے جمعرات کی صبح کویت، بحرین اور اردن میں مختلف فوجی اڈوں اور اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے کیے گئے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انہوں نے بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس، اور کویت کے علی الساسم اور احمد الجابر ایئربیسز پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اردن کے الازرق ایئربیس پر بارہ بیلسٹک میزائل داغے گئے، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو تیل بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران نے ان حملوں کو امریکی فوجی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے، جن میں امریکہ نے ایرانی جزیرے قیشم اور مختلف بندرگاہوں پر بمباری کی تھی۔ تہران نے سخت وارننگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے حوالے سے کویت کی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے فضائی اہداف کو فضا میں ہی مار گرایا۔ کویتی حکام کے مطابق مجموعی طور پر نقصان انتہائی محدود رہا ہے اور کسی قسم کا کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

دوسری طرف بحرین کی وزارتِ داخلہ نے صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز کو مار گرانے کے باعث گرنے والے ملبے کی وجہ سے حمد سٹی اور دارالحکومت منامہ میں کچھ گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ ملبہ گرنے سے ایک گیارہ سالہ بچی کو معمولی چوٹ آئی ہے۔

اردن کی فوج نے بھی اس حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ازرق کی جانب داغے گئے بیس ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

اردنی فوج کے مطابق میزائلوں کا ملبہ گرنے سے ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔ مجموعی طور پر ایران کی طرف سے کیے گئے اس بڑے حملے کو دفاعی نظاموں نے ناکام بنا دیا ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔

واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے اندر دوسرے روز بھی مسلسل فضائی حملے کیے۔ جس کے جواب میں ایران نے خلیجی مملاک پر میزائل اور ڈرون داغے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ہیں جن میں ایران کے فوجی نظام، مواصلاتی نیٹ ورک اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے رات بھر میں دو سے تین لہروں میں ایران کے تقریباً ایک درجن شہروں اور صوبوں کو نشانہ بنایا۔

پہلے حملے میں کیش، سیریک، میناب اور بندر عباس شامل تھے، جبکہ دوسرے مرحلے میں اصفہان اور تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں دھماکے سنے گئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکی افواج نے ایران میں متعدد اہداف کے خلاف اضافی دفاعی حملے مکمل کر لیے ہیں اور امریکی فورسز خطے میں کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے پوری طرح چوکس اور تیار ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے 49 ٹوماہاک میزائل استعمال کیے گئے، جن میں سے کچھ اہداف ایرانی دارالحکومت تہران سے محض 40 میل کی دوری پر تھے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے امریکی مذاکرات کاروں کے معاہدے پر دستخط نہ کیے تو امریکا اگلی رات پھر بمباری کرے گا۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملوں کے بعد اعلیٰ ایرانی حکام نے ان سے رابطہ کر کے بمباری روکنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم، ایران نے اس بات کی تردید کی ہے۔

اس بڑی امریکی کارروائی کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بھی انتہائی سخت ردعمل دیا ہے۔

ایرانی فوجی کمان نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے لیے اہم ترین راستے، آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام جہازوں کو وہاں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان کی فورسز نے بند راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں کو نشانہ بھی بنایا ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے دو مرحلوں میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور دیگر خلیجی علاقوں میں موجود امریکی تنصیبات پر حملہ کیا، جس میں امریکی فوج کی میزبانی کرنے والے 18 بیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایران کے مطابق کویت میں ال سالم، احمد الجابر اور بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا اور امریکی ففتھ فلیٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔

اس جنگی صورتحال کے باعث کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے اور تمام پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ایران پر آج مزید سخت حملے کرنے کا اعلان کردیا

ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث امریکا دوبارہ ایران پر سخت حملے شروع کرے گا: امریکی صدر
اپ ڈیٹ 10 جون 2026 11:21pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ایران پر مزید سخت حملے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث امریکا دوبارہ ایران پر سخت حملے شروع کرے گا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود ایک جانب خطے میں ایک دوسرے پر حملوں کے ساتھ ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر دوبارہ حملے کرے گا اور یہ حملے ’بہت سخت‘ ہوں گے۔ صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا دوبارہ بمباری مہم شروع کرے گا، جس پر امریکی صدر نے جواب دیا کہ حالیہ صورت حال اور ہیلی کاپٹر واقعے کے تناظر میں امریکا کو کارروائی کا حق حاصل ہے۔

امریکی صدر کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا اور اسی وجہ سے ممکنہ جوابی کارروائی زیر غور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اب ڈیل پر دستخط کر دینے چاہیے اس کے لیے اچھی ڈیل ہے وہ ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روکی تھی، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کہنے پر جنگ بندی کی، میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی جنگ بندی کروائی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف میرے بہت اچھے دوست ہیں، وہ دونوں ابھی بھی جنگ روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، ہم ایران کے ساتھ ایک بامقصد معاہدہ چاہتے ہیں، سابق امریکی صدر اوباما نے معاہدہ کر کے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کا راستہ دکھایا تھا لیکن ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں کہ تہران کا ایٹمی ہتھیار کا راستہ رک جائے، ہم ڈیل کے قریب تھے لیکن ایران میں بے وقوف لوگ بیٹھے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں امن چاہتا ہوں، ایران رک رہا ہے دیکھتے ہیں معاملات کہاں جاتے ہیں، تہران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہوگیا تھا، اس کو اب ایک اچھی ڈیل کر لینی چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر کل کی طرح آج بھی حملے کریں گے، ایران ہمیں مسلسل الجھا رہا ہے، یہ نہیں بتاؤں گا کہ ایران کے پل اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنائیں گے یا نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران سے بات چیت مکمل ہو چکی ہے صرف معاہدے پر دستخط کرنے ہیں، تہران کو صرف اتنا کرنا ہے معاہدے کی دستاویز پر دستخط کر دے، اس کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہم ڈیل کے قریب ہیں لیکن تہران معاملے کو ٹال رہا ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران سے لاکھوں لاکھ بیرل تیل نکال رہے ہیں، اسی وجہ سے تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل تک ہے، ورنہ 250 ڈالر فی بیرل ہوتی۔

صدر ٹرمپ نے سیکیور امریکا بل پر دستخط کردیے اور کہا کہ کہ اب کوئی غیرقانونی طور پر امریکا نہیں آسکے گا۔

ایران کو مذاکرات میں تاخیر کی بھاری قیمت چکانا ہوگی: صدر ٹرمپ

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس عملاً اب کوئی بحری یا فضائی فوج موجود نہیں، ان کی فوج مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کی مرضی کے بغیر کوئی جہاز نہیں گزر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے میں بہت تاخیر کردی ہے، یہ معاہدہ اس کے لیے فائدہ مند ہو سکتا تھا مگر ایران صرف باتیں کرتا ہے، عمل نہیں کرتا۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے معاہدے تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لے لیا ہے، جس کی اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

فاکس نیوز سے وابستہ صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران مختلف اسٹریٹیجک معاملات اور علاقائی صورت حال پر گفتگو ہوئی، جس میں ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور ممکنہ مستقبل کے اقدامات کا ذکر بھی آیا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو وہ ایران میں توانائی کے مراکز اور پلوں کو نشانہ بنانے کے لیے مزید حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔

فاکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو معاہدہ کرنے اور اپنے تحفظ کا موقع ملا تھا، تاہم اب اسے ممکنہ طور پر مزید کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ وہ مذاکرات میں سستی دکھا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پیر کے روز امریکا کا ’اپاچی‘ نامی جدید ترین ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل کے پاس گر کر تباہ ہوا تھا۔ امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی ڈرون سے ٹکرانے کے باعث تباہ ہوا اور سمندر میں جا گرا۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کے دو پائلٹس ’اپاچی ہیلی کاپٹر‘ میں موجود دونوں پائلٹس کو سمندری ڈرون کے ذریعے محفوظ طریقے سے ریسکیو کیا گیا ہے اور ایسا امریکی فوجی تاریخ پہلی بار ہوا ہے۔

امریکی افواج نے رات گئے جنوبی ایران پر شدید فضائی اور میزائل حملے کیے، جسے ’اپاچی‘ ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کا بدلہ قرار دیا جارہا تھا۔ امریکی حملوں کے جواب میں تہران نے بھی بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس کارروائی کے بعد بیان دیا ہے کہ اگر امریکا خطے میں محفوظ رہنا چاہتا ہے تو وہ یہاں سے نکل جائے، جب کہ امریکی صدر ٹرمپ نے وارننگ دی ہے کہ مذاکرات میں تاخیر اور ان حملوں کی ایران کو بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

جنوبی ایران پر حملوں کا بدلہ: تہران کے بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر شدید حملے

ایران نے جم کے علاقے میں امریکا کا ایک انتہائی مہنگا اور جدید ایم کیو نائن ڈرون بھی تباہ کر دیا ہے۔
اپ ڈیٹ 10 جون 2026 12:10pm
28 فروری ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں بحرین میں موجود امریکی بحری فوج کے پانچویں بیڑے (ففتھ فلیٹ) کے بیس کو میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کا منظر
28 فروری ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں بحرین میں موجود امریکی بحری فوج کے پانچویں بیڑے (ففتھ فلیٹ) کے بیس کو میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کا منظر

امریکی افواج نے اپنے جدید ترین اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں جنوبی ایران پر رات گئے شدید فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔ جس کے جواب میں تہران نے بحرین میں موجود امریکی بحری فوج کے پانچویں بیڑے (ففتھ فلیٹ) کو ڈرونز سے اور اردن میں ایک فضائی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے کی جانے والی اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے ایک باقاعدہ بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف یہ دفاعی حملے امریکی صدر کی ہدایت پر اپنے دفاع میں کیے۔

سینٹرل کمانڈ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ مشن ایران کے خلاف بلااشتعال متناسب ردعمل ہے اور اب یہ فضائی حملے مکمل کر لیے گئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ان حملوں میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کے مختلف حصوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایرانی اور روسی میڈیا کے مطابق ایرانی صوبے ہرمزگان کے مشرقی علاقوں، ساحلی شہر سیریک، بندر عباس اور ایرانی جزیرے قشم سمیت آبنائے ہرمز کے ارد گرد چھ دھماکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی شہروں جسک اور بندر عباس کے آس پاس، مناب، سرک اور کوہ مبارک کے دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملوں سے سیریک میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا ہے اور دو واٹر ٹینک بھی تباہ ہوئے ہیں، تاہم اب جنوبی ایران میں صورتحال اطمینان بخش ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی ان امریکی حملوں کا فوری اور سخت جواب دیا ہے۔

ایرانی فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی جنوبی ایران میں امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے اور ہم نے خطے میں بعض امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس جوابی کارروائی کے تحت ایران نے بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ یعنی پانچویں بحری بیڑے پر ڈرون حملہ کیا ہے، جبکہ عرب اور روسی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران نے جم کے علاقے میں امریکا کا ایک انتہائی مہنگا اور جدید ایم کیو نائن ڈرون بھی تباہ کر دیا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس نے اردن میں موجود امریکی ایف-35 جہازوں کے ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے واشنگٹن کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی جارحیت برقرار رہی تو اس کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

اس سنگین فوجی ٹکراؤ کے بعد دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں لیکن حیران کن طور پر سفارتی دروازے اب بھی کھلے دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمارا انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا اور ہم نے اس کا جواب دیا جو بہت مضبوط اور طاقتور ہے، ایران کو جواب دینا بہت ضروری تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان تازہ حملوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جاری امن ڈیل پر کوئی برا اثر نہیں پڑا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیل کے معاملے پر ابھی کچھ نہیں بدلا اور ایران سے ڈیل اب بھی قریب ہے۔

اسی سلسلے میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران سے ڈیل اگلے ہفتے ممکن ہے، اور ایسا بھی ہو سکتا ہے اس میں کئی ماہ بھی لگ جائیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران سے معاہدے پر دو سے تین دن میں دستخط ہو سکتے ہیں۔

اس کے برعکس، ایرانی قیادت نے امریکی حملوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان میں امریکا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ میں شکست کے باوجود امریکا ہمارے عزم کو آزما رہا ہے، اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو، ہماری طاقتور افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی کیونکہ خلیج فارس کی تاریخ مداخلت کے عبرتناک انجام سے بھری پڑی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں موجود تمام بیرونی طاقتوں کو نکل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کے قریب موجود غیرملکی افواج مسلسل خطرے میں ہیں اور خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ غیرملکی افواج یہاں سے نکل جائیں کیونکہ آبنائے ہرمز کوئی بین الاقوامی علاقہ نہیں بلکہ یہ ایران اور عمان کا مشترکہ علاقہ ہے۔

ایران جنگ کو عراق اور افغانستان جیسی شکل اختیار نہیں کرنے دیں گے: جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ دیگر صدور کی طرح امریکا کو طویل جنگوں میں پھنسانے والی پالیسی اختیار نہیں کریں گے: امریکی نائب صدر
شائع 09 جون 2026 09:27pm

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے طویل جنگ میں تبدیل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ صدر ٹرمپ ایران جنگ کو عراق اور افغانستان جیسی طویل اور مہنگی جنگوں کی شکل اختیار نہیں کرنے دیں گے۔

امریکی اخبار یو ایس اے ٹو ڈے سے خصوصی گفتگو میں امریکی نائب صدر جے ڈی ویس نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع میں خود کو طویل عرصہ نہیں الجھائے گا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ پُر اعتماد ہیں کہ ایک سال بعد دنیا امریکا ایران جنگ دنیا کے لیے پرانا موضوع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں جیسی نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ جے ڈی وینس، عراق جنگ کے سابق فوجی اور بیرون ملک امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے محتاط مؤقف رکھنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ دیگر صدور کی طرح امریکا کو طویل جنگوں میں پھنسانے والی پالیسی اختیار نہیں کریں گے۔

واضح رہے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے سے خطے میں چھڑنے والی جنگ کو اس ہفتے 100 دن مکمل ہوچکے ہیں۔

اپریل میں پاکستان کی کوششوں سے فریقین کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اس جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

صدر ٹرمپ متعدد بار یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن یہ مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملوں کے باعث جنگ بندی کمزور ہونے کے خدشات پیدا نظر آنا شروع ہوگئے تھے۔

جے ڈی وینس نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ اگر ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو امریکا جواب میں فوجی کارروائیاں تیز کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک امریکا اپنی بنیادی پالیسی، یعنی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر توجہ مرکوز رکھے گا، تب تک یہ تنازع ایک طویل جنگ میں تبدیل نہیں ہوگا۔

مذاکرات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو صدر کے پاس دیگر ذرائع بھی موجود ہیں لیکن جب تک ہمارا ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، یہ جنگ طویل نہیں ہوگی‘۔

جے ڈی وینس کے یہ ریمارکس ان کی نئی کتاب کی اشاعت کے موقع پر سامنے آئے۔ 16 جون کو شائع ہونے والی یہ کتاب ان کی معروف یادداشت کا تسلسل ہے، جس میں انہوں نے مذہبی سفر، سیاست اور عوامی زندگی سے متعلق اپنے خیالات بیان کیے ہیں۔

تہران نے نہ تو میدانِ جنگ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا: ایرانی صدر

سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو بازو ہیں: مسعود پزشکیان ایکس پر بیان
شائع 08 جون 2026 08:01pm

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران نے نہ تو میدانِ جنگ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا ہے جب کہ سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو بازو ہیں۔

پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی اولین ترجیح قومی سلامتی اور ایرانی عوام کے امن و سکون کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قوم کے حقوق کا بھرپور انداز میں دفاع کرے گا اور کسی بھی خطرے کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

صدر پزشکیان کے مطابق سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو اہم اور بنیادی ستون ہیں اور ایران نے نہ تو میدانِ جنگ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ جاری ہے، جو اپریل کی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے۔

اسی دوران ایران نے اتوار کی رات اور پیر کی صبح مقبوضہ علاقوں پر متعدد میزائل حملے کیے اور اسرائیل پر جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت سفارت کاری اور دفاعی حکمت عملی ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ اسلامی جمہوریہ کے قومی مفادات اور وقار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قومی اتحاد اور دانشمندی پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران موجودہ چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نکل آئے گا۔

ایران نے اسرائیل کے خلاف حملے روک دیے، اسرائیل بھی امریکی درخواست پر رضا مند

جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو اس سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے: ایران
اپ ڈیٹ 08 جون 2026 07:39pm
اے آئی جنریٹڈ
اے آئی جنریٹڈ

ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں فی الحال معطل کر دی ہیں، جب کہ اسرائیلی حکام نے امریکا کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے، خصوصاً جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رہیں تو اس سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف فوجی آپریشنز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں، تاہم اسرائیلی حملوں کے تسلسل کی صورت میں کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔

’سی این این‘ کے مطابق اسرائیل نے امریکا کی درخواست پر ایران کے خلاف فضائی حملے عارضی طور پر روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم جنوبی لبنان میں عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان، جسے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے شائع کیا، اس میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت ور مسلح افواج نے مظلوم لبنانی عوام کی حمایت میں اسرائیل کو ’’دردناک جواب‘‘ دیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے جارحیت اور دشمنانہ کارروائیاں، بالخصوص جنوبی لبنان میں حملے، جاری رہے تو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ ایرانی فوج کے مطابق حالیہ کارروائیاں لبنان کی حمایت اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کی گئیں، جب کہ آئندہ ردعمل کا انحصار اسرائیل کے طرزِ عمل پر ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی جانب سے حملے جاری ہیں اور ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ خطے میں وسیع تر کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اسی دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ملک کی ترجیح ’قومی سلامتی اور عوام کا امن‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی خطرے کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور نہ ہی انھوں نے میدان چھوڑا ہے اور نہ ہی مذاکرات کی میز۔

یہ بیان ایران کی اعلیٰ عسکری کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کی جانب سے اپنی ’مسلح افواج کی کارروائیوں‘ کے خاتمے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

واضح رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پیر کی علی الصبح دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جب کہ یمن کے حوثی باغیوں نے بھی اسرائیل پر میزائل داغنے اور بحیرہ احمر میں اسرائیل سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

تازہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے ہنگامی حفاظتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ایران نے تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا، جب کہ اسرائیل نے ملک بھر میں اسکول بند کرنے اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید حملوں سے گریز کریں۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کو فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے اور فائرنگ روک دینی چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقین فوری سیزفائر کی طرف بڑھ رہے ہیں اور امن معاہدے پر بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے لیکن بعض رکاوٹیں عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ جب تک فائنل ڈیل طے نہیں ہو جاتی، موجودہ بلاکڈ یا پابندیاں مکمل طور پر برقرار رہیں گی۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کے حصول کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حتمی مقصد حاصل ہونے کے قریب ہو۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تشدد میں حالیہ اضافہ اس خطرے کی واضح یاد دہانی ہے جو ایک نازک جنگ بندی سے وابستہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ناقابلِ برداشت نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب ہم فریقین کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پرامن سفارتی حل کے لیے سنجیدگی اور مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب حتمی مقصد حاصل ہونے کے قریب ہو، تو ہم خلوصِ دل سے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن کو ایک اور موقع دینے کی اپیل کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ایک اہم ثالث ہے، پاکستان کی ثالثی میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات کا ایک دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔ اسلام آباد نے اسی ماہ کے آخر میں ایک اور مذاکراتی دور کے لیے تیاری بھی کی تھی تاہم یہ نہیں ہو سکا تھا۔

ایران اور اسرائیل ایک دوسرے پر حملے بند کریں: صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ کے منع کرنے کے باوجود اسرائیل کی تہران میں جوابی کارروائی
اپ ڈیٹ 08 جون 2026 02:57pm

ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک بار پھر صیہونی ریاست پر میزائلوں کی برسات کردی ہے۔ جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر میزائل حملے فوری طور پر روکنے کا زور دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک مختصر پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر ایک دوسرے پر فائرنگ یا حملے روکنے چاہئیں۔

اسرائیلی فوج نے باقاعدہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے میزائلوں کی دوسری بڑی لہر داغی گئی ہے جس کے بعد پورے اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے جواب میں ایران نے رات گئے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان پیر کے روز علی الصبح ہونے والے حملوں کے بعد یمن کے حوثی باغیوں نے بھی اسرائیل پر میزائل داغ دیے اور خبردار کیا کہ وہ بحیرہ احمر میں اسرائیل سے وابستہ تمام بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔

حوثیوں کی یہ نئی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر بحیرہ احمر کے راستے تیل برآمد کرنے کے لیے اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر انحصار کر رہا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اسرائیلی حملوں کے فوری بعد ایران نے اپنے ملک کے سب سے بڑے ہوائی اڈے، تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے گرد فضائی حدود کو ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے بھی اپنے شہریوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں اسکول بند کر دیے ہیں اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنوب مغربی ایران کے شہر ماہشہر میں واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے، تاہم انہوں نے اس حملے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں فارس اور مہر نے بھی تصدیق کی ہے کہ صوبہ خوزستان کے شہر ماہشہر میں کارون پیٹروکیمیکل پلانٹ پر دو اسرائیلی حملے ہوئے ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نقصان کے حجم کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

اس ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ماہشہر پورٹ کی گورنرشپ نے شہر کے تمام دفاتر میں عملے کی حاضری تیس فیصد تک کم کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ بجلی، پانی، گیس اور ایمرجنسی سروسز کو اس پابندی سے الگ رکھا گیا ہے۔

دوسری طرف، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسرائیل کو سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ وہ لبنان پر اپنے حملے فوراً روک دے ورنہ نتائج اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہوں گے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ایک باقاعدہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے رامات ڈیوڈ ائیر بیس کو آئی آر جی سی ایروسپیس فورس کے بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ جنگ بندی کی قبولیت اس شرط پر تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ بند ہو، لیکن امریکا اور اسرائیل نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، اس لیے اب خطے میں تمام امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیل کو اس کرارے جواب کی خبر ملتے ہی ایران کے دارالحکومت تہران میں جشن کا سماں بن گیا اور ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے اپنی افواج کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔

اس نئی کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیچھے ہٹنے کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے اتوار کے روز اچانک بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر شدید بمباری کی، جس پر تہران نے سخت جوابی کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔

دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کشیدگی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے تمام صورتحال کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کو مکمل طور پر امریکی پشت پناہی حاصل ہے اور امریکا اس خطے میں کشیدگی کو دوبارہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے جنگ بندی کے حوالے سے ایران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ بندی کے پابند تھے لیکن اسرائیل نے اس کی خلاف ورزی کی، اور جو کچھ اس وقت خطے میں ہو رہا ہے وہ سب امریکا کی پلاننگ کا حصہ ہے۔

ایرانی ترجمان نے اپنے ملک کے دفاع کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے ہم ہر وقت تیار ہیں کیونکہ لبنان اس جنگ بندی معاہدے کا ایک اہم حصہ تھا اور ہم جنگ بندی کی اس کھلی خلاف ورزی پر کسی صورت خاموش نہیں رہ سکتے۔

اسماعیل بقائی نے عالمی برادری کو متنبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت خطے میں امن کی خواہاں نہیں ہے اور وہ پورے خطے کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے کیونکہ اسرائیل کسی بھی سفارتی اصول کا احترام نہیں کرتا۔

انہوں نے عرب ممالک کے کردار پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یہ سنگین انکشاف بھی کیا کہ کئی عرب ممالک کی سرزمین اس وقت ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی نیت پر ہمیں پہلے ہی شک تھا جو اب سچ ثابت ہو چکا ہے۔

ایران نے آبنائے ہر مز سے امریکی مال بردار جہاز قبضے میں لے لیا

امریکی فوج کے حصار میں آںے والے 4 کارگو جہازوں میں سے ایک کو تحویل میں لے لیا جبکہ 3 واپس پلٹ گئے، پاسداران انقلاب
شائع 07 جون 2026 10:27am

پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی کمپنی سے منسلک کارگو جہاز کو تحویل میں لے لیا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق مذکورہ کارگو جہاز کو سمندری ٹرانزٹ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں روکا گیا۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جہاز کو سمندری ٹرانزٹ قوانین اور ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں روکا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی سرپرستی یا نگرانی میں 4 تجارتی آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان میں سے ایک جہاز کو روک لیا گیا، جبکہ باقی 3 جہاز ایرانی کارروائی کے بعد واپس اپنی سمت تبدیل کرکے لوٹ گئے۔

ایرانی میڈیا نے واقعے کی مبینہ ویڈیو اور تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں تیز رفتار ایرانی گشتی کشتیوں کو ایک بڑے تجارتی جہاز کے گرد نقل و حرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم جہاز کی ملکیت، اس کے پرچم، عملے اور کارگو کی نوعیت سے متعلق تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ آزاد ذرائع سے بھی تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دوسری جانب امریکی حکومت، امریکی بحریہ یا امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس واقعے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج فارس میں ایران اور امریکی افواج کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور ایران کی اجازت کے بغیر کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ برقرار ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ فریقین کسی حتمی معاہدے تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔

لبنان کے آرمی چیف سرکاری دورے پر پاکستان کے لیے روانہ: لبنانی فوج

لبنان کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل روڈولف ہائیکل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کریں گے: اے ایف پی
شائع 06 جون 2026 11:41pm

لبنان کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل روڈولف ہائیکل پاکستان کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کریں گے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس اہم دورے کا براہِ راست تعلق مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے جاری اُن مذاکرات سے ہے جس میں پاکستان ایک کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

لبنانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل روڈولف ہائیکل ہفتے کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوئے، جہاں وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کریں گے۔

بیان کے مطابق یہ دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، تاہم اس ملاقات کے ایجنڈے کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اے ایف پی کے مطابق لبنانی آرمی چیف کا دورہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں اہم ہے کیوں کہ لبنان اِن مذاکرات میں ایک اہم فریق کی حیثیت رکھتا ہے اور ایران بھی لبنان سے متعلق معاملات کو ممکنہ معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔

اسی ہفتے واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں کی جانب سے ایک نئی مشروط جنگ بندی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے روکنا ہوں گے اور سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹنا ہوگا، جب کہ لبنانی فوج کو مخصوص علاقوں کا کنٹرول دینے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے۔ تاہم حزب اللہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی معاہدے سے قبل اسرائیل کا لبنانی سرزمین سے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

ہفتے کی شب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی پیغام لے کر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں رپورٹس کے مطابق ان کی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن نقوی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اہم پیغام ایرانی قیادت تک پہنچائیں گے۔

ویزا پابندیاں، جنگ اور سیکیورٹی خدشات، ایرانی شائقین کی ورلڈ کپ تک رسائی مشکل

ایرانی شائقین کا کہنا ہے کہ ویزا پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے فقدان کے باعث امریکا کا سفر مہنگا اور پیچیدہ ہو گیا ہے۔
شائع 05 جون 2026 05:02pm

2026 فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل امریکا کی ویزا پالیسیوں، ایران کے خلاف جنگ اور سیکیورٹی خدشات نے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی دل چسپی متاثر کرنا شروع کر دی ہے۔ خاص طور پر ایرانی شائقین اور قومی ٹیم کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2026 فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے کوالیفائی کرنے والی ایرانی قومی ٹیم اور اس کے شائقین کو امریکا کی ویزا پابندیوں اور جاری جنگ کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے ایران سمیت چند ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا کے اجرا پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس فیصلے کے باعث ایرانی شائقین کے لیے ورلڈ کپ کے دوران امریکا کا سفر تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی شائقین کا کہنا ہے کہ ویزا مسائل کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث امریکا پہنچنا پہلے ہی ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے۔ انہیں امریکا جانے کے لیے کئی ممالک کے راستے سفر کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے بھی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جنگ کے باعث نہ صرف ایرانی قومی ٹیم کی تیاری متاثر ہوئی بل کہ متعدد کھیلوں کی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئیں۔

ایرانی ٹیم نے جنگ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی یاد میں ایک دوستانہ میچ سے قبل اسکول بیگ اٹھا کر میدان میں آنے کا علامتی اقدام بھی کیا تھا، جس کی تصاویر عالمی میڈیا میں نمایاں رہیں۔

دوسری جانب جنگ اور سیاسی کشیدگی کے باعث دنیا کے دیگر ممالک کے شائقین بھی ورلڈ کپ کے دوران امریکا سفر کرنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض شائقین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے عالمی مقابلوں کو سیاست اور تنازعات سے الگ رہنا چاہیے، لیکن موجودہ حالات میں ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

کینیا سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی اسپورٹس وکیل خیران نور کے مطابق ورلڈ کپ جیسے عالمی مقابلے اب صرف کھیل کا معاملہ نہیں رہے بل کہ عالمی سیاست، ویزا پالیسیوں اور نقل و حرکت کی آزادی جیسے مسائل بھی ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑیوں اور شائقین کی شرکت سیاسی حالات اور سفارتی فیصلوں سے متاثر ہو تو ایسے مقابلوں کے عالمی اور جامع ہونے کے تصور پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔

واضح رہے کہ 2026 فیفا ورلڈ کپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر منعقد کر رہے ہیں۔ یہ تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ ہوگا جس میں 48 ٹیمیں شرکت کریں گی، تاہم ٹورنامنٹ سے قبل ویزا پابندیوں، جنگی حالات اور سیکیورٹی خدشات نے منتظمین کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

جاپانی ین سے متعلق خطرے کی گھنٹی

.
شائع 05 جون 2026 03:17pm

ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر کا دوبارہ 160 کی سطح تک گر جانا بظاہر جاپان کا اندرونی مسئلہ دکھائی دے سکتا ہے۔

ٹوکیو یقیناً اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ حکام ایک بار پھر مارکیٹ میں مداخلت کی وارننگ دے رہے ہیں، تاجر بینک آف جاپان کے ہر بیان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور منڈیاں یہ سوال کر رہی ہیں کہ پالیسی ساز کرنسی کی مزید کمزوری کو آخر کس حد تک برداشت کرنے پر آمادہ ہیں۔ تاہم زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ آیا ین کی گراوٹ محض ایشیا میں ابھرنے والی ایک بہت بڑی کہانی کی پہلی نمایاں دراڑ ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں اور سرمایہ کار اب بھی تیل کی قیمتوں، جنگ بندی کی افواہوں اور سفارتی سرخیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ تیل اب بھی اثرات کی منتقلی کا سب سے فوری ذریعہ ہے۔ لیکن کیا اب اصل خطرے کی لکیر اجناس کی منڈی سے نکل کر کرنسی مارکیٹ میں منتقل ہو چکی ہے؟

اس تعلق کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ تیل کی بلند قیمتیں توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے تجارتی توازن کی شرائط کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔

ڈالر کی مضبوطی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ اس سے درآمدات کی مقامی کرنسی میں لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً افراطِ زر کا دباؤ بڑھتا ہے، جاری کھاتوں کے توازن بگڑتے ہیں اور مرکزی بینک ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے بتدریج زیادہ مشکل اور غیر آرام دہ ہوتے جاتے ہیں۔ جاپان شاید اس کی سب سے واضح مثال ہے کیونکہ یہ پورا عمل اس وقت حقیقی وقت میں رونما ہو رہا ہے۔

جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی فضا میں عموماً ڈالر مضبوط ہوتا ہے اور جاری جنگ نے بارہا اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب جاپان اب بھی درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ اب اس حد تک شدید ہو چکا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں، جبکہ حکام یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ یا تیز گراوٹ دیکھی گئی تو وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔

تاہم جاپان اس صورتحال کا اکیلا شکار نہیں۔ بھارت، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن اور جنوبی کوریا بھی درآمدی توانائی پر بھاری انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کے حالات مختلف ہیں، لیکن بنیادی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر اضافہ درحقیقت اقتصادی سرگرمیوں پر بیرونی ٹیکس کی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

اسی طرح ڈالر میں ہر نئی تیزی اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پالیسی ساز اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں خود تیل نے کسی حد تک اطمینان کا احساس پیدا کیا ہے۔ جب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی خبریں سامنے آتی ہیں، تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطحوں سے نیچے آ جاتی ہیں۔ منڈیاں اب بھی ہر اس اشارے پر مثبت ردِعمل دیتی ہیں کہ شاید کسی معاہدے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تاجر درحقیقت کس چیز کی قیمت لگانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

حقیقی یا فزیکل مارکیٹ فیوچر مارکیٹ جتنی پُرامید دکھائی نہیں دیتی۔ ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ تزویراتی ذخائر بدستور استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومتوں اور پیداوار کنندگان نے کئی ماہ سے ہنگامی ذخائر، عملی لچک اور صنعتی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اس جھٹکے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدامات غیرمعمولی حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہی حفاظتی ذخائر کو بھی استعمال کر چکے ہیں جو دراصل بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے تھے۔

یہ صورتحال ایک تشویشناک سوال کو جنم دیتی ہے: کیا منڈیاں ذخائر پر اسی حد تک ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہیں جس طرح وہ سفارتی سرخیوں پر انحصار کرنے کی عادی ہو چکی ہیں؟

اجناس کی منڈیوں میں اب تک کہیں زیادہ شدید قیمتوں کے ردوبدل سے بڑی حد تک اس لیے بچاؤ ہوا ہے کیونکہ ذخائر نے متاثرہ رسد اور مسلسل طلب کے درمیان خلا کو پُر کیا ہے۔ مگر ذخائر پیداوار نہیں بلکہ وقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

آج مارکیٹ میں لایا جانے والا ہر اضافی بیرل وہ بیرل ہے جو کل دستیاب نہیں ہوگا۔ ذخائر میں ہر کمی مستقبل کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی نظام کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ تو پھر وہ مرحلہ کب آئے گا جب منڈیاں جنگ بندی کی افواہوں سے زیادہ توجہ کم ہوتے ہوئے حفاظتی ذخائر کے سادہ حساب کتاب پر دینا شروع کریں گی؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عالمی معیشت کے مختلف حصوں میں طلب میں کمی کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ صارفین نے گاڑیوں کا استعمال کم کرنا شروع کر دیا ہے، ایئر لائنز اپنے روٹس میں تبدیلیاں کر رہی ہیں اور کاروباری ادارے اخراجات کم کرنے اور زیادہ مؤثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔

چین میں تیل کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ بجلی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور صارفین ایندھن کی بلند قیمتوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔ اسی نوعیت کے رجحانات دیگر ممالک میں بھی ابھر رہے ہیں۔ طلب میں یہ کمی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے اپنے معاشی اثرات بھی ہیں۔

اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر ذخائر مسلسل کم ہوتے رہیں اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا بنیادی ذریعہ طلب میں کمی ہی بن جائے تو پھر کیا ہوگا جب اسی دوران اقتصادی نمو بھی سست پڑنے لگے؟ ایسی صورت میں پالیسی ساز ایک بار پھر اس مانوس چیلنج کا سامنا کریں گے جس میں کمزور اقتصادی نمو کے ساتھ افراطِ زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔

منڈیوں نے 2025 کا بیشتر حصہ یہ فرض کرتے ہوئے گزارا کہ افراطِ زر پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن کیا اس جنگ نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں کرنسی مارکیٹ خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ شرح مبادلہ بیک وقت متعدد خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ اقتصادی نمو کی توقعات، افراطِ زر کا دباؤ، شرح سود میں فرق اور سرمایہ کی نقل و حرکت، سب ایک ہی قیمت میں سمٹ آتے ہیں۔ چنانچہ ین کی کمزوری صرف تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان خدشات کی بھی عکاس ہے کہ معیشتیں مسلسل بیرونی جھٹکوں کو کس طرح برداشت کر رہی ہیں۔

پاکستان کے لیے اس کے مضمرات کچھ زیادہ اجنبی نہیں ہونے چاہئیں۔ ملک اب بھی بلند تیل قیمتوں اور مضبوط ڈالر، دونوں کے اثرات کا شکار ہو سکتا ہے۔ توانائی کی درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، بیرونی مالی وسائل کے حصول کے حالات سخت ہو جاتے ہیں اور افراطِ زر کا دباؤ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کوئی منفرد مثال نہیں۔ ابھرتے ہوئے ایشیا کے بیشتر ممالک اسی نوعیت کے چیلنجوں کا مختلف شکلوں میں سامنا کر رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض معیشتوں کے پاس زیادہ زرمبادلہ ذخائر، بہتر مالیاتی پوزیشن یا زیادہ لچکدار پالیسی فریم ورک موجود ہیں۔

ممکن ہے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی واقعی درست ثابت ہو۔ ممکن ہے مذاکرات بالآخر کسی پائیدار تصفیے پر منتج ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے سے پہلے مستحکم ہو جائیں۔ بظاہر منڈیاں اس امکان کو خاصی اہمیت دے رہی ہیں۔

لیکن اگر وہ غلط ثابت ہوں تو کیا ہوگا؟ اگر خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں تازہ ترین اتار چڑھاؤ کے بجائے اصل اہم اشارہ توانائی درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک کی کرنسیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہو تو؟ اور اگر جاپان پہلے ہی 160 ین فی ڈالر کی سطح پر مداخلت پر غور کر رہا ہے تو دیگر ممالک کے پالیسی ساز خاموشی سے کن خدشات میں مبتلا ہوں گے؟

ابتدائی جھٹکا تیل کی منڈی نے پیدا کیا تھا، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایشیا اس کی اصل قیمت کرنسی مارکیٹ میں چکا رہا ہے۔


نوٹ: یہ تحریر 4 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔