Live
Iran Israel War

مجتبیٰ خامنہ ای کی ویڈیو منظرِ عام پر، صحت سے متعلق قیاس آرائیاں برقرار

یہ واضح نہیں کہ ایرانی نیم سرکاری میڈیا نے یہ ویڈیو اس وقت کیوں جاری کی اور نہ ہی ریکارڈنگ کے وقت کی کوئی تفصیل فراہم کی۔
اپ ڈیٹ 08 اگست 2026 09:56pm

ایران کے نیم سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک ایسی ویڈیو جاری کی ہے جس کی تاریخ واضح نہیں، جس کے بعد ان کی صحت اور موجودہ صورتِ حال سے متعلق قیاس آرائیاں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک غیر مؤرخہ ویڈیو جاری کی ہے، جو مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کی پہلی ویڈیو ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد علی خامنہ ای کے ایران جنگ کے آغاز پر قتل کیے جانے کے بعد مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا تھا، تاہم وہ اس کے بعد سے اب تک عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے اور ان کے پیغامات بھی سرکاری میڈیا کے ذریعے ہی جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

جاری کی گئی ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای طلبہ یا کچھ لوگوں کو درس دیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا نے ویڈیو کی ریکارڈنگ کے وقت سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

ویڈیو کے مناظر سے بظاہر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم اس کی حتمی تاریخ یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

یہ بھی واضح نہیں کہ ایرانی نیم سرکاری میڈیا نے یہ ویڈیو اس وقت کیوں جاری کی ہے۔ تاہم ان کی طویل عرصے سے منظرِ عام سے غیر حاضری کے باعث ویڈیو کے اجرا کے بعد ان کی موجودہ جگہ اور صحت سے متعلق قیاس آرائیاں برقرار ہیں۔

ویڈیو میں ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کا لوگو بھی موجود ہے، تاہم ویڈیو کو اب تک دیگر ایرانی ذرائع ابلاغ نے بڑے پیمانے پر نشر نہیں کیا۔

یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے ایک فضائی حملے کے دوران زخمی ہوئے تھے، تاہم اس حملے میں ان کے والد، ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ شہید ہوگئے تھے۔

امریکا و اسرائیل کی بمباری کے ابتدائی دنوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کے پاؤں میں فریکچر اور چہرے پر زخم آئے تھے، تاہم انھیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

حالیہ جاری کی گئی ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای کے جسم پر کسی چوٹ کے واضح آثار دکھائی نہیں دیتے، تاہم ویڈیو کی تاریخ سامنے نہ آنے کے باعث ان کی موجودہ صحت کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

عمان مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز کی بحالی نہیں، عارضی راستوں کا قیام ہے: عباس عراقچی

آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے دشمن کو ایران کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی: پاسدارانِ انقلاب کا بیان
شائع 08 اگست 2026 08:10pm

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی نہیں ہے۔ ان کے مطابق بات چیت فی الحال عارضی بحری راستے قائم کرنے تک محدود ہے جب کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی امریکا کی جانب سے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت کو آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔

ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ عمان مذاکرات کا مقصد فی الحال عارضی بحری راستے قائم کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے محدود آمدورفت ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی پیچیدگیوں کے باوجود ان عارضی راستوں کے تعین کا عمل جاری ہے، جو اب آخری مراحل میں ہے۔

ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی جانب سے فراہم کیے گئے نقشوں کی بنیاد پر ان عارضی راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے جلد نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ان اقدامات کو آبنائے ہرمز کی عمومی یا مکمل بحالی نہیں کہا جا سکتا ہے۔

عباس عراقچی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونا ضروری ہیں، جن میں خاص طور پر امریکا کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ شامل ہے۔

انہوں نے اسلام آباد میمورنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی افواج بارہا انتباہ کے باوجود متبادل بحری راستے زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نہ تو معاہدے کی خلاف ورزی برداشت کرے گا اور نہ ہی کسی فریق کو آبنائے ہرمز پر اس کے اختیار اور کنٹرول کو چیلنج کرنے کی اجازت دے گا۔

اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھی اسی طرز کا ایک بیان جاری کیا گیا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ ہے اور اس کے لیے ایران کے پاس اپنا قانونی اور دفاعی طریقہ کار موجود ہے۔

ہفتے کے روز ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل حسین محبی نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورت حال اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے درکار شرائط پر گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کو کھولنے کا فیصلہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سے الگ ہے۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو محض ایک بحری گزرگاہ یا آبی راستہ نہیں بلکہ ایران کے اہم جغرافیائی اثاثے اور طاقت کے طور پر دیکھتا ہے، جسے ایران کی دفاعی اور خودمختاری سے متعلق پالیسیوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

جنرل حسین محبی کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مکمل طور پر ان شرائط سے مشروط ہے جو ایران نے باضابطہ طور پر طے کرکے امریکا تک پہنچائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کس طریقے سے اور کب دوبارہ کھولا جائے گا، اس کا براہِ راست انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا ایران کی ان شرائط کو کس حد تک تسلیم کرتا ہے۔

جنرل حسین محبی نے کہا کہ خطے میں نقل و حمل کے راستوں کی دوبارہ بحالی کے لیے ’دشمن‘ کو ایران کی قانونی اور منطقی شرائط مکمل طور پر تسلیم کرنا ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی مکمل طور پر مداخلت سے گریز کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات اپنے آخری مراحل میں ہیں۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جب امریکا ایران کی شرائط تسلیم کرلے گا تو یقینی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری حالات پیدا ہو جائیں گے۔

دنیا کا مہنگا ترین پیٹریاٹ میزائل سسٹم کیا ہے اور عالمی سطح پر اس کے اسٹاک میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟

یوکرین اور ایران جنگ نے پیٹریاٹ سسٹم کے انٹرسیپٹرز کے عالمی ذخائر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
شائع 08 اگست 2026 10:45am

امریکا کا بنایا ہوا پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم، جو پہلی بار 1991 کی خلیجی جنگ میں استعمال ہوا تھا، آج دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ تاہم، اس سال اس سسٹم کی طلب میں اچانک شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بڑی وجہ یوکرین پر روسی حملہ اور مشرق وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی جنگیں ہیں۔

ان تنازعات نے پیٹریاٹ سسٹم کے دشمن کے میزائل کو ہوا میں تباہ کرنے والے اہم ترین حصے، یعنی انٹرسیپٹرز کے عالمی ذخائر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، یوکرین ہر رات روس کی جانب سے کیے جانے والے بیلسٹک میزائل حملوں کا دفاع کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا شدت سے منتظر ہے، لیکن امریکا اور خلیجی ممالک کے اسلحہ خانے مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے خالی ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ یورپی ممالک اپنے دفاع کے پیش نظر میزائل یوکرین کو دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔

پیٹریاٹ سسٹم، جس کا مکمل نام ”فیزڈ ایرے ٹریکنگ ریڈار فار انٹرسیپٹ آن ٹارگٹ“ ہے، ایک موبائل یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جانے والا اور زمین سے ہوا میں مار کرنے والا میزائل ڈیفنس سسٹم ہے۔ اسے امریکی کمپنی ریتھیون ٹیکنالوجیز بناتی ہے اور یہ ہر قسم کے موسم میں دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

1980 کی دہائی میں تیار ہونے والے اس سسٹم کو وقت کے ساتھ ساتھ جدید بنایا گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ 2048 تک سروس میں رہے گا۔

ایک عام پیٹریاٹ بیٹری میں ریڈار، کنٹرول سسٹم، پاور یونٹ، لانچرز اور سپورٹ گاڑیاں شامل ہوتی ہیں۔ یہ سسٹم مختلف قسم کے انٹرسیپٹرز استعمال کر کے دشمن کے طیاروں، ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں اور کروز میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کر سکتا ہے۔

اس سسٹم کی کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کون سا انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیا جا رہا ہے۔ پرانے ’پی اے سی-2‘ انٹرسیپٹر میں ایسا وارہیڈ ہوتا ہے جو ہدف کے قریب پہنچ کر پھٹتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے، جبکہ جدید ’پی اے سی-3‘ فیملی کے میزائل زیادہ درست ”ہِٹ ٹو کِل“ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، یعنی وہ براہ راست ہدف سے ٹکرا کر اسے تباہ کرتے ہیں۔

ریتھیون کمپنی پی اے سی-2 جیم-ٹی انٹرسیپٹر بناتی ہے، جو چھوٹے اور کم فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں یا طیاروں کو گرا سکتا ہے۔ دوسری طرف، لاک ہیڈ مارٹن، جو دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ بنانے والی کمپنی ہے، زیادہ جدید پی اے سی-3 ’میزائل سیگمنٹ اینہانسمنٹ‘ (ایم ایس ای) بناتی ہے، جو زیادہ فاصلے والے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں، طیاروں اور حتیٰ کہ ہائپرسونک میزائلوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس سال جولائی میں، لاک ہیڈ نے ایک نیا انٹرسیپٹر، پی اے سی-3 ’ایڈاپٹڈ کیپیبلٹی ایفیکٹر‘ (اے سی ای) متعارف کرایا ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی قیمت نصف ہوگی لیکن یہ اب بھی کم فاصلے کے میزائلوں، طیاروں اور کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھے گا۔

نیٹو کے مطابق، اس سسٹم کے ریڈار کی رینج 150 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یہ ایک وقت میں 100 تک ممکنہ اہداف کو ٹریک کر سکتا ہے۔

اگرچہ یہ سسٹم اصل میں ہائپرسونک ہتھیاروں کو روکنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا، لیکن مئی 2023 میں امریکا نے تصدیق کی کہ یوکرین نے پیٹریاٹ سسٹم استعمال کر کے روس کے کنزل میزائل کو مار گرایا، جسے روس ہائپرسونک میزائل قرار دیتا ہے۔

ممالک عام طور پر پیٹریاٹ سسٹم کے ذریعے تباہ کیے گئے اہداف کی تعداد کو خفیہ رکھتے ہیں، لیکن یوکرین نے جنوری میں کہا تھا کہ اس نے 250 اہداف تباہ کیے ہیں، جن میں 140 بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔

پیٹریاٹ نے خلیج میں درجنوں ایرانی بیلسٹک میزائل بھی تباہ کیے ہیں، اگرچہ اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ریتھیون کے مطابق، اب تک 240 سے زیادہ پیٹریاٹ فائر یونٹس تیار کر کے ڈیلیور کیے جا چکے ہیں، جبکہ ریتھیون اور لاک ہیڈ نے مل کر ہزاروں انٹرسیپٹر میزائل بنائے ہیں۔

اس وقت دنیا کے 19 ممالک پیٹریاٹ سسٹم استعمال کر رہے ہیں، جن میں امریکا، جرمنی، پولینڈ، یوکرین، جاپان، قطر، سعودی عرب اور مصر شامل ہیں۔ ان میں سے 16 ممالک کے پاس جدید ترین پی اے سی-3 ایم ایس ای میزائل موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، چھ سے آٹھ ممالک نے اپنے ختم ہوتے ہوئے اسٹاک کو دوبارہ بھرنے کے لیے مزید میزائلوں کی درخواست کی ہے۔

پیٹریاٹ سسٹم کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے مطابق، ایک نئی تیار شدہ پیٹریاٹ بیٹری کی قیمت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہوتی ہے، جس میں 400 ملین ڈالر سسٹم کے لیے اور 690 ملین ڈالر بیٹری میں موجود میزائلوں کے لیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ایک پی اے سی-3 انٹرفیسٹر میزائل کی قیمت کا اندازہ 4 ملین سے 5 ملین ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے۔

میزائلوں کے موجودہ اسٹاک کی مخصوص تعداد کلاسیفائیڈ یعنی خفیہ ہے، لیکن سی ایس آئی ایس کا تخمینہ ہے کہ فروری سے جولائی کے درمیان امریکا کے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا تقریباً 65 فیصد حصہ استعمال ہو چکا ہے، اور اب 850 سے بھی کم میزائل باقی ہیں، جبکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تعداد 2 ہزار 330 تھی۔

رائٹرز کے مطابق، خلیجی ممالک میں موجود اسٹاک بھی بری طرح ختم ہو چکا ہے، اور کئی یورپی ممالک نے اپنے ذخائر کا کچھ حصہ یوکرین کو منتقل کر دیا ہے۔ سی ایس آئی ایس نے بتایا کہ سعودی عرب نے جنگ کے پہلے 38 دنوں میں اپنے 2 ہزار 800 پی اے سی-3 انٹرسیپٹرز میں سے تقریباً 86 فیصد استعمال کیے، اور اپریل میں اس کے پاس صرف 400 میزائل باقی رہ گئے۔ دیگر خلیجی ممالک نے بھی اپنے اسٹاک کا اسی طرح کا حصہ استعمال کیا ہے۔

تو کیا ممالک اسٹاک بڑھانے کے لیے مزید پیٹریاٹ خرید رہے ہیں؟

رپورٹ کے مطابق، امریکا نے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کو اسٹاک دوبارہ بھرنے کے لیے 5 ہزار 250 انٹرسیپٹرز کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

رائٹرز نے بتایا کہ امریکا یوکرین کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل بنانے کی اجازت دینے کے لیے بات چیت بھی آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس طرح کے معاہدے پر شک کا اظہار کیا ہے۔ ان مذاکرات میں یوکرین کے لیے یورپ میں کہیں اور حتمی اسمبلی کے لیے کچھ پرزے بنانے کا اختیار بھی شامل ہے۔

گزشتہ ماہ، امریکی فوج نے لاک ہیڈ مارٹن کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل تیار کرنے کے لیے 58.6 بلین ڈالر تک کا کانٹریکٹ دیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت، اسٹریٹجک تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر اعلیٰ سطح مذاکرات متوقع ہیں۔
اپ ڈیٹ 06 اگست 2026 09:58pm

وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کے دورہ سعودی عرب میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری، تجارت، اقتصادی تعاون، اسٹریٹجک شراکت داری اور خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو سعودی عرب کے تین روزہ سرکاری دورے پر جدہ پہنچے، جہاں مکہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشال نے ان کا استقبال کیا۔

وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا پاکستانی وفد بھی سعودی عرب پہنچا ہے، جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔

دورہ سعودی عرب کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات ہوگی جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات اور شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم اپنے دورے کے دوران عمرہ کی ادائیگی کریں گے اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری بھی دیں گے.

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب چھ سے آٹھ اگست تک جاری رہے گا، اس موقع پر ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی طے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اعلیٰ سطح ملاقات میں پاک سعودی تعلقات، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری اور خطے کی مجموعی صورتحال سمیت متعدد باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس تین روزہ سرکاری دورے کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ”ہم آبنائے ہرمز کے مسئلے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اور اس بحری راستے سے متعلق کوئی بھی معاہدہ بہت اہم اہمیت کا حامل ہے“۔

انہوں نے عمان کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم پیش رفت سے متعلق عمان کے مؤثر اقدام کو سراہتے ہیں اور امید ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے بعد تمام تر مسائل خود بخود حل کی طرف بڑھیں گے“۔

طاہر اندرابی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی پانچ اگست کو اردن میں القدس سے متعلق منعقدہ وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اردن، ترکیہ، مصر، الجزائر، ایران اور صومالیہ کے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔

طاہر اندرابی کے مطابق، اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا واحد طریقہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہے۔ اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، سفارتی سطح پر پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی پر مذاکرات کا نیا دور بھی منعقد ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کی۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن کے قیام، سرحدی سلامتی کی بہتری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر اور بھارتی اقدامات کے حوالے سے بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم بھارتی بیان کو کھلے عام رد کرتے ہیں، کیونکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے، تاہم یہ حربے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو ہرگز ختم نہیں کر سکتے“۔

دیگر علاقائی و بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے بنگلہ دیش کے حوالے سے کہا کہ ”پاکستان کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلا نہیں کرتا اور آئی ایس آئی کے کردار پر بھارتی الزام تراشی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے“۔

انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”غزہ میں اسرائیل کی ذمہ داریوں پر مسلسل نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے جبکہ وہاں امن دستے بھیجنے سے متعلق سوال فی الحال قبل از وقت ہے“۔

ترجمان نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں سعودی تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ”پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا“۔

انہوں نے کہا کہ ”افغانستان کی سرزمین سے متحرک دہشت گرد گروہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان نیٹ ورکس کو بھارت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے، بالخصوص بی ایل اے کو بھارت کی مالی حمایت میسر ہے“۔

افغانستان کے علاقے بدخشاں میں طالبان اور ان کے مخالف گروہوں کی جھڑپوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ ”یہ افغانستان کا بالکل اندرونی معاملہ ہے“۔

بریفنگ کے اختتام پر صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ”صومالیہ سے اپنے یرغمال شہریوں کی فوری رہائی ممکن نہ ہونے پر ہم نہایت افسردہ اور غمگین ہیں، لیکن یہ معاملہ ہمارے ریڈار پر مکمل طور پر زندہ ہے اور ان کی محفوظ رہائی کے لیے تمام ممکنہ کوششیں مسلسل جاری ہیں“۔

عمان کے ساتھ نئے ’ہرمز معاہدے‘ سے ایران کو خلیجی جہاز رانی پر بے مثال اختیارات کیسے ملیں گے؟

وہ سمندری راستہ جہاں تمام بین الاقوامی جہاز بغیر کسی فیس یا اجازت کے آزادانہ سفر کرتے تھے، اب کسی ایک ملک کی اجازت محتاج ہوں گے۔
شائع 06 اگست 2026 09:04am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری پانچ ماہ طویل کشیدگی کے بعد خلیجی خطے کی اہم ترین سمندری راہداری آبنائے ہرمز پر علاقائی طاقت کا توازن تیزی سے بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران اور اس کے پڑوسی ملک عمان کے درمیان ایک ایسے اہم معاہدے پر بنیادی پیش رفت ہو چکی ہے جس کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے تمام تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی نگرانی کے اختیارات تہران کو حاصل ہو جائیں گے۔

تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ اس بین الاقوامی سمندری راستے پر، جہاں ماضی میں تمام بین الاقوامی جہاز بغیر کسی فیس یا اجازت کے آزادانہ سفر کرتے تھے، اب کسی ایک ملک کی اجازت محتاج ہوں گے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ”تہران اور مسقط نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی نئی سمندری راہداری کے جغرافیائی انتظام پر اتفاق کر لیا ہے اور دونوں ممالک اس سمجھوتے کے اہم نکات پر مبنی مشترکہ اعلامیے کو حتمی شکل دے رہے ہیں“۔

اس کے ساتھ ہی ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے انکشاف کیا ہے کہ ”نئے طریقہ کار کے تحت تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کی راہداری اس طرح ترتیب دی گئی ہے کہ جہازوں کے آنے اور جانے والے دونوں راستے بنیادی طور پر ایرانی سمندری حدود سے گزریں گے“۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ”تہران اور مسقط کے درمیان بنیادی باتیں طے پا چکی ہیں اور یہ پیش رفت حتمی مرحلے میں ہے“۔

اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو یہ ایران کے لیے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سفارتی اور اسٹریٹیجک فتح تصور کی جائے گی۔ کیونکہ عالمی سطح پر خام تیل اور ایل این جی کی کُل سپلائی کا پانچواں حصہ یعنی 20 فیصد اسی تنگ راستے سے گزرتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، مجوزہ معاہدے کے تحت پرانی عارضی راہداریوں کو ختم کر کے ایک نیا راہداری نظام قائم کیا جائے گا، اور ایران نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کے سامان کی مالیت پر 5 سے 7 فیصد تک ٹرانزٹ فیس مانگی ہے، جبکہ عمان 3 فیصد کا حامی ہے اور امریکا کسی بھی قسم کی فیس عائد کرنے کے خلاف ہے۔

اس تمام تر سفارتی حل کے پیچھے تہران کی جانب سے خلیجی ممالک کو دی جانے والی وہ سخت اور واضح تنبیہ بھی شامل ہے جس نے امریکی فیصلے کو متاثر کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے اس کی تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ پورے خطے کے توانائی کے ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔

ایک ایرانی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”دشمن ہماری تنصیبات کو دھمکیاں دے رہا ہے، اگر ایران کو نقصان پہنچا تو ہم اس سے کہیں زیادہ بڑا نقصان پہنچائیں گے اور انہیں اب بھی 2019 کا آرامکو حملہ یاد ہونا چاہیے“۔

رائٹرز کے ایک خلیجی ذریعہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ”ایران کی تنبیہ بالکل واضح تھی کہ امریکی حملے کی صورت میں وہ خلیجی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنائیں گے، اسی لیے سعودی عرب کا ماننا ہے کہ مزید تنازع صرف تباہی لائے گا اور ریاض نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ سفارت کاری کو موقع دیں“۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیشِ نظر جنگ ختم کرنے کا شدید عوامی اور سیاسی دباؤ ہے۔

ٹرمپ نے نیواڈا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بدلتے ہوئے موقف کا اظہار کیا اور کہا کہ ”میں سمجھوتہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، میں انسانوں کو نہیں مارنا چاہتا“۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار حل کے لیے سفارتی راستے پر ہی عمل پیرا رہیں۔

تاہم اس معاہدے پر تاحال کچھ آپریشنل اور قانونی سوالات باقی ہیں، ایک ایرانی ذریعہ کا کہنا ہے کہ ”اصل چیلنج باریکیوں میں چھپا ہے، جہاں ٹرمپ کا ایک واحد ٹویٹ بھی اس پورے عمل کو منسوخ کر سکتا ہے“۔

عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر اتفاق ہو گیا، اعلان جلد متوقع: ایران

تہران نے خطے میں امریکی اقدامات کو بحری سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
شائع 05 اگست 2026 09:39pm

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں اور مشترکہ اعلان کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تاہم تہران کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور امریکی فوجی اقدامات کے باعث محفوظ جہاز رانی کی مکمل ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق طے پانے والی مفاہمت ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس سے خود بخود اس اہم بحری گزرگاہ میں مکمل تحفظ یقینی نہیں ہو جاتا۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ٹیلی گرام پیج پر جاری بیان میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ پیدا کرنے والے کئی بنیادی عوامل اب بھی موجود ہیں۔

انہوں نے خطے میں کشیدگی کی وجوہات میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکا بندی، فوجی دباؤ اور دیگر جارحانہ و دھمکی آمیز اقدامات کا حوالہ دیا۔ ایرانی ترجمان کے مطابق جب تک یہ عوامل برقرار رہیں گے، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے مکمل تحفظ کی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔

دوسری جانب ’العربیہ‘ مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق رائے تک پہنچ گئے ہیں، جب کہ دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلان کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان مذاکرات پیشہ ورانہ انداز میں جاری ہیں اور دونوں فریق زیر غور بحری راستے کے جغرافیائی دائرہ کار پر باہمی مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران پاکستان اور قطر کے ساتھ مختلف امور پر رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم وزیر خارجہ عباس عراقچی یا پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے فی الحال دونوں میں سے کسی بھی ملک کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کے راستے کے تعین اور نگرانی میں ایران کو زیادہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق معاہدے کے بعض اہم نکات پر مزید بات چیت باقی ہے۔

دوسری طرف امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو کرنے والے ایک خلیجی عہدیدار نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکانات تقریباً 50 فی صد ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت بہت اچھی جاری ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کسی ممکنہ معاہدے سے پیچھے ہٹا تو امریکا سخت کارروائی کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے الگ بیان میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی سمجھوتے کا اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔

ایران نے تاہم امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جاری بات چیت صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملات حل کرنے کے لیے ہو رہی ہے۔

ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ایک محفوظ راستہ تلاش کرنا ہے، تاہم تہران کا مؤقف ہے کہ علاقائی بحری سلامتی صرف دوطرفہ معاہدوں سے ممکن نہیں بل کہ خطے میں موجود تمام طاقتوں کے اقدامات بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے تین مختلف بحری راستے

ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز سے متعلق تین مختلف بحری راستے زیر بحث آئے ہیں، جن میں سے ہر ایک کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔

ایرانی راستہ:

پہلا راستہ ایران کی اپنی علاقائی سمندری حدود سے گزرتا ہے۔ ایران نے 19 جون سے تمام تجارتی جہازوں کو اسی راستے کے استعمال کی ہدایت دے رکھی ہے اور اسے آبنائے ہرمز کا واحد محفوظ راستہ قرار دیا ہے۔

تہران اس راستے کو نہ صرف بحری تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتا ہے بل کہ اسے مذاکرات میں دباؤ کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ دیگر راستوں کے مقابلے میں اس راستے پر زیادہ نگرانی اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے ان بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو اس کے مقرر کردہ راستے کے بجائے دیگر گزرگاہوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان واقعات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی بھی متاثر ہوئی۔

عمان اور عالمی بحری تنظیم کا راستہ:

دوسرا راستہ عمان اور اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے کی جانب سے تجویز کیا گیا ہے۔ یہ گزرگاہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمانی ساحل کے قریب سے گزرتی ہے۔

ایران نے اس راستے پر اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسے امریکی دباؤ کے تحت فعال کیا جا رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آبنائے ہرمز کے معاملات میں بیرونی مداخلت بڑھ سکتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق عمانی سمندری حدود کے قریب بعض تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے منافی ہیں۔

جنگ سے پہلے والا روایتی راستہ:

تیسرا راستہ وہ بحری گزرگاہ ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی سے پہلے معمول کے مطابق استعمال ہوتی تھی۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے مرکزی حصے سے گزرتا ہے جہاں سے دنیا بھر کے تجارتی جہاز بلا رکاوٹ آمدورفت کرتے تھے۔

ایران نے اب اس راستے کو خطرناک علاقہ قرار دے رکھا ہے، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باوجود بعض بحری جہاز اب بھی اسی راستے کو استعمال کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس گزرگاہ کو درپیش خطرات میں ممکنہ بحری بارودی سرنگیں، فوجی کشیدگی اور اچانک کارروائیوں کا خدشہ شامل ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے جنگ سے پہلے عالمی توانائی کی تقریباً 20 فی صد رسد گزرتی تھی۔ یہ راستہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں تک ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی سلامتی عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔

'آبنائے ہرمز آج کُھل جائے گی': ٹرمپ کا دعویٰ؛ ایران کا انکار

عمان کے ساتھ جہاز رانی سے متعلق ممکنہ معاہدے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کو فوری کھول دیا جائے گا: ایران
شائع 05 اگست 2026 02:20pm

آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں تیزی آ گئی ہے، تاہم واشنگٹن اور تہران کے بیانات میں شدید تضاد برقرار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کیلیفورنیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ آج یعنی بدھ کے روز سامنے آ سکتا ہے، اس سلسلے میں بہت پیش رفت ہوئی ہے“۔

واضح رہے کہ عالمی معیشت کی شاہراہ سمجھے جانے والے اس راستے کی بندش سے دنیا بھر میں ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں اور ٹرمپ کو رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے اندرونی دباؤ کا سامنا ہے، جس کی امید پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 1.2 فیصد تک نیچے آ گئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری بات چیت کا واشنگٹن سے کوئی تعلق نہیں۔

ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن اور رکنِ پارلیمنٹ اسماعیل کوثری نے ٹرمپ کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”ٹرمپ کا مذاکرات کا طریقہ کار متضاد اور ناقابلِ اعتماد ہے۔ ٹرمپ نے 75 بار یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ آبنئاے ہرمز کھلی ہوئی ہے، 106 بار ایران کی شکست اور 88 بار فوری معاہدے کا اعلان کیا ہے“۔

اس کے ساتھ ہی ایرانی میڈیانے سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ”عمان کے ساتھ جہاز رانی سے متعلق ممکنہ معاہدے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کو فوری کھول دیا جائے گا۔ جب تک امریکی خلاف ورزیاں بند نہیں ہوتیں اور واشنگٹن اپنا رویہ درست نہیں کرتا، یہ راستہ بند رہے گا“۔

اس وقت بھی آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری جہازوں کی آمد و رفت حد سے زیادہ محدود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے پہلے جہاں روزانہ 130 سے 140 بحری جہاز ہرمز سے گزرتے تھے، وہاں اب یہ تعداد محض 8 جہازوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی ناکہ بندی کے بعد باب المندب کے راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی آدھی رہ گئی ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ مل کر نئے بحری راہداری کے انتظام پر غور کر رہا ہے، لیکن امریکی فوجی دھمکیوں اور مداخلت کے باعث ان کوششوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔

ایران جنگ: طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب

ٹرمپ ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے شروع کرتے ہیں تو انہیں پائلٹ والے بمبار طیاروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
شائع 05 اگست 2026 10:20am

ایران کے ساتھ جاری پانچ ماہ طویل جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے انتہائی درست نشانہ لگانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کے عالمی ذخائر کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے، جس سے مستقبل کے ممکنہ تنازعات کے لیے امریکی فوجی تیاریوں کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکی فوج نے اپنے زمین سے زمین پر مار کرنے والے اہم ہتھیاروں، بالخصوص اٹیکمس (ATACMS) اور پریسجن اسٹرائیک میزائلوں (PrSM) کا بڑا ذخیرہ تقریباً ختم کر دیا ہے۔

یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار، جن میں سے ایک کی قیمت 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے، امریکی فوج کو محفوظ فاصلے سے درست نشانہ بنانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

تاہم ان میں تیزی سے ہوتی کمی کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے شروع کرتے ہیں تو انہیں پائلٹ والے بمبار طیاروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق، جنگ طویل ہونے کے باعث دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ میزائلوں کے کم ہوتے ذخائر سے روس اور چین جیسے دیگر عالمی حریفوں کو روکنے کی امریکی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان خدشات کی تردید کرتے ہوئے امریکی فوجی صلاحیت کو مضبوط قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ”امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اور ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ ہتھیار موجود ہیں، اور اس وقت ہماری دفاعی کمپنیاں کسی بھی دور سے زیادہ پیداوار کر رہی ہیں اور اپنے کارخانوں کو ریکارڈ سطح پر وسعت دے رہی ہیں“۔

اسی طرح پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس صدر کے حکم پر ہر جگہ کارروائی کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔ ہم نے اپنے لوگوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف محاذوں پر کامیاب آپریشنز کیے ہیں“۔

اگرچہ حکومت کے اندر اعلیٰ سطح پر ان خدشات پر شدید بحث جاری ہے کہ ذخائر متاثر کیے بغیر ایران کے خلاف کتنی دیر تک کارروائی جاری رکھی جا سکتی ہے، تاہم واشنگٹن میں موجود دیگر معتبر دفاعی اداروں کی رپورٹیں بھی ذخائر میں بڑی کمی کی نشاندہی کر رہی ہیں۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق فروری سے جولائی کے دوران امریکا کے پاس موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً 65 فیصد حصہ استعمال ہو چکا ہے، جبکہ دفاعی تھاڈ سسٹم کے میزائل بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں کم از کم 38 فیصد کم ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بحریہ کے بحری جہازوں اور آبدوزوں سے چلائے جانے والے مشہور ٹوما ہاک کروز میزائلوں کا بھی تقریباً آدھا عالمی ذخیرہ اس جنگ کی نذر ہو چکا ہے، جس کے بعد اب امریکی وزارتِ دفاع اور اس کی تیاری کرنے والی کمپنیوں کے درمیان پیداوار بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر معاہدے کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی قیادت میں اختلافات کی ’افواہیں‘؛ استعفے کی خبریں بے بنیاد ہیں: صدر مسعود پزشکیان

میں استعفا نہیں دوں گا بلکہ ڈٹا رہوں گا: ایرانی صدر
شائع 05 اگست 2026 08:59am

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ شدید اختلافات سے متعلق تمام افواہوں اور خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اقتدار کے دو سال مکمل ہونے پر قومی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ وہ اپنے عہدے پر برسرِ پیکار رہیں گے اور بطور صدر اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت اور ملکی مسلح افواج کے درمیان کامل ہم آہنگی اور مکمل رابطہ موجود ہے۔

اپنے استعفے کی اطلاعات پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ”اگر میں کبھی مستعفی ہونا چاہوں گا تو اس کا باضابطہ طور پر خود اعلان کروں گا، میں استعفا نہیں دوں گا بلکہ ڈٹا رہوں گا“۔

برطانوی خبر رساں ارادے ’دی گارڈین‘ کے مطابق، صدر پزشکیان کے استعفے کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب نئے سپریم لیڈر سے خاندانی تعلق رکھنے والے سیاست دان محمد باقر خرازی نے دعویٰ کیا کہ صدر نے فیصلوں سے الگ کیے جانے پر بارہا تحریری اور زبانی استعفے کی دھمکی دی ہے۔

تاہم سپریم لیڈر کے دفتر نے ان خبروں کو بنیاد پرست اور مکمل طور پر جھوٹا قرار دیا ہے۔

صدر پزشکیان کے دفتر کے سینئر رکن مہدی طباطبائی نے بھی ان رپورٹس کو محض جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایک انتہا پسند اور دھوکے باز گٹھ جوڑ قومی انتخابات کے جمہوری نتائج کو قبول کرنے سے قاصر ہے اور دو سال گزرنے کے بعد بھی عوام کے فیصلے کا بدلہ لینے کے لیے ایران کے دشمنوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنا ہوا ہے“۔

آبنائے ہرمز پر ممکنہ معاہدے کی امید: عالمی منڈی میں خام تیل 80 ڈالر سے نیچے آگیا

امریکی وزیر خارجہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیان کے بعد خام تیل کی قیمتیں 3 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگئیں
شائع 04 اگست 2026 09:47pm

امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کی امید پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیان کے بعد خام تیل پہلی بار 13 جولائی کے بعد 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت نمایاں کمی دیکھی گئی جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی سے گفتگو میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق معاہدہ ”آج یا کل“ طے پانے کا امکان ہے۔

اس بیان کے بعد عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت 79.50 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو 13 جولائی کے بعد پہلی مرتبہ 80 ڈالر سے نیچے آئی۔

اسی طرح امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی 5.5 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی اور یہ 75.77 ڈالر فی بیرل تک آگیا، جو گزشتہ 3 ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔ بعد میں ڈبلیو ٹی آئی میں معمولی بہتری آئی اور یہ تقریباً 4.3 فیصد کمی کے ساتھ 76.90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں نے اسکاٹ بیسنٹ کے بیان کو مثبت اشارہ سمجھتے ہوئے خرید و فروخت کے فیصلے کیے تاہم امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے مستقبل اور مذاکرات کے نتائج پر اب بھی غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔

دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے جاری کوششیں ”انتہائی مثبت مرحلے“ میں داخل ہو چکی ہیں۔

ادھر مارکیٹ میں سرمایہ کار آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ تیل کی ترسیل معمول پر آ رہی ہے یا نہیں، تاہم شپنگ سیکٹر کے بعض تجزیہ کار اس حوالے سے اسکاٹ بیسنٹ کے اندازے کے مقابلے میں زیادہ محتاط مؤقف رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ گزشتہ ماہ 23 جولائی کو برینٹ خام تیل 100.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا تاہم بعد ازاں خطے میں کشیدگی میں کمی کی توقعات کے باعث قیمتوں میں بتدریج کمی آنا شروع ہوگئی۔

اگرچہ امریکی حکام مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کر رہے ہیں تاہم ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئیں جب کہ ایران نے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کئی بار مذاکرات کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ کشیدگی میں اضافے سے خام تیل مہنگا ہوا جس کے اثرات دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ سے قبل دنیا بھر میں یومیہ سپلائی ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔

چند گھنٹوں میں امریکا ایران معاہدے کی امید ہے: قطر

قطر، عمان اور پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں معاونت کر رہے ہیں: قطری وزارتِ خارجہ
اپ ڈیٹ 05 اگست 2026 10:33am

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران آئندہ چند گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچنے سکتے ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری ثالثی کی کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم ثالث ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ قطر، عمان اور پاکستان سمیت ثالثی کرنے والے ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں، مجوزہ معاہدوں کے مسودوں کے تبادلے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے معاونت میں مصروف ہیں۔

آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے قطری ترجمان نے کہا کہ قطر کا مؤقف ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھلنا چاہیے اور یہاں جہاز رانی اسی طرح جاری رہنی چاہیے جیسے ماضی میں جاری تھی۔

ماجد الانصاری کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے تاہم امریکا نے اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

قطری ترجمان نے کہا کہ ان کے ملک کے نزدیک آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کا فیصلہ علاقائی ممالک کو مل کر کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور عالمی توانائی کی ترسیل بلا تعطل برقرار رہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوحہ ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، امید ہے کہ امریکا اور ایران آئندہ چند روز یا گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک یا دو روز میں معاہدے کا امکان ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران معاہدے کا باضابطہ اعلان سامنے آسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر ایک دو روز میں معاہدے کا امکان ہے: امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ

مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا: اسکاٹ بیسنٹ
اپ ڈیٹ 04 اگست 2026 08:26pm

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے پر ایران کے ساتھ ایک دو روز میں معاہدے کا امکان ہے، ایرانی حکام سے بات چیت کررہے ہیں، آج یا کل معاہدہ طے پانے کے بعد تیل اور انرجی کی قیمتوں میں کمی بھی متوقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا، جس سے عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام اور تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کے پروگرام ”اسکواک باکس“ میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ آج یا کل، یعنی منگل یا بدھ تک ایسا معاہدہ طے پا جائے جس کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو جائے گی اور موجودہ کشیدگی معمول کی صورت حال کی جانب بڑھ سکے گی۔

اسکاٹ بیسنٹ سے سوال کیا گیا کہ آیا ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت دی جائے گی، جس پر انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدہ آزادانہ آمدورفت پر مبنی ہوگا اور تجارتی بحری جہازوں کو بلا رکاوٹ گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

امریکی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اگرچہ گزشتہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز کی صورت حال غیر یقینی رہی تاہم اب بھی متعدد بحری جہاز وہاں سے گزر رہے ہیں اور کئی جہازوں نے روانگی کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سیکڑوں، بلکہ ممکنہ طور پر ایک ہزار کے قریب بحری جہاز آبنائے ہرمز میں روانگی کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق معاملہ صرف خام تیل تک محدود نہیں بلکہ کھاد، ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات اور مختلف صنعتی گیسوں کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے جب کہ آبنائے کھلنے سے عالمی سپلائی چین میں بہتری اور قیمتوں میں نمایاں ریلیف آ سکتا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ کے بیان کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں بھی فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی اور قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ جب خلیج فارس میں پھنسے سیکڑوں بحری جہاز روانہ ہونا شروع ہوں گے تو توانائی کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے، جو پوری دنیا کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی۔

آج ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران معاہدے کا باضابطہ اعلان سامنے آسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی حملے کا منصوبہ مؤخر کیا تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔ تاہم صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی بار معاہدہ قریب ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن بعد ازاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی رہی ہے۔ حالیہ مذاکراتی پیش رفت کو اسی سفارتی عمل کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران نے 17 جون کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے تھے، جس کے بعد مختصر مدت کے لیے بحری آمدورفت میں بہتری آئی تاہم بعد ازاں یہ معاہدہ اس اختلاف کے باعث ناکام ہوگیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز کس بحری راستے کو استعمال کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے ان آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا جو امریکی فوجی تحفظ میں عمان کے ساحلی راستے سے آبنائے ہرمز عبور کر رہے تھے جب کہ تہران کا مؤقف تھا کہ جہازوں کو آبنائے استعمال کرتے وقت ایرانی علاقائی پانیوں سے گزرنا چاہیے۔

اس کے جواب میں امریکا نے ایران کے خلاف ایک درجن سے زائد فضائی حملوں کی کارروائیاں کیں اور ایران پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

آبنائے ہرمز پر معاہدے میں پیشرفت ہوئی مگر حتمی اتفاق نہیں ہوا

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اور عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے مزید بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔

انھوں نے محکمہ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ہمیں امید ہے کہ بہت جلد معاہدہ طے پا جائے گا تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جب کہ تہران اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کرچکا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ 

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور ممکنہ معاہدے کے مسودے مختلف فریقوں کے درمیان گردش کر رہے ہیں۔

قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق قطر اور عمان دونوں ممالک کے درمیان تجاویز اور مسودوں کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں سنگین معاشی اور عسکری بحران: امریکی دباؤ کے خلاف ایران کی نئی حکمتِ عملی کیا ہے؟

ایرانی حملوں کا مقصد کوئی حتمی فوجی فتح حاصل کرنا نہیں ہے: رائٹرز
شائع 04 اگست 2026 08:35am

مشرقی وسطیٰ کی معاشی اور عسکری صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے خلیجی حکام اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے امریکا سے رعایتیں حاصل کرنے کے لیے ایک نئی اور وسیع حکمتِ عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کا خیال ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جاری اس کشیدگی میں خطے کی تجارتی گزرگاہوں، بحری راستوں اور توانائی کی تنصیبات کو دباؤ کے مرکز میں بدل کر طویل عرصے تک مقابلہ کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایران کا مقصد کوئی حتمی فوجی فتح حاصل کرنا نہیں، بلکہ کشیدگی کو ایک طے شدہ حد میں رکھتے ہوئے اس کا دائرہ پھیلا کر امریکی دباؤ کو ناکام بنانا ہے تاکہ کسی بڑی جنگ کے بغیر ہی امریکا سے اپنی شرائط منوائی جا سکیں۔

رائٹرز کا کہنا ہے کہ تہران کی اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ باور کروانا ہے کہ بحران کو دبانے کی قیمت ایران کے مطالبات تسلیم کرنے سے کہیں زیادہ بھاری ہے۔

ایران کا واضح پیغام ہے کہ اگر واشنگٹن نے آبنائے ہرمز پر تہران کے کردار کو قبول نہ کیا تو یہ تنازع خلیجی خطے سے باہر بھی پھیل سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق، واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے ماہر مائیکل نائٹس کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ ”ایران نے شروع سے ہی امریکا کو شدید دباؤ میں لانے کے لیے اپنے اختیارات کا دائرہ کار پھیلایا ہے تاکہ ہر ہفتے اس کے پاس لانے کے لیے کچھ نیا ہو، جیسے نیا جغرافیہ، نئے ہتھیار یا نئے اہداف“۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”ایران کا بڑا فائدہ یہ نہیں کہ وہ امریکا یا اسرائیل کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ ان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ علاقائی ریاستوں اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں“۔

واضح رہے کہ عالمی توانائی کی مصنوعات کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، لیکن اب تہران نے یہ اشارہ دیا ہے کہ کوئی بھی سمندری گزرگاہ اس کے اثر سے محفوظ نہیں ہے۔

رائٹرز کے مطابق، بحیرہ احمر اور سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات کو درپیش خطرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران عالمی تجارت کے تحفظ کی قیمت بڑھانا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز کا ماننا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی جنگ میں نہ الجھنے کی خواہش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

رائٹرز نے ایک خلیجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ”ایرانیوں کا ماننا ہے جنگ کو وسعت دے کر اور دباؤ بڑھا کر وہ آخر کار ٹرمپ کو جھکنے پر مجبور کر دیں گے۔ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ وہ ایرانیوں پر شدید حملہ کر کے انہیں مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں، لیکن ایرانی پیچھے نہیں ہٹیں گے“۔

تہران کی اسی سوچ پر ان کی مذاکراتی حکمتِ عملی مبنی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات طے ہیں، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں کر رہا۔

رپورٹ میں ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تہران کی قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ماضی میں لچک دکھانے کا نتیجہ صرف واشنگٹن کے مزید دباؤ کی صورت میں نکلا ہے، اس لیے معنی خیز مذاکرات سے پہلے اپنی طاقت اور دباؤ قائم کرنا ضروری ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار مائیکل نائٹس کے مطابق ”ایرانی اپنے اس فائدے کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور وہ آبنائے ہرمز پر اپنی حاکمیت قائم کرنے اور اس گزرگاہ پر انتخابی کنٹرول حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں“۔

سابق امریکی سفارت کار ایلن ایئر کا بھی کہنا ہے کہ تہران کی حکمتِ عملی کا مقصد امریکا کو بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور فوجی حملے روکنے پر مجبور کرنا ہے، ”وہ نہیں چاہتے کہ امریکا حالات کی رفتار طے کرے“۔

اس تنازع کا بنیادی نقطہ آبنائے ہرمز کا مستقبل ہے۔ عمان نے خلیجی ممالک کی حمایت سے ایک تجویز پیش کی ہے جس میں گزرگاہ کے استعمال پر رضاکارانہ فیس شامل ہے، لیکن ایران وہاں اپنا انتظامی کنٹرول اور خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا اختیار چاہتا ہے، جسے واشنگٹن نے صاف مسترد کر دیا ہے۔

امریکی کونسل آن فارن ریلیشنز کے ماہر رے ٹیکے کا کہنا ہے کہ ”اگر اب مذاکرات ہوتے ہیں تو ان کی شرائط وہی (ایران) طے کریں گے، کیونکہ دونوں فریقین ایک دوسرے کا جواب مسلسل دباؤ میں اضافے سے دے رہے ہیں“۔

ماہرین کے مطابق دونوں فریق پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور دباؤ بڑھانے کی یہ دوڑ ایک ایسے بڑے تصادم کا روپ دھار سکتی ہے جو کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گا۔

ایران پر حملوں کی دھمکیاں، پھر یو ٹرن؛ ٹرمپ نے کتنی بار آخری لمحے میں فیصلے بدلے؟

کیا واشنگٹن ایران کے خلاف واقعی جنگ چاہتا ہے یا فوجی دباؤ کو سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے؟
اپ ڈیٹ 03 اگست 2026 07:55pm

مارچ سے اگست تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کم از کم چھ مرتبہ ایران پر بڑے فوجی حملوں، سخت کارروائی یا مکمل تباہی کی دھمکیاں دیں، مگر ہر بار آخری لمحے میں حملے مؤخر کرنے، نئی مہلت دینے، جنگ بندی کی حمایت کرنے یا مذاکرات کے اعلانات کرتے رہے۔ ٹرمپ کے ان مسلسل بدلتے فیصلوں نے نہ صرف امریکی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کیے بل کہ یہ بحث بھی چھیڑ دی کہ آیا واشنگٹن ایران کے خلاف واقعی جنگ چاہتا ہے یا فوجی دباؤ کو سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف منصوبہ بند فوجی کارروائی روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا حملے کی تمام تیاریاں مکمل کر چکا تھا، تاہم دنیا کے مفاد اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے پیش نظر کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان جلد مذاکرات ہوں گے، تاہم تہران نے اس دعوے کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر نہ کوئی ملاقات طے ہے اور نہ ہی مذاکرات کا کوئی شیڈول موجود ہے۔

اگر اس تازہ پیش رفت کو گزشتہ چند ماہ کے واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کا اعلان کیا ہو اور پھر آخری لمحے میں اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا ہو۔

مارچ سے لے کر اب تک وہ متعدد بار ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن دیتے، امریکی فوج کی مکمل تیاریوں کا اعلان کرتے، سخت ترین فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیتے یا ایران کو مکمل تباہی سے خبردار کرتے رہے، لیکن ہر مرتبہ بعد ازاں مذاکرات، جنگ بندی، علاقائی ثالثی یا سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ہی اعلان کردہ کارروائی مؤخر یا منسوخ کر دی۔

ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ جنگ کا آغاز کو اس وقت ہوا جب امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کھلی فوجی محاذ آرائی میں تبدیل ہو گئی۔

ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز بند کر دی، جس سے عالمی تیل کی رسد، بحری تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد کئی ماہ تک فوجی حملوں، جوابی کارروائیوں، جنگ بندیوں، سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔

اسی دوران صدر ٹرمپ کا مؤقف بھی مسلسل بدلتا رہا۔ 21 مارچ کی دھمکی سے شروع ہو کر 7 اپریل کی جنگ بندی، 17 مئی کو حملہ مؤخر کرنے، 11 جون کے مجوزہ فضائی حملوں، یکم اگست کی سخت وارننگ اور اب دوبارہ مذاکرات کی بات تک ان کے فیصلے بار بار تبدیل ہوتے رہے، جس سے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی مسلسل عالمی بحث کا موضوع بنی رہی۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک پیش آنے والے تمام اہم واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی حکمت عملی مسلسل سخت فوجی دباؤ اور سفارتی لچک کے درمیان گھومتی رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کم از کم چھ ایسے نمایاں مواقع آئے جب امریکی صدر نے ایران پر حملے کی دھمکی دی، فوجی کارروائی کی تیاریوں کا اعلان کیا یا حملے کی ڈیڈ لائن مقرر کی، لیکن ہر مرتبہ بعد میں مذاکرات، جنگ بندی، علاقائی ثالثی یا کسی نہ کسی سفارتی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی مؤخر یا منسوخ کر دی۔

ان واقعات کو سمجھنے کے لیے اس پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس عرصے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی۔ آبنائے ہرمز، خلیجی بحری راستوں، توانائی کی تنصیبات، اسرائیل کی سلامتی اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ ایسے اہم نکات تھے جن پر دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی جنگ جاری رہی۔

پہلا بڑا موڑ 21 مارچ کو سامنے آیا، جب صدر ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو امریکا ایرانی بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا۔

یہ بیان سامنے آتے ہی عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم بحری راستہ ہے اور اس علاقے میں کسی بھی فوجی کارروائی کے عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہونے کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تاہم مقررہ مہلت ختم ہونے سے قبل ہی 23 مارچ کو صدر ٹرمپ نے اچانک اپنا مؤقف نرم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے، جس کے باعث توانائی کے مراکز پر مجوزہ حملہ پانچ روز کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔ یوں صرف دو روز قبل دی جانے والی سخت ترین فوجی دھمکی سفارتی رابطوں کے اعلان میں تبدیل ہو گئی۔

اسی دوران 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی ایک اہم کوشش یعنی پہلی جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا، جس میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا کی ایرانی وفد کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔

اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا گیا تھا، تاہم کئی گھنٹوں پر محیط بات چیت کے باوجود فریقین کسی حتمی پیش رفت پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ اگرچہ رابطے برقرار رکھنے اور مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، لیکن بنیادی اختلافات اپنی جگہ موجود رہے، جس کے باعث نہ صرف مذاکرات کسی باضابطہ معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوئے بل کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر سخت بیانات، فوجی دباؤ اور ممکنہ حملوں کی دھمکیاں سامنے آنے لگیں۔

اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف بیانات کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ 11 جون کو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج آج رات ایران پر بہت سخت حملہ کرے گی اور خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

خارگ جزیرہ ایران کی خام تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے ٹرمپ کے اس بیان کے بعد نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا بل کہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی گئی۔ متعدد مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

تاہم چند گھنٹوں بعد ہی امریکی صدر نے پھر اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کے حتمی نکات منظور ہو چکے ہیں، اس لیے طے شدہ فضائی حملے منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میمورنڈم کے بعد جون میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کا اگلا اہم مرحلہ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی شہر برگن اسٹاک میں شروع ہوا، جہاں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا انعقاد کیا گیا تھا۔

ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جب کہ ایرانی وفد کی سربراہی محمد باقر قالیباف کر رہے تھے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا طریقہ کار وضع کرنا، کشیدگی میں کمی لانا اور جنگ بندی سمیت دیگر متنازع امور پر پیش رفت حاصل کرنا تھا۔

برگن اسٹاک میں مذاکرات جاری تھے کہ اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف سخت بیانات دیے اور فوجی کارروائی کا عندیہ دیا۔ امریکی صدر کے ان بیانات نے مذاکراتی ماحول پر بھی اثر ڈالا، جس کے بعد ایرانی وفد نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی سیاسی مشاورت معطل کر دی۔

گو کہ ایرانی وفد اور دیگر اعلیٰ حکام مشاورت کے لیے واپس تہران روانہ ہو گئے تھے، تاہم اس کے باوجود مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے۔ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں برگن اسٹاک میں موجود رہیں اور جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام اور دیگر متنازع معاملات پر ورکنگ گروپس کی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا گیا تھا۔

بعد ازاں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں 60 روزہ روڈ میپ، تکنیکی ورکنگ گروپس کے قیام اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم اس پیش رفت کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی سیاسی اختلافات برقرار رہے اور کشیدگی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔

جولائی کے آغاز میں، جب ایران اور عراق میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور سرکاری سوگ کا سلسلہ جاری تھا، امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مشرقی صوبوں میں نئی فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان حملوں میں بندرعباس، بوشہر، کنارک اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری صلاحیت سے متعلق متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

نو جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیج میں موجود امریکی فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملوں کا ہدف قطر، بحرین، کویت اور دیگر خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات تھیں، جنہیں تہران نے امریکی کارروائیوں کا براہِ راست جواب قرار دیا۔ ان حملوں کے بعد خطے میں ایک مرتبہ پھر جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جانے لگا تھا۔

اسی پس منظر میں یکم اگست کو صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران پر ایسے فوجی حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جس کی شدت دوسری جنگِ عظیم کے بعد نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہیں، تاہم ساتھ ہی عندیہ دیا کہ اگر معاہدہ ہو گیا تو حملہ روک دیا جائے گا۔

اتوار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر منصوبہ بند فوجی حملہ روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے کارروائی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، تاہم ممکنہ سفارتی پیش رفت کے پیش نظر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات ہوں گے، تاہم تہران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات چیت طے نہیں ہوئی۔

بعد ازاں امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان جلد مذاکرات ہوں گے اور دونوں ممالک ایک بار پھر سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازع کے حل کی کوشش کریں گے۔

تاہم تہران نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی ملاقات یا مذاکرات طے نہیں ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کیے گئے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے مذاکراتی دور پر اتفاق نہیں ہوا۔

یوں ایک مرتبہ پھر امریکی اور ایرانی مؤقف میں واضح تضاد سامنے آیا۔ ایک جانب وائٹ ہاؤس سفارتی پیش رفت کی بات کر رہا ہے، جب کہ دوسری جانب تہران ایسے کسی عمل کی موجودگی سے انکار کر رہا ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتِ حال اور بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ کے پیش نظر پاکستان سمیت بین الاقوامی برادری اور خلیجی ممالک نے دوبارہ کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں تیز کر دیں۔

مارچ سے اگست 2026 تک تقریباً ہر بڑے مرحلے پر ایک ہی طرزِ عمل دکھائی دیتا ہے۔ پہلے سخت بیانات، فوجی کارروائی کی دھمکیاں، ڈیڈ لائنز اور حملوں کے اعلانات، لیکن بعد میں انہی مواقع پر مذاکرات، جنگ بندی، علاقائی ثالثی یا سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی روکی گئی۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی میں دو متوازی حکمت عملیاں بیک وقت دکھائی دیتی ہیں۔ ایک جانب وہ انتہائی سخت بیانات اور فوجی طاقت کے اظہار کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دباؤ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری جانب سفارتی راستہ کھلا رکھتے ہوئے مذاکرات، جنگ بندی یا ثالثی کی حمایت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرزِ عمل کا مقصد ممکنہ طور پر فوجی کارروائی سے پہلے سیاسی اور سفارتی دباؤ کو آخری حد تک استعمال کرنا ہوتا ہے، تاہم بار بار سخت اعلانات کے بعد فیصلوں میں تبدیلی سے امریکی پالیسی کے تسلسل، پیش گوئی کی صلاحیت اور اس کی عملی سمت پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

مارچ سے اب تک پیش آنے والے واقعات مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے معاملے پر امریکی حکمت عملی مسلسل فوجی دباؤ اور سفارت کاری کے درمیان جھولتی رہی ہے۔ اگرچہ ہر مرحلے پر جنگ کے خدشات پیدا ہوئے، لیکن ہر بار کسی نہ کسی مرحلے پر سفارتی راستہ اختیار کر لیا گیا۔

اس کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی تنازعات بدستور برقرار ہیں۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز، اسرائیل سے متعلق کشیدگی اور خطے میں اثر و رسوخ جیسے بنیادی معاملات پر اب تک کوئی مستقل پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

اسی لیے تازہ اعلان کے باوجود خطے کی صورتِ حال غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا موجودہ کشیدگی بالآخر کسی پائیدار سفارتی حل کی طرف بڑھے گی یا ایک مرتبہ پھر فوجی محاذ آرائی کے خدشات سر اٹھائیں گے۔

'ایران سے دو شرائط پر مذاکرات آج سے شروع ہوں گے': صدر ٹرمپ کا اعلان

تہران کے ساتھ بات چیت ایک خاص مذاکراتی فریم ورک کے تحت جاری ہے: صدر ٹرمپ
شائع 03 اگست 2026 08:37am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ہونے والی ممکنہ عسکری کارروائی کو فوری طور پر منسوخ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز آج دوپہر سے ہو رہا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ اور بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ تہران کے ساتھ بات چیت ایک خاص مذاکراتی فریم ورک کے تحت جاری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور خود ایران کی درخواست پر حملے کو روکا گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے بھی اس وقت حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی ترجیح کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، ہماری ترجیح ایک جامع معاہدہ کرنا ہے کیونکہ جنگ میں بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں اور ہم ایسا نہیں چاہتے“۔

امریکی صدر کے مطابق حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہوگی جس میں دو بنیادی شرائط شامل ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر کھولا جائے اور دوسری شرط کے طور پر ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے۔

ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگرچہ وہ سفارت کاری کو موقع دے رہے ہیں لیکن امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائی کا اختیار موجود ہے اور اس وقت امریکا کی خطے میں عسکری تیاری ایسی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔

دوسری طرف بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فیصلے میں خطے کے ممالک کا اہم کردار رہا، جہاں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان، قطر، یو اے ای اور ترکیہ نے بھی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی دباؤ بڑھایا۔

سفارتی محاذ پر پیش رفت کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، عمانی حکام، اور سعودی و ترک وزرائے خارجہ سے رابطے کیے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یورپ میں امریکا کے ٹاپ جنرل الیکسز گرینکیوچ نے پینٹاگون کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ایرانی میزائلوں سے اسرائیل کو مکمل محفوظ رکھنا ناممکن ہے اور خطے میں امریکی بحری فورس کی تعداد اتنی نہیں کہ وہ اسرائیل کا مکمل دفاع کر سکے۔

'مشرقِ وسطیٰ چھوڑ دیں یا انخلا کے لیے تیار رہیں': امریکا کی اپنے شہریوں کو ہدایت

صورت حال اچانک بگڑنے سے فضائی سفر اور نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے: امریکی سفارت خانوں کا شہریوں کے لیے الرٹ
اپ ڈیٹ 01 اگست 2026 08:35pm

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ خطے میں صورت حال اچانک بگڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں فضائی سفر اور نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے لہٰذا شہری انخلا پر غور کریں یا ہنگامی صورت حال میں انخللا کے لیے تیار رہیں۔

اردن، اسرائیل اور عراق سمیت خطے کے دیگر ممالک میں موجود امریکی سفارت خانوں کی جانب سے جاری کیے گئے سیکیورٹی الرٹس میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری موجودہ صورت حال میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر ممکن ہو تو خطے سے باہر نکلنے پر غور کریں۔

امریکی سفارت خانوں نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی شہریوں کو غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے کیوں کہ خطے میں کشیدگی بڑھی تو پروازوں کی منسوخی اور فضائی حدود کی عارضی بندش سے سفری نظام میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

سیکیورٹی الرٹس میں امریکی شہریوں کو کشیدگی بڑھنے کی صورت میں اپنی پروازوں کی معلومات مسلسل چیک کرنے اور مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے اردن میں امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی فوجی اڈوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔

اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے قریب ترین موجود بم شیلٹرز سے آگاہ رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری پناہ حاصل کی جا سکے۔

یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی حکومت کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا طرزِ عمل غیر متوقع ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے بغیر پیشگی اطلاع کے خطے میں حملے کیے ہیں اور اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار ان علاقوں تک بڑھایا ہے جنہیں پہلے نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، جس میں مصر بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز مصر کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز امریکی کمپنی کی ملکیت گیس بردار جہاز پر ڈرون حملہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں جہاز پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ایران نے اس حملے کی تردید کی ہے جب کہ مصری حکام کی جانب سے بھی تاحال کسی ملک یا گروہ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی فوج نے امریکا پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک امریکا کے لیے دفاعی ڈھال کا کردار ادا کرے گا، وہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان چند روز کی نسبتاً خاموشی کے بعد اس ہفتے رات کے وقت ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ شروع ہوا، تاہم جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کسی نئے حملے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کی ہدایت دے چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور یہ حملے ویک اینڈ کے اختتام تک کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔

ایران نے بھی ان رپورٹس کے بعد امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات سمیت کسی بھی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اسرائیل کو ایرانی حملوں سے بچانے کے لیے وسائل ناکافی ہیں: امریکی جنرل کا حکومت کو انتباہ

جنگی سامان نہ ملا تو اسرائیل یا امریکا میں سے کسی ایک کا ہی تحفظ کرسکیں گے: جنرل الیکسس گرین کیوچ
شائع 01 اگست 2026 06:57pm

امریکی فوج کی یورپی کمان (ای یو کام) کے سربراہ جنرل الیکسس گرنکیوچ نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ ان کے پاس اسرائیل کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے لیے مطلوبہ بحری وسائل موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مزید بحری جنگی جہاز فراہم نہ کیے گئے تو وہ امریکی سرزمین کے تحفظ کو فوقیت دیتے ہوئے اسرائیل کا دفاع نہیں کرسکیں گے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنرل الیکسس گرنکیوچ نے رواں ہفتے پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ یورپی کمانڈ کے پاس موجود وسائل اسرائیل کے دفاع کے لیے ناکافی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی بحریہ کا ایک اور ’طیارہ بردار جہاز‘ فراہم نہ کیا گیا تو انہیں اسرائیل کے بجائے صرف امریکی دفاع کو ترجیح دینا ہوگی۔

ایک امریکی دفاعی عہدیدار کے مطابق فوجی کمانڈرز کی جانب سے اس نوعیت کی تحریری تنبیہ غیر معمولی نہیں ہوتی کیوں کہ جب وسائل محدود ہوں اور مختلف محاذوں پر ان کی ضرورت بڑھ جائے تو اعلیٰ فوجی حکام ممکنہ خطرات سے پینٹاگون کو آگاہ کرتے ہیں تاکہ پالیسی ساز مناسب فیصلے کر سکیں۔

ہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری پانچ ماہ طویل تنازع ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدہ معطل ہونے کے بعد دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث امریکی فضائی دفاعی نظام اور میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز کئی برس سے مشرقی بحیرۂ روم میں اسرائیل کے دفاعی نظام کا حصہ رہے ہیں۔ جدید ریڈار اور میزائلوں سے لیس یہ جنگی جہاز نہ صرف ایران بلکہ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو بھی فضا میں ہی تباہ کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے فیصلے سے امریکی بحریہ پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی فوج کی یورپی کمانڈ بحیرۂ روم میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اسے نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کے دفاع کے لیے روس سے ممکنہ خطرات پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ روس کے پاس ایسے بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اسپین کے شہر روٹا میں امریکی بحریہ کے پانچ طیارہ برادر جہاز تعینات ہیں جب کہ چھٹا جہاز رواں سال اسی علاقے میں پہنچنے والا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث ان جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے وسائل کی دستیابی مزید متاثر ہوئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق جمعہ تک امریکی بحیرہ کے دو طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس پال اگنیشس‘ اور ’یو ایس ایس روزویلٹ‘ مشرقی بحیرۂ روم میں موجود تھے، جب کہ ’یو ایس ایس آرلی برک‘، ’یو ایس ایس بلکلی‘ اور ’یو ایس ایس آسکر آسٹن‘ روٹا میں تعینات تھے۔

اس کے علاوہ بحیرۂ عرب میں امریکا کے دو طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش‘ اور ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ سمیت کم از کم 15 جنگی جہاز موجود ہیں، جن میں 11 طیارہ بردار ہیں۔ یہ بحری بیڑا تجارتی جہازوں کی حفاظت اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے تحت آبنائے ہرمز میں موجود ہے۔

دوسری جانب ’یو ایس ایس گونزالیز‘ بحیرۂ احمر میں تعینات ہے، جہاں یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔ سعودی عرب نے بھی اس سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ امریکی عوام میں بتدریج غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے، جب کہ کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی جنگ کے خاتمے کے لیے واضح حکمت عملی پیش کرنے میں ناکامی پر ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کی ہدایت دے چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور یہ حملے ویک اینڈ کے اختتام تک کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔

ایران نے بھی ان رپورٹس کے بعد امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات سمیت کسی بھی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے: برطانوی وزیرِ خارجہ کی عباس عراقچی کو یقین دہانی

امریکا کے ساتھ فوجی تعاون سے گریز کیا جائے؛ ایران نے برطانیہ کو خبردار کر دیا
اپ ڈیٹ 01 اگست 2026 04:24pm

ایران نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت سمیت دیگر پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ ایران اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال، آبنائے ہرمز اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری بیان کے مطابق عباس عراقچی نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا سمیت جارح ممالک کے ساتھ تعاون ناقابلِ قبول ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف سے متعلق قرارداد کے مطابق اگر کوئی ملک اپنی سرزمین یا سہولیات کسی جارح ریاست کو کسی دوسرے ملک پر غیر قانونی حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسے بھی جارحیت تصور کیا جاتا ہے اور حملے کا نشانہ بننے والے ملک کو اپنے دفاع کا جائز حق حاصل ہوتا ہے۔

عباس عراقچی نے برطانوی ہم منصب سے گفتگو کے دوران برطانیہ کی جانب سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کے اقدام اور امریکا و اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگوں میں مبینہ معاونت کی مذمت کی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ایڈ ملی بینڈ سے گفتگو میں واضح کیا کہ برطانیہ کا ایران سے متعلق حالیہ مؤقف غیر منصفانہ ہے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت ہی موجودہ علاقائی صورت حال کی بنیادی وجہ ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے نیتی دکھاتے کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا تھا، 18 جون کو جنگ بندی سے متعلق ایک یادداشت پر اتفاق بھی ہوا تاہم امریکا نے ہمیشہ کی طرح اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے عمان کے ساتھ عملی طریقۂ کار قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی تیسرے فریق کی جانب سے اس معاملے میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے صورت حال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں ہے اور وہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے ایران کے ساتھ سفارتی روابط جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے ایران پر حملوں کے لیے امریکی افواج کو برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت نے پاسدارانِ انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور کسی بھی قسم کی معاونت یا مدد کرنے والے شخص کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی پابندیاں؛ ایران نے جوئے سے رقم منتقلی کا طریقہ کھوج لیا: رائٹرز کا دعویٰ

اس نیٹ ورک کی تشہیر سوشل میڈیا پر دو معروف ایرانی انفلوائنسرز کر رہے ہیں: رائٹرز
شائع 01 اگست 2026 09:25am

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے دنیا کے سب سے بڑے غیر قانونی آن لائن جوئے کے نیٹ ورکس میں سے ایک کے ذریعے کرپٹو کرنسی کی صورت میں کروڑوں ڈالر منتقل کر رہا ہے۔

دو کرپٹو تحقیقاتی کمپنیوں اور ایک آزاد تجزکار کے ڈیٹا پر مبنی رائٹرز کی اس رپورٹ کے مطابق، دبئی کے ایک غیر معروف علاقے میں واقع بجٹ ہوٹل کی عمارت میں ’شیل بِٹ‘ نامی ایک غیر لائسنس یافتہ کرپٹو ایکسچینج کا دفتر قائم ہے جسے ایک ایرانی تارکینِ وطن چلا رہا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مئی 2024 سے اب تک اس ایکسچینج کے ذریعے چار ارب ڈالر سے زائد رقم کی لین دین کی جا چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس شیل بِٹ ایکسچینج کے اہم ترین گاہکوں میں فارسی زبان کا ایک بڑا جوئے کا نیٹ ورک شامل ہے جس کے ساتھ دو ہزار سے زائد ویب سائٹس منسلک ہیں۔ اس نیٹ ورک کی تشہیر سوشل میڈیا پر دو معروف ایرانی انفلوائنسرز کر رہے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری تعلقات رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان انفلوئسرز میں سے ایک اسپین کے شہر میڈرڈ میں ایک قیمتی ولا سے اور دوسرا حالیہ دنوں تک ہانگ کانگ کے ایک مہنگے ہوٹل سے کارروائیاں چلا رہا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نیٹ ورک کی تشہیر کرنے والے انفلوئنسرز میں سے ایک ساشا سبحانی سابق ایرانی سفارت کار کا بیٹا ہے جس کے انسٹاگرام پر لاکھوں فالوورز ہیں اور وہ میڈرڈ میں اپنے اربوں روپے کے ولا اور لگژری لائف اسٹائل کی نمائش کرتا ہے۔

  ساشا سبحانی سابق ایرانی سفارت کار کا بیٹا ہے۔
ساشا سبحانی سابق ایرانی سفارت کار کا بیٹا ہے۔

دوسرا انفلوئنسر پویان مختاری ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب یا کسی ملٹری گروپ کا حصہ نہیں ہے۔

پویان مختاری نے ہانگ کانگ میں ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ان کا حصہ نہیں ہوں، لیکن میں امید کرتا ہوں کہ ایک دن ان جیسا بن سکوں، کسی پر حملہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کے لیے“۔

مختاری نے مزید کہا کہ ”انہوں نے کبھی اپنی طاقت، رقم یا سوشل میڈیا کا استعمال کسی انسان کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں کیا“۔

 مختاری نے ایران روانگی سے کچھ دیر قبل ہانگ کانگ کے اپنے ہوٹل میں رائٹرز سے بات کی تھی۔ انہوں نے جون کے آخر میں اپنے سوشل میڈیا فالوورز کو بتایا تھا کہ وہ قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (تصویر: رائٹرز)
مختاری نے ایران روانگی سے کچھ دیر قبل ہانگ کانگ کے اپنے ہوٹل میں رائٹرز سے بات کی تھی۔ انہوں نے جون کے آخر میں اپنے سوشل میڈیا فالوورز کو بتایا تھا کہ وہ قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (تصویر: رائٹرز)

سبحانی اور مختاری دونوں نے رقم کی منتقلی، پابندیوں کو چکمہ دینے یا ایرانی حکومت کے لیے کام کرنے کے الزامات کی مکمل تردید کی ہے۔

اگرچہ ایران میں جوئے پر مکمل پابندی ہے اور اس کی سزا کوڑے اور قید ہے، تاہ، رائٹرز نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود اس نیٹ ورک کو ایرانی مرکزی بینک کے زیرِاثر آن لائن ادائیگیوں کے نظام تک براہِ راست رسائی حاصل ہے۔

اس تمام معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے ایرانی معاملات اور بلاک چین کے ماہر رچ سینڈرز نے رائٹرز سے شیل بٹ سے رقم کی منتقلی کے عمل کے بارے میں بات کی اور کہا کہ ”یہ واضح طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی کارروائی ہے اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے“۔

اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ غیر قانونی جوئے کی تحقیقات پر سات سال کام کرنے والے اور ٹی آر ایم لیبز کے سینئر تجزیہ کار جان ووچک نے کہا کہ ”یہ اب تک کا دریافت ہونے والا سب سے بڑا ایرانی غیر قانونی جوئے کا نیٹ ورک ہے اور دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک ہے“۔

رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے سالوں پہلے ایران سے چلنے والی جوئے کی بڑی ویب سائٹس کا کنٹرول سنبھال لیا تھا تاکہ اس کے ذریعے رقم بیرونِ ملک منتقل کی جا سکے۔

سابق ایرانی سرکاری اہلکار رضا غیبی اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق مشیر حامد نیکو نے رائٹرز کو بتایا کہ جب جوئے کا کاروبار بڑا ہوا تو پاسدارانِ انقلاب نے اندرون اور بیرونِ ملک کے مالیاتی نظام کو جوڑنے کے لیے ان سائٹس کا سہارا لیا۔

حامد نیکو نے اس حوالے سے بتایا کہ ”جب مالیاتی ادارے بڑے ہو جاتے ہیں اور حکومتی و سیکیورٹی اداروں سے آزاد ہو کر کام کرتے ہیں تو پاسدارانِ انقلاب ان کی نگرانی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں“۔

 جوئے کی ویب سائٹ abt90 سے حاصل کردہ یہ اسکرین شاٹ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کس طرح ایران کے ادائیگیوں کے نظام تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے، جس پر وہاں کا مرکزی بینک سخت کنٹرول رکھتا ہے۔
جوئے کی ویب سائٹ abt90 سے حاصل کردہ یہ اسکرین شاٹ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کس طرح ایران کے ادائیگیوں کے نظام تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے، جس پر وہاں کا مرکزی بینک سخت کنٹرول رکھتا ہے۔

دبئی کی ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے جولائی 2026 میں شیل بٹ کے خلاف غیر قانونی کام کرنے اور منی لانڈرنگ کے قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرتے ہوئے اسے تمام سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا۔

اتھارٹی نے کہا تھا کہ اس ایکسچینج کے غیر قانونی اقدامات نے متحدہ عرب امارات کے مالیاتی نظام کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزارتِ خزانہ نے بھی ان الزامات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایرانی رژیم سے جڑے ڈیجیٹل اثاثوں کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے گی۔

ایران پر سخت حملے کریں گے، ایک وقت آئے گا وہ بولیں گے اب ہم مزید برداشت نہیں کرسکتے: صدر ٹرمپ

امریکی حملوں میں ایران کو شدید نقصان پہنچا، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے: امریکی صدر
شائع 31 جولائ 2026 10:55pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر سخت حملے کریں گے، ایک وقت آئے گا وہ خود بولیں گے اب ہم مزید برداشت نہیں کرسکتے، امریکی حملوں میں ایران کو شدید نقصان پہنچا، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔

جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس، صحافیوں سے گفتگو اور امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایران، غزہ، حماس کی غیر مسلح کرنے اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر اظہار خیال کیا۔

ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ امریکی حملے فوری طور پر ختم ہونے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم انہیں بہت سخت نشانہ بنائیں گے اور ایک وقت آئے گا جب وہ کہیں گے کہ اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔“

امریکی صدر کے مطابق امریکا کا مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں۔

فاکس نیوز کی سینئر وائٹ ہاؤس رپورٹر جیکی ہائنرچ سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ”صورت حال اچھی جا رہی ہے، ہم انہیں سخت ضربیں لگا رہے ہیں، انہیں بری طرح متاثر کر رہے ہیں اور مسلسل کامیاب ہو رہے ہیں، آخرکار ان کے پاس واپس جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔“

ایران کے ساتھ حالیہ حملوں اور جنگ بندی سے متعلق سوال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا صرف کامیابی چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم بہت اچھا کر رہے ہیں، ہم حالات کے مطابق زیادہ سے زیادہ نرمی سے کام لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایران کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔“

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ محدود صلاحیتیں موجود ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق، ”یہ معاملہ بہت سادہ ہے، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو پورا مشرق وسطیٰ تباہ ہو جائے گا۔“

امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کو 5 ماہ گزر چکے ہیں جب کہ جون میں ہونے والا جنگ بندی معاہدہ چند ہفتوں بعد ہی ناکام ہو گیا تھا۔

صدر ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد بار ایران کے اہم انفراسٹرکچر، بشمول بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں، اگرچہ اب تک ایسے حملوں کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایران پر ”شدید نوعیت کے حملوں“ کی نئی لہر کی گئی تاہم جمعے کے روز مزید حملوں کے بارے میں کوئی نئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اندرونِ ملک بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف 28 فیصد امریکی شہری ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں جب کہ اس تنازع کے باعث امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں سمیت دیگر معاشی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔

غزہ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس کی غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایک ”مفاہمت“ موجود ہے اور اسرائیل نے اس حوالے سے مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا معاہدہ ممکن نہیں ہوگا لیکن یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ممکن ہوگا۔“

امریکی صدر کے مطابق اگر چار یا پانچ ماہ پہلے ایسی کوشش کی جاتی تو یہ معاہدہ ممکن نہ ہوتا جب کہ ان کے بقول ایران کے خلاف امریکی کامیابیوں نے بھی اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے لیے ایک بڑا قدم ہے اور دنیا اس پیش رفت پر حیران بھی ہے اور اسے اہم کامیابی بھی قرار دے رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ غزہ کے نئے امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے امریکا اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کریں گی جب کہ حماس مرحلہ وار اپنے ہتھیار ترک کرے گی تاہم انہوں نے اس پیچیدہ عمل کے مختلف مراحل کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ“اسرائیل اس معاہدے پر بہت خوش ہے اور اس نے اسے قبول کرنے میں مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔“ تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار نے منصوبے کے بعض اہم نکات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی مکمل غیر مسلحی کسی بھی عمل کے آغاز کی بنیادی شرط ہے۔

اسرائیلی عہدیدار کے مطابق جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی، اسرائیلی افواج غزہ میں قائم اپنی نام نہاد ”ییلو لائن“ سے انخلا نہیں کریں گی۔

صدر ٹرمپ نے اس اختلاف کے باوجود معاہدے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اتار چڑھاؤ آ سکتے ہیں کیوں کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے تاہم ان کے بقول یہ معاہدہ خطے میں امن کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

خلیج سے تیل کی یورپ ترسیل: اسرائیل کا عرب ممالک کے لیے نیا خفیہ منصوبہ کیا ہے؟

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اس پائپ لائن کا بھی ذکر ہونے لگا ہے جو ایران اور اسرائیل نے خفیہ طور پر مل کر بنائی تھی۔
اپ ڈیٹ 30 جولائ 2026 09:36pm

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یورپ کو تیل کی ترسیل کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ نیتن یاہو نے اسرائیل کی ایک پائپ لائن کو متبادل زمینی راہداری کے طور پر پیش کیا ہے، جو تقریباً چھ دہائی قبل ایران اور اسرائیل کے مشترکہ منصوبے کے تحت تعمیر کی گئی تھی۔

امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو بدھ کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت ختم ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مستقبل میں آبنائے ہرمز ایران کے لیے دنیا پر دباؤ کا ذریعہ نہیں رہے گی، ہم اس رکاوٹ کو ختم کر سکتے ہیں اور ہم ایسا ہی کریں گے۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ توانائی کی ترسیل کے لیے خطے میں پہلے سے موجود پائپ لائنز کو مربوط کیا جائے تو ایک متبادل زمینی راستہ بن سکتا ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی بحیرۂ احمر سے اسرائیل کے راستے بحیرۂ روم منتقلی آسان ہوسکتی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے یہ منصوبہ ایسے موقع پر پیش کیا ہے کہ جب آبنائے ہرمز کے بعد بحیرہ احمر میں بھی بحری جہازوں اور سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے جاری ہیں۔

نیتن یاہو نے اپنے انٹرویو میں ایک ایسی پائپ لائن کا ذکر کیا جو اسرائیل اور ایران نے 1968 میں بنائی تھی۔ اس پائپ لائن کو ’ٹرانس اسرائیل پائپ لائن‘ کہا جاتا ہے جو تقریباً 254 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ پائپ لائن بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اسرائیل کے شہر ایلات سے بحیرہ روم کے ساحل پر واقع شہر ایشکلون تک پھیلی ہوئی ہے اور اب اسے ’یورپ ایشیا پائپ لائن‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اس پائپ لائن کے ذریعے ایران کے بڑے سپر ٹینکر اسرائیل کی ایلات بندرگاہ پر خام تیل اتارتے، جہاں سے 42 انچ قطر کی پائپ لائن کے ذریعے تیل ایشکلون منتقل کیا جاتا اور پھر چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے زیادہ تر یورپ بھیجا جاتا تھا۔

ایران اور اسرائیل کا یہ مشترکہ منصوبہ اس دور میں شروع ہوا تھا جب تہران میں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت تھی اور ایران کے اسرائیل سے تعلقات دوستانہ تھے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مصر کی نہر سوئز پر انحصار کم کرنا تھا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی نے ’ٹرانس اسرائیل پائپ لائن‘ سے متعلق جمعرات کو ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ جس میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک دستاویز کا بھی ذکر ہے۔ اس دستاویز کے مطابق 70 کی دہائی میں اسرائیل کا پائپ لائن منصوبہ اتنا اہم سمجھا جاتا تھا کہ اس کا ذکر امریکی صدر کی روزانہ کی خفیہ بریفنگ میں ہوتا تھا۔

ابتدائی مرحلے میں اس پائپ لائن کے ذریعے سالانہ تقریباً دو کروڑ ٹن خام تیل ترسیل کرنے کی گنجائش موجود تھی، جسے 1970 کی دہائی کے وسط تک پانچ سے چھ کروڑ ٹن سالانہ تک لے جانے کا منصوبہ بھی زیر غور تھا۔ 1979 میں انقلابِ ایران کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے تو ایران نے پائپ لائن کے ذریعے تیل کی سپلائی فوری طور پر روک روک دی۔

جواب میں اسرائیل نے اس منصوبے کو یکطرفہ طور پر اپنے کنٹرول میں لے کر اپنی ریاستی ملکیت قرار دے دیا۔ بعد ازاں ایران نے اپنے حصے کی 50 فیصد سرمایہ کاری واپس حاصل کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کی ثالثی عدالت میں کیس بھی دائر کیا تھا۔ عدالت نے ایران کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اسرائیل کو 1.1 ارب ڈالر ایران کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اسرائیل نے اس فیصلے کو آج تک تسلیم نہیں کیا ہے۔

آج یہ پائپ لائن اسرائیل کے آئل اسٹوریج ڈپوز اور بحری ٹرمینلز کا انتظام سنبھالنے والے ادارے ’یورپ ایشیا پائپ لائن کمپنی‘ کے زیرِ انتظام اور اسرائیل کا خفیہ اور حساس ترین سرکاری اثاثہ مانی جاتی ہے۔ اگرچہ اب اس پائپ لائن کے ذریعے ایرانی تیل منتقل نہیں ہوتا لیکن یہ کمپنی اسرائیل میں تیل کی اسٹوریج اور ڈسٹری بیوشن کا بڑا حب بن چکی ہے جہاں عالمی کمپنیاں اپنا تیل کرائے پر محفوظ رکھتی ہیں۔

اسرائیل کی تجویز کیا ہے؟

اسرائیل اب ’ایشیا یورپ پائپ لائن‘ کو ایک نئے علاقائی توانائی منصوبے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اسرائیلی توانائی کے وزیر ایلی کوہن نے جولائی 2026 میں امریکا کے سامنے ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت تقریباً 700 کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن کے ذریعے سعودی عرب کو اسرائیل کے شہر ایلات سے جوڑا جا سکتا ہے۔

ایلی کوہن کی اس تجویز کا مقصد امریکا کی مدد سے خلیجی ممالک کو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرکے اسرائیل کے راستے تیل یورپ پہنچانے کے لیے آمادہ کرنا ہے۔

سعودی عرب میں ’ایسٹ ویسٹ پیٹرولائن‘ نامی 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائنوں موجود ہے جو سعودی عرب کے مشرقی صوبے سے خام تیل کو مغربی ساحل پر واقع ینبع کی بندرگاہ تک پہنچاتی ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق اسرائیل میں مقیم اوپن سورس انٹیلی جنس تجزیہ کار جے لیٹنی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پائپ لائن کی اردن کے راستے سعودی عرب کی پائپ لائن تک توسیع صرف زبانی بحث نہیں بلکہ اسرائیلی حلقوں میں اس منصوبے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ منصوبہ 2020 میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ناکام مفاہمتی منصوبے کے بعد اسرائیل کی جانب سے سرکاری سطح پر کی جانے والی سنجیدہ ترین کوشش ہے۔‘

اس منصوبے کے تحت اسرائیل اردن کے راستے خلیجی ممالک کا تیل یورپ پہنچانے کے ارادہ رکھتا ہے۔ فی الحال اسرائیلی پائپ لائن صرف سعودی عرب کی ہی یومیہ خام تیل کی برآمدات کا 5 سے 15 فیصد ہی سنبھالنے کی سکت رکھتی ہے، یعنی موجودہ حالات میں یہ اسرائیلی پائپ لائن کو بحری راستوں کا متبادل نہیں بلکہ صرف ہنگامی راستہ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فی الحال آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر پائپ لائن نیٹ ورکس کے منصوبے کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اسرائیل اگرچہ خود کو مستقبل کا توانائی مرکز بنانا چاہتا ہے تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منصوبہ کئی وجوبات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ سعودی عرب سمیت بعض خلیجی ممالک کا اسرائیل کو تسلیم نہ کیا جانا ہے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے مسلم ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے سرگرم ہیں اور حال ہی میں انہوں نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے سول جوہری معاہدے کی منظوری کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کیا ہے۔ البتہ سعودی عرب بارہا واضح کرچکا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

ادائیگیوں کا توازن

.
شائع 30 جولائ 2026 01:28pm

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں مالی سال 26-2025 کے لیے پاکستان کے بیرونی توازنِ ادائیگی کے سالانہ اور سہ ماہی دونوں طرح کے اعداد و شمار جاری کردیے ہیں۔

خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان نے مالی سال 26-2025 میں توازنِ ادائیگی کا سرپلس (بچت/منافع) حاصل کیا ہے۔ تاہم یہ 1.8 ارب امریکی ڈالر کے نسبتاً کم حجم پر مشتمل تھا۔ یہ مالی سال 25-2024 میں حاصل ہونے والے 3.7 ارب ڈالر کے سرپلس کے نصف سے بھی کم تھا۔توازنِ ادائیگی کے دو اہم اجزا (حصے) ہوتے ہیں: کرنٹ اکاؤنٹ اور فنانشل اکاؤنٹ۔ کرنٹ اکاؤنٹ، جو مالی سال 25-2024 میں 1.8 ارب ڈالر کے سرپلس میں تھا، مالی سال 26-2025 میں معمولی حد تک منفی (خسارے میں) ہو گیا۔ جب کہ فنانشل اکاؤنٹ 1.2 ارب ڈالر کے سرپلس کے ساتھ بند ہوا،اب مالی سال 25-2024 کے حجم سے صرف معمولی سا کم ہے۔توازنِ ادائیگی کے سہ ماہی اعداد و شمار فروری 2026 کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد مالی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

شاید توقعات کے برعکس مالی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی میں پاکستان کا توازنِ ادائیگی مستحکم رہا۔ یہ 905 ملین ڈالر کے سرپلس کے قریب پہنچ گیا، جبکہ تیسری سہ ماہی میں یہ سرپلس 365 ملین ڈالر تھا۔اب ہم ادائیگی کے توازنِ کے دونوں کھاتوں کے اندر مختلف لین دین (تجارتی و مالی معاملات) کا جائزہ لیتے ہیں۔ اشیا کی تجارت کا خسارہ تقریباً 25 فیصد تک نمایاں طور پراضافے کے بعد مالی سال 25-2024 کے 26.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 33.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔دونوں محاذوں پر منفی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ برآمدات میں تقریباً 5 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جبکہ اشیا کی در آمدات میں 9 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے منفی اثرات یہاں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ چوتھی سہ ماہی میں اشیا کے تجارتی خسارے میں 36 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جو بنیادی طور پر پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی در آمدات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔خوش قسمتی سے اور شاید حیران کن طور پر اس نقصان کو چوتھی سہ ماہی میں ورکرز ریمیٹنسز میں 7 فیصد اور پورے سال کے دوران 8 فیصد سے زائد کے اضافے نے کسی حد تک متوازن کر دیا۔ تاہم یہ اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے کہ کیا یہ واقعی ایک حقیقی اضافہ تھا یا ہم جنگ کے آغاز کے بعد مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص دبئی سے واپس لوٹنے والے پاکستانی کارکنوں کی جانب سے یکمشت بھیجی گئی رقم کا اثر دیکھ رہے ہیں۔

خدمات کی تجارتی کارکردگی اور بنیادی آمدنی کے خالص توازن میں صرف معمولی یا برائے نام تبدیلیاں آئی ہیں۔ پرائمری انکم کے دو اجزا میں بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کار اداروں کا اپنے منافع کو واپس اپنے ملک منتقل کرنا شامل ہیں۔ بعد الذکر (یعنی منافع کی منتقلی) میں شاید پاکستان سے متعدد بڑی غیر ملکی کمپنیوں کے نکل جانے کے بعد نمایاں کمی آئی ہے۔پاکستان سے غیر ملکی کمپنیوں کے اس انخلا کے ساتھ ہی ، جو پاکستان کی معیشت اور سیکیورٹی سے متعلق منفی تاثر کو ظاہر کرتا ہے، ہمیں پاکستان میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بھی ایک بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ مالی سال 25-2024 کے 2.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 26-2025 میں 1.9 ارب ڈالر پر آ گئی ہے، جو 24 فیصد کی بڑی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

جنرل گورنمنٹ اکاؤنٹ نے 2.9 ارب ڈالر کے خالص بہاؤ (نیٹ ان فلو) میں اضافے کے ساتھ ایک مثبت رجحان دکھایا ہے۔ اس میں پیش رفت یہ ہے کہ مجموعی درآمدی بہاؤ (گراس فلو) میں 22 فیصد اضافے کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کے بعد کا خالص بہاؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کھاتے میں ٹائم ڈیپازٹس (مدتی امانتوں) کی تبدیلیاں شامل ہیں یا نہیں۔جیسا کہ پہلے بھی نشاندہی کی گئی کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث مجموعی توازنِ ادائیگی کو نقصان پہنچا ہے لیکن اس کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام سے حاصل ہونے والے خالص بہاؤ میں اضافے کے باعث ایک نمایاں سرپلس برقرار رہا۔مجموعی طور پر مالی سال 26-2025 میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں 3.6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ مالی سال 25-2024 میں یہ اضافہ 5.2 ارب ڈالر تھا۔مالی سال 23-2022 کے بعد سے توازنِ ادائیگی کو مستحکم کرنے میں حاصل ہونے والی کامیابی کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، جب پاکستان خطرناک حد تک ڈیفالٹ (دیوالیہ) ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس وقت سے توازنِ ادائیگی کا نتیجہ مثبت رہا ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مالی سال 24-2023 میں 5.5 ارب ڈالر، مالی سال 25-2024 میں 5.1 ارب ڈالر اور مالی سال 26-2025 میں 3.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔نتیجتاً مالی سال 26-2025 کے اختتام پر غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ ذخائر تقریباً تین ماہ کی در آمدات کے لیے کافی (امپورٹ کور) ہیں اور انہیں ایک ’محفوظ‘ سطح قرار دیا جا سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے جس نے پاکستان کو پہلے ایک سالہ اسٹینڈ بائی فیسلٹی اور پھر تین سال سے زائد کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) کے ذریعے مالی بحران سے نکالا۔ اگر پاکستان موجودہ پروگرام میں بہتر کارکردگی جاری رکھتا ہے تو ان دو سہولیات کی مد میں آئی ایم ایف سے قرض کا مجموعی بہاؤ مالی سال 27-2026 کے اختتام تک 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے مالی سال 27-2026 کے لیے توازنِ ادائیگی کے پیش کردہ تخمینوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ تخمینے 14 مئی 2026 کو پاکستان کی جانب سے تیسرے پروگرام کے کامیاب جائزے کی تکمیل کے بعد تیار کیے گئے تھے۔ لہٰذا یہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے دوران مرتب کیے گئے ہیں۔

مالی سال 27-2026 کے لیے آئی ایم ایف کے توازنِ ادائیگی کے تخمینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانا شامل ہے۔ تاہم مثبت توقع یہ ہے کہ اشیا کی در آمدات میں ہونے والا اضافہ، برآمدات میں بڑے اضافے کے باعث بڑی حد تک برابر ہو جائے گا۔آئی ایم ایف کی ایک شاید حیران کن توقع یہ ہے کہ مالی سال 27-2026 میں ورکرز ریمیٹنسز میں کمی آئے گی۔ یہ شاید کچھ پاکستانی کارکنوں کے، بالخصوص دبئی سے، انخلا کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم فنانشل اکاؤنٹ کی طرف آئیں تو یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ اس کھاتے میں آمد 3 ارب ڈالر سے زائد تک نمایاں طور پر بڑھے گی۔ یہ توقع غیر ملکی نجی سرمایہ کاری اور دیگر ذرائع سے رقم کی آمد میں نمایاں اضافے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ اس کے اپنے قرض کی رقم کی منتقلی کو ملا کر پاکستان کے ذخائر مالی سال 27-2026 میں مزید 3.4 ارب ڈالر بڑھ جائیں گے۔ اس سے ان ذخائر کی سطح تقریباً 21 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو کہ تین ماہ کے در آمدی احاطے (امپورٹ کور) سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے بعد پاکستان 27-2026 کے بعد آئی ایم ایف کی چھتری یا سہارے کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔تاہم آئی ایم ایف کی یہ پیش گوئیاں اب حد سے زیادہ پرامید نظر آتی ہیں، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں حالیہ شدت آنے کے بعد اب اس بات کا خطرہ ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہی رہے گی۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر کے ذریعے رسائی بھی رک سکتی ہے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔نتیجتاً پاکستان کے حکام کو مالی سال 27-2026 کے امکانات کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔ تیل کے در آمدی بل میں بے تحاشا اضافے، بیرونِ ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں بڑی کمی اور عالمگیر کساد بازاری (عالمی معاشی مندی) کے باعث دنیا بھر میں برآمدات میں کمی کا خطرہ موجود ہے۔ یہ منفی پیش رفت غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔


نوٹ: یہ تحریر 28 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مصر میں امریکی گیس اسٹورج پلانٹ پر ڈرون حملہ، 2 ٹینکروں میں آگ لگ گئی

حکام نے آگ لگنے کی وجہ سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
شائع 29 جولائ 2026 10:31pm

مصر کے بحیرہ روم میں واقع دمیاط بندرگاہ پر بدھ کے روز دھماکوں اور آگ لگنے کے واقعے نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینکر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم مصری حکومت نے واقعے کی وجہ بیان نہیں کی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بحیرہ روم میں واقع مصر کی دمیاط بندرگاہ پر ایک جہاز میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جو بعد میں قریبی دوسرے جہاز تک پھیل گئی۔ واقعے سے متعلق تین تجارتی ذرائع نے بتایا کہ ڈرون نے بندرگاہ پر موجود ایک جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔

برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبری نے دعویٰ کیا کہ امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے فلوٹنگ ٹینکر پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے بعد عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔ تاہم اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔

دوسری جانب مصر کی وزارتِ پیٹرولیم و معدنی وسائل نے تصدیق کی کہ دمیاط بندرگاہ پر ایک ٹگ بوٹ اور ذخیرہ کرنے والے جہاز میں آگ لگی تھی، لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

وزارت کے مطابق ہنگامی منصوبے کے تحت فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتِ حال پر قابو پا لیا، تاہم آگ لگنے کی وجہ سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بدھ کی صبح امریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں پر مشترکہ حملے کیے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی افواج پر حملے کی کوشش کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا۔

اسی دوران ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام سے متعلق عمان کی تجویز بھی مسترد کر دی۔

عراق کی ایران نواز پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں میں اس کے کم از کم 20 ارکان جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے۔ واشنگٹن اور ریاض کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عراق سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

عراقی صدر اور وزیراعظم نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جب کہ حکومت نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ عراق کو علاقائی تنازع کا میدان بنانے سے گریز کیا جائے۔

ادھر خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت آٹھ فیصد سے زیادہ بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو عالمی توانائی کی منڈی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا

کمپنیز اور جہازوں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد ہوں گے، اعلامیہ
شائع 29 جولائ 2026 08:33pm

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے لازمی میری ٹائم انشورنس کے نام پر رقوم وصول کر کے پاسدارانِ انقلاب کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کر رہا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیاں اسی مبینہ نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے عائد کی گئی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دو ایرانی اداروں، تیل کی تجارت سے وابستہ آٹھ کمپنیوں اور متعدد آئل ٹینکروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان اداروں پر الزام ہے کہ وہ ایران کی تیل کی برآمدات اور مالیاتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں کردار ادا کر رہے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کا مرکز آبنائے ہرمز میں سرگرم ایک مبینہ مالیاتی نیٹ ورک ہے، جس کے ذریعے تجارتی جہازوں کو لازمی میری ٹائم انشورنس خریدنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

امریکا کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام بظاہر جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن درحقیقت اس کے ذریعے رقوم جمع کر کے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی سرگرمیوں کو مالی وسائل فراہم کیے جاتے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے دو ایرانی ادارے پرشین گلف میرین انشورنس کمپنی اور ہرمز سیف میرین سروسز اتھارٹی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ہرمز سیف بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں میں ادائیگیاں بھی قبول کرتا تھا تاکہ مغربی پابندیوں سے بچا جا سکے۔

امریکا نے اس کارروائی کے ساتھ ایران کے مبینہ ’شیڈو فلیٹ‘ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق متعدد آئل ٹینکر ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات، خصوصاً چین، منتقل کرنے میں ملوث تھے۔ ان ٹینکروں کے ساتھ آٹھ شپنگ کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور حکومت مالی وسائل کے حصول کے لیے مختلف ذرائع استعمال کر رہی ہے۔ ان کے بقول امریکا ایران کو عالمی تجارت یا بین الاقوامی جہاز رانی کو یرغمال بنا کر پاسدارانِ انقلاب کی مالی معاونت کی اجازت نہیں دے گا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں، اداروں اور جہازوں کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے، جب کہ امریکی شہریوں اور اداروں کو ان کے ساتھ ہر قسم کے مالی اور تجارتی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ جن اداروں میں پابندیوں کا شکار افراد یا کمپنیوں کی اکثریتی ملکیت ہو گی، وہ بھی امریکی پابندیوں کے دائرے میں آئیں گے۔

یہ نئی پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز، ایران کی تیل برآمدات اور خطے میں فوجی سرگرمیوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہوئے ہیں، جب کہ واشنگٹن ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ایران کو اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے: صدر ٹرمپ

امریکی فوج نے ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کردیا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
اپ ڈیٹ 29 جولائ 2026 06:37pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر مبینہ ایرانی میزائل حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے رات بھر ہونے والے حملوں میں داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کیا جب کہ عراق میں امریکی اور سعودی افواج کے مشترکہ حملوں کے بعد بغداد اور تہران کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اردن میں موجود امریکی افواج پر مبینہ ایرانی میزائل حملے کا بھرپور جواب دے گا۔

فاکس نیوز کے نمائندے ٹری ینگسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان سے ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران سخت الفاظ میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج کو اس حملے کو روکنے کے لیے صرف چند ہی منٹ ملے، تاہم انہوں نے آنے والے تمام بیلسٹک میزائل کامیابی سے روک کر اس حملے کو ناکام بنایا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے خلاف رات گئے کیے گئے فضائی حملے امریکی اور سعودی افواج نے عراقی حکومت کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد انجام دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف مزید اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدھ کی شب ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی جس کے کچھ ہی دیر بعد امریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایران نواز گروہوں پر مشترکہ حملے کیے تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر اچانک حملہ کرتے ہوئے متعدد بیلسٹک میزائل داغے، تاہم امریکی دفاعی نظام نے تمام میزائل کامیابی سے فضا ہی میں تباہ کر دیے۔

بعد ازاں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک مرکز کو بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی تصدیق کی۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی خطے میں ایرانی مفادات کے خلاف امریکی اقدامات کے جواب میں کی گئی۔

بدھ کے روز امریکی اور سعودی افواج کے عراق میں مشترکہ فضائی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک جب کہ 32 زخمی ہوئے ہیں۔

عراق کی مسلح تنظیموں کے اتحاد پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور سعودی فورسز نے ملک کے سات مختلف صوبوں میں مشترکہ فضائی حملے کیے، جن میں بغداد، واسط، نینویٰ، بصرہ، کرکوک، کربلا اور دیالہ شامل ہیں۔

سعودی وزارتِ دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیانات میں اس مشترکہ کارروائی کو سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات اور امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا ردعمل قرار دیا گیا ہے۔

عراقی صدر نزار عامدی نے ان حملوں کو عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے جب کہ ان حملوں کے بعد عراقی وزیراعظم کا طے شدہ سعودی عرب کا دورہ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔

عراقی صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں عراق کے سرکاری سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہے۔

واضح رہے کہ پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) عراق میں سرگرم مختلف نیم عسکری گروہوں کا اتحاد ہے۔ 2014 میں جب آئی ایس آئی ایس (داعش) نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضے کے بعد بغداد کی جانب پیش قدمی شروع کی تو چھوٹے عسکری گروپوں نے مل کر ’پی ایم ایف‘ کی بنیاد رکھی تھی۔

پی ایم ایف میں تقریباً 50 سے 70 کے قریب عسکری دھڑے شامل ہیں اور اس کے فعال جنگجوؤں کی تعداد 2 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے، جو داعش کو شکست دینے میں عراقی فوج کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔

اسی بنا پر عراقی پارلیمنٹ نے نومبر 2016 میں باقاعدہ قانون پاس کر کے ’پی ایم ایف‘ کو عراقی مسلح افواج کا باقاعدہ حصہ تسلیم کیا تھا۔ یہ فورس وزارتِ دفاع یا وزارتِ داخلہ کے بجائے براہِ راست عراقی وزیر اعظم کو رپورٹ کرتی ہے اور انہیں بجٹ سے ہی تنخواہیں اور مراعات بھی دی جاتی ہیں۔

پی ایم ایف میں شامل چند دھڑے جن میں ایک ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ بھی ہے، پر ایران نواز ملیشیا ہونے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں امریکی اور سعودی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ اور جارحیت قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور ان کا مقصد امریکا اور اسرائیل کی جانب سے خطے میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع کرنا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق عراق کے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی کا جمعرات کو سعودی عرب کا سرکاری دورہ بھی مؤخر ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عراقی وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، سیکیورٹی تعاون اور خطے کی تازہ صورت حال پر بات چیت متوقع تھی، تاہم عراق میں امریکی اور سعودی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد فی الحال اس دورے کو مؤخر کردیا گیا ہے۔