بیروت پر حملوں کا جواب، ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیے

صدر ٹرمپ کے منع کرنے کے باوجود اسرائیل کی تہران میں جوابی کارروائی
شائع 08 جون 2026 08:26am

لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے جواب میں ایران نے رات گئے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

ایران کے حملوں کے بعد اسرائیل کے شہر حیفا اور شمالی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج گئے اور پورے ملک میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے موقف اختیار کیا کہ ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائلوں کو ان کے فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا، تاہم ملک بھر میں مزید ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر فوج انتہائی چوکنی ہے۔

دوسری طرف، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسرائیل کو سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ وہ لبنان پر اپنے حملے فوراً روک دے ورنہ نتائج اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہوں گے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ایک باقاعدہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے رامات ڈیوڈ ائیر بیس کو آئی آر جی سی ایروسپیس فورس کے بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ جنگ بندی کی قبولیت اس شرط پر تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ بند ہو، لیکن امریکا اور اسرائیل نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، اس لیے اب خطے میں تمام امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیل کو اس کرارے جواب کی خبر ملتے ہی ایران کے دارالحکومت تہران میں جشن کا سماں بن گیا اور ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے اپنی افواج کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔

ایران کے اس اقدام کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان فون پر رابطہ ہوا، جس میں نیتن یاہو نے امریکی صدر کو ایران پر جوابی حملہ کرنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو ایران پر جوابی حملہ کرنے سے سختی سے روکا تھا اور واضح کیا تھا کہ اگر ایسا کوئی حملہ کیا گیا تو امریکا اس جنگی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔

تاہم، امریکی صدر کی اس مخالفت کے باوجود اسرائیل نے چند ہی گھنٹوں بعد ایران پر جوابی حملہ کر دیا۔

ایرانی میڈیا اور خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق تہران، تبریز، اصفہان اور کرج کے قریبی علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے مغربی اور وسطی ایران میں مخصوص فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

اس تمام کشیدہ صورتحال کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صحافیوں اور میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے دونوں ممالک کو صبر و تحمل کی ترغیب دینے کی کوشش کی ہے۔

ایران کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے پہلے حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں ایران کو مشورہ دوں گا کہ آپ نے اپنے میزائل داغ دیے، بس اب اتنا کافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میز پر واپس آئے اور معاہدہ کرے، ہماری امریکی فوج پوری طرح الرٹ ہے۔

امریکی صدر نے اسرائیل کے اقدامات پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے بیروت پر کیے جانے والے حملوں سے خوش نہیں ہیں، اسی لیے وہ نیتن یاہو سے کہیں گے کہ وہ جوابی حملہ نہ کریں۔

ایک اور انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، ان سے ڈیل ہو جائے گی اور اگر نہ ہوئی تو ہم کر لیں گے کیونکہ جیت ہماری ہی ہوگی۔

تاہم، انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ مستقبل میں جنگ دوبارہ نہ ہونے کی سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتے، البتہ ڈیل ہو جانے کے بعد ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

اسی گفتگو کے دوران جب ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے خطے کی صورتحال پر کچھ سخت سوالات پوچھے، تو وہ ناراض ہو کر انٹرویو بیچ میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔