امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے ان ہتھیاروں کی فہرست جاری کردی گئی ہے جو ایران کے ساتھ جنگ میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران پر کیے گئے حملوں میں سب سے اہم کردار بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کا ہے۔
ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کا یہ طیارہ امریکی فضائیہ کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ یہ ایٹمی اور روایتی دونوں طرح کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حال ہی میں ان طیاروں نے میزوری (امریکا) سے 34 گھنٹے کی طویل پرواز کر کے ایران کی بیلسٹک میزائل تنصیبات کو دو ہزار پاؤنڈ کے بموں سے نشانہ بنایا۔
بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیارہ
سینٹ کام کے مطابق اس جنگ میں پہلی بار لوکس ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ یہ کم لاگت ڈرونز ایرانی ”شاہد 136“ ڈرونز کی نقل ہیں، جنہیں روس یوکرین جنگ میں استعمال کرتا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب ایران کے ہی ڈیزائن کردہ ماڈل کے ذریعے اسے جواب دیا جا رہا ہے۔
ایرانی شاہد 136 ڈرونز کی نقل امریکی لوکس ڈرونز
دو طیارہ بردار بحری جہازیو ایس ایس ابراہم لنکن اوریو ایس ایس جیرالڈ آڑ فورڈ بھی اس وقت خطے میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ’ارلے برک‘ کلاس کے ڈسٹرائیرز بحری جہازوں سے ٹوما ہاک میزائل فائر کیے گئے ہیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن اوریو ایس ایس جیرالڈ آڑ فورڈ
ایران کی جانب سے آنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹم استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران نے جوابی حملے جاری رکھے تو ان سسٹمز کے ذخائر میں کمی آ سکتی ہے۔
تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم
فضائی کارروائیوں میں ایف-22، ایف-35، ایف-16 اور ایف/اے-18 طیاروں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ٹینک شکن اے-10 طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
امریکی لڑاکا طیارے
الیکٹرانک وارفیئر اور جاسوسی کا نظام ’ای اے-18جی گراؤلر‘ دشمن کے ریڈار اور مواصلات کو جام کرنے کے لیے استعمال ہوا۔
ایویکس طیارے فضا میں اڑتے ہوئے ریڈار اسٹیشن ہیں جنہوں نے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ اس کے علاوہ آر سی-135 طیارے نے جاسوسی کی اور انٹیلی جنس جمع کی۔
ایم کیو-9 ریپر ڈرونز اہم اہداف کو نشانہ بنانے اور نگرانی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
ہائیمارس ایک ٹرک پر نصب راکٹ سسٹم ہے جو ”فائر کرو اور بھاگو“ صلاحیت رکھتا ہے تاکہ جوابی حملے سے بچا جا سکے۔ اس کی رینج 300 میل سے زائد ہے۔
فضا میں طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے کے سی-135 اور کے سی-46 فضائی آئل ٹینکرز استعمال ہو رہے ہیں، جو طویل مشن کے لیے ناگزیر ہیں۔
اس کے علاوہ سی-17 اور سی-130 کارگو طیاروں کے ذریعے بھاری مقدار میں اسلحہ اور فوج مشرق وسطیٰ منتقل کی گئی۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی نظام کے اندر ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے اور اب ان کے جانشین کی تلاش کا پیچیدہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ ایران کی تاریخ میں نصف صدی کے دوران یہ صرف دوسرا موقع ہے جب رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ 1989 میں جب پہلے رہبر روح اللہ خمینی کا انتقال ہوا تھا تو علی خامنہ ای کو فوری طور پر جانشین چن لیا گیا تھا، لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے کیونکہ خامنہ ای نے کسی وارث کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔
فی الوقت ملک کو چلانے کے لیے تین ارکان پر مشتمل ایک قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ اس کونسل میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسن ایژہ ای اور ایک سینیئر مذہبی رہنما علی رضا اعرافی شامل ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ریاست نے ایسے حالات کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور اس کونسل کی تشکیل سے ملک میں اتحاد پیدا ہوگا۔
تاہم، ایران کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہفتے کے حملوں میں اس کی فوجی قیادت کا بڑا حصہ بھی ختم ہو چکا ہے، جن میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بھی شامل ہیں۔
نئے مستقل رہنما کا انتخاب 88 مذہبی علما پر مشتمل ایک ادارہ کرے گا جسے مجلسِ خبرگان یا اسمبلی آف ایکسپرٹس کہا جاتا ہے۔
یہ ارکان ہر آٹھ سال بعد عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، لیکن ان کے ناموں کی منظوری ’گارڈین کونسل‘ دیتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک امریکی اور اسرائیلی حملے جاری ہیں، یہ اسمبلی شاید اپنا اجلاس نہ بلا سکے کیونکہ اسے مزید جانی نقصان کا ڈر ہے۔
جانشینی کی دوڑ میں چند نام نمایاں ہیں۔ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورس کے ساتھ گہرے روابط ہیں، لیکن ایران میں موروثی بادشاہت کے خاتمے کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے شاید علما کسی بیٹے کو والد کا جانشین بنانے سے گریز کریں۔
دیگر امیدواروں میں علی رضا اعرافی اور محمد مہدی میر باقری شامل ہیں، جبکہ امام خمینی کے پوتے حسن خمینی کو بھی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ایک شخص کے بجائے رہنماؤں کی ایک کونسل مستقل طور پر نظام سنبھال لے۔
دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں، تاہم ابھی تک ایران کی سڑکوں پر کسی بڑے عوامی احتجاج یا بغاوت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
سابق شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کا نام بھی ایک ممکنہ متبادل کے طور پر لیا جا رہا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر فی الحال کوئی ایسی منظم سیاسی قوت موجود نہیں جو موجودہ نظام کی جگہ لے سکے۔
اس بحرانی صورتحال میں اصل طاقت پسِ پردہ ’پاسدارانِ انقلاب‘ کے پاس رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ ان کے کئی سینیئر کمانڈر ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن یہ ادارہ ایران کی معیشت اور سیکیورٹی پر گہری گرفت رکھتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نہ صرف بیرونی دشمنوں بلکہ اندرونی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی بھی ذمہ دار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران کا یہ نظام خود کو ٹوٹنے سے بچانے اور نئے سربراہ کے انتخاب میں کتنا کامیاب ہوتا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم اب نیا ٹارگٹ ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فضائیہ نے لبنان میں حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد مارے گئے ہیں۔
حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے شہر حیفا کے قریب ایک فوجی اڈے پر راکٹ اور ڈرون حملہ کیا تھا۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں کی گئی۔
اس حملے کے بعد اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔
لبنانی ذرائع کے مطابق اسرائیلی بمباری میں کم از کم 31 افراد جان سے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں رہائشی مقامات بھی شامل ہیں، تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف عسکری تنصیبات تھیں۔
نعیم قاسم نے حزب اللہ کی قیادت اس وقت سنبھالی جب سابق سربراہ حسن نصراللہ 27 ستمبر کو اسرائیلی کارروائی میں مارے گئے تھے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ صورتحال کے باعث نہ صرف جانی و مالی نقصان ہوا ہے بلکہ عالمی فضائی آپریشن بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
آرامکو ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے اور اس تنصیب پر حملے نے توانائی کے عالمی شعبے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، حکام نے دمام کے قریب واقع راس تنورہ ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم ان کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔
اس کے علاوہ ترکیہ میں ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی خبر ہے جبکہ قبرص میں برطانوی ملٹری بیس کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
اصفہان میں ایک امریکی ڈرون مار گرائے جانے اور کویت میں کئی امریکی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں بھی حملوں کی خبریں ہیں۔ شہر سنندج پر چھ میزائل گرنے کی اطلاع ہے جس میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کا بتایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے گئے اور بیلسٹک میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغے جس کے جواب میں تل ابیب نے بیروت کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔
ان کارروائیوں میں اکتیس افراد کے جاں بحق اور ایک سو انچاس کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حزب اللہ کے رہنما محمد رعد کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
خطے میں جاری اس کشیدگی کے باعث عالمی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔ مختلف ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بارہ سو انتالیس پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر محصور ہیں۔
پاکستان میں بھی گزشتہ تین دن کے دوران پانچ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ایرانی وسطی شہر سنندج پر مبینہ دشمن کے میزائل حملے میں کم از کم دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور پولیس اسٹیشن کے قریب واقع متعدد رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
اسی طرح خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے شہر کے مختلف حصوں پر، جن میں گنجان آباد علاقے بھی شامل ہیں، چھ میزائل داغے۔
آن لائن جاری اور الجزیرہ کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو فوٹیج میں حملے کا ایک منظر دکھایا گیا ہے، جس میں آگ کے شعلے اور آسمان پر دھوئیں کے گھنے بادل نظر آ رہے ہیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کر دیے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای نے تہران میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا ہے اور اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے یو اے ای پر حملوں کے بعد کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای میں مبینہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کی جانب سے صورتحال پر مزید باضابطہ تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
کویت میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے اپنے شہریوں کو عمارت کی جانب آنے سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمارت کے باہر اس وقت شدید دھویں کے بادل موجود ہیں۔
روسی میڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کویت میں امریکی سفارت خانے کو ایران کے میزائل نے نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد عمارت میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔
ویڈیو میں شدید دھواں اور آسمان پر کالے بادل صاف واضح ہیں۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
امریکی سفارت خانے نے بھی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کویت میں میزائل اور غیر ڈرون حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔
ایڈوائزری میں امریکی شہریوں سے سفارت خانے نہ آنے اور اپنے رہائشی مقامات پر کھڑکیوں سے دور رہنے کی تاکید بھی کی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس وارننگ کو سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر اپنے گھروں میں محفوظ رہیں۔
واضح رہے کہ کویت میں پیر کے روز امریکی جنگی جہاز گرنے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جب کہ ممکنہ حملوں کے پیش نظر مستقل سائرن بج رہے ہیں۔ اس سے قبل کویت کی جانب سے ایرانی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیوں نے خطے کو افراتفری میں دھکیلا اور امریکی فوجیوں کی جان کو خطرے میں ڈالا ہے۔
علی لاریجانی نے پیر کے روز ’ایکس‘ پر بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے اپنے غیر حقیقی اقدامات سے خطے کو انتشار میں مبتلا کیا اور اب امریکی فوجیوں کے مزید جانی نقصان سے خوف زدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے نعرے ’امریکہ فرسٹ‘ کو ’اسرائیل فرسٹ‘ میں بدل دیا اور اسرائیل کی اقتدار کی ہوس کے لیے امریکی فوجیوں کو بھی قربان کر ڈالا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اب اپنی پالیسیوں کی بدنامی کا بوجھ دوبارہ امریکی فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ پر ڈال رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج نے جارحیت کا آغاز نہیں کیا، ایرانی قوم اپنا دفاع کر رہی ہے۔
انہوں نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی حکام نے ٹرمپ انتظامیہ سے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اخبار نے ایران کی جانب سے عمان کے ذریعے امریکا سے مذاکرات پر رضامندی کا دعویٰ کیا تھا۔
امریکا اور اسرائیل نے رات گئے تہران پر مزید میزائل حملے کیے جبکہ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر جوابی میزائل فائر کیے۔ تازہ حملوں کے بعد دونوں جانب جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گزشتہ رات امریکی بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران میں بیلسٹک میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا اور دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے۔
تہران میں کئی رہائشی عمارتوں پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے ہیڈ آفس کو بھی میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد نشریات عارضی طور پر بند ہو گئیں۔
ادھر ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغے۔ امریکی حکام کے مطابق ایرانی حملوں میں تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ امریکا اور برطانیہ کے تین آئل ٹینکرز کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
یو ایس سینٹ کام نے امریکی بحری بیڑے ابراھیم لنکن پر چار بیلسٹک میزائل داغنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
اسرائیل کے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے بیت شمیش پر ایران نے فتح ٹو میزائل سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں نو اسرائیلی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔
ایران کی جانب سے رات گئے اسرائیل پر مزید میزائل داغے گئے جن میں ایک دفاعی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے۔ اسرائیل کے جنوبی علاقوں میں سائرن بج اٹھے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ صورتحال کے پیش نظر خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت کے لیے ان کے پاس تین ناموں کی مختصر فہرست موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، جبکہ سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد ایران سے مذاکرات اب پہلے سے زیادہ آسان ہو گئے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس ایران کی قیادت کے لیے’تین بہت اچھے انتخاب” موجود ہیں، تاہم انہوں نے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ابھی نام ظاہر نہیں کروں گا، پہلے کام مکمل کر لیں۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کیخلاف کارروائیاں4 سے 5 ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، اسی شدت کے ساتھ ایران پر حملے جاری رکھ سکتے ہیں یہ مشکل نہیں ہوگا،
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ہتھیاروں کی بڑی تعداد ہیں، ہمارے ہتھیاردنیا بھرمیں مختلف ملکوں میں ذخیرہ کیےگئےہیں۔
ایک اور انٹرویو میں امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’بالکل جانتے ہیں‘ کہ اس وقت ایران میں فیصلے کون کر رہا ہے، لیکن اس کا نام نہیں بتا سکتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کسی خاص شخصیت کو ایران کی قیادت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں، کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ سپریم لیڈر کی جگہ کون لے گا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ “کسی وقت وہ خود مجھ سے پوچھیں گے کہ میں کس کو دیکھنا چاہتا ہوں”، بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ وہ یہ بات قدرے طنزیہ انداز میں کہہ رہے تھے۔
ایرانی سپریم لیڈر آئت اللہ علی خامنہ ای، جو 1989 سے ایران کی قیادت کر رہے تھے، ہفتے کے روز امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ تہران میں خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ کر دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو بھی مارے گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کے قریبی مشیر علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل محمد پاکپور بھی حملوں میں ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق تقریباً 200 لڑاکا طیاروں نے ایران بھر میں 500 اہداف کو نشانہ بنایا، جسے اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی مشن قرار دیا گیا۔
ایران نے ان حملوں کو بلااشتعال اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسرائیل اور کم از کم سات دیگر ممالک پر میزائل داغنے کا اعلان کیا، جن میں وہ خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر علی خامنہ ای کو ’تاریخ کے بدترین افراد میں سے ایک‘ قرار دیا۔
انہوں نے لکھا کہ یہ صرف ایرانی عوام ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ان افراد کے لیے بھی انصاف ہے جو خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کے اقدامات سے متاثر ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو’واپس لینے‘ کا سب سے بڑا موقع ہے۔ ان کے مطابق’بھاری اور انتہائی درست بمباری‘ پورے ہفتے بلا تعطل جاری رہے گی یا جب تک مشرق وسطیٰ اور دنیا میں امن کے مقصد حاصل نہیں ہو جاتے۔
انہوں نے بتایا کہ اس فوجی مہم کو امریکا نے’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا ہے، جس کا مقصد ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق خطرات کا خاتمہ ہے۔
ایران کے بعد لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرونز برسانا شروع کر دیے ہیں۔ جس کے بعد اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں میں 31 شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل کے شہر حیفہ میں ایک اسرائیلی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ تنظیم نے اس کارروائی کو آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا ردعمل قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے داغے گئے ڈرونز اور راکٹوں کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ لبنان اور اس کے عوام کے دفاع اور اسرائیلی جارحیت کے جواب میں کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قیادت واضح کرچکی ہے کہ اسرائیلی حملوں کے تسلسل، قائدین، نوجوانوں اور عوام کے قتل نے ہمیں اپنے دفاع اور جواب دینے کا حق دیا ہے۔
اسرائیلی افواج نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور اہم رہنماؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیل نے لبنان کے 50 سے زائد قصبوں اور دیہات کے رہائشیوں کو فوری طور پر انخلا کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں میں حملے کیے جا سکتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری انتباہ میں شہریوں کو کم از کم ایک ہزار میٹر دور کھلے مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان 2024 میں امریکی ثالثی میں جنگ بندی طے پائی تھی۔ جس کے بعد حزب اللہ لبنان کی جانب سے اسرائیل پر یہ پہلا حملہ ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 149 زخمی ہو چکے ہیں۔
ایران نے فضائی حملوں کے بعد امریکا پر بحری حملہ بھی کردیا ہے، ایران کی جانب سے امریکا کے سب سے مضبوط بحری بیڑے ابراہم لنکن پر حملہ کیا گیا جس کی امریکی سینٹرل کمانڈ نے تردید کی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی میزائل حملے سے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن متاثر نہیں ہوا اور وہ بدستور اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ایرانی میزائل جہاز تک پہنچ ہی نہیں سکا اور اس سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔
اس سے قبل ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو چار بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز مکمل طور پر محفوظ ہے اور اپنی آپریشنل سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والے اہم اجلاس میں افغانستان اور ایران سمیت خطے کی سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اتوار کو وزیراعظم شہبازشریف کی زیرِصدارت علاقائی اور ملکی سیکیورٹی صورت حال پر جائزے کے لیے اعلی سطح اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزرا، اعلی عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک بھرمیں امن وامان کی صورت حال اور پاکستان کی مغربی سرحد پرافغان طالبان کی جانب سے جاری جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے پاک افواج اورفضائیہ کی جانب سے فتنہ الخوارج کی سرکوبی کے لیے مؤثر اور جامع کارروائیوں کی تعریف کی جب کہ شرکا نے پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور وقار کی ہر قیمت پر حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس کے دوران خارجہ پالیسی اورقومی سلامتی کے حوالے سے مشاورت کی گئی جب کہ اجلاس میں افغانستان کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو ملک کی داخلی صورت حال اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی جب کہ اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ آذربائیجان کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کوممکن بنایا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں اہم تبدیلی سامنے آئی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا دو روزہ دورہ روس مؤخر کر دیا ہے۔
ذرائع وزیراعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف کو پیر (2 مارچ) سے روس کے دو روزہ سرکاری دورے پر ماسکو روانہ ہونا تھا تاہم موجودہ کشیدہ حالات اور سیکیورٹی چیلنجز کے باعث اس دورے کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے جب کہ پاکستان کی جانب سے روسی حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم کا ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر افسوس کا اظہار
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر انتہائی افسوس ہے، حکومت پاکستان اور عوام دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ برابر کی شریک ہیں، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر حکومت اور عوام کی جانب سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمہ اصول ہےکہ سربراہان مملکت اور حکومت کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
شہباز شریف نے مزید کہا اللہ تعالیٰ ایرانی عوام کو اس ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔
واضح رہے کہ ایران کے میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کردی جب کہ سپریم لیڈر کی شہادت پر ایرانی حکومت نے 40 روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے عوامی اجتماعات، احتجاج اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اتوار کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، دفعہ 144 کے تحت تمام قسم کے اجتماعات کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا، شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی اجتماع یا اکٹھ کا حصہ نہ بنیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق کسی بھی احتجاج، مظاہرے یا اجتماع کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کریں۔
پنجاب بھر میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ
دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب بھر میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اقدام دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے باعث اٹھایا گیا ہے، نوٹیفکیشن کے تحت صوبے بھر میں چار یا اس سے زائد افراد کے عوامی اجتماع، جلسے، جلوس اور مظاہروں پر پابندی عائد ہوگی جب کہ عوامی مقامات پر بغیر اجازت کسی بھی قسم کا اجتماع منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس اجتماعات دہشت گردی کا ہدف بن سکتے ہیں جب کہ اجتماع میں شریک علمائے کرام کو بھی نشانہ بنانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ امن عامہ میں ممکنہ خلل کے پیش نظر پیشگی اقدامات کئے گئے ہیں۔
دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش اور عوامی مقامات پر اس کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، لائسنس یافتہ اور بغیر لائسنس ہر قسم کا اسلحہ اس حکم کے تحت شامل ہوگا تاہم شادی بیاہ، جنازوں اور تدفین سے متعلق اجتماعات، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر کے اجلاس اور عدالتوں کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، کراچی میں امریکی قونصل خانے پر احتجاج کے دوران مظاہرین امریکی قونصلیٹ کے احاطے میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ کی، اس دوران فائرنگ سے 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایران پر حالیہ حملے انتہائی افسوسناک ہیں اور ہمیں اُس پر دلی رنج ہے۔
اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے ہر ممکن سفارتی اور اخلاقی طریقے سے ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی پاکستان نے واضح طور پر ایران کے خلاف حملے کی مذمت کی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی مذہبی جماعتوں اور عوام سے اپیل ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، ایسے میں اگر ہم اپنے ملک کے اندر احتجاج کو شدت میں بدلیں یا قانون کو ہاتھ میں لیں تو یہ دشمن کے منصوبوں کو فائدہ دے گا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں، احتجاج کو پرامن رکھیں اور ملک کے اندر کسی بھی قسم کی بدامنی یا نقصان سے بچیں، قومی اتحاد اور استحکام ہی اس وقت پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پرپاکستان کا ہر شہری غمزدہ ہے۔ شہری قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، شہری پرامن طریقے سے احتجاج کریں۔
واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج کیا جارہا ہے، کراچی میں ایم ٹی خان روڈ پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں اور ہنگامہ آرائی کے دوران 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔
امریکی قونصل خانے میں مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی اور پولیس چوکی کو آگ لگادی۔ پولیس کی مزید نفری نے موقع پر پہنچ کر حالات کنٹرول کرلیے۔ نمائش چورنگی پر مظاہرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ شاہین کمپلیکس پر بھی مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔ آئی آئی چندریگر روڈ کو ٹریفک کے لیے کلیئر کردیا گیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو نیا کمانڈر انچیف نامزد کردیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں شہید علی خامنہ ای کے جنگجو ساتھی کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے۔
تقرری کے اعلان کے بعد برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی رضا اعرافی قیادت کونسل کے ممبر منتخب ہوگئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہا ہے کہ قیادت کونسل عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دے گی، علی رضا اعرافی ایرانی سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والی عبوری کونسل کے رکن مقرر ہو گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تین رکنی کونسل میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی چیف جسٹس بھی شامل ہیں، مجلس خبرگان رہبری کی جانب سے نیا سپریم لیڈرمنتخب کیے جانے تک یہ کونسل رہبر کے فرائض انجام دے گی۔
ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کی موت، استعفے یا برطرفی کی صورت میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان شوریٰ کے ایک رکن رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔
آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق اگر ان تین افراد میں سے کوئی ان ذمہ داریوں سے معذوری کا اظہار کرے تو پھر ان کی جگہ ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ (فقہا کی اکثریت) ان کی جگہ نیا رکن مقرر کرے گی۔
اس کے بعد مرحلہ رہبرِ اعلیٰ کی تقرری کا آتا ہے۔ اس عہدے کے لیے کسی شخصیت کا انتخاب مجلس خبرگان رہبری کرتی ہے۔ یہ 88 فقہا کی ایک اسمبلی ہے، جس کے اراکین کا انتخاب ہر آٹھ برس کے بعد ہوتا ہے تاہم اس انتخاب سے قبل جانچ پڑتال کا کام نگہبان شوریٰ سرانجام دیتی ہے، جس میں سنہ 2024 میں خامنہ ای کے وفادار تمام نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
مجلس خبرگان رہبری کو ’جتنی جلدی ممکن ہو سکے‘ رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے لیے معیاد کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ اگر مجلس خبرگان رہبری دو تہائی اکثریت سے کسی کو رہبرِ اعلیٰ منتخب نہیں کرتی تو پھر تکنیکی طور پر عبوری کونسل ہی رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اُٹھاتی ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فوج تہران میں ایرانی حکومت سے منسلک مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے شدید حملے کر رہی ہے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ تہران میں اہداف پر طاقتور حملے کے لیے مسلسل فضائی پل قائم کیا جائے گا۔
تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں اور گزشتہ چند گھنٹوں سے زور دار دھماکوں کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔ سڑکوں پر ایمبولینسوں کے سائرن بھی گونج رہے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
اطلاعات کے مطابق سات مقامات پر حملے کیے گئے جن میں تہران کے ہوائی اڈے کے اطراف کا علاقہ بھی شامل ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات کا تعلق فوج سے تھا یا حکومتی اداروں سے۔
عرب خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کا کہنا ہے کہ کچھ حملے بڑے ہوٹلوں اور شاپنگ مالز کے قریب بھی ہوئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی افراد خوراک اور ضروری اشیا جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ صورتحال طویل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب قطر کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اتوار کو بھی ابتدائی وارننگ سسٹم فعال رہا اور آنے والے میزائلوں کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔ حکام کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
تاہم دوحہ کے وسطی صنعتی علاقے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ہیڈکوارٹر کے قریب دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
اطلاعات کے مطابق گرنے والے ملبے سے ایک گودام میں آگ لگ گئی جو کچھ دیر تک جاری رہی۔ سیکیورٹی سخت ہونے کے باعث میڈیا کو وہاں فلم بندی کی اجازت نہیں دی گئی۔
برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو ایرانی میزائل قبرص کی سمت فائر کیے گئے، جہاں ہزاروں برطانوی فوجی تعینات ہیں۔
ان کے مطابق میزائل براہ راست قبرص کو نشانہ نہیں بنا رہے تھے، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں خطرہ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہفتے کے روز ایرانی حملے بحرین میں برطانوی فوجیوں کے قریب گرے، تاہم کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
بحرین کے نیشنل کمیونیکیشن سینٹر نے بھی کہا ہے کہ خلیج کے اوپر ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی ایک نئی لہر کو روک لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق دفاعی نظام مسلسل فعال ہے اور صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایران پر حالیہ حملے کے بعد ایران نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی حمایت کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا ہے۔
ایران نے کہا کہ روس اور چین کے ساتھ مل کر پاکستان نے ایران کا مؤقف سپورٹ کیا۔ اس لیے پاکستان کے اندر تمام مذہبی گروہوں اور عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں، پاکستان نے ہر ممکن سفارتی اور اخلاقی مدد ایران کو فراہم کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ میں بھی پاکستان نے حملے کی کھل کر مذمت کی، اگر ہم اپنے ملک میں احتجاج کو تشدد کی طرف لے گئے یا امن و امان کو نقصان پہنچایا تو ہم دشمن کے منصوبوں کو تقویت دیں گے لہٰذا سب سے درخواست ہے کہ وہ صبر اور دانشمندی سے کام لیں اور ملک میں کسی بھی قسم کی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال نہ پیدا کریں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا، جھڑپوں میں 10 مظاہرین جاں بحق اور 35 زخمی ہوگئے ہیں۔
اتوار کے روز کراچی میں ایم ٹی خان روڈ پر مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے جب کہ 35 افراد زخمی ہیں، لاشوں اور زخمیوں کو سول اور جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے جواب میں مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا ہے جب کہ مشتعل مظاہرین نے سلطان آباد میں ٹریفک پولیس کی چوکی اور ایک موٹر سائیکل کو نذرآتش کردیا ہے۔
امریکی قونصلیٹ کے قریب مظاہرین کی بڑی تعداد موجود ہے، مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایک بارپھر شیلنگ کی گئی مگر مظاہرین تاحال امریکی قونصل خانے کے باہر موجود ہیں۔
جاں بحق ہونے والوں میں 23 سالہ خاظم، 25 سالہ عدیل، 26 سالہ مبارک، 28 سالہ ساجد علی، 20 سالہ خاورعباس، 25 سالہ عباس، 19 سالہ محمد علی اور 35 سالہ قاسم عباس شامل ہیں۔
علاوہ ازیں شہر کے بعض مقامات پر بھی کشیدگی دیکھنے میں آئی جب کہ شہر کے اہم علاقوں نمائش چورنگی، عباس ٹاؤن اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور سڑکوں پر نعرے بازی کی۔
ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا ہے اور اب حالات قابو میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حساس تنصیبات اور ریڈ زونز کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف مقامات پر تعینات ہیں اور علاقے کی نگرانی جاری ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق قونصل خانے کے اطراف ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی اور کچھ مظاہرین نے پتھراؤ کیا جب کہ فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش جاری ہے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
کراچی میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت
کراچی میں موجودہ سیکیورٹی صورت حال کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں اور سندھ رینجرز کی موبائل ویجیلنس ٹیمیں مختلف علاقوں میں تعینات کردی گئی ہیں۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق شہر کے حساس مقامات اور مرکزی شاہراہوں پر رینجرز کی بھاری نفری گشت میں مصروف ہے۔ اہم تنصیبات اور پبلک مقامات کی نگرانی کو مزید مؤثر بنادیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جاسکے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنائے گئے ہیں۔ رینجرز حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی احتجاج کے دوران قانون شکنی اور توڑ پھوڑ برداشت نہیں کی جائے گی۔
رینجرز کی جانب سے امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع رینجرز ہیلپ لائن 1101 پر دیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
سندھ حکومت کا اظہار افسوس
سندھ حکومت نے امریکی قونصل خانے میں مظاہرین کے داخلے اور تصادم میں انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سندھ حکومت کے اعلامیے کے مطابق مظاہرین نے امریکن قونصل خانے کے اندر داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی، افسوسناک صورت حال میں 10 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، واقعے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے، جو تعین کرے گی کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا، اس کے اسباب کیا تھے۔
سندھ حکومت کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت شہریوں کے جمہوری اور آئینی حق احتجاج کا احترام کرتی ہے، پرامن ماحول کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ، تشدد یا قانون ہاتھ میں لینا مناسب عمل نہیں۔
سندھ حکومت نے شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ جذبات کا اظہار پرامن اور قانونی طریقے سے کریں، حکومت حالات کو کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے، تمام شہریوں کو پرامن طریقے سے احتجاج ریکارڈ کروانے کا حق حاصل ہے، قانون کو کسی بھی صورت ہاتھ میں نہ لیا جائے۔
لاہور میں احتجاج
لاہور پریس کلب کے سامنے بھی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اور ایران پر حملے کے خلاف مظاہرہ کیا گیا جب کہ مظاہرین کی بڑی تعداد نے احتجاج کرتے ہوئے امریکا کے خلاف نعرے بازی کی۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ لاہور کے باہر توڑ پھوڑ کی کوشش کی اور امریکی قونصل خانے کے سامنے لگا سیکیورٹی کیمپ بھی اکھاڑ دیا تاہم پولیس نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔
پولیس نے مظاہرین کو امریکی قونصل خانے کے اندر جانے سے روک دیا، مظاہرین میں بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک ہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ شہر کی تمام حساس جگہوں پر صورت حال مکمل کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف جماعتوں کے احتجاج کے لیے پولیس نے پیشگی سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
فیصل کامران کے مطابق امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پرامن تھے اور پولیس سب کو سیکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر احتجاج کرنے والوں کے جذبات کا احترام ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشکوک شخص نظر آنے پر فوری پولیس کو اطلاع دیں جب کہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد جاری ہے۔
اسلام آباد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد وفاقی دارالحکومت میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق صورت حال کے پیش نظر ریڈ زون کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کردیے گئے ہیں جب کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہر قسم کے اجتماعات غیرقانونی تصور ہوں گے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی اجتماع کا حصہ نہ بنیں، احتجاج یا اجتماع کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامیہ کے مطابق امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات سخت کردیے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف ایران کے حق میں احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی، احتجاجی ریلی کے شرکا نے امریکی سفارت خانے کی جانب مارچ کیا، جس پر پولیس کی جانب سے احتجاجی شرکا پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ اس دوران احتجاجی ریلی کے شرکا نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
شہنشاہ نقوی کی عوام سے پرامن رہنے کی اپیل
معروف عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عوام شدت پسندی سے گریز کریں اور پرامن رہیں۔
شہنشاہ نقوی نے کہا کہ عالم اسلام اپنے رہبر سے محروم ہوگیا، یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے، رہبرمعظم کو سعادت اور شہادت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، ایرانی قوم اور دنیا کے مظلوم اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اور پوری دنیا کے مظلوم اپنی جدوجہد جاری رکھیں، شہادت ایک سعادت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں نمائش چورنگی پر مجلس عزا کا انعقاد کیا جارہا ہے، نمائش سے حسینیاں ایرانیان تک عزائی جلوس لے کر جائیں گے، ماتمی انجمنوں، عزا خانوں، اسکاؤٹ گروپس، تمام افراد سے اپیل ہے پُرامن رہیں۔
معروف عالم دین نے کہا کہ امریکی قونصل خانے کے باہر پیش آنے والا معاملہ انتہائی دکھ کی بات ہے، پاکستان نے سفارتی، اخلاقی طریقے سے ایران کی حمایت کی، پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی ایران پر حملے کی مذمت کی۔
خیبرپختونخوا میں کئی مقامات پر احتجاج
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
پشاور پریس کلب کے باہر ملت اسلامیہ پاکستان کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ ہوا، بعدازاں مظاہرین نے شیر شاہ سوری روڈ سے گزرتے ہوئے امن چوک تک احتجاجی ریلی نکالی۔
مظاہرین نے اسرائیلی اور امریکا کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی، امن چوک کے مقام پر پہنچتے ہی پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے شیلنگ کی جب کہ شلینگ کی وجہ سے متعدد مظاہرین کی حالت غیر ہوگئی۔
پولیس نے مظاہرین کو قونصل خانہ سے 200 میٹر دور تک محدود کردیا، احتجاج ریکارڈ کرنے کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے جب کہ خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں ، ایبٹ آباد ، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو ، اورکزئی ، پارا چنار میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
ایبٹ آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی آرگنائزر خیبر پختونخوا جہانزیب علی جعفری نے کہا کہ سید علی خامنہ ای نے پوری زندگی اسلام اور مظلومین کے لیے وقف کی ان کی شہادت پورے عالمِ اسلام کے لیے بڑا سانحہ ہے۔ مجلس وحدت مسلمین ابیٹ آباد کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں سرکلر روڈ امامیہ گیٹ سے فوارہ چوک تک احتجاجی جلوس نکالی گئی ۔ مظاہرین نے ایران کے حق میں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
آیت اللہ خامنائی کی شہادت پر کلایہ، اورکزئی ٓمیں عوام کا احتجاج مظاہرہ ہوا جب کہ مظاہرین کا کہنا تھاکہ امریکی جارحیت کھلم کھلا دہشت گردی ہے ۔ آیت اللہ خامنہ ائی کی شہادت کا بدلہ لیا جائے۔
ملک کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر میاں چنوں ٹی چوک میں احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس کے باعث ٹی چوک ٹریفک کے لیے بند کردی گئی جہاں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
کوہاٹ کے علاقے کچا پکا استرزئی میں ایرانی رہبر علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف دھرنا دیا گیا، مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔
مقررین نے حکومتِ پاکستان سے معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ظلم کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کی جائے۔
پاراچنار میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف ریلی نکالی گئی، جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، مظاہرین نے امریکا اسرائیل مردہ باد کے نعرے بھی لگائے۔
ریلی مرکزی امام بارگاہ پاراچنار سے نکالی گئی جو پریس کلب پاراچنار پہنچ کر اختتام پذیر ہو گی۔ ریلی کے شرکا نے کہا کہ علی خامنہ ای ہماری ریڈ لائن تھے، اسلامی ملک کی سلامتی اور خود مختاری پر حملے نامنظور ہیں۔
گھوٹکی میں بھی آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ضلع بھر کے شہروں میں احتجاج کیا گیا، اس کے علاوہ میرپور ماتھیلو، ڈہرکی، خان پور مہر سمیت ضلع بھر میں سخت احتجاج کیا گیا اور امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت نعرے بازی بھی کی گئی۔
جیکب آباد میں بھی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر احتجاج کیا گیا، شہریوں نے بڑی تعداد میں ڈی سی چوک پر دھرنا دے دیا جب کہ مظاہرین نے اسرائیل اور امریکا مخالف شدید نعرے بازی کی۔
گلگت بلتستان میں مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، شاہراہ قراقرم پر مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس کے باعث شاہراہ قراقرم ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند کردی گئی۔
ہنزہ نگر میں بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جب کہ جوٹیال میں قائم اقوم متحدہ کا ذیلی دفتر نذر آتش کردیا گیا۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا گیا۔ اس دوران مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی اور آگ بھی لگا دی ہے۔ مائی کولاچی امریکن قونصلیٹ کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی اور 12 افراد زخمی ہیں جب کہ 6 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔مظاہرین نے سلطان آباد پل کے نیچے ٹریفک پولیس چوکی کو بھی آگ لگا دی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے ہفتے کے روز کیے گئے حملوں کے بعد تل ابیب میں کم از کم 40 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
تل ابیب میں ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کے بعد اسرائیلی سیکیورٹی اور ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔ حکام کے مطابق میزائل گرنے سے شہر میں نقصان ہوا اور متعدد افراد متاثر ہوئے۔
خبر رساں ادارے تل ابیب کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں دو سو سے زائد رہائشیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر شہر کے تین ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز نے بلدیہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ متاثرہ عمارتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور نقصان کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ واقعے کے بعد شہر میں صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
اسرائیل کے قومی ایمرجنسی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم نے بتایا کہ تازہ حملوں کے دوران کم از کم بیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ادارے کے مطابق ایک چالیس سالہ شخص کی حالت تشویشناک ہے جسے چھروں سے چوٹیں آئی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل سید عبدالرحیم موسوی کو تہران میں شہید کردیا گیا۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے (ارنا) نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ملک پر ہونے والے حملوں کے دوران ایران کی اعلیٰ عسکری اور دفاعی قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی اہم شخصیات ہلاک ہو گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف چیف آف اسٹاف سید عبدالرحیم موسوی اور وزیرِ دفاع عزیز ناصرزادہ ان حملوں میں حملوں میں شہید ہوگئے۔
ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ، ان کے سیکیورٹی مشیر علی شیمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے دیگر کمانڈرز بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان کے نام بعد میں جاری کیے جائیں گے۔ واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
حکام کی جانب سے تاحال مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ واقعے کے اثرات اور ممکنہ ردعمل کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
تہران میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ میں موجود تباہ شدہ عمارتوں کی سیٹلائٹ تصاویر
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے ہفتے کی صبح کا وقت کیوں چنا گیا، اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، جیسے ہی انٹیلی جنس ذرائع سے یہ تصدیق ہوئی کہ خامنہ ای اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ایک میٹنگ کرنے والے ہیں، اسرائیل اور امریکا نے اپنی فضائی اور بحری کارروائی کا آغاز کر دیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا بنیادی مقصد خامنہ ای کو اچانک نشانہ بنانا تھا تاکہ انہیں کہیں چھپنے کا موقع نہ مل سکے۔
رپورٹ کے مطابق، پہلے یہ توقع تھی کہ یہ اہم ملاقات ہفتے کی شام کو ہوگی، لیکن جب اسرائیلی خفیہ اداروں کو معلوم ہوا کہ ملاقات ہفتے کی صبح ہی ہو رہی ہے تو حملے کا وقت تبدیل کر دیا گیا۔
تہران میں خامنہ ای کے انتہائی محفوظ کمپاؤنڈ پر حملے کے ساتھ ہی اس آپریشن کا آغاز ہوا اور سیٹلائٹ تصاویر سے اس جگہ کی مکمل تباہی کی تصدیق ہوئی۔
حملے کے وقت خامنہ ای کے ساتھ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سابق سیکرٹری علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی موجود تھے جو اس حملے میں مارے گئے، تاہم علی لاریجانی اس حملے میں بچ گئے اور انہوں نے سخت جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ نے ایرانی قیادت کے ایک خفیہ اجلاس کی نشاندہی کی تھی اور اسی معلومات کی بنیاد پر بعد میں حملہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موجودگی کے بارے میں معلومات اسرائیل کے ساتھ شیئر کی گئیں جس کے بعد کارروائی عمل میں آئی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق سی آئی اے کئی ماہ سے آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو تہران میں ایک کمپاؤنڈ کے اندر ہونے والے خفیہ اجلاس کی اطلاع پہلے سے تھی اور اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ایرانی سپریم لیڈر وہاں موجود ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سی آئی اے کو خامنہ ای کے روزمرہ معمولات اور ان کے خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہو چکی تھیں۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے درمیان معلومات کے تبادلے کے بعد ہی حملہ کیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح خامنہ ای کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے سوگ کا اعلان کیا اور ان کی وفات کو شہادت قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے میں خامنہ ای کے خاندان کے کچھ افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
اس حملے کے فوراً بعد ایران نے اسرائیل سمیت خطے کے کئی ممالک پر ڈرونز اور میزائلوں سے جوابی حملہ شروع کر دیا۔