امریکا کا سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والے 16 ایرانی جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ

ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل تقریباً معطل ہے۔
شائع 11 مارچ 2026 10:28am

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والے 16 ایرانی جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے بیان کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے 16 جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز بھی شامل تھے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے ایران کے 10 بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے عالمی تیل کی ترسیل کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دی ہیں۔

ان رپورٹس کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں سرنگیں بچھائی ہیں تو انہیں فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ ایران نے ایسا نہ کیا تو اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا وہی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے جو منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کی جاتی ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کسی بھی کشتی یا جہاز کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق امریکی فوج ایرانی مائن بچھانے والے جہازوں کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگوں کے ذخیرہ گاہوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔

ادھر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل تقریباً معطل ہو چکی ہے۔ اس تنگ سمندری گزرگاہ سے عام حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور ایل این جی گزرتی ہے۔

دوسری جانب امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ممکنہ طور پر بحفاظت گزرنے کی سہولت دینے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔

تاہم رائٹرز کے مطابق امریکی بحریہ نے تاحال شپنگ انڈسٹری کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی فوجی اسکواڈ کی درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔
اسی دوران امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے کامیابی کے ساتھ ایک آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد کی ہے، تاہم بعد میں یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بھی اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا نے اب تک آبنائے ہرمز میں کسی آئل ٹینکر یا جہاز کو فوجی مدد فراہم نہیں کی۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی آئل ٹینکر کو امریکی بحریہ کی جانب سے اسکواڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی یا اس کے اتحادی بیڑے نے کسی قسم کی نقل و حرکت کی تو اسے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا۔