’خواجہ آصف کو نہ روکا جائے‘، نیتن یاہو کے اشتعال انگیز بیانات پر ’مِیمز‘ کی بھرمار
ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں طے شدہ مذاکرات سے ایک روز قبل خواجہ آصف کا اسرائیل کے خلاف بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ جس نے اسرائیلی وزیرِاعظم آفس اور وزیرِ خارجہ کو بھی بیان جاری کرنے پر مجبور کردیا۔ حالیہ اہم ترین مذاکرات میں خواجہ آصف کی عدم موجودگی اور نیتن یاہو کے اشتعال انگیز بیانات پر سوشل میڈیا پر مزاحیہ مواد کا طوفان امڈ آیا ہے۔
پاکستان کا دارالحکومت گزشتہ چند روز سے دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات ہیں۔ جسے ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ملک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی پہلی ملاقات قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان کی بھرپور کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان 40 روز سے جاری جنگ میں سیزفائر ممکن ہوا، جس کے دونوں فریقوں ایک میز پر بیٹھ کر مذاکرات پر بھی اتفاق کیا۔
عین اس وقت کہ جب اگلے روز دونوں ملکوں کے وفود کی اسلام آباد آمد متوقع تھی۔ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں سیزفائر کے باوجود لبنان میں صیہونی ریاست کی لبنان میں جارحیت کو نسل کشی سے تعبیر کیا اور اسرائیل کو انسانیت کے نام پر دھبہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ سرزمینِ فلسطین پر اس ناجائز ’کینسر زدہ ریاست‘ کو آباد اور اسکے قیام میں مدد کرنے والے جہنم میں جلیں گے‘۔

خواجہ آصف کے اس بیان کو پاکستان کے وزیرِ دفاع کی حیثیت سے نہ صرف دنیا بھر کے میڈیا نے رپورٹ کیا بلکہ خود اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور وزیرِ خارجہ کو اس بیان کے جواب میں بیان جاری کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس بیان پر بھی خوب میمز بنائیں جب کہ کچھ صارفین نے اس اہم موقع پر اس قسم کے بیان کو غیر سنجیدگی قرار دیا تاہم یہ بیان اب ’ایکس‘ پر موجود نہیں ہے۔
اس دوران یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ حکومت نے انہیں بیانات دینے سے منع کیا اور مذاکرات کے عمل سے بھی دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہفتے کے روز جب امریکی اور ایرانی وفود پاکستان پہنچنے تو ان کے استقبال، پاکستانی حکام سے ملاقاتوں اور روانگی کے موقع پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی تو موجود رہے مگر خواجہ آصف کہیں نظر نہیں آئے۔
سوشل میڈیا پر ’میمرز‘ نے ان چہ مگوئیوں کا فائدہ اٹھایا اور بالی ووڈ کی ایک فلم کے منظر کو اس صورت حال سے مشابہت دے کر شیئر کرنا شروع کردیا۔
ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ’ایکس‘ پر ترک صدر کے خلاف بیان جاری کیا تو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو پھر خواجہ آصف کی یاد ستانے لگی۔
ایک صارف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’خواجہ آصف کو نیتن یاہو کو جواب دینے سے نہ روکا جائے‘۔
پاکستان چوں کہ اسرائیل کو ریاست تسلیم نہیں کرتا ہے اس لیے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں صرف امریکا اور ایران کے وفود شریک تھے۔
اس صورت حال کو بھی صارف نے بالی ووڈ کی فلم کے ایک سین سے مشابہت دیتے ہوئے ایران امریکا کی بات چیت اور خواجہ آصف کو اسرائیل کو دور بھگاتے ہوئے دکھایا ہے۔
عبداللہ نامی اکاؤنٹ نے ایک شادی میں ہنگامے کی صورت حال کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مذاکرات میں خواجہ آصف موجود ہوتے تو صورت حال کچھ ایسی ہوسکتی ہے۔
ایک اور صارف نے خواجہ آصف کی مذاکرات میں عدم کے شرکت کو معروف گلوگار عطااللہ عیسیٰ خیلوی کے گانے کے بول کے ساتھ ملا کر ’مِیم‘ کی صورت میں شیئر کیا۔
جہازی نامی اکاؤنٹ نے بھی بالی ووڈ کی فلم میں ہیرو اور ولن کے درمیان ہونے والے دلچسپ مکالمے کو خواجہ آصف اور اسرائیلی حکام کے بیانات سے تعبیر کیا اور کہا کہ دونوں جانب سے ہر کچھ دن بعد ایسی ہی صورت حال بن جاتی ہے۔
خواجہ آصف کی جانب سے ایوان، جلسوں اور ٹی وی انٹرویوز میں بھی سخت اور طنزیہ بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھی ان کی جانب سے انتہائی سخت بیانات سامنے آئے، جس پر سیاسی مخالفین کی جانب سے بھی ان پر تنقید کی گئی۔
تاہم اسرائیل مخالف بیان پر سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں میں انہیں پذیرائی بھی ملی مگر سفارتی حلقوں میں اہم مواقع پر اس طرز کے بیانات کو منصب کے تقاضے اور سفارت کاری کے اصولوں کے منافی قرار دیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے اسرائیل پر تنقید کرنے والے ممالک کے خلاف بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے پہلے اسپین کے نمائندوں کو غزہ کی نگرانی کے لیے اسرائیل میں قائم ’جوائنٹ کوآرڈی نیشن سینٹر‘ سے نکالنے کا اعلان کیا۔ پھر جنوبی کوریا کے صدر کی جانب سے اسرائیلی مظالم پر تنقید کے بعد انہوں نے کوریا کے خلاف بھی بیان داغ دیا۔
جنگی جنون کا شکار نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد خطے میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کے ساتھ ترکیہ کو بھی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔
















