ایران امریکا مذاکرات پر ہم آہنگی کا مشن: فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کے دورے مکمل
پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے شروع کیا گیا سفارتی مشن اپنے اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورے مکمل کر لیے ہیں جن کا بنیادی مقصد علاقائی امن، سفارتی ہم آہنگی اور ایران امریکا تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا تھا۔
فیلڈ مارشل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں قیام کے دوران وہاں کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں نیشنل اسمبلی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عسکری حکام شامل تھے۔
ان ملاقاتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے، سیکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کو صرف مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے پیغامات پہنچائے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
انہوں نے ایرانی قیادت کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کوششیں خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
دوسری طرف وزیرِاعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اپنا اہم سفارتی دورہ مکمل کرچکے ہیں۔
وزیرِاعظم نے سعودی اور قطری حکام سے ملاقاتوں کے بعد ترکیہ میں انطالیہ سفارتی فورم میں شرکت کی جہاں انہوں نے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا محور بھی خطے میں جاری جنگی صورتحال اور اس کے ممکنہ حل تلاش کرنا تھا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے دورے کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان خطے میں تنازعات کے حل کے لیے اپنا مصالحانہ کردار جاری رکھے گا اور ہم سمجھتے ہیں کہ امن کا راستہ صرف میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنے سے ہی نکل سکتا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے حال ہی میں اسلام آباد میں بھی امن مذاکرات کی میزبانی کی ہے تاکہ مختلف فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے قائم کرائے جا سکیں۔
ان سفارتی کوششوں کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا اور ایک ایسے جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام آ سکے۔
پاکستان کی ان کوششوں کو عالمی سطح پر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کے یہ دورے ایک ایسے نازک وقت پر ہوئے ہیں جب دنیا کسی بڑے معاہدے کی منتظر ہے۔
















