لاہور: گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر پولیس کا مبینہ تشدد
لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں پولیس کی جانب سے گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، متاثرہ لڑکی کا ویڈیو بیان بھی منظرعام پر آگیا، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کو معطل کر دیا۔
لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر مبینہ تشدد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
متاثرہ لڑکی نے اپنے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکار انہیں تھانے لے گئے جہاں ان پر تھپڑ مارے گئے اور بہیمانہ تشدد کیا گیا۔
لڑکی کے مطابق پولیس اہلکار ان پر انگوٹھی چوری کا الزام تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے، تاہم انکار کرنے پر انہیں مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ویڈیو بیان میں متاثرہ لڑکی نے یہ بھی کہا کہ دورانِ حراست کوئی لیڈی پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔
متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ایک اہلکار نے اس کے بھائی کو بھی تھپڑ مارے اور اسے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس نے کہا کہ ان کا کوئی قصور نہیں تھا لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔
واقعے کے سامنے آنے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے اور انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
















