پراسرار کھائی: زمین کے نیچے چھپی ایک قدیم اور ’خفیہ دنیا‘ کا انکشاف

اس گڑھے کی تشکیل ایک پیچیدہ قدرتی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں زمین کے اوپر اور نیچے دونوں جانب کی قوتیں شامل رہیں
شائع 27 اپريل 2026 12:02pm

چین کے چونگ چنگ میونسپلٹی میں واقع ایک دیوہیکل سنک ہول، جسے مقامی طور پر شیاؤزہائی تیان کنگ یا آسمانی گڑھا کہا جاتا ہے، اپنے غیر معمولی سائز، پیچیدہ تشکیل اور منفرد ماحولیاتی نظام کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

چین کے علاقے چونگ چنگ میں موجود یہ وسیع و عریض سنک ہول صدیوں سے مقامی افراد کے علم میں ہے۔ شیاؤزہائی دراصل ایک متروک گاؤں کا نام ہے، جبکہ تیان کنگ سنک ہول کے لیے استعمال ہونے والی مقامی اصطلاح ہے۔

یہ غیر معمولی قدرتی کھائی اپنے سائز کے اعتبار سے دنیا کے بڑے سنک ہولز میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی گہرائی 626 میٹر اور چوڑائی 527 میٹر ہے، جس کے باعث یہ ایفل ٹاور سے تقریباً دو گنا لمبا اور لندن کے او ٹو ایرینا سے ڈیڑھ گنا زیادہ چوڑا ہے۔

اس سنک ہول کا مجموعی حجم تقریباً 120 ملین مکعب میٹر بتایا جاتا ہے، جس میں 40 ہزار اولمپک سائز سوئمنگ پولز یا تقریباً 500 ہنڈنبرگ کلاس زیپلنز سما سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سنک ہولز زمین کی سطح پر بننے والے گہرے گڑھے ہوتے ہیں، جو اس وقت وجود میں آتے ہیں جب اوپری سطح نیچے موجود کھوکھلے حصوں میں دھنس جاتی ہے۔ یہ عمل بتدریج بھی ہو سکتا ہے اور اچانک بھی، جبکہ اس کی وجوہات میں شدید بارشیں، سیلاب اور انسانی سرگرمیاں جیسے تعمیرات اور کان کنی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس گڑھے کی تشکیل ایک پیچیدہ قدرتی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں زمین کے اوپر اور نیچے دونوں جانب کی قوتیں شامل رہیں۔ ہزاروں برسوں تک بارش کا پانی علاقے کی مسام دار چونا پتھر کی تہوں میں جذب ہوتا رہا، جس سے دراڑیں بڑھتی گئیں اور کٹاؤ میں اضافہ ہوتا گیا۔

اسی دوران زیرِ زمین ایک طاقتور دریا غاروں اور سرنگوں کا جال بناتا رہا، یہاں تک کہ کسی مرحلے پر زمین کی سطح بیٹھ گئی اور یہ وسیع سنک ہول وجود میں آ گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل ایک ہی وقت میں نہیں بلکہ مختلف مراحل میں مکمل ہوا۔ اس سنک ہول کی منفرد دوہری ساخت ہے، جس میں اوپر کا بڑا دہانہ عمودی چٹانوں سے گھرا ہوا ہے جبکہ نیچے جا کر یہ نسبتاً چھوٹے گڑھے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو اس کی دو مرحلوں میں تشکیل کی نشاندہی کرتا ہے۔

اگرچہ اس کے بننے کا درست وقت معلوم نہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اندر ایک مکمل نیم استوائی ماحولیاتی نظام پروان چڑھ چکا ہے۔ یہاں کا ماحول ٹھنڈا اور مرطوب مائیکرو کلائمٹ رکھتا ہے، جو اسے منفرد بناتا ہے۔

اس سنک ہول میں نایاب چیتا بھی دیکھا گیا ہے جبکہ یہاں 1200 سے زائد اقسام کے پودے موجود ہیں، جن میں قدیم گنکگو درخت، فرنز اور کائی شامل ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ کم روشنی کے باوجود یہاں کے پودوں نے اپنے ماحول سے ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔ 2024 میں چینی جرنل آف پلانٹ ایکولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہاں کے پودوں میں کاربن کی مقدار نسبتاً کم جبکہ نائٹروجن اور فاسفورس جیسے عناصر کی مقدار زیادہ پائی گئی ہے، جو ان کی ماحولیاتی مطابقت کو ظاہر کرتی ہے۔