امریکی قبضے میں موجود جہاز مالکان کے حوالے کیا جائے گا، عملے کے ارکان کو آج ایران منتقل کیا جائے گا: اسحاق ڈار

رجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق ان افراد کو گزشتہ رات پاکستان لایا گیا تھا۔
اپ ڈیٹ 04 مئ 2026 02:40pm

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبضے میں لیے گئے ایرانی بحری جہاز ایم وی توسکا کے عملے کے 22 ارکان کو بحفاظت پاکستان پہنچا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو کل رات بحفاظت پاکستان لایا گیا تھا اور انہیں آج ہی باقاعدہ طور پر ایران منتقل کر دیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ایرانی بحری جہاز کو بھی ضروری مرمت کے بعد اس کے اصل مالکان کو واپس کرنے کے لیے پاکستانی سمندری حدود میں لایا جا رہا ہے۔

نائب وزیراعظم نے اس پورے عمل کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تمام اقدامات ایرانی اور امریکی حکام دونوں کی حمایت سے مربوط کیے گئے ہیں اور یہ عمل یقیناً اعتماد سازی کا ایک اہم اقدام ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے دونوں ممالک کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے لیے اپنی تعریف کا اظہار کرتا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز بتایا کہ امریکا کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ایک ایرانی مال بردار جہاز کے عملے کے 22 ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سے انہیں آج ہی ایرانی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق ان افراد کو گزشتہ رات پاکستان لایا گیا تھا اور یہ اقدام امریکا کی جانب سے اعتماد سازی کی ایک کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بھی تصدیق کی ہے کہ 22 ارکان کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی چھ ارکان کو رہا کیا گیا تھا جو ایران پہنچ چکے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب 19 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی جہاز ’ایم وی توسکا‘ نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے امریکی احکامات کی خلاف ورزی کی جس کے بعد امریکی فوج نے خلیج عمان میں اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس واقعے نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ نہ صرف عملہ بلکہ جہاز کو بھی پاکستانی سمندری حدود میں لایا جائے گا جہاں ضروری مرمت کے بعد اسے اصل مالکان کے حوالے کر دیا جائے گا، اور یہ تمام عمل ایران اور امریکا دونوں کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اتوار کی رات ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے علاقائی امن کے حوالے سے تفصیلی گفتگو بھی کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اعتماد سازی کے ایسے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے پرامن حل کا واحد راستہ ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک نئے آپریشن کا عندیہ دیا ہے، جسے ایرانی حکام نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دینے کا انتباہ دیا ہے۔