امریکا ایران معاہدہ فائنل ہونے کے قریب، اعلان جلد متوقع ہے: صدر ٹرمپ

تلخیاں ختم کرانے اور معاہدے کو حتمی شکل دینے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سب سے کلیدی اور اہم ترین کردار ادا کیا: واشنگٹن ٹائمز
شائع 24 مئ 2026 08:27am

امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری شدید اختلافات اور جنگ کے خاتمے کے لیے پسِ پردہ ہونے والے مذاکرات اب کامیابی کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بڑی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر زیادہ تر معاملات طے کر لیے گئے ہیں اور اب صرف آخری پہلو زیرِ بحث ہیں، جس کے بعد اس ڈیل کا باضابطہ اعلان بہت جلد متوقع ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس تاریخی معاہدے کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی حتمی تفصیلات اور آخری نکات پر بات چیت جاری ہے اور یہ معاہدہ امریکا، ایران اور دیگر مسلم ممالک کے درمیان طے پائے گا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ”میری اس سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بات ہوئی ہے اور میں نے ایران کے معاملے پر کئی مسلم ممالک کے سربراہان سے بھی تفصیلی رابطہ کیا ہے جن میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، امیرِ قطر شیخ تمیم، قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن، ترک صدر رجب طیب اردوان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی شامل ہیں۔“

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کے ساتھ ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بہت اچھی گفتگو ہوئی ہے اور انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی اس معاہدے کی تمام تر تفصیلات سے پوری طرح آگاہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں کو ختم کرانے اور اس معاہدے کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دینے میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سب سے کلیدی اور اہم ترین کردار ادا کیا ہے، جنہوں نے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے امریکی اور ایرانی قیادت سے مسلسل ملاقاتیں کیں۔

امریکی اخبار کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان نئی سفارتی تجاویز پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے اور امریکی و ایرانی مذاکرات کاروں بشمول جے ڈی وینس، باقر قالیباف، اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے اس حتمی مسودے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ مسودہ منظوری کے بعد اب امریکا اور ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو بھیج دیا گیا ہے اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا، جس سے تمام محاذوں پر جاری جنگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس عالمی کامیابی اور امن عمل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر کی کاوشوں کو سراہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں امن کے قیام کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر معمولی کوششوں کو دل سے سراہتا ہوں اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر مسلم رہنماؤں کے ساتھ ان کی ٹیلیفونک گفتگو انتہائی مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے، جس پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

وزیرِ اعظم نے پاکستانی سفارت کاری کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی اور ہم امن عمل کے لیے ان کی انتھک کوششوں کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ ان مذاکرات نے خطے میں ایک پائیدار امن قائم کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور یہ مخلصانہ کوششیں آگے بھی بڑھائی جائیں گی، اور ہمیں امید ہے کہ ہم بہت جلد ان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی بھی پاکستان میں کریں گے۔

اس بڑی کامیابی پر پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی پاکستانی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ایرانی سفیر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا کہ میرے پیارے بھائی جناب محسن نقوی نے تہران کے اہم دورے سے واپسی کے بعد ان مذاکرات کی کامیابیوں پر مجھے مبارکباد دی ہے۔

انہوں نے اس کامیابی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت ایران کے وقار پر مبنی موقف، ہماری دلیر مسلح افواج کی استقامت اور پاکستانی ثالث کی مخلصانہ کوششوں کا واضح نتیجہ ہے۔

ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے امید ظاہر کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر دوسرا فریق بھی اسی طرح پرعزم رہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور مجھے یقین ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ کوششیں خطے میں مستقل امن کا باعث بنیں گی، اس لیے میں ان تمام شخصیات کی مخلصانہ کوششوں پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔